اشاعت کے باوقار 30 سال

موجودہ سست روی کا رحجان عارضی ، عید کے بعدبہتری متوقع ...زمین ڈاٹ کام مارکیٹ رپورٹ

مئی میں پراپرٹی کی مارکیٹ میں سست روی کی وجہ دو عناصر تھے ایک تو ماہ مقدس رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا تھا اور دوسرا وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ بھی پیش کیا جا رہا تھا۔ رمضان المبارک کا آغاز بھی مئی کے اواخر میں ہوا تھا جبکہ بجٹ بھی مئی کے آخر میں ہی پیش کیا گیا تھا ۔ رمضان المبارک میں مجموعی طور پر رحجان کاروبار سے ہٹ جاتا ہے اور اسی طرح سے بجٹ کے حوالے سے متوقع اقدامات اور قیاس آرائیوں کی وجہ سے مارکیٹ میں سست روی کا عنصر اکثر مقامات پر غالب رہا ۔ جہاں پر سست روی نہیں تھی تو وہاں عمومی طور پر استحکام دیکھنے میں آیا۔ ذیل میں ہم پراپرٹی کی مارکیٹ پر تفصیلی نگاہ ڈالتے ہیں۔
لاہور: لاہور میں اکثر مقامات میں استحکام کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ ڈی ایچ اے لاہور ، واپڈا ٹاؤن ، بحریہ ٹاؤن میں استحکام تھا تو قلیل المدتی سرمایہ کاری کے سبب بحریہ آرچرڈز میں قیمتوں میں تھوڑی سی کمی دیکھنے میں آئی۔ ایل ڈی اے ایونیو ون میں بھی ایسا رحجان ہی دیکھنے میں آیا۔لاہور کے مشہور ترین مقام ڈی ایچ اے کے پہلے 4فیز وں میں استحکام کا مشاہدہ کیاگیا ۔ جبکہ اُمید کی جا رہی ہے کہ ڈی ایچ اے فیز 5اور فیز6میں عید کے بعد خرید و فروخت شروع ہو جائے گی۔ڈی ایچ اے فیز 6، سیون اور نائن میں ملا جلا رحجان دیکھنے میں آیا۔ فیز نائن میں قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیااور فیز سیون میں قیمتوں میں تھوڑی سی کمی دیکھنے میں آئی۔مجموعی طور پر دیکھیں تو یہاں پر ایک کنال کے پلاٹ میں 1.10فیصد اضافہ اور 10مرلہ کے پلاٹ میں 2.90فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔
بحریہ ٹاؤن میں مجموعی طور پر ایک کنال کے پلاٹ میں0.52فیصد اور 10مرلہ کے پلاٹ میں 0.16فیصد کی قابل نظر انداز کمی دیکھنے میں آئی تاہم اگر ہم مجموعی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہیں تو اِس صورتحال کے باوجود بحریہ ٹاؤن میں استحکام دیکھنے میں آیا۔سیکٹر ایف کے کچھ مسائل کی وجہ سے سنجیدہ خریدارنے سرمایہ کاری کرنے سے گزیر کیا جس کی وجہ سے یہاں بھی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔
بحریہ آرچرڈز میں صورتحال مختلف تھی جہاں پر قلیل المدتی اور چھوٹے پیمانے کے سرمایہ کارکی وجہ سے مارکیٹ میں اتارچڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ ماہ مئی میں یہاں پر اپریل کی طرح سے ہی معتدل کمی دیکھنے میں آئی۔
ایل ڈی ا ے ایونیو میں بھی اپریل کی طرح سے معتدل کمی دیکھنے میں آئی ۔یہا ں پر قیمتوں میں کمی کی وجہ بجٹ کے حوالے سے ہونے والی قیاس آرائیاں رہی جبکہ رمضان المبارک میں کاروبار سست ہوجانا بھی ایک عنصر کے دور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔اس سوسائٹی کے قانونی مسائل ابھی حل ہونا باقی ہیں جو اگر حل ہو جاتے ہیں تو یہاں کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے ۔
مئی میں واپڈا ٹاؤن میں استحکام کا مشاہدہ کیا گیا ۔

