اشاعت کے باوقار 30 سال

مستقبل کا بہاولپور

میرا بہاولپور جانا شیڈول کا حصہ نہیں تھا لیکن میرے بڑے ہی اچھے دوست حسن عابد نے ہمیں بہاولپور آنے کی دعوت دی ، جس سے ہم انکار نہیں کر سکے۔ہم وہاں پر ڈی ایچ اے بہاولپور کے مہمان تھے۔ اپنے ہوش میں بہاولپور کا یہ پہلا دورہ تھا۔ میرا خیال تھا کہ بہاولپور تاریخی شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پسماندہ شہربھی ہوگا جہاں پر جا بجا ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور بے ہنگم ٹریفک ہمارا استقبال کرے گی۔چونکہ جنوبی پنجاب کا شہر ہے تو ہوٹل بھی گزارے لائق سے کم ہی ہوگا۔ میرے ساتھ وردہ خالد اور عماد المتین بھی ہمسفر تھے۔ ہم علی الصباح ایک نجی بس کے ذریعے سے بہاولپور کیلئے روانہ ہوئے کیونکہ ہمارا خیال تھا کہ ہمیں دوپہر تک بہاولپور پہنچ جاناچاہئے۔ راستے میں ساہیوال اور خانیوال ہم نے مختصر قیام کیا اور ہم دوپہر کو دو بجے بہاولپور پہنچ گئے۔
بہاولپور کے بس اڈے پر ڈی ایچ اے بہاولپور کی جانب سے ہمیں لینے کیلئے گاڑی اور ڈرائیور موجود تھے۔ ڈرائیور نے ہمیں ہوٹل پہنچایا اور اطلاع دی کہ ہمارا دوپہر کا کھانا تین بجے ہوگا۔ بس اڈے سے ہوٹل زیادہ دور نہیں تھا۔ حیرت کا پہلا دھچکا ہمیں سڑکیں دیکھ کر لگا جو کہ ہمارے خیالوں کے برعکس انتہائی صاف ستھری اور کارپٹڈ تھیں۔ ہم نے ہوٹل میں پہنچ کر چیک ان کیا تو حیرت کا دوسرا جھٹکا ہمارا منتظر تھا۔ یہ ہوٹل انتہائی صاف ستھرا اور شاندار تھا کہ دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ کمرے کے فرش پر مہنگی ٹائلزلگی ہوئی تھیں، ایک خوبصورت الماری، بہترین اے سی ، بلیک اینڈ وائٹ انٹیرئیر ، ساتھ ستھرے اور شاندار بستر، بستر کے سامنے ایل سی ڈی، بستروں کے بالکل ساتھ موبائل چارجنگ کی سہولت، ایک خوبصورت میز اور کرسی ، آرام دہ اور نرم صوفہ ، عالی شان باتھ روم جس میں بہترین معیار کا سامان استعمال کیاگیا تھا۔دروازے الیکٹرانک کارڈ سے کھولے جاتے تھے۔ ہوٹل کی راہداریاں تک اے سی سے مزین تھیں ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی آڑ نہیں ہے کہ یہ ہوٹل اب تک کے بہترین ہوٹلوں میں سے ایک تھاجہاں میں نے قیام کیا۔
ٹھیک دوپہر کو تین بجے ڈرائیور ہمیں لینے کیلئے موجود تھا۔ ہم اُس کی معیت میں ڈی ایچ اے بہاولپور کے آفس گئے ۔ راستے میں ہمیں تمام سڑکیں صاف ستھری اور اچھی حالت میں ملیں، ٹریفک بھی بے ہنگم نہیں تھی۔ ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ بہاولپور ’’سگنل فری‘‘ سٹی ہے۔ لوگ بھی ملنسار اور خندہ پیشانی سے پیش آ رہے تھے۔ یہ سب دیکھ کر بہاولپور کے حوالے سے میرا خیال تبدیل ہو رہا تھا۔ ڈی ایچ اے کے آفس میں ہماری ملاقات میجر ضمیر ، اُن کی معتمد ایمان کے علاوہ دیگر فوجی افسران سے بھی ہوئی جن میں پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی ایچ اے بہاولپور سمیت دیگر ڈائریکٹرز بھی شامل تھے۔ آفیسرز میس میں ہم نے اُن کے ساتھ بہترین کھانے کا لطف لیا۔ اس کے بعد میجر صاحب کے کمرے میں چائے کا دور چلا اور پھر ہم دو گاڑیوں میں سائٹ کا دورہ کرنے نکل گئے۔ میجر ضمیر صاحب ڈی ایچ اے بہاولپور کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ ہیں اور کیا ہی زندہ دل اور شاندار شخصیت کے حامل ہیں۔
بہاولپور کی نہر کے ساتھ ساتھ ڈی ایچ اے بہاولپور کی جگہ ہے جو کہ وہ خرید چکے ہیں۔ یہ منصوبہ ہزاروں ایکڑ پر مشتمل ہے ۔ ہم اس کو بہاولپور کو مستقبل بھی کہ سکتے ہیں۔ یہاں بین الاقوامی معیار کی دو جامعات تعمیر کی جائیں گی جبکہ ایک جامعہ زیر تعمیر ہے۔ اس سوسائٹی میں جدید ترین ہسپتال بھی بنایا جا ئے گا۔اس کے ساتھ ساتھ یہاں پر تھیم پارک، آرمی ہاوسنگ سکیم بھی بنائی جائے گی۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہاں پر بجلی کی فراہمی کا انتظام جدید ترین سولر سسٹم پر مشتمل ہوگا ، جس کی وجہ سے ہم ڈی ایچ اے بہاولپور کو لوڈ شیڈنگ فری زون بھی کہ سکتے ہیں۔ اس دورے کے اگلے دن یہاں پر تعمیراتی کاموں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی جس کو ڈی ایچ اے بہاولپور کے ڈیجیٹل میڈیا پارٹنر زمین ڈاٹ کام نے لاکھوں ناظرین کیلئے آن لائن نشر بھی کیا۔ جب ہم پہنچے تو 250فٹ چوری شاہراہ کی کارپٹنگ ہو چکی تھی۔ یہی سب سے مشکل کام تھا جو کہ مکمل ہو چکا تھا۔جبکہ باقی کا تعمیراتی کام بھی تیزی سے جاری تھا۔2018ء میں اس کا قبضہ دیا جانا ہے اور اُس سے پہلے پہلے تمام تر کام نے یہاں پر مکمل ہونا ہے ۔
بہاولپور صحرا چولستان کے ساتھ واقع ہے۔ اس کو ہم نخلستان بھی کہ سکتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی شہر ہے اور دفاعی لحاظ سے بھی یہ بہت ہی اہم شہر ہے۔ اس شہر کو پاکستان کی کمر بھی کہا جاتا ہے ۔ نقشہ پھیلائیں اور غور سے دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ بہاولپور سے اگر دشمن وار کرتا ہے اور خاکم بدہن کامیاب ہو جاتا ہے ، جس کے امکانات نہیں ہیں کیونکہ فوج یہاں پر اپنے دفاع سے ہر گز بھی غافل نہیں ہے ، تو اس ایک شہر سے پورے پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔بہاولپور 237.2مربع کلومیٹر پر مشتمل ایک تاریخی شہر ہے۔ آپ اس کے اندرون حصے میں چلے جائیں ، آپ کوہر گلی میں تاریخ بکھری ہوئی نظر آئے گی۔ اس کو محلات کا شہر بھی کہا جاتا ہے ۔یہ ایک خوشحال ریاست تھی۔ نواب آف بہاولپور سے قیام پاکستان سے قبل قائد اعظم اور نہرو دونوں ہی رابطوں میں تھے۔ قائد اعظم بھی بہاولپور کی اہمیت کو جانتے تھے لہذا اُنہوں نے خصوصی کوشش کی کہ بہاولپور پاکستان میں شامل ہو جائے اور اس ضمن میں انہوں نے نواب سے متعدد ملاقاتیں بھی کیں۔دوسری جانب نہرو بھی اپنا زور لگا رہے تھے اور اُن کو مراعات کی پیشکش بھی کی جا رہی تھی ۔ نواب صاحب نے پاکستان میں شمولیت کو فوقیت دی ۔ صرف یہی نہیں بلکہ توپخانہ سمیت ساری فوج بھی پاکستان کو دے دی۔ پاکستان کی معیشت ابتداء میں شدیدترین خدشات کا شکار تھی ، ایسے میں نواب آف بہاولپور نے ہی آگے بڑھ کر سہارا دیا اور پاکستان کے عملے کی پہلی تنخواہ نواب صاحب نے ادا کی۔ یہ وہ تاریخ ہے جو کہ ہمیں نہیں پڑھائی جاتی ہے ۔ میں برئیگیڈئیر کیانی صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ہمیں اس سے آگاہی فراہم کی۔ اگر ہم غور کریں تو پاکستان کو بہاولپور کا مشکور ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کے محسن کی قبر کو کشادہ کریں۔
میجر ضمیر صاحب نے ہمیں اپنی گاڑی پر بہاولپور کے صحرا کی بھی سیر کروائی۔ شام ڈھل رہی تھی اور صحرا میں ہوا بھی چل رہی تھی ۔ سورج سامنے کی جانب سے مغرب میں ڈوبنے کی تیاری کر رہا تھا۔ صحرا کی شامیں بھی یاد گار اور خاموش ہوتی ہیں۔ میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ کو ایک مرتبہ یہ تجربہ ضرور کرنا چاہئے ۔ میرے لئے وہ ایک گھنٹہ ڈیزرٹ سفاری ہی طرح تھا۔ اس کے بعد ہم واپس ہوٹل واپس آگئے۔ ہمارا کھانا پونے نو بجے طے تھا۔ ابھی آ کر ہم نے اپنی کمر بھی سیدھی نہیں کی تھی کہ ہمیں میجر صاحب کا پیغام موصول ہوا۔
بہاولپور میں ایک خوبصورت تاریخی محل ہے جس کا نام ’’نور محل ‘‘ ہے۔ یہاں پر حیرت انگیز لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو منعقد کیا جاتا ہے ۔ میجر صاحب نے ہمارے لئے اس شو کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں کے لان میں پر تکلف عشائیے کا اہتمام بھی کیا تھا۔ رات کے اندھیر ے میں یہاں پر جو لائٹ اینڈ ساونڈ شو منعقد ہوتا ہے ،وہ بھی زندگی کے تجربوں میں سے ایک ہے ۔ اس کے بعد ہمیں محل کے اندر کا دورہ بھی کروایا گیا جہاں پر نواب صاحب کے زیر استعمال تاریخی نوادارت آج بھی محفوظ ہیں۔ اس کے بعد ہم نے اُس کے لان میں بیٹھ کر پر تکلف عشائیے کا لطف اُٹھایا۔ کھانے کی میز پر مجھے یہ انکشاف بھی ہوا کہ میجر صاحب ایک تاریخ دان بھی ہیں اور اُن کے تجزیے جذبات کی بجائے حقائق پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اُ ن کی گفتگو اس قدر جامع ہوتی ہے کہ آپ کو اُن کے سامنے بولنے سے پہلے دو مرتبہ سوچنا ہوتا ہے ۔
اگلے روز ہماری ملاقات ڈی ایچ اے بہاولپور کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سے ہوئی جو کہ آرمی کے حاضر سروس بریگیڈئیر ہیں۔ یہ عام تاثر کے برعکس انتہائی ہنس مکھ اور ملنسار شخصیت کے حامل ہیں۔ آج کی شام کیلئے ’’دربار محل ‘‘پر لائٹ اینڈ ساونڈ شو کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس محفل میں ڈی ایچ اے بہاولپور کے تمام ڈائریکٹرز، زمین ڈاٹ کام کے ریجنل ہیڈ سنٹرل شجاع خان کے ساتھ حسن عابد، وردہ خا لد ، عماد المتین اور راقم بھی شامل تھے۔ یہ لائٹ اینڈ ساونڈ شو نور محل کے ساونڈ شو سے بڑا اور شاندار تھا۔ اس میں ایک موقع پر نور محل پاکستان کے جھنڈے میں رنگ جاتا ہے جو کہ دیکھنے والوں کیلئے عجیب خوشی کا باعث ہوتاہے۔ اس یادگار اور منفرد لائٹ اینڈ شو کے بعد ہم نے دربار محل اور اُس سے منسلک عجائب گھر کا دورہ بھی کیا۔ افواج پاکستان نے ان دونوں تاریخی ورثوں کی جس طرح سے حفاظت کی ہے ، اس پر وہ مبارک باد کی مستحق ہے ۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو تاریخی ورثہ فوج کے پاس ہے اور جس کی دیکھ بھال وہ کر رہی ہے وہ دیگر تاریخی ورثوں سے بہتر حالت میں موجود ہے ۔ دربار محل کے دورے میں بریگیڈئیر صاحب ہمارے ہمراہ تھے اور ہمیں اس دربار سے جڑی ہوئی تاریخ کھول کھول کر بیان کر رہے تھے۔ میں اُن کی معلومات پر حیران تھا۔ اُن کو بھی تاریخ ازبر تھی ۔ بعد ازاں وہ رات کے عشائیے کے بھی میزبان تھے اور کھانے کی میز پر ہونے والی گفتگو نے بھی اُن کی علمی قابلیت کو واضح کیا۔ بریگیڈیر صاحب بھی انتہائی شاندار شخصیت کے حامل ہیں اور آپ اُن کی معیت میں بور نہیں ہونگے۔
بہاولپور حقیقتاً دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس تاریخی شہرہونے کے ساتھ ساتھ دفاعی شہر بھی ہے جس کی اہمیت میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ا ب ڈی ایچ اے بہاولپور اس کے بالکل ساتھ ایک نیا شہر بسانے کو بالکل تیا ر ہے اور جب یہ شہر آباد ہو جائے گا تو اس کا براہ راست فائدہ بہاولپور کوہوگا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی ہے کہ جو لوگ دبئی اور خلیجی ریاستوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں ، وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کو ترجیح کیوں نہیں دیتے ہیں؟ اللہ نے اس ملک کو کس نعمت سے مرحوم رکھا ہے؟ میں نے بہاولپور سے ایک تصویر کو سوشل میڈیا کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا تو میرے دبئی میں موجود دوست مجھ سے الجھ پڑے کہ تم یہاں ہو اور ہم سے نہیں ملے۔ میں نے اُن کو بتایا کہ میں بہاولپور ہوں تو اُن کیلئے یقین کرنا مشکل تھا۔ترقی کیلئے باہر سے تو کوئی نہیں آئے گا، ہم نے ہی مل کر اس ملک کو آگے لیکر جانا ہے ۔ حکومتیں کیا کر رہی ہیں، اس کو چھوڑ کر بس دل پر ہاتھ رکھ کر یہ بتا دیں کہ کیا ہم اپنے حصے کا کام مکمل ایمانداری سے کر رہے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر گلہ کیسا؟ اللہ نے اس ملک کو سب ہی کچھ دیا ہے لیکن ہم ہی نا شکرے واقع ہوتے ہیں۔