اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

فرانس میں شہنشاہیت کا خاتمہ

گوادر سے وابستہ مستقبل

تاریخی اعتبار سے مچھیروں کی بستی گوادر اب بلوچستان کا قلب بن چکی ہے جہاں پر بہت تیزی سے تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔سی پیک کے اعلان اور ون بیلٹ ‘ون روڈ منصوبے نے گوادر کو قومی افق پر لا کھڑا کیا ہے اور آج کل کی ہر بیٹھک کا دوسرا موضوع گوادر ہی ہوتاہے ۔یہاں پر سی پیک کے تحت منصوبے بھی تیزی سے جاری ہیں جن کیلئے چین سب سے زیادہ تعاون کر رہا ہے ۔اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سی پیک کا حجم 50ارب ڈالر سے متجاوز کر چکا ہے ۔اس میں سے 7ارب ڈالر بلوچستان کے مختلف 12منصوبوں کیلئے مختص کیا جا چکا ہے ۔ اس ضمن میں نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ تعمیر کیا جائیگا۔ گوادر پورٹ کی سرگرمیوں کیلئے سی پیک سپورٹ یونٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ کراچی کو گوادر سے منسلک کرنے کیلئے ریل کی پٹری یا پٹریاں بچھائی جائیں گی۔ 892کلومیٹر طویل گوادر تا رتھو ڈیرو سڑک بنائی جائے گی جس سے 495کلومیٹر طویل حوشاب روڈ کی استعداد میں بھی اضافہ ہو جائے گا ۔اس کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ پراسیسنگ زون اتھارٹی اور گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بھی کی جائے گی۔ مزید یہ کہ یہاں پر پینے کے صاف پانی کے پلانٹس اور اُس کی ترسیل وغیرہ کے منصوبے بھی شروع کئے جائیں گے۔ گوادر میں پاک چائنہ ٹیکنیکل اور ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ یہاں پر موجودہ 50بیڈ کے ہسپتال کو 300بستروں کا جدید ہسپتال بنانا سمیت دیگر منصوبے ایسے ہیں کہ جو گوادر کو مکمل طور پر تبدیل کر دیں گے۔یہ منصوبے صرف آغاز ہیں۔
19جنوری2015ء کو وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان اور اُس کی ترقی میرے دل کی آواز ہے ۔ان کے اس بیان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت بلوچستان کی ترقی کیلئے مخلص ہے اور اسی طرح عسکری قیادت بھی بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ بیان کردہ تمام تر منصوبے سی پیک کا حصہ ہیں جو کہ گوادر ہی نہیں بلکہ بلوچستان کیلئے مستقبل میں مفید ثابت ہونگے ۔رقبے کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جبکہ یہاں پر آبادی بہت کم ہے۔ بلوچستان میں کل آبادی کا محض 5فیصد لوگ آباد ہیں۔ یہاں پر آبادی ایک حساب سے بکھری ہوئی ہے اور بہت سے ایسے مقامات پر بھی لوگ رہائش پذیر ہیں جہاں پر آسانی سے رسائی ممکن نہیں ہے۔ اب گوادر کی ترقی اور یہاں پر ہونے والی تعمیرات کا پہلا فائدہ بلوچستان کوہوگا ۔حکومت کو اس بات کا یقین ہے کہ جب گوادر میں ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوگا تو اس کے اثرات بھی پورے بلوچستان میں نظر آئیں گے۔
پہلے گوادرسے کوئٹہ کا سفر کرنے میں پورا دن لگ جاتا تھا لیکن اب ماس ٹرانزٹ روڈ کی تکمیل کے بعد صرف چھ سے سات گھنٹے لگتے ہیں۔ایسے پراجیکٹس مقامی آبادی کیلئے آسانی کے علاوہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں معاون ثابت ہونگے۔وزارت برائے پلاننگ ‘ڈویلپمنٹ اور ریفارمز کے گوادر پروفیشنل عارف نذیر کہتے ہیں کہ سی پیک کیلئے گوادر ایک مرکزی ہب ہے ۔اُن کاکہنا تھا کہ بارہ منصوبوں میں سے سات منصوبے چین کے تعاون سے بنائے جا رہے ہیں اور یہ منصوبے بلوچستان کی صوبائی حکومت کے تعاون سے بن رہے ہیں۔مزید براں صوبائی حکومت کے دیگر منصوبے جن پر غور جاری ہے ، اُن کا دارومدار اِن گیارہ منصوبوں پر ہے جن کو چین کی جانب سے سرمایہ کاری کی جا رہی ہے ۔ اس لئے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ معاشی طور پر یہ درست اقدام ہوگا کہ پہلے گوادر کو فوکس کیا جائے اور اُس کے بعد یہاں سے پورے صوبے میں ترقیاتی کاموں کو پھیلایا جائے ۔
چین کی شمولیت کے بعد سے گوادر میں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کار بھر پور دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ گوادر میں پاکستان بھر سے سرمایہ کاری بھی کی جا رہی ہے ۔سرمایہ کاری کی ایک بڑی وجہ یہاں پر سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے سکیورٹی کے بہترین انتظامات بھی ہیں جن پر قوم کو اعتماد ہے۔ مقامی افراد کی سرمایہ کاری ہی درحقیقت بین الاقوامی سرمایہ کاری پاکستان میں آنے کا موجب ثابت ہو رہی ہے ۔ پاکستان کے سب سے بڑے رئیل اسٹیٹ پورٹل زمین ڈاٹ کام کے اعداد و شمار یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ پراجیکٹس جیسا کہ کینیڈین سٹی گوادر وغیرہ سرمایہ کاروں کی توجہ کھینچنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ گوادر میں لاہور ‘ کراچی اور اسلام آباد کا بڑا سرمایہ کاربھی مکمل اعتماد سے سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔ زمین ڈاٹ کام کے سی ای او ذیشان علی خان نے کہا کہ یہاں پر پلاٹس کی قیمتوں میں گزشتہ ایک سال میں 235.7فیصد اور کمرشل پراپرٹی میں 291.42فیصد کا شاندار اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔
اسی ضمن میں ہم نے یونیورسل پراپرٹی نیٹ ورک کے وقاص نصیر سے بات کی اور اُن کے مطابق گوادر میں پاکستانی اور چین کے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی وجہ سے گوادر کا مستقبل تابناک ہے ۔حکومت کی جانب سے بھی کوآپریٹیو سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں جو کہ خوش آئند امر ہے ۔اس کے علاوہ گوادر میں سکیورٹی کے فرائض افواج پاکستان ادا کر رہی ہے جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔
گوادر کو بننے میں ابھی چار سے پانچ سال لگیں گے اور اسکے بعد ہی سرمایہ کار یہاں سے بلوچستان کے دیگر شہرو ں کی جانب جائیں گے ۔گوادر سی پیک کا مرکزی مقام ہوگا لیکن سی پیک کے منصوبوں کا فائدہ پورے پاکستان کو حاصل ہوگا اور اگر میں غلط نہیں ہوں تو ان منصوبوں کا فائدہ پورے خطے کو ہوگا۔ہمیں صرف ثابت قدمی سے اپنی سمت کی جانب سفر کو جاری رکھنا ہوگا۔