اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

زار نکولس دوم کی تخت نشینی

پانامہ پارٹ ٹو کا آغاز

تحریر: غلام رضا

چار ماہ 3 دن اور 36 سماعتوں کے بعد سپریم کورٹ نے''صدیوں یاد رکھنے''والا فیصلہ جاری کر ہی دیا، ایک سال سے زائد عرصہ تک جاری رہنے والا سسپنس ابھی تک ختم نہیں ہوسکا، عدالتی فیصلے کے مطابق وزیراعظم اپنا کام جاری رکھیں گے، دو ججز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو نااہل قرار دے کر گھر بھیج دیا جائے جبکہ تین ججز نے وزیراعظم کو ایک اور موقع دینے اور مزید'' تلاشی''لینے کا کہا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اختلافی نوٹ میں وزیراعظم کو نااہل قرار دینے سے اتفاق کیا۔ اب ہونا کچھ یوں ہے کہ ایف آئی اے کے افسرجو کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار کے انڈر آتے ہیں ان کی سربراہی میں چھ رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ایک ہفتے کے اندر تشکیل دی جائیگی جس میں نیب، ایس ای سی پی،آئی ایس ائی اور ایم آئی کا ایک ایک نمائندہ ہوگا جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم وزیراعظم اور ان کے بچوں سے لندن فلیٹس اور بے نامی جائیدادوں کی تحقیقات 2ماہ میں مکمل کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔

قارئین پانامہ پیپرز کے آغاز سے سپریم کورٹ کے فیصلے تک کے منظر نامہ پر ایک مختصر نظر ڈالی جائے تو پانامہ پیپرز کے 3 مارچ 2016 کو منظر عام پر آنے کے بعد پتہ چلا کہ دنیا کے امیر ترین افراد اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں۔ 1 کروڑ 15 لاکھ دستاویزات جرمن اخبار سودیوچے زیتنگ نے حاصل کئے اور اسے تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم آئی سی آئی جے کے ساتھ بھی شیئر کیا۔ کنسورشیم 76 ممالک کے 109 صحافیوں پر مبنی تھا، دستاویزات کا تجزیہ کرنے میں ایک سال لگا۔ پانامہ پیپرز میں 2 لاکھ 14 ہزار افراد، کمپنیوں، ٹرسٹ اور فائونڈیشن کی تفصیلات تھیں۔ دستاویزات میں 1977 سے 2015 تک کی معلومات تھیں۔ امیر ترین لوگوں کا مقصد ٹیکس سے بچنا اور منی لانڈرنگ کرنا تھا۔ پانامہ پیپرز میں سربراہان مملکت جن میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے قریبی رفقا، وزیراعظم نواز شریف کے بچوں، چینی صدر کے بہنوئی،یوکرائنی صدر،اجنٹائن کے صدر،برطانوی وزیراعظم کے مرحوم والدکا ذکر تھا۔

پانامہ کمپنیاں غیر قانونی نہیں مگر انویسٹر کی شناخت ظاہر نہیں کی جاتی اور نہ ہی معلوم کیا جاتا ہے کہ دولت کیسے حاصل کی گئی اور کیا اس پر ٹیکس ادا کیا گیا ہے یا نہیں۔ پاکستان میں پانامہ کا ہنگامہ شروع ہوتے ہی اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جبکہ وزیراعظم نے دو دفعہ قوم سے خطاب اور ایک دفعہ قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران ''صفائیاں''پیش کیں۔ وزیراعظم کے اعلان کردہ عدالتی کمیشن کو سپریم کورٹ نے ماننے سے انکار کیا اس دوران حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان کمیشن کے ضوابط کی تشکیل کیلئے کئی نشستیں بھی ہوئیں مگر نتیجہ صفر نکلا۔ 3 نومبر کو پانامہ کیس کی باقاعدہ سماعت پر چیف جسٹس نے کہا ہماری ترجیح وزیراعظم کیخلاف الزامات کو دیکھنا ہے اور شواہد دیکھنے کے بعد ہی کمیشن بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کیا جائیگا، مختلف سماعتوں پر ججز کی طرف سے گرما گرم ریمارکس بھی آئے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ اچانک 15 نومبر کو وزیراعظم خاندان کی طرف سے قطری خط سامنے آگیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ملک سے کوئی رقم باہر نہیں بھیجی گئی بلکہ قطر سے ہی بیرون ملک کاروبار کئے گئے۔ 9 دسمبر کو چیف جسٹس جسٹس انور ظہیر جمالی کے ریٹائر ہونے پر بنچ ٹوٹ گیا۔

