اشاعت کے باوقار 30 سال

ہائے میرا ریڈیو

سلطنت مغلیہ کے زوال کے اسباب کو نصاب میں کئی بار پڑھا لیکن کچھ زیادہ سمجھ نہ آئے بعد میں جب ریڈیو کا زوال دیکھا تو وہ اسباب سمجھنا بہت سہل ہوگیا لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی اور اس وقت ممتحن کے اتفاق کی گاڑی چھوٹ چکی تھی، آج نئی نسل کے لیئے ریڈیو کا مطلب ہے ایف ایم کہ جہاں سارا سارا دن لوکل بقراط یا بقراطن کبھی خوابناک لہجے میں سرگوشیاں کرتے تو کبھی خوفناک سے لہجے میں بڑبڑانے و چلاتے سنے جاتے ہیں اور وقفے سے انکی گفتگو سے پاگل ہونے سے بچانے کیلئے نغمات بھی برائے تلافی سنائے جاتے رہتے ہیں۔ انہیں خاص طور پہ انکے غلط تلفظ کی وجہ سے ترجیح دی جاتی ہے تاکہ انگریزی میڈیئم کے بگڑے ہوئے معلوم ہوں، بالعموم ان میزبانوں کی ساری افلاطونی و لفاظی اقوال زریں کی چند کتابوں کے تراشوں اور چند پرانے ڈائجسٹوں سے اتارے گئے لطائف یا پند و نصائح کے بل پہ ہوا کرتی ہے جو انکے سامنے وہیں میز پہ دھرے ہوتے ہیں۔ یہ عموما ًوہ لوگ ہوتے ہیں کہ جن سے انکے گھر میں بھی شاذ ہی کوئی رائے مشورہ لیا جاتا ہے بلکہ ایسے وقت کمرے سے باہر کر دیا جاتا ہے لہذا وہ انتقاماً سارے شہر کو مشورے دینے نکل پڑتے ہیں، لیکن وہ اپنے پرانے ریڈیو کے دنوں میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا اس میں تو بھلے بندے کی نیت اور اعمال دونوں ہی غلط ہوں تب بھی چل جاتا تھا لیکن اسکا تلفظ غلط ہو یہ نہیں چل پاتا تھا۔

ان دنوں ریڈیو بہت بلند مقام تھا اور اس کی بہت توقیر تھی اتنی کہ بہت سے بزرگ حسب جلن، حسد کیا کرتے تھے جس کی ایک وجہ تو یہ ہوتی تھی کہ وہ بزرگ تو پرانی تہ بند لپیٹے پھرتے تھے جبکہ وہ ناز پرور مستطیل ڈبہ یعنی ریڈیو اونچی جگہ پہ قیمتی کپڑے کا غلاف سا ڈالکر رکھا جاتا تھا دوسرے یہ کہ اہلخانہ انکی کم سنتے تھے اور ریڈیو کی بہت زیادہ، کئی بزرگ تو کلیجہ مسوس کے رہ جاتے تھے کہ وہ ریڈیو کیوں نہ ہوئے۔ ریڈیو کی آواز اور ذاتی آوازیں دونوں ہی اونچا رکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا لیکن پھر بھی چونکہ تقریبا ہر گھر میں ہی ریڈیو بجتا تھا لہذا کسی پروگرام کو باہر گلی سے گزرتے ہوئے مسلسل ہی سنا جا سکتا تھا بس ایک جمعے والے دن کے علاوہ کہ اس روز دوپہر سے سہ پہرتک ریڈیو پہ اس شدت سے قوالیاں گونجتی تھیں کہ لگتا تھا کہ یا تو سیل باہر جا پڑینگے یا قوال کا کلیجہ، اسکول براڈ کاسٹ اور بزم طلبا کے پروگراموں میں عموما خشک سائنسی بچوں اور مجاہد اور غازی قسم کے بچوں کی یلغار ہوتی تھی جن میں اول الذکر وقت بے وقت ایجاد شدہ اشیا کو دوبارہ ایجاد کرنے پہ تلے رہتے تھے یا پھر موخرالذکر کفر سے آخری جنگ کی تیاریاں کرتے معلوم ہوتے تھے۔ فلمی گیتوں کے فرمائشی نغموں کے پروگرام بھی کثرت سے نشر ہوتے تھے جن میں کالی کھانسی کی طرح پیچھا نہ چھوڑنے والے چمچی چڑ قسم کے مستقل فرمائشی جیسے ایم اے بابو ناشاد وغیرہ قسم کے دس بارا بوسیدہ التماسی لوگ نجانے کیوں ہر پروگرام میں ہرگلوکار کا ہر طرح کا نغمہ بجانے کی التجا کرتے تھے ،جس سے بے تعصبی اور قومی یکجہتی کو خود بخود فروغ ملتا تھا، سارا سارا دن ملکہ ترنم سماعت پہ یوں سوار رہتیں کہ اک ذرا دیر کو چپ ہوتیں تو کان سائیں سائیں کرنے لگتے۔ گا گا کر انکا گلا نہیں بیٹھتا تھا مگر سننے والوں کے کان بیٹھ جاتے تھے، پھر ناہید اختر آئیں اور انکی تانیں جذبات کو یوں گرمانے لگیں کہ انکے نغمات چپکے چپکے بغل میں پاکٹ ریڈیو داب کے سنے جانے لگے۔ جو جذبات انکی آواز کو سن کے ابھرتے تھے انہیں دبانے کیلئے قدرت نے مہناز کو بھیجا اس سے پہلے تصور خانم کے دور میں مالا اور نسیم بیگم اسی حکمت کی حفاظتی نشانیاں تھیں بعد میں ایک دو پروگرام تازہ فلموں کے تعارف پہ بھی مشتمل ہوا کرتے تھے جس میں حسن شہید مرزا اپنی خوبصورت کراری آواز سے فلم میں وہ رنگ بھی بھردیا کرتے تھے کہ جو ہدایتکار سے چھوٹ جاتے تھے ۔

