|
Thursday, 19 November 2009 12:23 |
واشنگٹن:امریکہ کے جنوبی ایشیا کےلئے نائب وزیر خارجہ رابرٹ بلیک نے کہا ہے کہ پاکستان نے شدت پسندی کے خلاف بہت اہم اقدامات کئے ہیں لیکن اس کو حافظ سعید کے مسئلے پر ابھی غور کرنے کی ضرورت ہے شدت پسندی کے خلاف جنگ پاکستان اپنے مفاد میں ہےسوات اور جنوبی وزیرستان میں کارروائی اس کا ثبوت ہے۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے اگلے ہفتے سے شروع ہونے والے امریکی دورے سے متعلق صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے رابرٹ بلیک نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ممبئی حملوں کے ملزمان سے متعلق میرے خیال میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے ۔ بعض کو پکڑاگیا ہے اور عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں۔ اب اس معاملے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے جانے کا کام باقی ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ ایک اور اہم معاملہ جس پر پاکستان کو غور کرنا ہے وہ ہے حافظ سعید کا معاملہ ہے ۔امریکی اہلکار ہے کہا کہ حافظ سعید کو بین الاقوامی پابندیوں کاسامنا ہے۔ان پر اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ رابرٹ بلیک نے کہا کہ پاکستان کو سرحد پار سے شدت پسندی کے مسئلے پر بھی قابو پانا ہے لیکن پاکستان نے اس سلسلے میں بہت اقدامات کئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے اقدامات جاری رکھے گا۔انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے امریکہ یا چین کے کردار سے متعلق متعدد سوالات کے جواب میں کہا کہ پاکستان کو اندازہ ہے کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ اس کے اپنے مفاد میں ہے اور سوات اور جنوبی وزیرستان میں پاکستان کی کارروائی اس کا ثبوت ہے۔ پاکستان اپنی زمین شدت پسندوں کو استعمال کرنے سے روکنے کے لئے بھی اقدامات کر رہا ہے لیکن اب یہ بھارت اور پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے اختلافات کیسے حل کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ دونوں ممالک کی بات چیت کے لیے ہمت افزائی کرتا رہے گا۔رابرٹ بلیک نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر اوباما نے چین میں کیا کہا ہے اس پر بھارت میں تشویش نہیں ہونی چاہیے اور امریکہ سمجھتا ہے کہ چین خطے میں ایک اہم ملک ہے اور افغانستان اور پاکستان میں استحکام کے لئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کے امریکہ کے دورے میں ماحولیات، تعلیم، تجارت اور صحت کے شعبوں میں معاہدے کئے جائیں گے۔رابرٹ بلیک نے کہا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ پانچ اہم شعبوں میں تعاون کا خواہاں ہے۔ان پانچ شعبوں میں، رابرٹ بلیک کے بقول، سب سے پہلے ہے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا شعبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتظامیہ کے دور میں بھارت کے ساتھ جو سول نیوکلیئر معاہدہ کیا گیا اس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان اس سلسلے میں مضبوط رشتوں کا آغاز ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک میں جنگی مشقوں کا مربوط پروگرام ہے اور دونوں قزاقی کے خلاف صومالیہ میں تعاون کر رہے ہیں۔امریکی بھارت کے ساتھ دفاعی تجارت کرنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں اور بھارت کو اٹھارہ بلین ڈالر کے لڑاکا طیارے اور دیگر سازوسامان بیچنا چاہتے ہیں۔رابرٹ بلیک نے کہا کہ ایک چیز جو بھارتی حکومت کرسکتی ہے وہ یہ ہے بھارت کے اندر دفاعی کمپنیوں میں غیر ملکی کمپنیوں کی ایکوئٹی کو چھبیس فیصد سے بڑھا کر انچاس فیصد کرنا۔اسٹریٹجک تعاون کا ہی دوسرا حصہ ہے شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں تعاون۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس ممبئی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان اس میدان میں تعاون خاصا بڑھا ہے۔رابرٹ بلیک کے مطابق سٹریٹجک تعاون کا تیسرا حصہ ہے جوہری عدم پھیلاوامریکہ چاہتا ہے کہ بھارت جوہری عدم پھیلاو کے معاہدوں پر دستخط کرے۔امریکی اہلکار کے مطابق دوسرا اہم شعبہ ہے توانائی اور ماحولیات کی آلودگی کا۔امریکہ کہتا ہے بھارت ماحول کو آلودہ کرنے والا پانچواں سب سے بڑا ملک ہے اس لئے امریکہ چاہتا ہے کہ وہ اگلے برس کوپن ہیگن میں ہونے والی کانفرنس کی کامیابی کے لئے امریکہ سے تعاون کرے۔دونوں ممالک کے درمیان سول نیوکلیئر معاہدے پر امریکی نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ اوباما انتظامیہ اس پر مکمل طور پر عملدرآمد کرنے کے لئے تیار ہے لیکن اس سلسلے میں بھارت کی حکومت اور پارلیمان کو متعدد اہم اقدامات کرنے ہیں اور سب سے اہم ہے کہ پارلیمان لائبلٹی کے معاملے پر قانون سازی کرے کیونکہ یہ قانون سازی امریکی کمپنمیوں کے لئے بہت اہم ہیں۔تیسرا اہم شعبہ ہے تجارت اور معیشت کا ۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان تینتالیس ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔ امریکہ کی بھارت میں سرمایہ کاری اٹھارہ ارب ڈالر ہے جبکہ بھارت کی امریکہ میں بھی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔
|