پھر نئے چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 31 دسمبر کو نیا بنچ بنا۔ پانامہ کیس کے دوران وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے وکلا بھی تبدیل ہوتے رہے۔ جسٹس عظمت سعید کو دل کی تکلیف کے باعث بھی کچھ عرصہ سماعت نہ ہوسکی۔ 23 فروری کو فیصلہ محفوظ اور 20 اپریل کو سنا دیا گیا، 540 صفحات پر مشتمل فیصلے کو جسٹس اعجاز اسلم نے تحریر کیا،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مشہور ناول ''دی گاڈ فادر''کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے۔سپریم کورٹ نے کچھ سوالات بھی اٹھائے اور وہ یہ ہیں کہہ گلف سٹیل کیسے بنی ؟کس طرح فروخت ہوئی؟ فروخت ہوئی تو واجبات کیسے منتقل ہوئے؟ سرمایہ جدہ،لندن اور قطر کیسے پہنچا؟کم عمر بچوں نے لندن میں فلیٹس کیسے خریدے؟ قطری خط حقیقت ہے یا افسانہ؟قطریوں کے شیئرز کی شفافیت کیا ہے؟ نیلسن اور نیسکول کمپنیوں سے کس کس نے فائدہ اٹھایا؟ ہل میٹل اورفلیگ شپ انویسٹمنٹ لمیٹڈ اور دیگر کمپنیز کیلئے سرمایہ کہاں سے آیا؟ حسن نواز نے کمپنیز کو کیسے خریدا؟ کمپنیز کو چلانے کیلئے اربوں کا سرمایہ کہاں سے آیا؟حسن نواز نے والد کو لاکھوں کے تحفے کہاں سے دیئے؟ انہی سوالات کی روشنی میں جے آئی ٹی تحقیقات کا آغاز کرے گی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ تفصیلی فیصلے پر اگر یہ کہا جائے کہ دو ججز نے وزیراعظم کو گہرے پانی میں دھکیل دیا تھا جبکہ تین ججز نے ڈوبتے کو تنکے کے سہارے کا کردار ادا کیا تو بے جا نہ ہوگا۔ پاکستانیوں کو ابھی بھی 2 ماہ انتظار کرنا پڑیگا کہ پانامہ پر وزیراعظم کا کیا بنتا ہے جبکہ دنیا میں کئی صدور اور وزرائے اعظم کو عہدوں سے مستعفی ہونا پڑ چکا۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ججز نے ایک بار بھی حسن،حسین ،وزیراعظم یا مریم نواز کو طلب نہیں کیا جبکہ حکم صادر کر دیا کہ جے آئی ٹی ضرورت محسوس کرے تو باپ،بیٹوں کو ضرور بلائے اور پوچھ گچھ کرے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد چیف جسٹس ایک اور بنچ تشکیل دے کر وزیراعظم کے عہدے پر رہنے یا نہ رہنے کے متعلق فیصلہ کیا جائیگا۔ آخر میں قارئین آپ کو ایک بات ضرور بتانا چاہوں گا اور یہ میری ذاتی رائے ہے ہو سکتا ہے دو ماہ بعد میرا تجزیہ درست ثابت ہو جائے یا غلط مگر آپ کے ساتھ شیئر کرنا بھی ضروری سمجھ رہا ہوں اور وہ یہ کہ عدالت نے وزیراعظم کو کلین چٹ نہیں دی بلکہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے دو ماہ کی مہلت دی ہے ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو کام سپریم کورٹ سے نہیں ہوسکا وہ کام حکومت کا کوئی ادارہ کر سکتا ہے؟ اگرچہ سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں اس لئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا مگر یہ حکم بہت پہلے بھی دیا جاسکتا تھا، اب سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا وزیراعظم اداروں کو پریشرائز کر کے خود کو کلین چٹ دلوائیں گے، مثال کے طور پر قطری خط کو اگر جے آئی ٹی نے حقیقت پر مبنی قرار دے دیا تو وزیراعظم بچ جائینگے۔ میرے مطابق سپریم کورٹ کو تمام سوالات کے جوابات مل جائینگے اور وزیراعظم صاحب پھر سے طاقتور وزیراعظم کے طور پر سامنے آئینگے اور الیکشن کمپین میں مخالفین کو رگڑا لگائیں گے۔

Author: