اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

یہ ڈیڑھ فٹ کے دانشگرد

سالار سلیمان

ہم نے اصل میں خود ہی اپنا مذاق بنایا ہواہے۔ جسے دیکھو ڈیڑھ کتاب پڑھ کر دانشور بنا ہوا ہے۔ آج تو دانشوری اور بھی آسان ہے،اخبار کے ایڈیٹر سے دوستی گانٹھیں، فیس بک کے لمبے لمبے اسٹیٹس کاپی پیسٹ کریں اور وہ کسی بھی اخبار میں چھپوا کر دانشور بن جائیں۔ میں ایسے نمونوں کا دانشگرد کہتا ہوں اور یہ دہشتگردوں کی سیکنڈ ٹائپ ہے۔ میں ایسا کیوں کہتا ہوں؟ کیوں کہ میں دل سے سمجھتا ہوں کہ یہ نہ صرف اہل حق کا حق مارتے ہیں بلکہ اتنی اہم ذمہ داری کو فار گرانٹڈ لینے کے ساتھ ساتھ ملک و قوم سے بددیانتی کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔
ہر 14اگست کو میں ایک ہی بات اور ایک بیانیہ سنتا ہوں۔ یہ بیانیہ پہلے اتنی شدت کے ساتھ نہیں تھا لیکن اب نا جانے کیوں سوشل میڈیا پر اس قدر شدت کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ کی امان۔۔۔!!
اس بیانیے کے نکات کیا ہیں؟
۔ پاکستان تو علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش تھی تاکہ وہ یہاں پر اپنے پنجے گاڑ سکیں۔
۔ ہم اگر اکھٹے ہوتے تو زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ۔
۔ تقسیم نے صرف زمین کو ہی تقسیم کیا ہے اور تو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
۔ اس پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے، اس سے بہتر تھا کہ تقسیم ہی نہ ہوتی۔
مندرجہ بالا نکا ت کے علاوہ بھی کئی اور نکات بولے جاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود کو پاکستانی کہلوانے پر شرمندہ ہیں اور دل سے خود کو بھارتی مانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی اکثریت وہ ہے جو درحقیقت جاہل ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ قصور اِن کے والدین کا ہے جنہوں نے صرف دولت ہی کمائی ہے اور انہوں نے درحقیقت اپنے بچوں کے سنیوں میں وطن سے محبت نہیں بھری۔ ان کو تھوڑا سا وقت نکال اپنے بچوں کو کم از کم پاکستانی ضرور بنانا چاہئے تھا۔
۔ پاکستان ہرگز علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش نہیں تھی۔ یہ ایک نظریہ تھا جس کے تحت نہ صرف پاکستان وجود میں آیا بلکہ اِس کیلئے 21لاکھ لوگوں نے ہجرت کی۔ اس وقت کی رپورٹس کے مطابق اس ہجرت کے دوران 14لاکھ کے قریب شہادتیں ہوئی تھیں۔ بسیں اور ٹرینیں لاشوں سے بھر کر لاہور کے والٹن اسٹیشن پر رکتی تھی اور ان لاشوں میں سے زخمیوں اور زندوں کو الگ کیا جاتا تھا۔ علی گڑھ کے کن لونڈوں نے یہاں پر پنجے گاڑھے ہیں؟ کیاہمارے آبااجداد اتنے ہی گئے گزرے تھے کہ وہ محض ایک سازش کا شکار ہو گئے ؟ بیوقوف تھے کیا وہ؟ یہ شہدا عقل کے اندھے تھے کہ جو اپنا مال اسباب، حویلیاں، کھیت، جانور سب کچھ چھوڑ کر پاکستان چل دیے اور لاکھوں کو تو پاکستان کی سرزمین دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوئی۔ کتنی ہی مائیں بہنیں شہید ہو گئی۔ کتنی ہی سکھوں کی لونڈیاں بن گئیں۔ یہ دانشگرد جب انفرادیت کے شوق میں ایسی بکواس کرتے ہیں تویہ لاکھوں شہیدوں کی توہین کرتے ہیں۔ میں مہاجر ہوں، میرے دادا نے ہجرت کی تھی۔ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم ریلوے میں تھے، تقسیم کا اعلان ہوا تو ہم نے گھر نہیں تھے۔ ہم نے وہیں سے گھر میں پیغام بھجوا دیا کہ ہم پاکستان جا رہے ہیں، تم لوگ بھی آ جانا، زندگی ہوئی تو وہیں ملاقات ہوگی۔ یہ تھا وہ عشق اور وہ جنون ، یہ تھی وہ پیاس اور وہ تڑپ کہ جس کی خاطر ایسے لوگوں نے ہجرت کی۔ یہ دانشگرد کیا جانیں کہ محبت اور عشق کیا ہوتی ہے۔ جن کو اپنی اولادوں سے محبت نہیں وہ ہمیں وطن سے محبت سکھائیں گے؟