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں بجٹ کاغلغلہ سب سے زیادہ تھا جس کی وجہ سے مئی میں مجموعی طور پر قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ۔مزید براں گزشتہ سال لگنے والے ٹیکس کے اثرات بھی ابھی تک محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سے جمود دیکھنے میں بھی آیا۔
بحریہ ٹاؤن اسلام آباد میں اگرچہ کہ حقیقی خریدار دلچسپی کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن اُس کے باوجود بھی یہاں پر قیمتوں میں معمولی سی کمی دیکھنے میں آئی تاہم عید الفطر کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ .
مئی میں ڈی ایچ اے اسلام آباد میں قیمتوں میں قابل نظر انداز کمی دیکھنے میں آئی جبکہ یہاں پر مجموعی طور پر استحکام دیکھنے میں آیا۔ یہاں پر دس مرلہ کے پلاٹس کی قیمتوں میں 0.26فیصد کمی اور ایک کنال کے پلاٹس کی قیمتوں میں 0.4فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ۔یہاں بھی عید الفطر کے بعد امید کی جا رہی ہے قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ گلبرگ ریزیڈنشیاء میں قیمتیں مستحکم تھیں تاہم عید کے بعد یہاں پر قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کا رحجان نہیں ہے ۔
سیکٹر بی 17میں دس مرلہ کی قیمتوں میں اچھا اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ یہاں پر ایک کنال کے پلاٹ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا تھا۔یہاں پر اس وقت قیمتوں میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر فروخت کنندگان سے زیادہ خریدار موجود ہیں کیوں لوگ جانتے ہیں کہ نیو اسلام آباد ائیرپورٹ کے پراجیکٹ کی وجہ سے یہاں پر قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ ای الیون اور ایف الیون میں نئی کاروباری سرگرمیوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہاں پر قیمتوں میں استحکام دیکھنے میں آیا۔
کراچی : کراچی میں ڈی ایچ اے اور ڈی ایچ اے سٹی کراچی میں قیمتوں کی کمی ریکارڈ کی گئی اور اُس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز اِس وقت گوادر بن رہا ہے ۔ڈی ایچ اے میں پانچ سو گز پلاٹس کی قیمتوں میں 3.21فیصد اور 250گز کے پلاٹس کی قیمتوں میں 5.39فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ۔ اسی طرح سے ڈی ایچ اے سٹی کراچی میں 500مربع گز کے پلاٹ کی قیمت میں 1.10فیصد اور250گز کے پلاٹ کی قیمت میں 1.35فیصد کی کمی ریکارڈ ہوئی ۔
بحریہ ٹاؤن کراچی میں قیمتوں میں اضافہ کا رحجان دیکھنے میں آیاکہ یہاں پر ترقیاتی کاموں میں تیزی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے ۔حیران کن طور پر بحریہ پیراڈایز کی لانچ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے تاہم بحریہ پیراڈئز میں قیمتوں میں کمی ریکارڈ ہوئی ہے ۔
گلشن اقبال میں قیمتیں ہمیشہ کی طرح سے مستحکم رہی ہیں۔ باقی ملک کی طرح یہاں عید الفطر کے بعد ہی صورتحال کا انتظار کیا جا رہا ہے ۔

حتمی تجزیہ:
مئی کے مہینے میں پاکستان کی پراپرٹی کی مارکیٹ میں سست روی کا عنصر غالب رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ عید کے بعد بہت سے مقامات پر حالات معمول پر آ جائیں گے ۔ایک حیران کن امر یہ بھی تھا کہ کراچی سے بہت سے سرمایہ کاروں کی توجہ اور اُن کا سرمایہ اب گوادر منتقل ہونا شروع ہو گیا ہے ۔گوادر کی شاندار کارکردگی کا اثر کراچی پر پڑ رہا ہے جہاں اہم مقامات پر قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔لیکن اِس کے باوجود سرمایہ کاروں کی مکمل توجہ کراچی کی جانب سے نہیں ہٹی ہے اور شہر میں ابھی بھی سرمایہ کاری ہو رہی ہے ۔اسی لئے مستقبل قریب میں یہاں پر قیمتوں کے بڑھنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
زمین ڈاٹ کام کے سی ای او ذیشان علی خان نے کہا کہ اس مرتبہ بجٹ کی وجہ سے ہونے والی قیاس آرائیوں نے بھی مارکیٹ پر اثرات مرتب کئے ہیں کیونکہ لو گ اس بات کی انتظار میں تھے کہ ٹیکسوں میں اضافہ ہوتا ہے یا کمی واقع ہوتی ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ نہ تو مارکیٹ کی سرگرمیوں میں کمی کوئی پریشان کن امر ہے اور ناں ہی ایسے حالات نئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ عید الفطر کے بعد مارکیٹ میں حالات معمول پر آ جائیں گے ۔ہر سال ہی ایسا ہوتا ہے کہ رمضان المبارک میں مارکیٹ میں سست روی کا عنصر غالب آ جاتا ہے اور ہر سال ہی عید کے بعد مارکیٹ میں بہتری بھی نظر آتی ہے ۔