اشاعت کے باوقار 30 سال

گاڈ فادر

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
وہ آج چوتھی بار مجھے خریدنے آیا تھا وہ ہر بار دنیا کی مہنگی ترین گا ڑی میں آتا، ہر بار مختلف گاڑی میں آتا، اسطرح وہ مجھے مر عوب کرنے کی لگا تار کو ششوں میں لگا ہوا تھا۔ بات گاڑی تک محدود رہتی تو ٹھیک تھا قابل نفرت بات یہ تھی کہ وہ ہر بار نئی خو بصورت عورت کے ساتھ آتا۔ آج چوتھی گاڑی اور چوتھی عورت تھی بقول اُس کے میں نے چار شادیاں کر رکھی ہیں۔ ہمارا مذہب چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے بعد میں پتہ چلا کہ وہ ایک وقت میں چار نوجوان عورتوں کو اپنے نکاح میں رکھتا ہے جس عورت کی جوانی کا رنگ پھیکا پڑتا اُسکو چھوڑ کر اُس کی جگہ نو خیز لڑکی کو بیوی کے طور پر اپنی زندگی میں شامل کر لیتا ہے۔ انتہائی چالاک اور ذہین آدمی ،انسانی نفسیات سے خوب کھیلنا جانتا تھا۔

ہفتہ پہلے یہ پر تعیش جہازی گاڑی میں میرے پاس آیا آتے ہی گاڑی سے اُترا میرے پاس آکر ٹھنڈے جوس کی بوتل میرے ہاتھ میں پکڑائی اور ٹشو پیپر سے میرے جوتے صاف کرنے کی کوشش کی جو میں نے سختی سے منع کر دیا۔ میری برہمی سے اُس نے تیزی سے اپنا موڈ تبدیل کیا اب وہ انتہائی تا بعدار ہو کر سر جھکا کر کھڑا ہو گیا اُ س کی واضح ڈرامہ با زی سے میں اُس کو پہچان چکا تھا میں نے کہا آپ آرام سے اپنی گاڑی میں بیٹھ جائیں میں فری ہو کر میں آپ سے ملتا ہوں میں نے جان بوجھ کر اُس کو طویل انتظار کرایا وہ وقفے وقفے سے مجھے کبھی ٹشو پیپر کبھی ٹھنڈا پانی کبھی جوس دینے کی کوشش کرتا رہا اور میں اُسے نظر انداز کرتا رہا لیکن کیونکہ اُسے مجھ سے کام تھا اِس لیے کمال ضبط کا مظاہرہ خو ش دلی سے کر رہا تھا ۔

آخر میں اُس کی گا ڑی میں جا کر بیٹھ گیا تو اُس نے خوشامدی لہجے میں کیا جناب آپ نے مجھے بہت انتظار کر وایا ہے مجھے اپنے غلاموں میں شامل کریں میں آپ کی ہر قسم کی خدمت کروں گا اب اُس نے اپنی امارت اور تعلقات کے قصے سنانے شروع کر دئیے دنیا جہاں میں جہاں جہاں وہ گیا تھا اُن ملکوں میں جو کاروبار کئے اُن کے قصے سنانے شروع کر دئیے وہ مسلسل اپنی ویلیو بنا رہا تھا بار بار بے تکلف ہونے کی کوشش بھی کر رہا تھا پچھلی سیٹ پر بیٹھی نوجوان اور خوبصورت عورت بھی اپنی ادائوں کے سنہری بال بار بار میری طرف پھینک رہی تھی میں خاموشی سے اُس کی با تیں سنتا رہا اس دوران میں لوگوں کے آئے ہو ئے میسج پڑھتا اور اُن کے جواب بھی دیتا رہا جب وہ خوب بول چکا تو میں اُس کی طرف متوجہ ہو ا جناب آپ بہت با اثر انسان ہیں تو مجھ فقیر کے پاس کس لیے آئے ہیں میرے اِس فقرے کے لیے وہ تیار نہیں تھا وہ سمجھ رہا تھا کہ میں اُس کی گفتگو اور تعلقات سے متاثر ہو چکا ہوں لیکن میرے لہجے اور چہرے کے تاثرات اُس کی خو ش فہمی کی نفی کر رہے تھے۔

اب اُس نے میرے پاس آنے کی وجہ بتائی تو میں نے کہا آپ کے اتنے تعلقات ہیں آپ کسی سے کہلوا دیں تو وہ بولا میں پوری کو شش کر چکا ہوں اُس بندے کو نیکی اور مذہب کا دورہ پڑا ہوا ہے وہ میرٹ کی بات کرتا ہے وہ دنیا میں صرف آپ کی بات مانتا ہے اب آپ اُسے سفارش کر یں۔ جس بندے کا اُس نے نام لیا وہ واقعی نیک آدمی تھا میں نے کہا میں اُس سے بات کروں گا ۔ وہ خوشامد کرتا ہوا چلا گیا میں نے اُس نیک بندے سے پو چھا تو اُس نے کہا یہ مجھے کئی مہینوں سے تنگ کر رہا ہے، رشوت کی آفر اور سفارش بھی کروا چکا ہے، میں نے اُسے کہا کہ آپ میرٹ پر کا م کرو کیونکہ روز محشر بھی بر پا ہو نا ہے،وہ بند ہ اگلے دن پھر میرے سر پر سوار تھا میں نے ٹال دیا تو یہ چند دن کے انتظار کے بعد آج پھر چوتھی دفعہ میرے پاس آیا ہوا تھا پچھلے چند دنوں کے دوران اس نے ایک اور انوکھا کام کیا میرے بہت سارے جاننے والے اس نے پتہ نہیں کیسے ڈھونڈلیے وہ تمام مجھے بار بار اِس کی سفارش کے فون کر تے، بڑی رقم کی آفر بھی اِس نے کر دی تھی،میں دو دن پہلے اس کے سفارشی سے اِس کا ڈیٹا لے چکا تھا وہ میرا جاننے والا تھا اور اِس کا بھی پرانا دوست تھا میرے پو چھنے پر اُس نے اِس چالاک آدمی کے بارے میں بتایا کہ یہ بہت امیر چالاک ذہین اور تعلقات رکھنے والا بندہ ہے اِس کا طریقہ واردات یہ ہے کہ نئے بھرتی ہونے والے افسران کے ساتھ یاری لگا لیتا ہے بلکہ ذہین طالبعلموں کے اخراجات تک برداشت کرتا ہے پھر اِن کو مختلف محکموں میں بھرتی کراتا ہے سرکاری افسران کے گھروں کے بل اخراجات پورے کرتا ہے افسران کے گھروں میں کھانے پینے کی اشیاء ہر ماہ بھجواتا ہے اُن کی اچھی جگہ پوسٹیں کرواتا ہے با اثر لوگوں کو عورتیں سپلائی کرتا ہے شاپنگ کراتا ہے ہر انسان کی کمزوری اور ضرورت سے کھیلتا ہے۔ جو افسران اِس کے خرچے پر پل رہے ہیں وہ اِس کے اشاروں پر کام کرتے ہیں بد معاشوں سے بھی تعلقات ہیں اگر کوئی بات نہ مانے تو بدمعاشوں کو بھی دھمکی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

