اشاعت کے باوقار 30 سال

چاہت بنی اک تماشہ

آج پھر میری مائرہ سے لڑائی ہوئی تھی اور ایسا ہمارے درمیان اکثر وبیشتر ہی ہو ا کرتا تھا اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہماری شادی ایک دھواں دار جنگ کے بعد ہوئی تھی۔مائرہ مجھ سے بے پناہ محبت رکھتی تھی مگر اُس نے ایک مرحلے پراپنے والدین کو بھی اپنی محبت کے اظہارکے بارے میں کہ وہ مجھے پسند کرتی ہے اُ س نے انکار ہی کر دیا تھا۔جس پر میں نے اپنی محبت کے حصول کے لئے تنہا ہی جنگ لڑلی تھی۔مگر اس دوران جو کچھ ہوا اُ س نے میرے اور مائرہ کے بیچ میں ایک خلیج بنا ڈالی جس سے ہم محبت کرنے کے باوجود بھی ایک دوسرے سے دور دور رہتے تھے اور ذرا ذرا سی بات پر لڑ پڑتے تھے۔اور آج بھی لڑائی کے بعد سرد جنگ اُسی زمانے کی لگائی ہوئی آگ ہے جو بجھ نہیں پا رہی ہے۔ہم اگرچہ دوسروں کے سامنے تو خوش و خرم رہتے ہیں مگر جب بھی ہمارے درمیان ناراضگی ہوتی ہے تو ہم چہرے پر مسکراہٹ سجائے خاندان بھر کی تقریبات میں شرکت کر تے ہیں اور کسی کو اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ ہمارے تعلقات کیسے ہیں کہ ہمار اپنے معاملات کی ہوا کسی کو بھی نہیں لگنے دیتے ہیں۔ خیرمیں آپ کو اپنی کہانی روایتی انداز میں نہیں سنا رہا ہوں ،میں اپنی سوچ بھی ساتھ ساتھ بیان کروں گاکہ کب میں نے کیا سوچ تھاا ور کچھ معاملات کے بارے میں میری رائے کیا ہے تاکہ آپ میری ذات کے حوالے سے کچھ غلط نہ سمجھ سکیں۔

میرا نام فرہاد حسن ہے آپ میری یہ کہانی کر بتائیں کہ جو کچھ مائرہ نے کیا وہ محبت ہی ہے یا کوئی اور جذبہ اس میں کارفرما ہے۔بات کچھ یوں ہے کہ اُس کا چچا زاد سلمان اُس پر مرمٹا ،اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ چونکہ اس کے گھر میں رہتی تھی ۔ مائرہ اسے کمر عمر اور کزن ہونے کی وجہ سے بات چیت کرلیا کرتی تھی۔وہ نوجوان سا تھا۔ ابھی اٹھارہ سال کا بھی نہیں ہوا تھا مگر دوستوں کی غلط صحبت نے شاید اس کو اس راہ پر چلنے پر مجبور کر دیا تھا ،جس پر اس کو عمر کے ایک خاص حصے میں آکر شرمساری ہونی تھی، شاید اگر ضمیر جاگتا تو ہوتی ۔یوں تو کسی کو بھی محسوس نہیں ہوتا ہے کہ وہ کچھ غلط کر رہا ہے۔دن پر دن گذرتے گئے مگرمائرہ نے اس کو وہ اہمیت نہیں دی جو وہ چاہ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے بعد ازں مائرہ کو سخت حالات کا سامناکرنا پڑا،جس میں کسی حد تک وہ خود بھی ذمہ داری تھی کہ ایسے واقعات جب رونما ہوتے ہیں تو عموماََ لڑکیاں گھر والوں کے ڈر سے اپنی عزت یا کردار پر شک کی وجہ سے بتانے سے ڈرتی ہیں اور جب معاملہ حد سے گذرتا ہے اور پورے جہاں میں تماشہ ہوتا ہے تو پھر سوائے رسوائی کے اور کچھ بھی اُنکو حاصل نہیں ہوتا ہے۔اس میں چاہے وہ قصور وار ہوں یا نا ہوں جب حد سے معاملہ سے گذرتا ہے تو براہ راست انکی طرف انگلی اٹھتی ہے۔لہذا اس کہانی کے لکھوانے کا مقصد یہی ہے کہ جب کوئی بھی ایسا معاملہ ہو جس میں آپ کی مرضی شامل نہ ہو تو خصوصاایسے معاملے میں والدین کو اعتماد میں لے کر مسئلہ حل کریں۔لڑکیاں نازک ہوتی ہیں ان پر کوئی بھی داغ لگے تو عمر بھر ساتھ رہتا ہے ۔لڑکے کسی کے ساتھ کچھ بھی کریں ،کتنے ہی لڑکیوں کو اُلو بنائیں مگر وہ پھر بھی عزت دار رہتے ہیں۔جبکہ لڑکیاں جس کو پسند نہ کرتی ہوں اور پھر بھی اس کو برداشت کریں تو سوائے دکھ ،درد اوررسوائی کے کچھ بھی نہیں ملا کرتا ہے،جہاں وہ محبت رکھتی ہیں اور کوئی ان کی محبت کو نہیں سمجھتا ہے اور انکے جذبات سے کھیلتاہے وہ ایک دن ضرور خدا کی پکڑ میں آتا ہے۔ دوسری طرف اگر لڑکیاں ایک بار جس کے ساتھ مخلص ہو جائیں اور دوسرابھی عمر بھر ساتھ دینے کیلئے یعنی شادی کے لئے تیار ہو تو انکا لازمی ہاتھ تھام لیں کہ اسی میں انکی بہتری ہوتی ہے کہ اپنی من پسند جیون ساتھی کے ساتھ زندگی ہنسی خوشی گذاریں ۔اسی لئے میں نے مائرہ کواپنا نے کے لئے جنگ لڑ لی تھی۔ اس حوالے سے والدین کو بھی حقیقت جان کر بچوں کی خوشی میں شامل ہونا چاہیے نہ کہ انا کا مسئلہ بنا کر اپن من مانی کرنی چاہیے ۔ پتانہیں ہم لوگ اپنی اولاد بالخصوص لڑکیوں کو جینے کا حق کیوں نہیں دیتے ہیں جبکہ ہمارے دین میں اسکی بھرپوراجازت ہے۔مگر ہم اسلام کو اپنا مذہب قرار دینے والے سچا مسلمان کہنے والے کبھی بھی دین کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنے کی دل سے کوشش نہیں کرتے ہیں۔والدین اگر ٹھیک سے جان پڑتال کر کے رشتے کے لئے حامی بھر دیں تو بہت سے بچے غلط طریقے کے مطابق ایک ہونے کا نا سوچیں اگرچہ ایسی باتیں تلخ ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ عمر بھر کے رشتے کے لئے پسندیدگی دو طرف سے ہو تو زندگی کا سفر مزید خوشگور ہو جاتا ہے جیسا کہ آج میرا او رمائرہ کا سفر جاری وساری ہے اگرچہ ہمارے درمیان تلخی ہوتی ہے مگر اسکے بنا بھی گذارہ نہیں ہے یوں پھر بے رنگ وکیف زندگی نے گذرنا تھا۔