ویسے یوں تو عموماً ریڈیو پڑے پڑے بزرگوں کی طرح بجتا تو سارا ہی دن تھا لیکن اسے خاص توجہ خبروں کے سبب ملتی تھی جو کہ سننے کے بعد دوچار گنا بڑھا کر آگے بے خبروں تک پہنچانا فرض سمجھا جاتا تھا۔ خبریں پڑھنے والے بھی خبر میں ذاتی تاثرات کو اس شدت سے داخل کرتے تھے کہ خبر کہیں پیچھے رہ جاتی تھی اور سامع کو اکثر صرف جذبات ہی ہاتھ لگتے تھے۔ جنگوں کے دنوں کی خبروں میں تو نیوز ریڈر شکیل احمد ہر لفظ میں پوری گھن گھرج سے گولے برساتے اور بم پھاڑتے محسوس ہوتے تھے اور لگتا تھا کہ بلیٹن کسی جنگی جہاز یا ٹینک میں بیٹھ کر پڑھا جارہا ہے، ریڈیو پہ ڈرامے سننا کا الگ ہی ماحول ہوا کرتا تھا تھا۔ رات نو بجتے ہی ڈرامے کا وقت شروع ہوجاتا تھا اور اس سے پہلے ہی ریڈیو کو کسی تپائی پہ رکھ کر فرط عقیدت سے سب یک زانو دو زانو ہوکر آگے پیچھے بیٹھ جاتے تھے اور ذرا دیر ہی میں ڈرامے کے سحر میں جکڑ کر جیسے دم بخود سے ہوجاتے تھے۔ ادھر صداکار ایم سلیم نے کسی وقت کوئی ادنی سی سسکی بھری تو آگے پیچھے یہاں سے وہاں تک کتنی ہی خواتین بلکنے لگتی تھیں ، اگر المیہ منظر لمبا ہو جاتا تو پلو سیڈبڈبائی آنکھیں اور چپچپاتی ناکیں بھی بار بار بار بار پونچھی جاتیں۔ اسی طرح کسی ایک برائے نام شگفتہ جملے پہ بھی سبھی حسب توفیق لوٹ پوٹ ہوجاتے تھے، کسی سنجیدہ موڑ پہ ڈرامہ جتنے پہلو بدلتا تھا سننے والے اس سے دگنے پہلو بدلتے تھے زیادہ سنگین مراحل پہ تو نیم دراز سامع بھی اکڑوں بیٹھ جاتے تھے ایسے میں جس پرانے کھنکھارتے بزرگ کو اپنی کئی روز سے نظر انداز کردہ دوا منگوانی ہو وہ عین کلائمکس کے موقع پہ قریب ہی سے کہیں نمودار ہو کر لگا تار کھانسنا یاد رکھتا تھا اور اس حکمت کے نتیجے میں اگلے دن کے ڈرامے سے پہلے ہی اسکی مطلوبہ دوائی اسکے سرہانے لا کر رکھ دی جاتی تھی ۔

سید عارف مصطفی