اشاعت کے باوقار 30 سال

اردوٹائمزاسپیشل

  • ثریا بابر

  • سید عارف مصطفی ۔۔۔۔

  • ہمیں بڑی بوڑھیوں کہانی سنانے کا انداز بہت اچھا لگتا تھا۔ ہماری نانی جب،، ہاں تو بچو!

  • میری بیگم صاحبہ بڑی معصوم سی ہیں۔ انداز سخن ایسا بے ساختہ ہے کہ بات کانوں کو چھیدتی ہوئی دل چیر

  • محبت آخرش ہے کیا....یہ کیوں انسان کو اتنا بے بس اور مجبور کر دیتی ہے جسے دیکھوں محبت کا راگ الاپ رہا ہے جس محبت کے لیے اپنی راتیں برباد کرتے ہیں یہ محبت کرنے والے رات رات بھر جاگ کر روتے ہو رب کے حضور ملن کی دعائیں مانگتے ہو۔ کیا وہ اس محبت سے بڑھ کر ہے جو ہمارا رب ہم سے کرتا ہے،

  • ہمارے پاس تو روز روز اتنے پیسے نہیں آ رہے کہ اتنا اتنا لہسن منگوا کر رکھ لیں۔ ہماری بہو کو تو رتی برابر تمیز نہیں۔ لے۔ بھر بھر کے لہسن ڈال دے سالن میں۔ اللہ جانے اماں نے یہ ہی سکھا کر سسرال بھیجا ہے کیا ؟؟؟؟ اور کچھ کرنا نہ کرنا لہسن کا خرچہ بڑھا دینا۔

    ساس اماں نے شام کی چائے پی کر پان منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔

  • ر ہم تو پیدا ہوتے ہی حسن کے عاشق ہو گئے تھے کہ ہم نے اپنے اردگرد حسین چہرے ہی دیکھے تھے مگر حسن صرف چہروں میں ہی تو نہیں ہوتا۔ ہمیں تو ہر حسیں شے لبھاتی تھی۔ چاہے وہ حسن کسی بھی رنگ و روپ میں ہو، پھولوں میں ہو، ستاروں میں ہو، انسان کی صناعی میں ہو، خود انسان میں ہو یا اس کی تصویر میں ہو۔

  • تاریخ ،جب دل پر چوٹ پڑے۔ السلام و علیکم!
    آپ کو اس دنیا سے گئے بارہ سال ہونے کو آئے اور مجھے آپ کے سب سے بڑے بیٹے کے گھر میں آئے تیئس سال ہونے والے ہیں۔ گیارہ سال میرا آپ کا ساتھ رہا۔ مائوں کا عالمی دن منایا گیا تو میرا دل چاہا کہ میں آپ سے کچھ بات کر لوں۔

  • ہ واقعہ میری خالہ ساس نے مجھے سنایا تھا ۔ یہ ان ہی کے گائوں کا واقعہ ہے۔ اب تو ان کا انتقال ہوئے بھی پانچ سال ہونے کو آئے۔ مگر آج بھی جب یہ یاد آتا ہے تو میں بے اختیار سوچنے لگتی ہوں ''کیا انسان پتھروں سے زیادہ بے حس ہو سکتا ہے؟''

  • ماشاء اللہ آج، بزم مزاح پاکستان، کا افتتاح ہو رہا ہے۔ ابتلا و مصیبت کے اس دور میں یہ دلوں کو زندہ رکھنے کی ایک خوشگوار کوشش ہے کیونکہ مزاح آپ کو غم کے باوجود مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اقبال عظیم نے کہا تھا
    غم غلط کرنا کوئی مشکل نہیں
    انتقاماً مسکرانا چاہیے

  • وہ میرا دوست تھا، بہت قریبی دوست،ساتھ پلے بڑھے، ساتھ کھیلے، معاشی جدوجہد میں بھی ہم رکاب، میں اپنے گھر میں سب سے چھوٹا وہ بھی اپنے گھر میں سب سے چھوٹا۔ وہ لڑکیوں کا دیوانہ تھا اور میں اپنے گھریلو حالات کی وجہ سے حساب کتاب میں کھویا رہنے والا ایک شخص۔ اس نے ایک لڑکی سے مراسم بڑھانے کی کوشش کی، مگر وہ جو کہتے ہیں کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے، اس کے سخت گیر باپ کو پتہ چل گیا، اس نے وہ پٹائی کی کہ توبہ توبہ کرا دی۔

  • پطرس بخاری کی مانند میں بھی ایک شوہر ہوں اور ایک بیوی رکھتا ہوں۔۔۔بے پناہ محبت کا دعویدار نہیں اور تھوڑی سی محبت کا روادار نہیں۔۔۔ وہ کہیں گھر پہ نہ ہو تو بے حساب امن کے باوجود بے تحاشا سناٹے میرے اندر بولنے لگتے ہیں۔۔۔لہو گرم رکھنے کے بہانے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے، اور مجھے وہی میدان جنگ کی طرح بھانے لگتا ہے کہ جس کو کبھی غصے سے نہ جانے کیا کیا نام دے چکا ہوتا ہوں۔۔۔