اشاعت کے باوقار 30 سال

اظہار خیال

اظہار خیال۔

سوچتا ہوں کہ ہم کتنے بے حس ہو چکے ہیں۔ اپنا ملبہ کسی اور پر ڈال کر کتنے آرام سے اپنے آپ کو بری الزمہ قرار دیتے ہیں۔ اپنے آپ کے لیے ہم سب سے بڑے قانون دان اور جج بن جاتے ہیں۔
آئل ٹینکر حادثے کی سارے کی ساری ذمہ دار جہالت ہے۔ میں بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں جہاں یہ بد قسمت حادثہ پیش آیا۔ جس ملک میں سارا زور سڑکیں پل اور ٹرینیں بنانے پر لگایا جائے جہان تعلیم اور صحت کا بجٹ انفراسٹرکچر پر لگایا گیا ہو اس ملک میں نسلوں کو جاہل پیدا کرنے سے کون روک سکتا ہے۔ عینی شاہد ہوں کہ ساؤتھ پنجاب میں آج بھی کتنے ہی سکول ہیں جو بغیر کسی بلڈنگ کے درختوں کی چھاؤں میں کھل رہے ہیں۔ میں نے ایسے کچھ سکولوں کا حال دیکھا ہے۔ جہاں آپ کے سکولوں کی حالت یہ ہو گی۔ بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے۔ انسان اور جانور اس اکیسویں صدی میں بھی ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں۔ کچھ صاف پانی کے پلانٹ لگائے گئے۔ بڑے پرزور افتتاح ہوئے مگر چند مہینوں کے بعد سب ختم۔
حضور کتنی دہاوں سے آپ حکمرانی کر رہے یہ آپ سے بہتر کون جان سکتا ہےکہ کرپشن کس نے کی۔ اور آج آپ فرماتے ہیں کہ ستر سالوں سے اس ملک کو لوٹا جا رہا ہے۔ کس نے کب اور کتنا لوٹا اس کا جواب بھی آپ ہی کو دینا ہے۔ مجھے آج بھی آپ کے وزیر رانا ثنااللہ کی سٹیٹ منٹ یاد ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ہر ایم این اے اور ایم پی اے ڈیولپمنٹ فنڈز سے سولہ فیصد کمیشن ایڈوانس لیتے ہیں تو آپ ہی بتائیں ہم کیا سمجھیں۔ آج آپ فرما رہے ہیں کہ سب جہالت ہے۔ اور جہالت آپ جیسے حکمرانوں کی مرہونِ منت ہے۔ تعلیمی معیار کو ٹھیک کرنا، امیر اور غریب کے بچوں کو ایک جیسی سہولیات میسر کرنا کس کی ذمہ داری ہے۔ معیار تعلیم کی حالت تو یہ ہے کہ سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ سکولوں میں ضم کیا جا رہا ہے۔ مجھے ذیادہ تو نہیں پتا لیکن میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ بہاولنگر جس کی پانچ تحصیلیں ہیں میں کوئی یونیورسٹی نہیں۔
ہسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ چوہے بچوں کو کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ عورتیں ہسپتالوں کے باہر جھاڑیوں میں بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ ٹھنڈے فرش پر مریض اپنے جان دے دیتے ہیں۔ننھی بسمہ پروٹوکول کی نظر ہو جاتی ہے۔ میں خود کتنے لوگوں کو جانتا ہوں جنہیں لوکل ہسپتالوں میں بروقت ٹریٹمنٹ نا ملنے کی وجہ سے بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں پہنچنے سے پہلے ہی جان کی بازی ہارنا پڑی۔ پورے ضلع بہاولنگر میں آج تک کوئی بڑا ہسپتال نا بن سکا۔ برن سنٹر کا تو سوال ہی نہیں۔اور وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں کہ ہم سڑکیں بنواتے رہیں گے۔ ساؤتھ پنجاب کے ساتھ یہ سوتیلا پن جان بوجھ کر کیا جاتا رہا۔ ساؤتھ پنجاب کو حکمرانوں نے آج تک اپنے شہزادے دوستوں کی شکار گاہ بنائے رکھا۔ کتنی بار ان شہزادوں کو اسی ساؤتھ پنجاب میں شکار کرتے دیکھ چکا ہوں جن کی سیکیورٹی پر سرکاری وسائل اور پولیس تعینات ہوتی ہے۔ یہ عالیشان محلات نما خیموں سے نکلتے ہیں قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں عیاشی کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔
اس کا جواب ہمیں ہمارے کچھ دانشور یہ دیتے ہیں کہ جن لوگوں کو آپ منتخب کرتے ہو وہ اپنے علاقے اور اپنے لوگوں سے مخلص نہیں ہیں۔ وہ کیوں اپنے علاقے کی فلاح کے لیے آواز نہیں اٹھاتے وہ کیوں پارلیمنٹ میں سالوں چپ بیٹھے رہتے ہیں۔ وہ کیوں اپنے ترقیاتی فنڈز دوسرے علاقوں کو اپنے کمیشن کی خاطر بیچتے ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ ان کے اس جواب میں وزن ہے مگر سوال پھر وہی ہے کہ کیا ایک وزیراعظم اور وزیراعلی صرف اپنے اپنےحلقے یا شہر کے ہوتے ہیں۔ اگر نہیں تو کیا یہ ان کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ وسائل کی مساوی تقسیم کو یقینی بنائیں۔ اگر ووٹرز سے غلطیاں ہوئی ہیں تو کیا ان کی سزا یہ ہے کہ ان سے وسائل چھین لیے جائیں۔ ان کو صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا جائے۔ حکمرانوں کے بچے تو دنیا کی اعلی ترین یونیورسٹیوں میں پڑھیں دنیا کے بہترین ہسپتالوں میں علاج کروائیں۔ اور غریب کے حق کا نعرہ لگا کر سرکاری خزانے سے کروڑوں کی تنخواہیں اور پروٹوکول انجوائے آپ کریں۔
حیران ہوتا ہوں کہ اگر ہمارے حکمران بیرون ملکوں سے موٹروے، میٹرو اور ییلو کیب جیسی سکیمیں لا سکتے ہیں تو یہ تعلیم اور صحت کو ان ملکوں جیسا بنانے کا کیوں نہیں سوچتے۔ یہ وہاں بغیر سیکیورٹی کے سڑکوں پر گھوم سکتے ہیں تو اپنے ملک میں انہیں کیوں پروٹوکول اور ہجوم چاہیے۔ یہ سارے اپناعلاج بیرون ملک سے کرواتے ہیں تو پھر یہ کیوں نہیں چاہتے کہ ان ملکوں میں اسی طرع کی سہولتیں ہوں۔ ان کی عوام بھی اسی طرع صحتمند اور پڑھی لکھی ہو۔
جواب شاید بڑا سادہ ہے۔ اگر ان کی قوم صحتمند اور پڑھی لکھی ہوئی تو کہیں یہ قوم اپنے حق کے لیے کھڑی نا ہو جائے۔ اگر ان کی سوچ میں شعور آگیا تو یہ اداروں کو تباہ ہوتا کبھی نہیں دیکھے گی۔ تو پھر کون ان کو ووٹ دے گا اور کہاں کی حکمرانی۔
اور وہ وقت زیادہ دور نہیں۔

کالم کچھ ہفتے پہلے لکھا گیا تھا۔