اگر ہم اکھٹے ہوتے تو کیا کر لیتے؟ ہندوستان کے مسلمان ہماری کل آبادی کے برابر ہیں، انہوں نے کیا کر لیا؟ یہ فیس بک اور ٹوئیٹر تو اب سرحدوں کے محتاج نہیں ہیں۔ ذرا پوچھیں اپنے ہمسائیے میں موجود مسلمانوں سے کہ وہ کیسے رہتے ہیں۔ میں 2015 میں دبئی میں تھا اور میں نے وہاں پر بھارت کے مسلمانوں سے ان کی حالتوں کے بارے میں پوچھا بھی ہے۔ میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ میں پاکستان میں پیدا ہوا اور آزاد وطن میں آزاد سانسیں لے رہاہوں۔ ہم اکھٹے ہوتے تو بھی غلام ہی ہوتے،اس سے زیادہ کیا ہوتے؟ اگر تقسیم نے صرف زمین کو ہی تقسیم کیا ہے تو اپنا گرین پاسپورٹ سرنڈر کر دیں، جائیں بھارت۔۔۔!! پھر میں دیکھتا ہوں کہ وہ اندرسے کمینہ بھارتی کیسے آپ کا سواگت کرتا ہے۔ اگر اتنا ہی افسوس ہے تو اب پاکستان کو چھوڑ جائیں۔
پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟ پاکستان نے ہمیں پہچا ن دی ہے۔ اس پاکستان کی قدر کا اندازہ بھی مجھے دبئی میں ہوا تھا جہاں پر انڈین مسلمان بہت ہی جھک کر ملتا تھا، واضح رہے کہ وہ عاجزی سے نہیں جھکتا تھا بلکہ غلامانہ ذہنیت سے جھکتا تھا اور میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوری جرات اور پورے اعتماد کے ساتھ عربوں اور انگریزوں سے ہاتھ ملاتا تھا، انکے کرسی پر بیٹھنے سے پہلے میں خود بیٹھا ہوتا تھا۔ نہ صرف اپنا پرپوزل منوا کر اٹھتا تھا بلکہ اللہ کے فضل سے تعریف کے دو بول بھی لیتا تھا۔ میری کارکردگی کا گواہ میرا پورا آفس ہے۔ یہ دیا ہے پاکستان نے مجھے جوکہ مجھے یقین ہے بھارت نہ دے سکتا تھااور کم از کم میرے سامنے تو بھارتیوں کو ایسا کچھ بھی نہیں ملا۔مجھے یاد ہے کہ دبئی میں میرے ابھی ابتدائی دن تھے اور میں قوانین سے واقف نہیں تھا۔ زیبراکراسنگ سے ہٹ کر سڑک کراس کی۔ دوسری جانب سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والے نے روک لیا۔ میں نے بتایا کہ سیاح ہوں پاکستان سے ہوں۔ اس نے پاسپورٹ طلب کیا، میں نے جیب سے نکال کر تھما دیا۔ اس نے پاسپورٹ دیکھ کر مجھے واپس پکڑا دیا کہ میں تمہارا چالان نہیں کرتا، میں نے پوچھا کیوں؟ اس نے کہا کہ مجھے آج تک جتنے بھی پاکستانی ملے ہیں، کسی نے بھی بدتمیزی نہیں کی ہے۔ میرا قانون تو کہتا ہے کہ میں تمہیں دو سو درہم کا جرمانہ کروں، لیکن میرا دل کہتا ہے کہ میں تمہیں ایک موقع اور دوں۔ کون کہتا کہ گرین پاسپورٹ کی عزت نہیں؟ مجھے میرے اللہ نے موقع دیا، میں نے اپنے اخلاق اور کردار سے عزت بنانے کی کوشش کی اور اللہ نے کرم کیا۔ کسی ایک انگریز یا عربی نے مجھے حقارت سے نہیں دیکھا۔ بہت سے آج بھی میرے ساتھ رابطے میں ہیں۔ عزت ملتی نہیں، یہ کروانی پڑتی ہے۔ وطن کو گالی نکال کر کب کسی نے عزت کروائی ہے؟ یہ بات حسن نثار اور حسین حقانی جیسی مایوس مخلوق کے ذہین دماغوں میں نہیں آئے گی۔ یہ بات مجھے اور آپ کو سمجھنی ہے۔
ذرا فلموں اور ڈراموں سے ہٹ کر بھار ت کو دیکھیں، آپ کو دن میں تارے نظرآئیں گے اور آپ اسی دھرتی کو چومنا نہ شروع کر دیں تو پھر بتائیے گا۔ لیکن یہ ڈیڑھ فٹ کے دانشگرد اس کو کیا جانیں۔ مجھے پاکستان کل بھی عزیز تھا، آج بھی عزیز ہے۔ ہم مہاجر تھے اور آج پاکستانی ہیں اور یہ وہ چیز ہے جو میرے ڈی این ا ے میں شامل ہے۔
ہے کوئی مائی کا لال جومیرے ڈی این اے سے یہ نکال دے؟؟؟