اِس کے تعارف کے بعد مجھے گاڈ فادر یاد آگیا جو جرائم کی دنیا کا پراسرار اور چالاک کردار تھا جس پر فلمیں بھی بن چکی ہیں گاڈ فادر نے اپنے شیطانی ذہن کے بل بو تے پر کامیابیاں حاصل کیں، جرائم کو سائنسی بنیادوں پر شروع کیا اُسی نے انڈر ورلڈ جیسی اصطلاحیں ایجا دکیں، مجرموں کو با قاعدہ جرائم کی تربیت دی جا تی مجرموں کا بین الاقوامی نیٹ ورک بنایا اُس کا نیٹ ورک دنیا کے کونے کونے میں پھیلا ہوا تھا وہ چند لمحوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچ جاتا تھا جعلی دستاویزات اسلحہ با رود اور منشیات کی تیاری کے لیے با قاعدہ لیبارٹریاں بنائیں دنیا کے سفاک ترین قاتلوں کو اکٹھا کیا اِن کے چار عالمی سکواڈ تشکیل دئیے یہ قاتل پھر تیلے ذہین اور سنگدل تھے کہ چشم ذرہ میں لوگوں کو قتل اِسطرح کرتے کہ کسی بھی قسم کا نشان نہ چھوڑتے اِن کی کارروائیوں سے دنیا بھر کے حکمرانوں کی نیندیں حرام ہو گئیں تھیں گاڈ فادر پراسرار چھلاوا بن گیا تھا جو آندھی کی طرح کسی بھی جگہ آتش فشاں کی طرح پھٹ کر دشمن کو نیست و نابود کر دیتا گاڈ فادر ابتدا میں ایک چھوٹا سا مجرم تھا بے پناہ شیطانی قائدانہ صلاحیتوں کا مالک تھا غیر معمولی ذہین آدمی تھا جرائم پیشہ گروپوں کو کنٹرول کرنا یہ آرٹ اسے خوب آتا تھا 1934ء میں اُس نے اپنے خو فناک منصوبے کو اسطرح شروع کیا کہ یونیورسٹی کے پروفیسرز اور ریٹائرڈ سیاستدانوں کی خدمات حاصل کیں پروفیسر وں نے مختلف یونیورسٹیوں کے دور ے کئے اور ذہین ترین طالب علموں کی لسٹیں بنا دیں سیاستدانوں نے اِن نوجوان سیا ستدانوں کے نام بتائے جو مستقبل میں بڑے سیاستدان بن سکتے تھے اب گاڈ فادر نے اِن طالب علموں اور سیاستدانوں کی سماجی مدد کرنا شروع کر دی طالب علموں کو وظائف دے کر ترقی یافتہ ملکوں سے اعلی تعلیم دلانا اور پھر اِن طالب علموں کو اٹلی کے سرکاری پرائیوٹ اداروں میں بھرتی کروایا سیاستدانوں کو پروان چڑھنے میں مدد کی وکیلوں کو جج بنوایا اپنے بندوں کو سفیر وزیر مشیر بنوایا کچھ کو تاجر صنعت کار برو کر بنوایا ما ہر معاشیات بنوایا اور پھریہ لوگ تمام اٹلی میں پھیل گئے ۔

پھر گاڈ فادر دوم نے اپنے والد کے سلسلے کو پورے یورپ میں پھیلا دیا گاڈ فادر کے ایک اشارے پر منٹوں میں یورپ کے قوانین تبدیل ہو جاتے، سامنے حکمران اور تھے لیکن حقیقی حکومت گاڈ فادر کی ہی تھی چپڑاسی سے لے کر وزیر اعظم تک ہر بندہ گاڈ فادر کا ہی ہر کارہ نکلتا اگر کبھی کوئی جرم اُس کے کھاتے پڑتا تو ایف آئی آر کرنے والا مہر لگانے والا گرفتاری کا حکم دینے والا عدالت میں وکیل اور جج کی پوسٹ پر بیٹھا ہر شخص وزیر مشیر یا وزیر اعظم ہر بندہ اُس کا خریدا ہوا ہوتا تھا حکومتی عہدے دار دن رات اُس کے پائوں کو چھو کر گھر سے نکلتے اُس کے اشاروں پر چلناان کی زندگی کا مقصدیہی تھا اِس طرح گاڈ فادر کے با اثر افراد کے اذھان شعور عقل و فہم میں اتر گیا تھا اُس کے حق میں بولنے والے اور اُس کی مخالفت میں بولنے والے دونوں اُس کے جو تے چاٹتے تھے دونوں کی رگوں میں اُس کی وفاداری کا خون دوڑتا تھا بعد میں اِسی سسٹم کو امریکہ نے اپنا لیا آج دنیا کے اکثر ممالک میں امریکہ کے ہر کارے امریکی مفادات کی خاطر اپنی زندگیاں تک دائو پر لگانے سے گریز نہیں کرتے آپ پاکستان کی تمام جماعتیں دیکھ لیں آپ کو امریکہ کے پٹھو ہر جماعت میں امریکہ کی جگالی کرتے نظر آئیں گے گاڑی میں میرے سامنے بھی چھوٹا سا گاڈ فادر بیٹھا تھا جو مجھے خریدنے پر تیار تھا میں نے اُس کی آنکھوں میں گہری نظروں سے دیکھا اور کہا مجھے خریدنے سے پہلے خدا کو خریدو کیونکہ میں اُس کی بات مانتا ہوں یہ کہہ کر میں گاڑی سے نیچے اُتر آیا لیکن اترنے سے پہلے اُسے کہا کبھی دوبار ہ میرے پاس آنے کی غلطی نہ کرنا ۔

Author: