اشاعت کے باوقار 30 سال

خدارا غریب پھل فروش پر رحم کیجئے

اگر میں یہ کہو ں کہ سوشل میڈیا اس صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ اب تک اس کے نقصان زیادہ سامنے آئے ہیں اور جبکہ فوائد ہم انگلی کی پوڑوں پر گن سکتے ہیں ۔اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پر کوئی ایڈیٹوریل چیک نہیں ہے،جس کے لائک اور شیئرز سب سے زیادہ ہیں وہ اُتنا ہی بڑا فنکار مانا جاتا ہے ۔ فیس بُک یا ٹوئیٹر یا دوسری کوئی بھی سوشل نیٹ ورک ویب سائٹ جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہم اس کو مفت میں استعما ل کر سکتے ہیں وہ دو کام کرتی ہے ۔ ایک یاں تو ہم اُن کے کلائنٹ ہوتے ہیں اور دوسرا یاں ہم پراڈکٹ ہوتے ہیں ۔ اس موضوع کو کسی اور کالم میں اُٹھا رکھتے ہیں۔ سر دست ہم اُس موضوع کی جانب آتے ہیں جس کی وجہ سے میںآج یہ صفحہ کالا کر رہا ہوں ۔
حال ہی میں پاکستان میں سوشل میڈیا پر ایک مہم چلائی گئی کہ رمضان المبارک میں پھل ایک دم ہی بہت مہنگا ہوجا تا ہے تو ہمیں تین دن کیلئے پھلوں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے کیونکہ یہ ناجائز منافع خوری کی وجہ سے ہمیں لوٹتے ہیں ۔ آج اس بائیکاٹ کا دوسرا دن ہے اور کل تیسرا دن ہو جائے گا۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی اس مہم نے سوشل میڈیا پر اور معاشرے میں دو رائے قائم کر دی ہے ۔ ایک اس مہم کی حامی اور دوسری مخالفت میں ہے۔ میری رائے مخالفت میں ہے اور اُس کی چند ایک وجوہات بھی ہیں۔
آپ تین دن کیلئے پھلوں کا بائیکاٹ ضرور کیجئے لیکنذرا ان نقاط پر بھی سوچیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک غریب ریڑھی والا کتنے کماتا ہے ؟ بمشکل نو سو روپے سے بارہ سو روپے تک یومیہ اُس کی کمائی ہوتی ہے۔ وہ روزانہ منڈی سے پھل لیتاہے اور کسی سڑک کے کنارے یا ں پھر گلی گلی صد ا لگا کر بیچتا ہے ۔ ان میں سے اکثر وہ ہوتے ہیں جو روزے دار ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ روزہ رکھ کر منڈی جاتے ہیں۔ پھل لیتے ہیں اور اپنا رزق کمانے نکل جاتے ہیں۔سارا دن خاک چھاننے کے بعد اُن کو نو سو روپے سے بارہ سو روپے تک کمائی ہوتی ہے اور جو پھل شام کو بچ جاتا ہے ، اگر بچ جاتا ہے، تو وہ گھر لے جاتے ہیں یاں ریٹ گرا کر فروخت کر دیتے ہیں۔ کتنے ریڑھی والے ایسے ہیں جنہوں نے ہم سے بیس ‘تیس ‘ پچاس یاسو روپے زائد لیکر گاڑی یا بنگلہ بنا لیا ہے؟ وہ تو بیچارے روز کے دھندوں سے نہیں نکل پاتے ہیں۔
کیا رمضان میں قیمت ریڑھی والا بڑھاتا ہے؟ اس کا جواب ہے کہ نوے فیصد نہیں اور دس فیصدی ہاں۔ اصل میں تو قیمت وہ آڑھتی بڑھاتاہے جو ہول سیل مارکیٹ میں بیٹھا ہوتاہے ۔ چلیں فرض کیا کہ بائیکاٹ ہوگیا توتین دن سے کیا فرق پڑے گا؟ ایک ہفتے سے بھی کیا فرق پڑے گا؟ جو مگرمچھ پیچھے بیٹھا ہے وہ فوری طور پر اُس کو مصالحہ لگا کر اسٹور کر دے گا ، اسٹوریج کی کاسٹ اتنی زیادہ ہے بھی نہیں اور شاید اُس کو کوئی فرق بھی نہ پڑے ۔ اس کے علاوہ یا اُس پھل کو ایکسپورٹ کر دے گا۔ پھر کیا کریں گے ؟ چند سال قبل رمضان میں چینی کی قیمت ’’ٹھیک ‘ ‘ کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب صاحب نے انگلی گھمائی اور چینی کو 50روپے فی کلو فروخت کرنے کا اعلا ن کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی حکومتی ہرکارے حرکت میں آئے اور اُن کی برکت سے پہلے مارکیٹ میں چینی کی کمی ہوئی ‘ جس کے بعد وہ 65سے 70روپے کلو بھی بکی، میں نے اور آپ نے خریدی اور پھر غائب ہوگئی۔ اعداد و شمار نکال کر دیکھئے کہ کہاں گئی ۔ وہ چینی ایکسپورٹ ہوئی اور اُس کے بعد سے آج تک چینی کا ریٹ 55سے 60روپے کلو ہی ہے۔ تو کہا ں گئی وہ 50روپے کلو والی چینی؟
ایک وقت تھا کہ رکشے والے سڑک پر سب کے داد ا ابو بن کر چلتے تھے، من مانی کرنے میں یکتا اور نخرے اُن کے آسمانوں پر ہوتے تھے۔ اُن کے اپنے ریٹس تھے اور ہم دیتے تھے۔ پھر ایک دن کریم اور اوبر کی شکل میں نجی کمپنیاں آئی، اُنہوں نے اِس کا متبادل پیش کیا اور آج رکشے والے بھی لائن میں آ گئے ہیں۔ اب عوامی رکشہ یونین کے چیئرمین مجید غوری ‘ جنہوں نے خود کبھی شاید ہی رکشہ چلایاہواور اس مقصد کو سیاست کیلئے استعمال کر رہے ہیں‘ سمیت سب ہی اپنا پورا زور لگا کر بھی ان نجی کمپنیوں کا مقابلہ نہیں کر سکے اور اب مجبوراً کرائے کم کر رہے ہیں۔ آپ رکشے والوں کا بائیکاٹ کر کے کرایے کم کروا سکتے تھے؟ کبھی بھی نہیں ۔ کرائے کیسے کم ہوئے ؟ جب متبادل آیا تو رکشے کے کرائے بھی کم ہوئے اور متبادل نے مارکیٹ میں اپنا شیئر بھی حاصل کر لیا۔
میری ناقص رائے میں متبادل کی فراہمی ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے ۔ ان غریبوں کا بائیکاٹ کرکے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونا ہے بلکہ اُن بیچاروں کا چولہا تین دن ضرور متاثر ہوگا۔ میں خود بھی چاہتا ہوں کہ رمضان المبارک میں پھل ارزاں قیمتوں پر دستیاب ہو لیکن جس طرح سے ہم یہ کروانا چاہ رہے ہیں وہ غلط ہے۔ متبادل مارکیٹ میں فراہم کر دیجئے ، اجارہ داری بھی ٹوٹ جائے گی، قیمت بھی کنٹرول میں آ جائے گی اور غریب کا چولہا بھی متاثر نہیں ہوگا۔