مجھے فیس بک پرایک اتفاقی حادثے نے مائرہ (فرضی نام)سے ملا دیا ۔فطرتاََ شرمیلا ہونے کے باوجود اعتماد سے اس سے بات چیت ہوئی بہت سے چیزیں ہماری مشترکہ تھیں ۔اگرچہ ہمارا پہلا رابطہ ایک حسن اتفاق تھا مگر وہ پہلا پتھر جو پانی میں گرا تھا اس نے جو ہلچل مچائی تھی اس نے دوبارہ رابطہ کرنے پر مجبور کر دیا ۔اور اسکے بعد ہمارا Facebook Chatting کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ جب بھی ہم اپنی اپنی مصروفیات سے فارغ ہوتے ہماری بات چیت موبائل فون پر ایس ایم ایس یا کال اور فیس بک چیٹ کے ذریعے سے ہوتی اور ہم روز بروز ایک دوسرے کے قریب سے قریب تر ہونے لگے۔پتا نہیں ہمیں اس کیا ہوا تھا کہ اک پل کی دور ی بھی عذاب لگ رہی ہوتی تھی۔میرے انداز گفتگو اورکردار سے وہ متاثر ہوئی تھی اور اسکی زندگی میں کچھ ایسے طوفان آئے ہوئے تھے کہ وہ خود بھی اپنے آپ پر قابو نہ رکھ پائی تھی اور ایک سہارا جب اسے ملا تو اس نے اپنا سب کچھ مجھے مان لیا۔میں تو رفتہ رفتہ اُس پر فدا ہو ہی گیا تھا اور اپنی چاہت کا اظہار کرنے میں دیر تک نہیں لگائی تھی۔میرے والد صاحب کی انہی دنوں میں وفات ہو گئی تھی او رمیں ٹوٹ سا گیا تھا انہوں نے ساری عمر ہمیں شرافت اور دیانت داری کا ہی درس دیا تھا ۔یہ ایسا حادثہ تھاجس نے مائرہ کو بھی رونے پر مجبور کر دیا تھا۔اُ س نے مجھے سلمان کے ہی نمبر سے کال کی کوشش کی تھی جب میں نے اُس کے نمبر سے کال نہیں سن سکا تھا کہ میں آخری رسومات کی کاروائی میں مصروف تھا۔سلمان کے پاس میرا رابطہ نمبر آگیا تھا، مجھے اس بات کا علم تب نہیں ہو سکا تھا اور جب علم ہوا تو پھر کافی دیر ہو چکی تھی ۔اس کے دل میں شکوک و شہبات مائرہ کے حوالے سے جنم لے چکے تھے۔مائرہ مجھے اپنے گھر کی چھوٹی چھوٹی باتیں بتا کر اپنے بھر پور اعتماد کا اظہار کر رہی تھی ۔انہی باتوں کا سہارا ہی لے کر میں نے بعد میں جنگ لڑی تھی اگرچہ مجھے شرمساری ہوتی تھی مگر ’’محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے‘‘سنا اور پڑھا ہوا تھا تو اس پر نا چاہتے ہوئے بھی عمل کر ڈالا تھاکہ مائرہ سے دلی وابستگی عروج پر پہنچ رہی تھی۔میرے والد صاحب کے غم کو مائرہ نے اپنی جانب سے بے پناہ پیار دے کر کمی لانے کی کوشش کی تھی کہ میں خوش رہ سکوں اور ہر پل وہ میری خیریت دریافت کیا کرتی تھی۔

میرے سر پر بھی محبت سوار ہو گئی تھی اور مجھے مائرہ کے بنا ایک پل بھی چین نہیں آتا تھا اور جب وہ بنا بتائے دوری کرتی تھی تو میں ذہنی طور پر پریشان سا ہو جاتا تھا اور فورا سے اُس کے پیچھے خیریت دریافت کرنے لگا تھا کہ کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے۔ عشق کا بھوت میرے سر پر سوار سا ہو گیا تھا اورجیسے آج کل محبت کا بھوت نوجوان نسل کے سر پر سوار ہو چکا ہے اور جس نے بھی جو بھی کچھ برُا کرنا ہو اس کا نام لے کر رہا ہے اور یوں محبت کی توہین کے مرتکب ہماری نوجوان نسل ہو رہی ہے اور اس کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہو رہا ہے۔سلمان کا شمار بھی انہی میں ہوتا تھا اور شاید آپ لوگ بھی مجھے کچھ ایسا ہی کہیں گے۔ میں نے بھی اپنے محبت کو بدنام کروا کر اُس کی باتیں ظاہر کر کے اُس کے حصول کی جنگ لڑی تھی اور یہ کوئی چھوٹا جرم نہیں تھا۔حالانکہ مائرہ مجھ سے بے پناہ محبت کا دعوی کرتی تھی اور میں بھی اس حقیقت سے واقف تھا مگر میں چونکہ اُن دنوں بے ھد تناؤ کا شکار ہو گیا تھا تو کچھ اُلٹا سیدھا کر گیا تھا۔ بہرحال محبت تو اپنے محبوب کی خوشی کا خیال رکھنے کا نام ہے اور سب کچھ بنا صلہ کے اس کے لئے کیا جاتا ہے۔مگر آج کے نوجوان اس بار ے میں کچھ سوچنا ہی گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں ۔ محبت کرنے والے ہی اس جذبے کی شدت سے اس وقت تک ہی بے خبر رہتے ہیں جب تک ایک خاص موڑ انکی محبت میں جنم نہیں لیتا ہے اور تب ہی کسی کے ساتھ ہمارے تعلقات کے گہرے ہونے کا پتا چلتا ہے ۔اس لئے کہتے ہیں کہ جدائی ہو تو ہی پتا چلتا ہے کہ ہم کس سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔ ایسا ہی میرے اور مائرہ کے درمیان دو بارہوا ہے اور ہمیں بہت سہنے کو اور سمجھنے کو ملا ہے۔مائرہ کے ساتھ روز و شب دن رات باتیں کرکے ہی گذررہے تھے، میرے دل میں کوئی خدشہ نہیں تھا کہ کبھی ہمارے درمیان دوری بھی ہوگی یا کوئی بیچ میں آئے گا۔لیکن سلمان ہمارے درمیان آچکا تھا اور اسکی براہ راست ذمہ داری مائرہ پر عائد ہوتی تھی کیونکہ اُ س نے جذباتی طور پر پاگل پن کا شکار ہو کر سلمان کے موبائل سے کوشش کر لی تھی وہ صبر کرتی تو مجھے سے اپنے بھی نمبر سے بات کر سکتی تھی مگر اب جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔سلمان مجھے اپنے راستے کا پتھر سمجھ رہا تھا ۔اُ س نے مجھے پہلے خود سے سمجھانے کی کوشش کر لی تھی مگر میں بھی ضد پر ہٹ دھرمی پر آ گیا تھا کہ جب مائرہ مجھے پیار کرتی ہے تو میں کیوں سلمان کے راستے سے ہٹ جاؤں۔

