اشاعت کے باوقار 30 سال

سکیورٹی ہے کوئی مذاق نہیں

گزشتہ دنوں جب مریم نواز شریف نے جے آئی ٹی میں اپنی پیشی بھگتی تو اِس دوران میں ایک خبر نے میڈیا میں کافی جگہ بنا لی کہ اُن کی گاڑی کی نمبر پلیٹ جعلی تھی ۔ اب چونکہ پانامہ کیس کی تفتیش ہو رہی تھی اور اُس میں بھی جھوٹ سچ کا پتا چلانا ایک کام تھا تو ایسے ماحول میں ’نمبر پلیٹ جعلی ‘ ہے نکل آنا سیاسی مخالفین کیلئے کسی لاٹری سے کم نہیں تھا۔ اُنہوں نے اس معاملے کو بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے استعمال کیا۔ اس حوالے سے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے ٹی وی پروگرام بھی کرڈالے ۔
میری ذاتی رائے میں ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا ۔ کیوں؟ کیونکہ نمبر پلیٹ کی تبدیلی کوئی سیاسی معاملہ نہیں بلکہ سکیورٹی کا معاملہ تھا۔ اس بات کو سمجھنے کیلئے مجھے اپنے ذرائع سے اِس بابت پوچھنا پڑا۔اُن کے مطابق‘ مختصراً‘ سب سے پہلی بات کہ وی وی آئی پی پروٹوکول کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ یہ معاملات سکیورٹی انٹیلی جنس ایجنسیاں ہینڈل کرتی ہیں۔ آج کی اپوزیشن جب ماضی میں حکومت میں تھی اور ایوان صدر میں اُن کا ڈنکا بجتا تھا تو تب بھی ایسی ہی سکیورٹی رہتی تھی ، ایسے ہی گاڑیاں اور نمبر پلیٹس تبدیل کر دی جاتی تھیں۔ یہ پریکٹس دنیا بھر میں وی وی آئی پی شخصیات کیلئے ہوتی ہے ۔ اس میں سربراہان مملکت اور اُن کا خاندان شامل ہوتاہے۔ وہ ممالک جن میں ایسی پریکٹس نہیں ہوتی ہے ، اُن ممالک کے ہمسایے بھارت ‘افغانستان اور ایران کی طرح کے بھی نہیں ہوتے ہیں۔ افغانستان کے صدر کی بھی سکیورٹی ہوتی ہے ۔ ایران کے صدر اور سپریم کمانڈر کی بھی سکیورٹی ہوتی ہے اور اسی طرح سے فلسطین کے صدر اور اسرائیل کے صدر کی سکیورٹی کے بھی اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔
یہاں یہ بات علم میں رہے کہ کسی بھی سکیورٹی شخصیت کو ٹارگٹ کرنے سے پہلے اُس کی مکمل ریکی کی جاتی ہے۔ یہ ریکی ’ان سائڈ جاب‘ کے بغیر ممکن نہیں ہوتی ہے ۔کوئی نہیں جانتا کہ کب اور کیسے اور کسی بھی وقت کوئی ’ان سائڈ جاب‘ کر دے۔ سابق صدر مشرف پر قاتلانہ حملے اس کی ایک مثال ہیں۔ گورنر سلمان تاثیر بھی ان سائڈ جاب کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ اسی لئے ایسی کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بچنے کیلئے مختلف سکیورٹی پلان ترتیب دیے جاتے ہیں جو کہ’اپ ٹو ڈیٹ ‘ ہوتے ہیں ۔ ان پلانز کا علم گنتی کے چند افراد کوہوتا ہے، حتیٰ کہ وزیر اعظم یا صدر کو بھی عین آخری وقت یا لمحے میں معلوم پڑتا ہے کہ اُن کو کس گاڑی میں سفر کرنا ہے ۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹس عین وقت پر تبدیل کر دی جاتی ہیں تاکہ کوئی ٹارگٹ کلر یا اسنائپر اپنا کام نہ کر سکے۔ واضح رہے کہ جان ایف کینیڈی جو کہ امریکہ کے سابق صدر تھے، اُن کی موت ایسے ہی اسنائپر کے فائر سے ہوئی تھی ۔
دوسرا یہ انتظام کیا جاتا ہے کہ جس سکیورٹی شخصیت نے سفر کرنا ہوتا ہے ، تو اس بات کاخیال کیا جاتاہے کہ اُس کی گاڑی کی بریک کہیں بھی نہ لگے اور وہ سیدھی اپنی منزل پر جاکر رُکے۔ا یسے میں کم از کم تین روٹس مرتب کئے جاتے ہیں اور عین وقت پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کس روٹ سے و ہ شخصیت سفر کرے گی۔ راستے کے تمام ٹریفک اور سکیورٹی اہلکار بذریعہ وائرلیس ‘کوڈ ورڈز میں چوکس کئے جاتیہیں اور ٹریفک کو مناسب فاصلے پر روک لیا جاتا ہے ۔ جب وہ شخصیت گزر جاتی ہے توکچھ وقت کے بعد ٹریفک کو کھولاجاتا ہے ۔اسی طرح اگر کسی وی وی آئی پی نے بذریعہ سڑک ایک شہر سے دوسرے شہر جانا ہوتا ہے تو ہر مناسب فاصلے کے بعد اُن کی گاڑیوں کی نہ صرف نمبر پلیٹس تبدیل کی جاتی ہیں بلکہ بعض اوقات تو گاڑیاں بھی بد ل دی جاتی ہیں۔سابق صدر کے دور میں ایسا بھی ہوا کہ صدر کا پورا پروٹول ایوان صدر سے نکلا اور اُس کے آٹھ منٹ کے بعد ایوان صدر سے دو ہیلی کاپٹر اُڑے۔ زمینی پروٹوکول کی کسی بھی گاڑی میں صدر نہیں تھے بلکہ وہ ایک ہیلی کاپٹر میں ائیر پورٹ پہنچے ‘جہاں سے وہ دبئی چلے گئے۔ اسی طرح ایک سابق وزیر اعلیٰ کا کارواں رواں دواں تھا کہ اُن کے پائیلٹ (وہ پولیس اہلکار جو ہیوی بائیکس پر ساتھ ہوتے ہیں) وہ نامناسب سڑک کی وجہ سے ٹکڑا گئے ۔ سابق وزیر اعلیٰ اپنی شدید خواہش کے باوجود بھی نہ رُک سکے کہ سکیورٹی افسران نے رُکنے سے انکار کر دیا تھا اور اُن کا کارواں وزیر اعلیٰ ہاوس ‘گلبرگ جا کر رُکا۔ ایک مرتبہ ایک سکیورٹی تھریڈ جاری ہوا۔ وزیر اعلیٰ کا کارواں اپنے پورے پروٹوکول سے نکلا،اس کے بعد ایوان وزیر اعلیٰ سے تین اور گاڑیاں بھی نکلی۔ وزیر اعلیٰ پہلے پروٹوکول میں نہیں تھے بلکہ وہ اُن تین گاڑیوں میں تھے جو کہ ہر اشارے پر رُک بھی رہی تھی اور عام رفتار سے سفر کر رہی تھی ۔ یہ االگ بات ہے کہ اُن کے ساتھ اُن گاڑیوں میں اعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوز بھی تھے۔ تاہم یہ ضروری تھا تاکہ ملک دشمن عناصر کو چکما دیا جا سکے۔ ایسا بھی ہوا کہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ نے بذریعہ جہاز لاہور آنا تھا لیکن عین وقت میں اُن کا پروٹوکول تبدیل ہوا اور وہ بذریعہ سڑک 5گھنٹوں میں لاہور پہنچے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وی وی آئی پی شخصیت گاڑی میں بیٹھنے لگتی ہے اور عین وقت پر جب کہ اُن کیلئے دروازہ کھلنے والا ہوتا ہے تو گاڑی تبدیل کر دی جاتی ہے ۔ اس ساری پریکٹس میں نہ صرف نمبر پلیٹس تبدیل ہوتی رہتی ہیں بلکہ اُن کا حفاظتی عملہ بھی تبدیل ہوتا رہتاہے ۔ مختلف نمبرز کے مختلف کوڈز ہوتے ہیں۔ گاڑیوں کے شیشے کالے ہوتے ہیں ۔ وائرلیس پر موومنٹ کیلئے کوڈ ورڈز کا استعمال کیا جاتا ہے ۔یہ وہ عام سکیورٹی پریکٹس ہے جو کہ اُس کے پرسنل اور سکیورٹی اسٹاف کے علم میں ہوتی ہے ۔ وہی حساس اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں سے کوارڈینیٹ کرتی ہیں۔ شہر تبدیل تو پلان تبدیل، دن تبدیل تو پلان تبدیل اور حتیٰ کہ بعض اوقات تو ہر تین گھنٹے کا پلان بھی مرتب کیا جاتا ہے ۔ ایسا کرنا بھی مجبوری ہے ، کیونکہ یہ وی وی آئی پی شخصیات ہیں اور اگر خدانخواستہ ان کو کچھ ہوجاتا ہے تو پاکستان کی عزت پر حرف آتا ہے ۔ کیا ہم آج تک سری لنکن ٹیم پر حملے کا خراج ادا نہیں کر رہے ہیں؟ اگلی مرتبہ بھی آپ نوٹ کیجئے گا کہ نواز شریف، شہباز شریف، بلاول، آصف زرداری، قائم علی شاہ، پرویز خٹک، مراد علی شاہ، ثنا اللہ زہری سمیت دیگر تمام وی وی آئی پی شخصیات اوراُن کے خاندان کی سکیورٹی ایسی ہی ہوتی ہے ۔یہ روٹین کی پریکٹس ہے،جس پر واویلا مچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔سیاست کرنے کے اور موضوعات بھی ہیں، اُن کو رگیدیں اور جتنا مرضی رگیدیں لیکن کم از کم فاول پلے نہ کریں.