اشاعت کے باوقار 30 سال

کراچی کا جغرافیہ

طنز و مزاح
جناب سید عارف مصطفی ادارہ جنگ / جیو سے وابستہ صحافی ہیں اور سیاسی تجزیہ نگاری کے علاوہ مزاحیہ نگاری بھی ان کا معمول ہے۔ ان کے متعدد مزاحیہ مضامین روزنامہ جنگ کراچی کے سنڈے ایڈیشن میں شائع ہوچکے ہیں اور ان کی پہلی مزاحیہ تصنیف ترنگ آمد شائع ہونے کو ہے۔

روشنیوں کا شہر کہتے ہی پہلے جو شہر ذہن میں آتا تھا اسے کراچی کہا جاتا تھا۔ لیکن اب کراچی کا نام سنتے ہی ذہن کی پہلے سے جلتی بتیاں بھی بجھنے لگتی ہیں پھر اب تو پاکستان میں کئی شہر اور بھی ایسے ہیں کہ جہاں بہت ڈھیر سی بتیاں جلنے لگی ہیں اور یوں ان بتیوں کو دیکھنے کیلئے کم ہی لوگ کراچی کا رخ کرتے ہیں، ہاں البتہ بیشمار ایمبولینسوں کی گھومتی بتیوں کو شریک مقابلہ کر لیا جائے تو یہ اب بھی سب سے آگے ہے۔ جیسا کہ عرض کیا کہ اب کراچی کا نام آتے ہی ذہن میں کچھ بھی نہیں آتا بس اک سناٹا سا گونجتا اور اندھیرا سا چھا جاتا ہے لیکن اسکی وجہ لوڈ شیڈنگ کم اور بلڈشیڈنگ زیادہ بلکہ بہت زیادہ ہے۔ اس شہر میں اب کام کرنے کیلئے آنے والوں کی تعداد روز بروز گھٹ رہی ہے اور کام دکھانے والوں کا شمار دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے یہاں سے جانے والے تابوتوں کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ لیکن پھر بھی ہر سال چند سرپھرے سر سے کفن باندھ کر یہاں کود ہی پڑتے ہیں، اور ان میں سے کئی کے سر سے بندھا کفن ہی انکے کام بھی آجاتا ہے۔ لیکن اگر آپ ان میں سے ہیں جو محض سیر سپاٹے کیلئے اس عروس البلاد آن پہنچے ہیں تو مناسب ہے کہ میں بطور گائیڈ آپکے ساتھ ہو لوں تاکہ اگر آپ مارے جائیں تو کوئی تو ہو جو فوری طور پہ آپکے لواحقین کو 'مستند' اور فوری اطلاع فراہم کر سکے۔ رہی میرے تحفظ کی بات تو خطرہ تو میرے لیئے بھی ہے لیکن روز روز کے خطرات نے اسے میرے لیئے معمول کی بات بنا دیا ہے اور اگر کسی روز اخبار کسی 'ٹارگٹ کلنگ' کی خبروں سے خالی ہو تو لگتا ہے کہ اخبار نہیں کوئی علمی مقالہ پڑھ رہا ہوں۔

کراچی کے سلسلے میں پہلے تو یہ جان رکھیئے کہ اس شہر میں گھومنے پھرنے کے آداب اور قرینے کل عالم سے مختلف ہیں اور انہیں سمجھنا بیحد ضروری ہے، مثلا تو یہ کہ اور مہذب شہروں کی طرح یہاں فٹ پاتھ پہ چلنے پہ اصرار مت کیجیے گا کیونکہ فٹ پاتھ نظر ہی نہیں آئے گا ظاہر سی بات ہے کہ اب یہ تو ہونے سے رہا کہ محض آپکو فٹ پاتھ دکھانے کے لیئے دکاندار کئی گھنٹے لگا کر اپنی دکان کا زیادہ تر سامان وہاں سے اٹھا لے، کہیں کچھ فٹ پاتھ پڑا مل بھی گیا تو وہاں اتنے فقیر پڑے ملیں گے کہ اگر سب کو دینے میں لگ گئے تو آخر میں خود بھی وہیں بیٹھنے کے قابل ہو جائینگے گویا اول تو چلنے کی جگہ ہی نہیں ملے گی لیکن مل بھی گئی تو کئی پتھاروں کو پامال کر جائینگے اور نتیجتاً کسی پتھاریدار کے ہاتھوں خود بھی روندے جائینگے۔ دوسرے یہ بھی پلے باندھ لیجئے کہ چلتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنے کے بجائے نگاہ نیچی رکھ کر چلئے یوں کسی کھلے گٹر میں غرقابی سے بھی بچیں گے اور اہل تقوی میں الگ گنے جائینگے، اگر کسی سے کوئی پتا پوچھنا ہو تو برابر کا امکان ہے کہ اپنا پتا بھی کھو بیٹھیں ، ویسے یہاں کے زیادہ تر باسیوں سے پتا پوچھنے میں کامیابی بھی معمولی بات نہیں، اگر عین شان پلازہ کے نیچے کسی بندے سے شان پلازہ کی بابت پوچھیں گے تو پورا امکان یہ ہے کہ وہ پورے اعتماد سے آپ کو گلی کے آخری سرے پہ دور کھڑے کسی باخبر آدمی کی طرف بھیج دیگا کہ اس سے پوچھ لیں۔ اور خاصا امکان ہے کہ وہ باخبر بھی شان پلازہ کا نام سنتے ہی بہت حیران سا دکھائی دے گا کہ آخر یہ بلڈنگ کب بنی۔

اگر آپ کھانے کا ذوق رکھتے ہیں تو کراچی آپ ہی کیلئے ہے، کیونکہ کھانے کیلئے یہاں دھکے اور غم کے علاوہ بھی کافی کچھ ہے۔ جہاں تک ڈکار انگیز کھانے کی بات ہے تو یہاں وہ بھی وافر طور پہ ہر وقت میسر رہتا ہے، پہ ایک وقت کے کھانے کیلئے کہیں 50 روپے بھی زیادہ ہیں تو کہیں 5 ہزار روپے بھی کم ہیں۔ یہ الگ بات کہ 50 روپے میں آپ عوامی صحتمند کھانا کھائینگے جبکہ 5000 میں ابلا ہوا روکھا پھیکا سا وی آئی پی سا 'زیر علاج' طعام نگلیں گے۔ یہاں کے خاص کھانے متعدد ہیں لیکن کراچی کی خاص ڈش نہاری ہے، ہر دوسرے ہوٹل پہ لکھا ملتا ہے "دلی کی خاص نہاری" لیکن انہیں کھا کر جی چاہتا ہے کہ "دلی کی عام نہاری" کو ڈھونڈا جائے۔ کہیں یہ پانی میں نہا رہی ہوتی ہے تو کہیں مرچوں میں، اسکا لیس عموما ہوٹل کی سوکھی روٹیوں سے تیار کیا جاتا ہے یوں یہ واحد ڈش ہے کہ جس میں روٹی اور سالن ایک ہی پلیٹ میں یکجان دستیاب ہوتے ہیں۔ اسکو کھاتے ہوئے ناک اور منہ سے بہت شوں شوں ہوتا ہے اسلئے پلیٹ ناک کی سیدھ میں نہیں رکھنی چاہیئے ورنہ نہاری ختم ہوتے بہت دیر لگتی ہے۔