مجھے بسا اوقات مائرہ کا اپنے ساتھ کا رویہ بھی عجیب سا لگتا تھا مگر یہ ہم پرمنحصرہوتا ہے کہ اپنے محبوب سے کس طرح کا رویہ رکھتے ہیں یا کوئی ہم سے کیساتعلق رکھنا چاہ رہا ہے۔بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ ہم سے کوئی محبت کا دعویٰ کرتا ہے مگر درحقیقت میں محض دل لگی کرنا چاہ رہا ہوتا ہے اور ہمیں یوں ظاہر کرتا ہے جیسے وہ بے پناہ پیار کرتا ہے اور ہم اسکی باتوں میں آجاتے ہیں اور پھر وہ ایسے ایسے بہانے تراشتا ،ادائیں دکھاتا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس بڑھ کر کوئی چاہنے والا ہو ہی نہیں سکتا ہے مگر پھر رفتہ رفتہ وہ ہمیں اپنے جال میں لیتا ہے اور اپنے مذہوم مقاصد کی تکمیل کی طرف جاتا ہے جو وقت بتاتا ہے کہ محض محبت کو بدنام کرنے کے لئے اور اپنی ہوس پوری کرنے کیلئے اختیار کئے جاتے ہیں۔آپ نے اکثر اخبارات میں پڑھا ہوگا کہ ہوس کے پجاری نے محبت کے نام پر لڑکیوں کی عزت کو داغ دار کر دیا ہے۔اس معاملے میں لڑکی کبھی بھی بے قصور نہیں ہو سکتی ہے وہی مائرہ کی طرح کچھ ڈھیل دے تو ہی سلمان جیسے گندی سوچ کے لوگ اس کی عزت کو نیلام کرواتے ہیں اور اکثڑایسا ہمارے گھروں میں ہوتا ہے مگر یہاں سب ہی گھر کے بڑے سے بات چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ۔کہیں کوئی بیوی شوہر کی طرف سے توجہ نہ ملنے کی وجہ سے کسی او رکے ساتھ راہ رسم بڑھا رہی ہوتی ہے اور کہیں من پسند زندگی نہ گذارنے کی آزادی نہ دینے پر لڑکے اور لڑکیاں غلط راہ پر چل پڑتی ہیں۔مجھے مائرہ نے کئی دفعہ بتایا تھا کہ اُس کی یونیورسٹی کی لڑکیاں کس طرح بن سنور کر آتی ہیں اور پڑھائی سے زیادہ کن مشاغل میں مصروف عمل ہوتی ہیں۔والدین کی ناک کے نیچے بہت کچھ ہوتا رہتا ہے مگر وہ اپنے ہی کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور جب سر پانی سے اوپر ہوتا ہے تو اُن کو خبر ہوتی ہے۔

دوسری طرف یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص(لڑکے ہو یا لڑکی) کو محبت ،جس کو ہم محبت ہی کہیں گے وہ محبت نہیں جو دل لگی کو نام دے کر کی جاتی ہے،ہو جاتی ہے تو دوسرا اس کو گھاس نہیں ڈالتا ہے اور وہ کبھی اپنا محبت بیان کر کے یا ان کہی رکھ کر محبت کا بھرم رکھتا ہے اور ایسے لوگ ہی جو محبوب کو ہی مقد س جانتے ہیں ۔انکی خوشی کا خیال رکھتے ہیں وہی سچا پیار کرتے ہیں۔میں مائرہ سے محبت رکھتا تھا تو شادی کے لئے بھی اُسے بار ہا مرتبہ کہہ چکا تھا اور وہ بھی رضامند سی تھی مگر والدین کی جانب سے فکر مند ی کا شکار ضرور ہو جاتی تھی کہ کیا پتا وہ کیا کہتے ہیں۔سوچنے کی بات یہ ہے محبت کرنے والے کیوں ایک دوسرے کے زندگی بھر کے ساتھی نہیں بن سکتے ہیں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ والدین انکا ساتھ دیں وگر نہ انکو بھاگ کر ایک ہونا پڑتا ہے جو کہ اگرچہ ایک غلط اقدام ہے مگر کوئی صورت نہ بننے کی وجہ سے اٹھا یا جاتاہے۔ تبھی غیرت کے نام پر قتل کی خبریں بھی اخبارات کی زنیت بنتی ہیں اب اگر دیکھا جائے تو ایسے لوگ جو غیر ت کے نام پر اپنی بہن یا اُسکے محبوب کو قتل کرتے ہیں وہ خود کہاں غیرت رکھتے ہیں ۔اگر ایسا ہوتا تو وہ دین کے احکامات کے مطابق اُنکو جو اسلامی تعلیمات کے مطابق جائز طور پر ایک دوسرے کیساتھ بندھن میں بندھ جاتے ہیں کو قتل نہ کریں۔جب والدین بچوں کی پسند کی بجائے اپنے ہی خاندان والوں کو ترجیح دیں اور شرافت وایمانداری کی بجائے اپنی ضد پوری کرنے کے لئے بچوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کی کوشش کریں تو بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیاں گھر سے بھاگ کر کورٹ میرج کرتے ہیں اوردو گھرانوں کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں ۔حالانکہ ہمارے دین کی اس حوالے سے واضح احکامات ہیں کہ بچوں کی پسند کے بعد انکی شادیاں کر دی جائیں ۔مگر آجکل کے دور میں باپ کو اپنے بھائی کے ہاں اور ماں کو اپنی بہن سے بڑھ کر اورکوئی عزیزتر نہیں ہوتا ہے۔اور وہ اپنی من مانی کرواتے ہیں اوربہت بار ایسا کرنے والوں کا ساتھ کچھ دیر کا ہوتاہے جیسے والدین کے بنائے ہوئے رشتے بھی کبھی کھبارٹوٹ جاتے ہیں۔ مگر بہت سے جوڑوں کی ازوداجی زندگی کامیاب بھی رہتی ہے اگر وہ بہت سوچ سمجھ کر زندگی بھر کے ساتھ کیلئے جیون ساتھی منتخب کیا جائے تو زندگی جنت بن جاتی ہے۔والدین نے بچوں کی شادیاں کہیں نہ کہیں تو کرنی ہوتی ہیں تو انکی پسند کو مدنظر کیوں نہیں رکھا جاتاہے ۔بچوں کے بدلتے اطوار سے انکے بارے میں کچھ جاننا مشکل نہیں ہوتا ہے مگر بعض اوقا ت خاندان میں شادی کرنا، پیسہ ،شرافت اورمحبت وغریبی پر غالب آجاتاہے ۔یہاں خصوصاََ مائیں اپنی بیٹیوں کی پسند کو بآسانی جان سکتی ہیں کہ وہ اکثر ماؤں کے زیادہ قریب ہوتی ہیں اور وہ اُنکے دلی پسند کے مطابق جیو ن ساتھی کا انتخاب کر سکتی ہیں۔مگر مائرہ کی والدہ کو جس دن ہماری محبت کا علم ہوا تھا وہ ہمارے درمیان دوری پیدا بلاوجہ کرنے آگئی تھی حالانکہ وہ جان چکی تھی کہ ہمارے درمیان تعلق ہے۔مگر وہ سلمان کے بھائی کے ساتھ رشتے کا شاید سوچے ہوئے تھی یا پھر مائرہ کی غلطی بیان کہ’’ وہ مجھے نہیں جانتی ہے‘‘ نے معاملات کچھ خراب تر کر دیئے تھے۔مائرہ نے ایک دفعہ مذاق میں کہا تھا کہ ہم کورٹ میرج کر لیتے ہیں مگر میں نے کہا تھا کہ نہیں ہم والدین کو راضی کر کے شادی کریں گے۔
سلمان کے بارے میں تھوڑا آپ کو بتا تا چلوں کہ وہ گھر میں زیادہ والد صاحب کی سختی کی وجہ سے اور زیادہ روک ٹوک ہونے کی وجہ سے بگڑ سا گیا تھا۔اسکے والد چونکہ اپنی ہی نوکری کے معاملے میں مصروف رہتے تھے تو اسکے بارے میں زیادہ تر اُسکی والدہ ہی حمایت میں بولا کرتی تھی تو وہ آہستہ آہستہ انکی نرمی کی وجہ سے آوارہ لڑکوں میں اُٹھنے بیٹھنے لگ گیا تھا ۔سلمان کو اُس کے والد نے اپنے ہی کالج میں داخلہ دلوایا تھا مگر چراغ تلے اندھیرے کی مانند اُس کی تعلیمی کارکردگی کی وجہ سے انہوں نے دوسرے تعلیمی ادارے میں داخل کر وا دیا تھا۔مگر انکا یہ عمل اُن کی لاعملی کی بدولت انکے کے لئے بعدازں سنگین مسائل کھڑے کر گیا تھا۔سلمان نے اپنی عمر سے زیادہ لڑکوں سے دوستی شروع کر لی تھی اور وہ گھر تک آنے لگے تھے مگر اس بارے میں اسکی والدہ نے کوئی بھی بات اسکے والد کو بتانا مناسب نہیں سمجھی تھی ۔وہ جانتی تھیں کہ اگر انہوں نے ایسا کر دیا تو پھر سلمان کا رویہ اور زیادہ ہی خراب ہو جائے گا ۔اُس کے ہاتھوں سے بھی نکل جانے کا ڈر تھا ۔سلمان کی بہن اسکے بارے میں اس حد تک جان چکی تھی کہ بھائی غلط صحبت کا شکار ہوچکا ہے مگر اس نے بھی اس معاملے میں چپ سادھ لی تھی۔سلما ن مائرہ کو تنگ کرتا تھا اس حوالے سے وہ بھائی کو سمجھا تو سکتی تھی مگر وہ اپنی ضد پر ڈٹا ہوا تھا اور وہ کچھ کر ہی نہیں سکتی رہی تھی کہ باپ تک بات پہنچ جاتی تو وہ اُسے شاید گھر سے ہی باہر نکال دیتے ۔وہ رفتہ رفتہ مائرہ کے معاملے میں سنجیدہ ہو تا جا رہا تھا اور مائرہ اپنی طرف سے جو کچھ کر سکتی تھی وہ کر رہی تھی کہ وہ اُس سے دور رہے مگر وہ بھی ڈھیٹ تھا اپنی محبت جتانے کی فکر میں گھلا رہتا تھا اور رہی سہی کسر اُس کے دوستوں نے پوری کر دی تھی اور اُس نے چوری چکاری جیسے کام بھی شروع کر لیے تھے اورمائرہ کے لئے تو وہ پڑھائی سے زیادہ وقت دینا شروع ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ تعلیمی میدان میں کچھ کمزور سا پڑتا جا رہا تھا۔

