اشاعت کے باوقار 30 سال

پانامہ کیس جے آئی ٹی ارکان کے تحفظ کی اشد ضرورت

ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے نواز شریف کے خلاف کرپشن کی انکوائریاں کرنے والے افسروں کے خلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہاں پہلے تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ افسران نواز شریف اور ان کے خاندان کے ذاتی ملازم تھے یا ریاست پاکستان کے خادم تھے۔ اگر یہ لوگ نواز شریف فیملی کے نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے خادم تھے اور سپریم کورٹ ریاست کا ایک ستون ہوتے ہوئے ان کو کوئی کام تفویض کرتی ہے تو اس پر عمل درآمد ان کا فرض بن جاتا ہے۔ یوں سپریم کورٹ کے اپنے منتخب کردہ جے آئی ٹی کے ارکان نے سپریم کورٹ کے احکام کے مظابق فرائض کی بجا آوری کر کے کوئی جرم نہیں کیا۔بلکہ ایک لحاظ سے اپنے افسران کے بارے میں تفتیش کر کے ایک ایسی مثال قائم کی ہے جس کی پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یوں یہ تمام اصحاب پاکستان کے 20 کروڑ عوام کی داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ نہ کہ حکومت کی طرف سے کسی بھی قسم کی گو شمالی کے۔ نواز شریف کو عظیم مسلمان فرمانرواؤں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انصاف کے عمل کو کھلے دل اور ظرف کے ساتھ قبول کرنا چاہئے تھا نہ کہ ان لوگوں کو طعن و تشنیع اور دھمکیوں کا نشانہ بناتے۔ حکومت کے وہ اعلیٰ افسران جنہوں نے ان لوگوں کے خلاف کاروائی کا عمل شروع کیا ہے ، ان کو بھی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ وہ بھی نواز شریف کے ملازم نہیں ہیں ان کو ریاست پاکستان کے خزانے سے تنخواہ ملتی ہے ۔ ان کی وفائیں اور ہمدردیاں ریاست کے ساتھ ہونی چاہئیں نہ کہ حکومت کے ساتھ۔ حکومتیں بدلتی اور آتی جاتی رہتی ہیں جب کہ ریاست قائم رہتی ہے۔ اگر کسی نا اہل حکومت کی غلط کاریوں کے باعث (میرے منہ میں خاک) ملک ہی نہ رہے تو وہ لوگ کہاں جائیں گے۔ اس لئے دہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نہ بنیں اور وہ کام کریں جو ملک کی سلامتی کے لئے ضروری ہوں، اب سپریم کورٹ سے میری درد مندانہ درخواست ہے کہ سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان کے حکم پر ان چار اصحاب (آرمی سے تعلق رکھنے والے 2 ارکان کو چھوڑ کر کہ ان پر ان لوگوں کا زور نہیں چلے گا) کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری سپریم کورٹ پر آن پڑی ہے۔ اس غرض کے لئے سپریم کورٹ کو ہر ممکن اقدام اٹھانا چاہئے۔ وگرنہ اگر ان اصحاب کے ساتھ ، معاذ اللہ ، کچھ برا ہو گیا تو کوئی شخص کسی عدالت کے ساتھ تعاون کے لئے آگے نہ آئے گا اور یہ بہت بڑی بدقسمتی ہو گی کہ ملک دشمن عناصر کرسیوں سے چمٹے دندناتے پھریں گے اوران کے خلاف انصاف کے علم برداروں اور انصاف کے متلاشی لوگوں کا کوئی والی وارث نہ ہو گا۔ اور اس مملکت خداداد میں لوٹ کھسوٹ کا بازار اسی طرح گرم رہے گا۔ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔ خدا کرے کہ اس ارض پاک میں ایسی حکومتیں قائم ہونے لگیں جو حقیقتاً عوام کی ہمدر اور خیر خواہ ہوں اور ایسے منصف انصاف کی مسندوں پر تشریف فرما ہوں جو ہر جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کی ہمت رکھتے ہوں۔

تحریر: امیر مرزا

نوٹ: روزنامہ اردو ٹائمز میں شائع ہونے والی کوئی بھی تحریر لکھنے والے کا ذاتی نقطہ نظر ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں

Author: