اشاعت کے باوقار 30 سال

آرمی چیف کے نام ایک کھلا خط

اسلام علیکم
پہلے چند جملہ ہائے معترضہ
ملک میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے آپ کی کوششیں لائق تحسین ہیں جو کوئی کمی اگر ہے تو صرف یہ کہ پہاڑی طالبان اور شہری طالبان کے ساتھ یکساں سلوک دیکھنے میں نہیں آیا اور دہشتگردی کے مرتکبین میں سے ایک کو تو ہر طرح سے مارا اور کھدیڑا گیا ہے جبکہ دوسرے کو الیکشن تک لڑنے کی مراعات فراہم کی گئی ہیں۔ایک ہی طرح کے جرم کرنے والے دو گروہوں کے ساتھ رویئے کا یہ فرق مجھ سمیت بہت سوں کی سمجھ سے قطعی بالاتر ہے ۔

اب اصل موضوع کی طرف آتا ہوں، قوموں کی تعمیر و تشکیل ایک مشترکہ نصب العین کیلئے ہوا کرتی ہے کہ جسے حاصل کرنے کیلئے اتحاد اور یگانگت کی راہوں کو تلاش کرنا ازبس ضروری ہوتا ہے۔ وطن عزیز میں کہ جہاں ہر صوبے میں کئی کئی زبانیں اور بولیاں بولی جاتی ہیں، صرف اردو ہی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ سارے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اور اسی لیئے اسی میں تعلیم دیکر اور دفتری امور کی انجام دہی کر کے ہم اپنی قوم میں نہ صرف طبقاتی نظام کے فرق کو ممکنہ حد تک کم کرسکتے ہیں بلکہ اپنی قوم کی ان آدھی توانائیوں کو بھی بچا کر قومی تعمیر کے بڑے اہداف پانے کیلئے استعمال میں لا سکتے ہیں کہ جو محض زبان غیر میں شرح آرزو کی مد میں ضائع ہورہی ہیں۔ اور یہی نہیں اردو کے عملی و مکمل نفاذ سے ہم قومی وقار اور خودمختاری کے اس حقیقی مقام کو بھی پاسکیں گے کہ جو قوموں کی عالمی برادری میں سر اٹھا کر چلنے کے لیئے ناگزیر ہے۔ درحقیقت ایک قومی وحدت کی تشکیل کے لیئے اردو کی اہمیت کو قائد اعظم نے بخوبی سمجھ لیا تھا اور 21 مارچ 1948 کو کھل کر واضح و دو ٹوک اعلان کردیا تھا کہ پاکستان کی قومی و سرکاری زبان اردو ہوگی۔ گو خواب غفلت میں پڑی ہماری کئی حکومتیں اس اہم قومی ضرورت کو مختلف پست مقاصد کی خاطر ٹالتی رہیں لیکن بالآخر اسے قوموں کے منتخب نمائندوں نے 1973 کے آئین کا حصہ بناکر اس کی اہمیت کو تسلیم کر ہی لیا۔

1973 کے آئین میں اردو کو اسکا جائز مقام دے دیئے جانے کے باوجود 'دیسی کالے انگریزوں ' اور اشرافیہ کے مفادات کی حفاظت کیلئے حکومتی سطح پہ اسکے نفاذ سے اجتناب کی راہ ہی اپنائی گئی تا آنکہ سپریم کورٹ نے اس ضمن میں 8 ستمبر 2015 کو اپنے تاریخی فیصلے میں غیر مشروط طور پہ اردو کو 3 ماہ میں ملک میں سرکاری طور پہ ہرسطح پہ نافذ کرنے کا بالکل دو ٹوک اور واضح فیصلہ سنا دیا لیکن ان 3 ماہ میں بھی نہ مرکزی حکومت یا اسکے اداروں نے اور نہ ہی صوبائی حکومتوں اور اسکے اداروں نے (بجز بلوچستان) اسکے نفاز کیلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جس پہ کئی محب وطن افراد نے حکومت پہ توہین عدالت کے مقدمات دائر کیئے جو ابھی زیرسماعت ہیں تاہم اس دوران وفاقی وزارت قانون کی جانب سے ایک واضح حکمنامہ سارے ملک کی تمام وزارتوں، محکموں اور اداروں کے لیئے جاری کردیا گیا ہے کہ جس میں انہیں اپنے دائرہ عمل میں تمام امور کی انجام دہی اردو میں کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ یوں گویا پہلے سپریم کورٹ کے دوٹوک فیصلے اور اب وزارت قانون کے واضح حکمنامے کے بعد اس ملک کے ہر محکمے و ادارے پہ لازم ہے کہ وہ فی الفور اپنے امور کو انگریزی سے اردو میں لے آئے ورنہ یہ تمام محکموں ادارے آئین کے اس اہم تقاضے سے روگردانی کے مرتکب ہوں گے اور بلاشبہ یہ توہین عدالت کے عین مترادف ہوگا۔

آپ چونکہ ملک کے سب سے بڑے و منظم ترین ادارے کے سربراہ ہیں اور قومی امنگوں کی آبیاری کے جذبے سے سرشار بھی، لہذا آپ سے اس کھلے خط کے ذریعے مودبانہ طور پہ دست بستہ گزارش کی جاتی ہے کہ خدارا اس اہم قومی تقاضے کی بجا آوری میں اپنا وہ کردار ادا کریں کہ جسکا تقاضا آپ سے یہ ملکی آئین کرتا ہے اور جسکی بابت واضح سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ سامنے آچکا ہے اور وزارت قانون نے اپنے نوٹیفکیشن یا سرکاری ہدایتی اعلامیئے میں جسکی تعمیل کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے اور ویسے بھی چونکہ پاک فوج میں نان کمیشنڈ طبقہ انگریزی سے زیادہ آشنا نہیں اور یہ طبقہ ہی پاک فوج کی 80 تا 85 فیصد کی عددی اکثریت پہ مشتمل ہے لہذا اردو کا مکمل نفاذ، پاک فوج کے دفتری و دیگر امور میں بہتر تفہیم اور موثر بہتری لانے میں بیحد مددگار ہوگا۔

مجھے امید واثق ہے اورپورا یقین ہے کہ چونکہ آپ ارفع قومی مقاصد کو ہر معاملے میں پیش نظر رکھنے اور ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کرتے رہتے ہیں لہذا آپ پاک فوج کے تمام ذیلی محکموں و اداروں میں آئین کے اس اہم تقاضے کی تکمیل کے لیئے واضح ہدایات جاری کر دینگے اور اس امر کو یقینی بنائینگے کہ عملی طور پہ اس کی بجاآوری ہرسطح پہ ہو۔آپکے اس اقدام سے ملک میں اردو کے سرکاری سطح پہ نفاذ کے کام میں خود بخود تیزی آجائے گی اور قومی زبان کو اس کا جائز مو حقیقی مقام دلانے بہت ٹھوس مدد ملے گی۔ اگر آپ یہ کام کرسکے (جو کہ آپکو کرنا چاہیئے کہ یہ آپ پہ فرض بھی ہے) تو بلاشبہ آپکا نام ملکی تاریخ کے صفحات میں عظیم محسنین قوم میں درج کیا جائیگا اور تا ابد جگمگائے گا۔

واسلام
سید عارف مصطفی
صدر قومی زبان تحریک ،سندھ