بہرحال ہوا کچھ یوں تھا کہ سلمان کو کسی طرح پتا چل گیا کہ مائرہ مجھے بے پناہ چاہتی تو وہ دوستوں کے کہنے پر یا ازخود جذبہ رقابت میں آگیا اور مائرہ کو جان سے مارنے ، میری ٹانگیں توڑنے کی باتیں کرنے لگا اورمائرہ نے یہ سب باتیں مجھے بتا دیں تاکہ ہوشیار رہوں۔ جب مجھے ایک فیس بک پر لڑکی کے نام کی آئی ڈی نے ایڈ کیا ،اور میں نے اسکی تفصیلات دیکھی تو وہ سلمان کے فرینڈز میں سے تھی تو میں نے سوچا کہ سلمان کو اب مزا چکھانے کا موقع ملا ہے ،میں نے سلمان کی لڑکی والی آئی ڈی پر یوں باتیں شروع کر دیں کہ جیسے سچ میں اسے لڑکی سمجھا ہے جب کہ میں نے معلوم کر لیا تھا کہ یہ جعلی آئی ڈی سلمان کی ہی ہے۔میں نے کچھ ایسی باتیں دیکھ لیں تھی جس نے اس کو یہ سچ ثابت کر وا دیا کہ وہ لڑکی نہیں ہے اور اسکے بعد کہانی آسان سی ہے کہ میرا اور سلمان کا آپس میں فون پر ایس ایم ایس رابطہ ہوا اور یہ پتا چلاکہ سم تو سلمان کے اپنے نام پر ہے ۔یہاں پر بھی میں نے ایسی ویسی گھٹیا باتیں کی ،تاکہ پتا چل سکے کہ لڑکی بھی ہے یا نہیں ،تب اسکے ایس ایم ایس کے جوابات نے واضح کیا کہ وہ لڑکا ہی ہے اورسلمان ہی ہے۔سلمان ہی تھا کیونکہ سم جو اسکے نام رجسٹر ڈ تھی۔تب ہی سلمان نے جو کہ فیس بک آئی ڈی پر فوزیہ آفرین بنا ہوا تھا،مجھے سے ملنے کا کہا اورمیں چونکہ اُس سے واقف ہوچکا تھا اورسوچ لیا تھا کہ مائرہ کو اب سلمان کے چکر سے نکلوانا ہے یا پھر اسے سمجھانا ہے۔ مجھے اُس نے جہاں بلوایا تھا وہاں وہ تنہا نہیں تھا۔میں جو اُ سے بات کرنے گیا تھا مگر وہاں جاتے ہی سلمان کے پانچ چھے دوست آگئے اور انہوں نے مارپیٹ شروع کر دی اورمیں نے جلدی بچاؤ کے لئے قسمیں کھا لی، اور دل میں سوچا کہ یہفوزیہ آفرین بڑی منہگی پڑ سکتی ہے تو بول دیا کہ رابطہ اُس سے نہیں کروں گا، کہ انہوں نے کہا تھ اکہ گھر کے نمبر پر تنگ کر تے ہو،خیر انہوں نیمیراا موبائل فون لیا،بٹوہ لیا اورپھر مجھے جانے دیا۔میں بھر ے پرے ایک تفریحی پارک میں اپنی عزت گنوا کر واپس گھر چل پڑا وہ کہتے ہیں نا ’’عاشقی میں عزت سادات بھی جاتی ہے‘‘ تو کچھ میرا بھی یہی حال ہوا تھا کہ پہلی دفعہ اپنی محبت پر فخر سا ہوا تھا۔

دوسری طرف پھر سلمان نیمیرے تمام ایس ایم ایس مائرہ کو کر دیئے کہ دیکھو تم کیسے شخص سے محبت کرتی ہو،تم ایسی ہو کہ اس کے ساتھ ایسی ایسی باتیں کی ہوئی ہیں۔دوسری طرفمجھسے مائرہ اس بات پرناراض ہوئی تھی کہ میں نے اس کو سلمان عرف فوزیہ آفرین سے ملنے کا نہیں بتایا تھا اور کیوں اس سے ملنے گیا تھا۔اس کے بعد ہمارا ایک ماہ تک رابطہ نہیں رہا او رپھررابطہ ہوا تو ایک دوسرے کے لئے الفت زیادہ ہو چکی تھی کہ جدائی کے لمحات اکثر محبت زیادہ ہی کیا کرتے ہیں۔لیکن مائرہ یہ بات آج تک نہیں سمجھ سکی ہے کہ آپ کو کوئی آپکی محبت دینے کو تیار ہو تو پھر اسے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے کہ آج ہم نے کسی کی محبت کو ٹھکرا دیا تو پھر ساری عمر ایک کسک سی دل میں باقی رہے گی کہ کاش ہم ایسا نہ کرتے ،کاش ہم اُس پا لیتے ،اس ساری عمر کی جلن سے بہتر ہے کہ آپ محبت پا لیں اگر کوئی آپ کو دے رہا ہے۔مائرہ نے اس واقعے کے بارے میں بہت دفعہ کہنے کے باوجود بھی گھر میں نہیں بتا یا تھا کہ اُسے پتا تھا کہ ایسا کرنے سے جھگڑا ہو گا اور خاندان بھر کی سبکی وہ برداشت نہیں کر سکتی ہے بہر حال میں اس بات پر چپ سا ہو گیا تھا۔میرے ایس ایم ایس ہی میرا گناہ تھا میں نے اپنے محبوب کی نشانی سمجھ کر اُسے موبائل فون میں محفوظ رکھا تھا مگر مائرہ کو تکلیف بھی اُسی سے ہوئی تھی کہ سلمان کے دوستوں نے اُسے تنگ کر کر کے جینا حرام کر دیا تھا مگر مائرہ نے پھر بھی سلمان کے حوالے سے گھر میں بتانا مناسب نہیں سمجھا تھا کہ یوں فساد کھڑا ہونا تھا۔اُس نے بہتری اسی میں سمجھی کہ وہ اپنے نمبر ہی بدل لے مگر یہ مسئلے کا تو حل ہی نہیں تھا وہ اپنے آپ کو عقل مند ظاہر کر کے اپنی منطق کے مطابق فیصلے کرنا چاہ رہی تھی اور میری کسی بھی دلائل پر مبنی بات کو رد کر دیتی تھی لیکن اُ سکے ساتھ ہو تو وہی رہا تھا جس کے بارے میں میں نے اُس پہلے ہی پیشگوئی کر دی تھی۔دوسری طرف سلمان کو بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ جس طرح سے وہ مائرہ کو اپنے دوستوں میں بدنام کروا رہا ہے کل کو اُس کی اپنی بہن کو بھی کوئی تنگ کر سکتا ہے ۔

اس سے قبل ہماری کبھی براہ راست ملاقات نہیں ہوئی تھی مگر سلمان کے اس جارحانہ روئیے کی وجہ سے مائرہ کے دل میں میرے لئے اور زیادہ محبت جاگ اٹھی تھی اور اُس نے پہلی مرتبہ مجھے ملنے کو کہا۔اگرچہ مجھے ایسی بات ذاتی طور پر پسند نہیں تھی کہ یوں کسی لڑکی کے ساتھ ملو،مگرمیرا دل بھی چاہ رہا تھا تو ہم پھر ایک پارک میں ملے ،ایک دوسرے کو دیکھا اور اپنی محبت کا ازسر نو اظہار کر لیا۔مائرہ نے پہلے تو شرم کی اور نہیں جواب میں کہا مگر جب میں واپسی کے لئے مڑا تھا تو وہ بھاگتی ہوئی آئی اور ’’آئی لو یو ‘‘کہہ دیا اور اُس کے چہرے پرشرم وحیا کے ساتھ جو ہنسی تھی وہ آج تک میرے لئے یادگار لمحہ ہے ۔اس کے بعد بھی ہم ملے مگر اُس پہلی ملاقات کا نقش آج بھی دل پر ثبت ہے۔ہماری روز بروز بات ہو رہی تھی ۔اور ہم ایک دوسرے کے لئے اپنی طرف سے اپنی چاہت کا اظہار کر رہے تھے۔ ایک دن میں نے کہا ’’ مجھے تم سے شادی کرنی ہے‘‘ تومائرہ کہتی ہے کہ میں بہت کمزور سی لڑکی ہوں،اپنے گھروالوں کی عزت کی پروا ہے۔ وہ کیا سوچیں گے کہ یہ خود اپنی شادی کیلئے ہلکان ہو رہی ہے ۔میرے گھر والوں کی بدنامی ہوگی میں انکی نظروں میں گھر جاؤں گی ۔اپنے تمام بہن بھائیوں کا سامنا نہیں کر پاؤں گی۔اسی طرح کی بہت سی باتیں ہمارے درمیان اظہار محبت کے بعد اکثرہوتی رہیں اور تین دفعہ وقتی علیحدگی بھی ہوئی ۔ محبت میں طاقت ہوتی ہے وہ پھر اپنا اثر دکھاتی ہے اور یوں دونوں پھرہر بار پاس آگئے ۔مائرہ ایک خواتین کی یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔مائرہ باشعور تھی اُسے اگرچہ اچھے برئے کی تمیز تھی مگر اس بات سے واقفیت نہیں رکھتی تھی یا نظر انداز کرتی تھی کہ محبت میں محبوت کی قربت ہی سب کچھ ہوتی ہے اور اس کے سہارے ہی زندگی حسین تر ہو جاتی ہے۔جب محبت کا اظہار ہو چکا تھا اور ہم دونوں ایک ہونا چاہ رہے تھے تو اس کے لئے بہترین طریقہ کار یہی تھا کہ میں اُ کے ہاں رشتہ لے جاتا مگر وہ چاہتے ہوئے بھی نہ تو ہاں کر پا رہی تھی اور نہ ہی نہیں کر رہی تھی اس کے تذبذب کو دیکھتے ہوئے میں نے دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ جس دن بھی مجھے موقعہ ملا میں اس کی خوشی کے لئے ہر ممکن کوشش کروں گا۔
مائرہ کی سمسٹر امتحانات کے بعد چھٹیاں ہوئی اور وہ گھر گئی ۔اُس کے علم میں آچکا تھا کہ اسکے اورسلمان کے حوالے سے بات خاندان میں ہونے لگی ہے اور وہ وہاں بہت زیادہ دباؤ کا شکار ہو گئی اور اُس نے اچانک مجھ سے رابطہ ختم کرلیا۔میراجو حال ہونا تھا وہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا ہوا ہوگا ۔میں نے غصے میں آکر اسکی بہن کو فیس بک پر ساری بات بتا دی کہ ہم ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں۔اُس کا جواب مجھے اگلے دن ملا کہ میں اسکے پیچھے نہ آؤں۔ایسا کیسے ہو سکتا تھا ہمارا تعلق دو سال سے تھا او ر مجھے لگا کہ اُس نے شاید اپنے گھر والوں کو اپنی چاہت کا بتا دیا ہے تو انہوں نے سختی کر کے دور رہنے کا کہا ہے ۔یا پھر مائرہ نے ہی مجھ سے محض اس وجہ سے کہ اُس کے گھر والوں تک اُسکی چاہت کاعلم نہ ہو جائے تو ان کی بے عزتی ہوگی۔مائرہ کو یہ بات بھولی ہو ئی تھی کہ ہم اُس کی یونیورسٹی سے اکثر کہیں نہ کہیں جاتے تھے تب اُس کو اپنی بدنامی کا ڈر نہیں ہوا کرتا تھا۔یوں بھی وہ ہوسٹل میں رہا کرتی تھی اور اُس کے والدین نے اُس پر اعتماد کرتے ہوئے کہ وہ روز یونیورسٹی تک آنے کے لئے جلدی صبح سویرے اُٹھا کرتی تھی اور واپسی میں دیر ہو جانے کی وجہ سے تھکاوٹ کا شکار ہو جاتی تھی۔یوں پڑھائی متاثرہو رہی تھی تووہ ہو سٹل میں آ کر رہنے لگی تھی جس کی وجہ سے ہمارا بھی ملنا جلنا آسان ہو گیا تھا۔مجھے لگ رہا تھا کہ مائرہ نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو میں نے بڑا قدم اُٹھاتے ہوئے شادی کے لئے رشتہ لے کر اُس کے گھر تک چلا تھا گیا اور وہاں جانے کے بعد اُسکی والدہ نے ساری بات سن کر بھی انکار نہیں کیا اور ہم واپس آگئے ۔کچھ دنوں کے انتظار کے بعد میں نے پھر سے وہاں گئے مگر پھر اُس کی والدہ نے کوئی حتمی جواب نہیں دیا اور ہم لوگ واپس آگئے ۔میں دوسری طرف مائرہ سے بات کی بھرپور کوشش کر رہا تھا کہ وہ مجھ سے کر سکے مگر وہ مسلسل روٹھی ہوئی تھی اور بات کرنے سے انکار ی ہو گئی تھی۔میں نے دوسری طرف اُسکی بہن کو پھر سے پیغام ارسال کر دیا تھا کہ مائرہ کو کہو کہ مجھ سے رابطہ کرلے مگر اُس نے بھی مثبت جواب نہیں دیا تھا۔اور اُسکی یونیورسٹی دوست رقیہ نے بھی میری مدد کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ مائرہ نے اُسے کہہ دیا تھا کہ وہ اس معاملے میں مت آئے ورنہ ہماری دوست ختم ہو سکتی تھی۔

دوسری طرف میرا سکھ چین لٹ چکا تھا میں ذہنی طور پر پریشان ہو چکا تھا مگر مائرہ کی پھر بھی اس قدر بے رُخی کے بعدبھی میری جی اُسی کی یادوں سے ہی بہلتا تھا۔اُس کے رابطہ ختم ہو جانے کے احساس کے فورا بعد ہی میں بتانا بھول گیا کہ میں نے بہت سالوں بعد اپنے رب کو شدت سے یاد کیا ۔اور اُس دن پہلی مرتبہ زندگی میں خوب رویا تھا۔اور اُسی دن سے میرا دل پرسکون ہو گیا تھا کہ میرے رب کا وعدہ ہے کہ جو کسی کے لئے بُرا نہیں کرتا ہے اُس کے ساتھ کوئی غلط نہیں کر سکتا ہے ۔مجھے اُ س دن ہی یہ احساس ہو گیا تھا کہ اگر میرا اﷲ سے تعلق قائم ہو گیا تو پھر دنیا کی کوئی طاقت بھی مائرہ کو دور نہیں کر سکتی ہے۔میں باقاعدگی سے نماز ادا کرنے لگا تھا اور اپنی سوچ کو اﷲ کے حکم کے تابع کر لی۔اﷲ ہی انسان کو وہ عطا کر تا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اس بارے میں تو واضح طور پر بیان ہوا ہے۔ہم انسان تو اپنی مرضی سے کچھ بھی تو نہیں چاہ سکتے ہیں اور ہر کام میں اﷲ کی مصلحت ہوتی ہے۔ابھی اسی بات کو دیکھ لیں کہ میں فطری طور پر بزدل سا انسان تھا مگر اﷲ پر اعتماد نے اورماہرہ کے اس طرح کے رویئے نے مجھے اس قدر مضبوط کر دیا تھا کہ میں نے مائرہ کے ابو سے ایک دن خود بات کر لی اُس دن وہ کسی ضروری دفتری کاروائی میں مصروف تھے تو زیادہ بات نہیں ہو سکی تھی مگر بعدازں میں نے اُن پر واضح کر دیا تھا کہ ہم ایک د وسرے کو چاہتے ہیں۔اگرچہ انہوں نے اُس وقت تو اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا مگر میں بخوبی جانتا تھا کہ اب کیا طوفان آنے والا ہے۔سلمان کے دوستوں میں سے کسی کے دفتر آنے کی اطلا ع مجھے میرے انچارج سے ملی تو میں ذہنی دباؤ کا شکار ہوگیا کہ وہ مجھے قتل ہی نہ کرا دیں تو میں نے ایک ہفتے کی چھٹی لے لی تاکہ پرُسکون رہ سکوں۔اگرچہ بعدازں یہ معلوم ہوا کہ وہ کسی اور شخص کی تلاش میں آئے تھے ،سلمان کے دوستوں کی رسائی وہاں تک نہیں ہو سکتی تھی۔لیکن ایسا ہونا بھی میرے لئے فائدہ مند ثابت ہوا تھا کہ میرا تعلق اﷲ سے اور مضبوط ہو گیا تھا کہ میں نے اﷲ پر سب کچھ چھوڑ دیا تھا کہ وہی ذات ہی میرے معاملات کو حل کروا لے گی۔

دوسری طرف جب یہ بات ماہرہ کی گھر تک آئی تو خوب تماشہ ہوا ایک طرف مائرہ بضد تھی کہ وہ مجھے نہیں جانتی ہے ۔مائرہ نے اس حوالے سے قسمیں تک اُٹھا لیں تھی مگر تمام تر حقائق اس کی بات کو غلط ثابت کر رہے تھے۔دوسری طرف مائرہ کی والدہ بھی اپنے جانب سے کوشش کر چکی تھی کہ بیٹی کے کردار کے اُوپر لگے الزام کو دھو سکے مگر ایسا ہونا ممکن نہیں تھاکہ میں نے مضبود دلائل سے اپنا مقدمہ لڑا تھا ۔اور میں نے اس حوالے سے اﷲ کے حضور رو کر منتیں کر کے دعائیں مانگی تھیں کہ اے خدا میرے مالک! تو میرے دل کی نیت کو جانتا ہے ،میری مدد فرمانا کہ میں تیری وساطت سے اپنی محبت کا حصول چاہ رہا ہوں۔مائرہ کے والدنے بہت بری طرح سے مائرہ کی والدہ کو سنایا تھا ۔جنہوں نے اس معاملے میں کچھ نا اہلی کا مظاہرہ کیا تھا اور مائرہ پر پہلے سے زیادہ پابندیاں بھی عائدہ ہوگئی تھیں۔اور مائرہ کا غصہ عروج پر آگیا تھا کہ میں نے اپنی شاید حد ہی پار کر لی تھی میں نے اپنی محبت کے حصول کے لئے اُسے تماشہ بنا دیا تھا مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ جس قدر اپنی چاہت کا مظاہرہ کر چکی تھی وہ مجھے اُسے پانے کے لئے ہر کوشش کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔چونکہ مائرہ نے خود مجھے شادی کے حوالے سے رشتہ لے کر آنے کا کہا ہوا تھا تومجھے اُسکی کہی بات کی لاج رکھنی تھی ۔میں سب کچھ جان کر بھی بڑی مشکل سے کیونکہ وہ جہاں رہتی تھی وہاں داخلہ عام افراد کا ممکن ہی نہیں تھا لیکن محبت فاتح عالم تو جناب وہاں تک بھی رسائی ہو ہی گئی تھی۔

مجھے میرے دوست نے ایک صاحب علم ہستی سے میرے مسئلے کا ذکر کیا تھا انہوں نے مجھے فریا یا تھا’’بیٹا تمہارے اور مائرہ کے ستارے مل رہے ہیں، وہ تمہیں دباؤ میں رکھے گی مگر گذارہ ہو جائے گا‘‘ میں نے ادب سے عرض کر دیا تھا کہ جناب آپ دعا کر دیں انہوں نے دعا کر دی تو دل کو بڑا ہی سکون سا مل گیا تھا۔مجھے اپنے خدا پر یقین کامل تو تھا ہی کہ وہ نم آنکھوں اورسجد ے میں کی گئی دعاؤں کو شرف قبولیت بخش دے گا تو مجھے مائرہ کی ستم گری اس قدر نہیں محسوس ہو رہی تھی کہ میں جانتا تھا کہ ’’نگاہ مردمومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں‘‘ تو میں کیوں اﷲ کی رحمت سے مایوس ہو جاتا ۔میرے لئے حالات روز بروز سازگار ہو رہے تھے اور بالآخر مائرہ کے والدکی سمجھداری کی وجہ سے انہوں نے خاندان بھر کی مخالفت مول لے کر اپنی بیٹی کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دینے کا فیصلہ کر لیا ۔میرے لئے خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی کہ میری محبت مجھے ملنے والی تھی مگر اس کی بھاری قیمت مائرہ کو اداکرنی پڑرہی تھی کہ اُس کے والد نے بیٹی کی خوشی کے لئے ہاتھ دینے حامی بھر لی تھی مگر باقی گھر کے افراد اس رشتے کی مخالفت کر رہے تھے مگر چونکہ بات’’آسمان پر طے ہو چکی تھی‘‘تو ہمیں ایک ہونا ہی تھا کہ دعاؤں کا سہارا اور نیت صاف تھی اور ایک دن مائرہ دلہن بن کر میرے گھر آگئی اور پہلے دن ہی ہماری دھواں دھار لڑائی ہوئی تھی ۔مگر پھر میں نے اسکے ہاتھوں کو تھام کر اپنی محبت کو کہہ دیا کہ تمہارا ہی احساس تھا تب اتنا کچھ کیا ہے اور وہ بس کندھے سے لگ کر رو دی تھی کہ وہ جانتی تھی کہ بے پناہ چاہتی ہے مگر والدین کے سامنے اپنی چاہت کا اظہار نہ کر سکی تھی ۔مائرہ کو اُس دن کے بعد اکثر ماضی کے حالات یاد آتے ہیں اور پھر ہماری لڑائی ہوتی ہے اور شاید آج کی مانند یہ لڑائی اُسکی زندگی تک جاری رہے گی کہ ہماری محبت سچی تھی تو ہی ہمارا ملن ممکن ہوا تھا۔

دوسری طرف سلمان نے جس طرح سیمجھے محبت کے نام پر خود اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر زودکوب کیا ہے وہ محبت کی توہین کے مترادف ہے۔ سلمان کی بھی اُس کے گھر والوں نے خوب کچھائی کی تھی اور وہ کچھ سمجھ سا گیا تھا مگر میں نے مائرہ کو پہلے دن ہی سختی سے کہہ دیا تھا کہ وہ سلمان کے گھر نہیں جائے گی ۔یہ سن کر مائرہ کو تو منہ بن گیا تھا مگر یہ ہمارے لئے بہتر تھا کہ مستقبل میں مزید پریشانی سے بچنے کے لئے فائدہ مند تھا جس کے بارے میں مائرہ کے والدین کو بھی میں نے آگاہ کر دیا تھا۔سوچنے کی یہ بات ہے یہ مائرہ کی کیسی محبت ہے کہ وہ اپنے چاہنے والے سے بے پناہ پیار کے بعد بھی اس سے دوری اختیار کئے ہوئے تھی۔ سلمان کی محبت کے دعویٰ کو آپ لوگ کیا کہیں گے؟ کیا یہی محبت ہوتی ہے کہ آپ اپنے محبوب کو یوں تکلیف دیں،اس کی خوشی اگر کسی اور سے محبت کر کے مل رہی ہو تو اُسے چھین کر یا اُسے ہی رقابت کے انتقام کے طور پر اپنا آپ دکھا کر کہ اگر مجھ سے محبت نہ کی،محبت کے بدلے محبت نہ دی تو یوں اس کو جان سے مار دوں گا،میرے موبائل سے ایس ایم ایس نکال کرمائرہ کو ہی بھیج دینا کس قدر بے حسی،کینہ پروری اورمحبت کی توہین کے مترادف ہے۔میں تو مائرہ سے شادی کرنا چاہتا تھا اسکی محبت اسکو دینا چاہتا ہے تو پھر سلمان نے اپنے محبوب کی خوشی کیلئے اپنی محبت کو قربان کیوں نہیں کیا تھا۔ کیوں وہ چاہتا تھا کہ ہم دو لوگ جدا ہو جائیں اور وہ محض ایک اپنی محبت حاصل کر کے خوش ہو جائے۔جناب بتائیں یہ کیسی محبت ہے؟جہاں تک حقائق بتاتے ہیں وہ لفظ’’محبت‘‘کو درست طور پر جانتا ہی نہیں ہے کہ اس میں اپنا آپ مارنا پڑتاہے اور محبوب کی خوشی کیلئے ہر طرح کی قربانی دی جاتی ہے؟ یہی دیکھ لیں میں نے مائرہ کی محبت کی خاطر سلمان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی،اس کی عزت کا تحفظ جہاں تک کر سکا کی ہے۔مگر دوسری طرف سلمان نے محبت کے نام پر جہاں مائرہ کو اپنے دوستوں میں تماشہ بنایا ہے اور اسکی عزت کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دی ہیں وہ ایک لڑکی ہی سمجھ سکتی ہے،وہ سارے معاملے کو دوستوں میں لایا ہے جس سے میری اور اُسکی عزت بھی داؤ پر لگی تھی۔

سوچیں ذرا ایک لڑکی کی عزت کتنی مقدس ہوتی ہے اور ایک مفاد پرست انسان نے ایک ایسے جذبے کو جس میں لوگ جان تک دے دیتے ہیں۔ اسے تماشہ اپنے دوستوں میں بنا کر رکھا ہواتھا اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جس کے ساتھ وہ یہ سب کر رہا ہے وہ اس کے اپنوں میں سے تھی وہ محض کزن ہونے کیو جہ سے چپ تھی اور اس نے اپنے آپ کو اور بہادر بنا لیا تھا کہ وہ کچھ نہیں کہہ رہی ہے۔کیا اسی کو محبت کہتے ہیں ۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی ہمارے ساتھ ذہنی اعتبار سے بہت منسلک ہو جاتا ہے تو دوسرا بندہ اپنی جان چھڑوالیتا ہے اور ہماری جان پر بن آتی ہے کبھی ہم خود کشی کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی اپنے آپ کو کسی اور طرح سے اذیت دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی زندگی کو مزید اس قدر الجھا لیتے ہیں کہ جینا محال ہو جاتا ہے۔اور اکثر اسی محبت کی وجہ سے ساری عمر ایک خاص خول میں ہی گم رہتے ہیں کہ اسیر محبت سب کو دکھائی دیتے ہیں۔کچھ لوگ جب کوئی سچی محبت انکی دل لگی کے جواب میں کرنے لگتا ہے تو بھی کچھ نا عاقبت اندیش پھر انکو اندھیری راہ میں چھوڑ کر اپنی راہ لیتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو محبت کا اظہار کرتے ہیں تو دوسرا مثبت جواب نہیں دیتا ہے اور جب وہ محبت میں گرفتار ہوتا ہے تو پہلا اس کو چھوڑ کر اپنے راہ لے چکا ہوتا ہے۔مائرہ نے بھی ایسا کرنے کی کوشش کی تھی مگر میں نے پیچھا کرکے اپنی محبت کا حصول ممکن بنایا تھا۔محبت کرنے والے اورمحبت کی دنیا دونوں ہی بڑے نرالے ہیں ،ازل سے لوگ اس میں گرفتار ہو رہے ہیں مگر ہر محبت کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس کی محبت ہی انوکھی ہے میری کہانی کیسی ہے ۔ آپ کیا کہتے ہیں، آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا؟
فیس بک: www.facebook.com/ZulfiqarAliBukhari