کراچی کے ہوٹلوں کی ایک خاص بات یہاں کی گریبی ہے، یہ مزید اضافی سالن کی اس مقدار کو کہتے ہیں جو روٹی ختم کرنے کیلئے مفت میں عندالطلب ملتی ہیں اوررش والے ہوٹلوں میں بار بار ملتی ہے، بس۔ ہر بار نئے بیرے سے التماس کرنا پڑتا ہے، لہذا اگر 3 چار دوست ایک ساتھ ایسے مصروف ہوٹل میں جائیں تو ایک پلٹ سالن منگوانا ہی کافی رہتی ہے باقی بھوجن تو نصف درجن گریبیاں ہی سہار لیتی ہیں۔ نہاری ویسے تو اپنے نام کی طرح صبح کھانے کی ڈش ہے لیکن چونکہ بڑے شہروں میں اب "صبح" شام سے ذرا پہلے ہی اترتی ہے، چنانچہ نہاری وقت کی قید سے کب کی آزاد ہو چلی۔ اگر اب کوئی صبح نہاری کھانے کسی ہوٹل میں جائے گا تو کسی خاکروب کے ساتھ فرش پہ بیٹھ کر اسکا رات کا سالن شیئر کرتا پایا جائے گا۔ یہ بات جاننا بھی بہت ضروری ہے کہ کراچی پلازوں کا شہر ہے اور یہاں خلوص اور مروت بھی کنکریٹ کے تلے دبے رہتے ہیں، کسی سے بے وجہ یونہی ملنے چلے جائیں تو وہ خوش ہونے کی خود سے کوئی کوشش نہیں کرے گا، بس اندھا دھند سٹپٹا جائے گا کیونکہ یہی ایک کام کرنے میں اس شہر کے لوگوں کو بڑی مہارت حاصل ہے۔ یہاں مہمان کی آمد پر کئی میزبان گھر سے باہر جانے لگتے ہیں- مہمان کے آنے پہ بتیسی دکھانے پھر نئی کراکری دکھانے کو آداب مہمانداری کا لازمی حصہ گردانا جاتا ہے۔ بار بار دستی گھڑی دیکھنا بھی انہی آداب کا حصہ ہے۔ مہمان پھر بھی نہ سمجھے تو شہر میں اچانک حالات کی خرابی کی کسی افواہ کا ذکر بہت مجرب خیال کیا جاتا ہے لیکن ایسے موقع پہ چہرے پہ تھوڑی سی ہوائیاں نمودار کرنا اور لہجے میں مہمان کی واپسی کے حوالے سے سلامتی سے متعلق تشویش کا۔ مناسب مقدار میں اظہار کرنا، ان تشویشی رسومات کا ناگزیر حصہ ہے اور فوری طور پہ مطلوبہ عملی نتائج مرتب کرتا ہے۔

کراچی اک جہان حیرت ہے۔ بہت لمبا چوڑا شہر ہے اب تک اسکی حدود کا یقینی و مستند تعین صرف اسی سب نہیں ہوسکا ہے کیونکہ جیسے ہی اسکی نپائی مکمل ہو کر نقشہ چھپنے کو جاتا ہے یہ شہر اس سے کئی میل اور آگے کو سرک جاتا ہے۔ اس قدر طویل ہی کہ ایک سرے سے چلنے والا دوسرے سرے تک پہنچنے سے پہلے کئی بار اپنی منزل بھول بھول جاتا ہے اور بسا اوقات اہلخانہ سے فون کر کے مدد لیتا ہے، بعضے تو یہ تک کہتے سنے گئے ہیں کہ اسکے ایک کنارے اور دوسرے کنارے والوں کے سحر و افطار کے اوقات یکساں ہونا بہت مشکوک معاملہ ہے اور احتیاطا 2-3 منٹ کی تاخیر کر لی جائے تو یہ احتیاط عین قرین تقوی ہوگی۔ کراچی کے اکثرعلاقے اس جہان حیرت کی صحیح نمائندگی کرتے ہیں، لالو کھیت میں نا ہی لالو ہی نا کوئی کھیت، ڈاکخانہ اسٹاپ پہ ڈاکخانہ لا پتا ہی نیو کراچی کا مشہور سندھی ہوٹل مرحوم ہوئے عرصہ گزرا اور ناظم آباد پیٹرول پمپ کے 55-60 سال پرانے اسٹاپ پہ پیٹرول پمپ ندارد ہوئے زمانہ بیتا۔ اہل رنچھوڑ لائن جب با افراط کنگلے تھے تب وہاں اک لکھپتی ہوٹل ہوا کرتا تھا، اب وہاں کنگلے کم اور لکھپتی زیادہ ہیں، لیکن لکھپتی ہوٹل غائب ہے، اسکا نام اب بس اسٹاپ کی صورت ہی زندہ ہے۔ لہذا اتنے وافر مغالطوں کی موجودگی میں بھی اگر آپ غربا کو نیاز بانٹنے غریب آباد جا رہے ہیں یا شرفا سے ملاقات کیلئے شریف آباد کا رخ کیا ہے تو بہتر ہے کہ اپنے ارادے پہ نظر ثانی فرمالیں۔ کبھی یہاں اک بازار حسن بھی ہوا کرتا تھا لیکن اب اسکی بوسیدہ بال کنیوں میں دھری جھریوں سے اٹی بوڑھی فاختائیں دیکھ کر سویا ہوا تقوی جاگ اٹھتا ہے۔ یہاں کا جوڑیا بازار غلے کی خریداری کا سب سے بڑا مرکز ہے کہ جہاں آج بھی انسان اور جانور بابرداری کیلئے برابر سے استعمال کیئے جاتے ہیں ایسی مساوات کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اسکے تنگ اور پر پیچ راستوں میں سے گزرتے ہوئے کسی سامان بردار گدھے کو دیکھیں تو آپ اسے اپنے سے زیادہ ہوشیار پائینگے، ایک چور بازار بھی ہے، لیکن یہاں اسکے نام کی وجہ، چوری کی اشیا کی فروخت کم اور خریدار کے جیب سے مال کی چوری کرنا زیادہ ہے، یہاں کے اکثر دکاندار بھی بازار کے نام کی مانند جید مشکوک معلوم ہوتے ہیں۔

کراچی کی دوسری مشہور ڈش یہاں کا حلیم ہے، اسکی خاص بات اسکا ریشہ ہے۔ گویا طبعا بزرگانہ سی ڈش ہے دوکانوں پہ ملنے والی حلیم کا ریشہ اکثر روئی کی ریشہ دوانی کا نتیجہ ہوتا ہے، جس کسی کے گھر میں اگر چند پرانے گدے اور لحاف ہیں تو وہ بخوبی اس کاروبار کی ابتدا کرسکتا ہے، کراچی میں اسے گلی محلے میں مل جل کر پکانے اور لڑ لڑ کر بانٹنے کی روایت بہت مستحکم ہے۔ عموما لڑائی چند "مخصوص' گھروں پہ ہوتی ہے کہ وہاں حلیم دینے کون جائیگا۔! حلیم عموما چندے سے پکایا جاتا ہے جو کبھی پورا پڑتے نہیں دیکھا جاتا، کونکہ جادوئی فارمولے کے تحت جو جتنا کم چندہ دیتا ہے بوقت تقسیم وہی گھر کا سب سے بڑا یعنی نہانے کا پتیلا مانجھ کر اٹھائے حاضر ہو جاتا ہے۔ حلیم کی عمدہ پکائی کا انحصار اسکی گھٹائی پہ ہے جو عموما اسکے گھوٹنے والے آلے"گھٹننا" کی مدد سے کی جاتی ہے اور یہ کام کرنے والے زیادہ تر وہ لڑکے بالے ہوتے ہیں جو اس گھٹننے کے ہی سائز کے ہوتے ہیں، اور اسے گھوٹتے ہوئے لٹک لٹک جاتے ہیں۔ گھر میں ہل کر خود پانی بھی نا پینے والے لاڈلے اینٹوں سے بنے چولہوں میں آگ سلگانے کیلئے جب بے تحاشا پھونکیں مارتے اور آنکھیں لال کرتے ہیں تو اقبال یاد آتے ہیں- ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی، حلیم پکانے کیلئے درکار سامان میں دالیں، گندم گوشت اور گھی تیل کے علاوہ تاش کی گڈی، لوڈو، میوزک پلیئر اور پان، گٹکے ماوا و مین پوری کی کئی درجن پڑیاں شامل ہیں۔ خواہ دال، گندم گوشت یا گھی تیل کم رہ جائے لیکن باقی دیگر میں کمی نا ہونے کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ چونکہ حلیم کی تیاری کے دوران بہت لڑائیاں ہوتی ہیں اسلیئے حلیم پک جانے کے بعد اگر اس میں گوشت وافر معلوم ہو تو احتیاطا اسے گھوٹنے والے لڑکوں کو پھر سے گن لیا جاتا ہے۔

کراچی کی پاکستان میں زیادہ اہمیت اسکے سمندر کی وجہ سے ہے ورنہ تعلیم و تہذیب سے تو کبھی کی جان چھوٹ چکی، اس فیاض سمندر نے بڑے معاشقوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہے، یہاں پہ آنے والے اکثر پریمی بار بار یہاں آتے ہیں اور اکثر جوڑوں میں دونوں میں سے ایک پرانے والا نہیں ہوتا۔ لڑکے لڑکی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے افق کے پار جانے کا پیماں باندھتے ہیں لیکن تھوڑے ہی عرصے میں یہاں دو الگ اونٹوں پہ بیٹھے اجنبی سے بنے پاس سے گزر جاتے ہیں۔ شادی شدہ جوڑوں کے لیئے نکاح نامہ ساتھ رکھنا اور بنا شادی شدہ جوڑوں کیلئے بٹوہ ساتھ رکھنا یہاں کے سمندری قوانین کا حصہ ہے، ادھر پولیس آنے جانے والوں کے منہ باقاعدگی سونگھتی رہتی ہے، منہ سے جس مشروب کی بو آئے اسی کی قیمت کا تاوان بھرنا لازم ہے۔ جو لوگ صرف پانی پی کر اپنا منہ سنگھانےآجاتے ہیں پولیس انہیں پانی پانی کر دیتی ہے۔ عالمی ماہرین یہاں کے سمندری ساحلوں میں بڑھتی آلودگی پہ اکثر بہت تشویش کا اظہار کرتے نظرآتے ہیں، لیکن اس آلودگی کی وجہ محض سی ویو اور ہاکس بے پہ ہونے والی آلودہ سرگرمیاں ہی نہیں ہیں بلکہ شہر کے بہت سے لوگ بھی ماہانہ و سالانہ صرف یہیں آکر نہانے پہ بضد رہتے ہیں۔ جہاں تک بات کراچی کی اہمیت کی ہے یہ پہلے معاشی حب کہلاتا تھا اب بد معاشی کا حب ہے، جو اس حقیقت کے آگے سر نا جھکائے اسکی منزل حب ڈیم ہے، یہاں بدمعاشی کرنیوالے عام طور پہ 30-40 کلو سے زیادہ کے نہیں ہوتے اور پستول کو ایک ہاتھ سے تھام کر چلانے میں انکی کلائی اتر اتر جاتی ہے، بات اگر کلاشکوف کی ہو تو کم از کم دو لڑکے درکار ہوتے ہیں، یہ دوسرا لڑکا مدد گار ہوتا ہے اور کلاشنکوف چلانے والے کی کلائی اور پتلون تھامنے میں مدد کرتا ہے۔ ایسے لوگ جب کہیں بھتہ مانگنے جاتے ہیں تو پستول نا دکھانے پہ بھی انکی صحت دیکھ کر خدا ترس لوگ پہلے سے ہی الگ کر کے رکھی ہوئی کچھ خیرات زکوٰة اور صدقات انکے سپرد کر دیتے ہیں۔ تاہم اب خدا خوفی کی جگہ اسلحہ خوفی نے لے لی ہے لہذا پستول کی نمائش کے نتائج نہایت تسلی بخش نکلتے ہیں۔ ورنہ جس طرح کے موٹے تازے تھل تھلاتے تاجروں سے یہ بھتہ مانگا جاتا ہے اگر اسلحہ نا ہو تو وہ ایسے نصف درجن کو لٹا کر ان پہ بیٹھ رہیں تو انکی سبھی پسلیاں سٹک لیں۔ کوئی اور صنعت تو اس شہر خراباں میں عرصے سے ترقی کا منہ نا دیکھ سکی بس موبائل اور بوری کی صنعت دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ واپس زندہ گھر پہنچ جانا ہی اب اس شہر کی سب سے بڑی عیاشی ہے۔
 

OLAREX Directory

Billeo Directory

Directory for Internet

Linea Web Directory