اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

معروف ماڈل و اداکارہ سعیدہ امتیاز سےبات چیت

سعیدہ امتیاز کشمیری نژاد امریکی اداکارہ ہیں،سعیدہ کا پاکستان کی ماڈلنگ کی دنیا میں معتبر نام ہے۔ ابو ظہبی ‘متحدہ عرب امارات میں پیدا ہوئی اور پھر نیو یارک میں پلی بڑھی۔ اس لحاظ سے سعیدہ امتیاز کو ’مشرق و مغرب کا حسین امتزاج‘ کہنا غلط نہیں ہوگا۔زمانہ طالبعلمی میں سعیدہ سٹونی بروک یونیورسٹی میں ڈی ایس اے کی صد ر تھی۔ سعیدہ نے پاکستان میں فنی کیرئیر کے باقاعدہ آغاز کا فیصلہ کیا اور ملکی اور بین الاقوامی نامور برانڈز کیلئے ماڈلنگ کا فریضہ سر انجام دیا۔ مغربی نین نقش کی وجہ سے آپ کو ایک سیاست دان کی زندگی پر بننے والی ایسی فلم میں لیڈ رول دیا گیا جو ابھی بھی ڈبوں میں بند ہے اور کوئی نہیں جانتا ہے کہ اُس فلم کا مستقبل کیا ہوگا،تاہم ابھی بھی آپ مختلف پراجیکٹس پر کام کر رہی ہیں۔ چہرے اور مسکراہٹ کی معصومیت کی وجہ سے بہت سے برانڈز آپ سے ماڈلنگ کروانے کو ترجیح دیتے ہیں۔اردو ٹائمز کیلئے بات کرتے ہوئے سعیدہ امتیاز نے کیا کہا، ذیل میں پڑھئیے۔

سوال: آپ نے ماڈلنگ اینڈ ایکٹنگ کے شعبے کا انتخاب کیوں کیا ؟ اس کے علاوہ اور بھی کئی شعبے ہیں جن میں خواتین اپنا نام بنا اور کما سکتی ہیں؟
سعیدہ امتیاز: (ہنستے ہوئے ) دیکھیں، یہ بس ایک بچپن کا خواب تھا۔ ہر انسان بچپن میں کوئی نہ کوئی خواب دیکھتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر ایسا ہو گا اور وہ ویساہوگا، آپ نے بھی دیکھا ہوگا، ایسے ہی میرا بھی یہ خواب تھا ۔ جب میں نے گریجویشن مکمل کر لی تو پھر میں اپنی پسند کے شعبے میں اپنے خوابوں کو پورا کرنے آ گئی۔ اگرچہ میں مزید پڑھنا چاہتی ہوں اور میں انشااللہ پڑھوں گی بھی کیونکہ بچپن کا ایک خواب پورا ہوا ہے، ایک ابھی باقی ہے۔

سوال: اچھا، ایک خواب باقی ہے؟ کون سا؟ آپ نے کس مضمون میں گریجویشن مکمل کی ہے؟
سعیدہ امتیاز: میں نے نفسیات میں بی اے کیا ہے۔ یہ ایک اہم مضمون ہے جو کہ انسان کے شعور کے بہت سے دروازوں کو کھول کر اُس کو ایک نئی دنیا سے متعارف کرواتا ہے ۔میرا دوسرا خواب سوشل ورک کا ہے۔ میں نے ماڈلنگ اینڈ ایکٹنگ کے شعبے میں رہتے ہوئے اس خواب کو بھی پورا کرنا ہے۔ ابھی بھی میں سوشل ورک کر رہی ہوں لیکن انشااللہ آنے والے دنوں میں اس کو بڑے پیمانے پر کروں گی۔ سوشل ورک کا خواب اس لئے ہے کہ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ہمارا معاشر ہ ہے اور ہم ہی نے اس کو بہتر کرناہے۔ اب باہر سے آ کر تو کوئی نہیں کرے گا ۔ ہم ہی کریں گے۔

سوال: کپتان (نام سنتے ساتھ ہی سعیدہ امتیاز نے ایک دلکش قہقہہ لگایا، اور اُس قہقہے نے سوال کو مکمل کر دیا)
سعیدہ امتیاز: یہ میری پہلی فلم تھی جو کہ ابھی ریلیز نہیں ہوئی ۔ پروڈیوسر ز اُس کو ابھی بھی ریلیز کرنا چاہ رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے۔

سوال: کیا آپ کو نہیں لگتا ہے کہ ’کپتان ‘ سیاست کا شکار ہو گئی ہے؟
سعیدہ امتیاز : جی بالکل‘ چونکہ یہ فلم پاکستان کے نامور کھلاڑی اور سیاست دان پر بنائی گئی تھی تو یہ فلم سیاست کا شکار ہی ہوئی ہے۔

سوال: اگر کپتان ریلیز ہو جاتی تو سعیدہ امتیاز کیا ہوتی اور اُس کے بغیر کیسی ہے؟
سعیدہ امتیاز: (ہنستے ہوئے) سعیدہ امتیاز کیا ہوتی۔۔۔؟؟ کپتان کی ریلیز نہ ہونے کے باوجود میں مایوس نہیں ہوئی۔ میں نے اپنا کام پوری لگن اور محنت کے ساتھ جاری رکھا۔میں ابھی بھی جاوید شیخ صاحب کے ساتھ ایک فلم کر رہی ہوں جو کہ انشااللہ جلد ہی ریلیز ہوگی۔ا گر کپتان ریلیز ہوجاتی تو یقیناًمجھے بوسٹ تو ملتا لیکن کوئی بات نہیں، اب میری اسی سال ایک فلم آ ئے گی۔

سوال: جاوید شیخ صاحب کے ساتھ جو فلم کر رہی ہیں ‘ اُس کے بار ے میں کچھ بتائیں؟
سعیدہ امتیاز: اس فلم کا نام ’’وجود‘‘ ہے جس کا پہلا اسپیل مکمل ہو چکا ہے اور دوسرا اسپیل بھی جلد ہی شروع ہوگا۔ یہ فلم محبت کے موضوع پر ہے تاہم روایتی فلموں سے ہٹ کر اپنے اند ایک پیغام رکھتی ہے ، اس فلم میں تھرل بھی ہے ۔ میرے ساتھ اس فلم میں دانش تیمور ہیں اور ایک بھارتی اداکارادتیا سنگھ بھی ہیں۔ اس فلم کا حصہ ہونا باعث فخر ہے۔

سوال: یہ بتائیں کہ کیا گھر والوں کی جانب سے کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی ہے؟
سعیدہ امتیاز: (ہنستے ہوئے) نہیں، پہلے ہوتی تھی کیوں کہ اُن کو خطرہ تھا کہ کہیں ہماری بیٹی ہاتھ سے نہ نکل جائے ۔لیکن اب ایسا نہیں ہے۔
سوال: اب ایسا کیوں نہیں ہے؟
سعیدہ امتیاز: کیوں کہ اب اس شعبے میں کچھ سال ہو گئے ہیں تو اب گھر والے بھی جانتے ہیں کہ ہماری بیٹی نے کہیں بھی نام خراب نہیں کیا ہے۔ میں میرٹ پر یقین رکھتی ہوں اور نہ کبھی شارٹ کٹ استعمال کیا ہے اور نہ ہی کبھی شارٹ کٹ استعمال کروں گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میرا کام منفرد بھی ہے ۔ میں چونکہ شارٹ کٹ پر یقین نہیں رکھتی ہوں تو اسی لئے مجھے میگزین وغیرہ اتنا پروموٹ نہیں کرتے ہیں ۔ میں اِس پر مستقبل میں کبھی کھل کر بات کروں گی۔ ابھی بھی اللہ کے فضل سے عزت اور شہرت تو ہے ۔ اصل میں جو میری قسمت میں ہے وہ مجھے مل کر ہی رہنا ہے تو کیوں اُس کیلئے ہلکان ہوا جائے، شارٹ کٹ استعما ل کر کے اپنا نام خراب کیاجائے۔

سوال: کیا سعیدہ امتیاز شرارتی ہے؟ بچپن بھی آپ کیسی تھی؟
سعیدہ امتیاز (کھلکھلا کر ہنستے ہوئے) میں بچپن تو کیا اب بھی بہت شرارتی ہوں۔ میں ابھی بھی بہت پرینکس کرتی ہوں۔ میرے پاس کھلونا چھپکلی‘ کرنٹ والی چھوٹی چھوٹی آئٹم اور ایسے کھلونے ہوتے ہیں اور ابھی بھی کسی کے ساتھ بھی شرارت ہو جاتی ہے۔

سوال : آپ خود ایک کامیاب ماڈل اوراداکارہ ہیں، آپ کو کون پسند ہے؟ آپ کی پسندیدہ فلم کون سی ہے؟
سعیدہ امتیاز: مجھے ۔۔۔۔!! مجھے سلمان خان پسند ہیں۔مجھے مادھوری ‘ ایشوریا‘ کرینہ پسند ہیں۔ فلموں میں ہم دل دے چکے صنم، دیوداس اور جب وی میٹ ، تال زیادہ پسند ہیں۔

سوال: شاد ی کا کب تک ارادہ ہے؟
سعیدہ امتیاز: شادی؟ میری؟ فی الحال تو کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ابھی تو میرے کافی پراجیکٹس چل رہے ہیں تو ابھی تو ٹائم بھی نہیں ہے۔

سوال: پاکستان کی فلم انڈسٹری بحالی کی طرف جا رہی ہے، آپ کا اس حوالے سے کیا خیال ہے؟آپ اس کا مستقبل کیسا دیکھتی ہیں؟
سعیدہ امتیاز: یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ سینما انڈسٹری بحالی کی جانب جا رہی ہے۔ ابھی اس میں بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔پروڈیوسرز کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کم پیسا لگاکر بات نہیں بنے گی۔ چند لاکھ میں تو فلمیں نہیں بنتی ہیں اور جیسی فلمیں چند لاکھ میں بنتی ہیں اُن کا انجام سب نے ہی دیکھ لیا ہے۔یہ بات پروڈیوسرز کو بھی سمجھنی چاہئے۔ پھر فلم کا سکرپٹ اور ایڈٹنگ بہت اچھی ہونی چاہئے۔ یہ سمجھ لیں کہ اگر بنیاد کمزور ہو گی تو بلڈنگ تو ویسے بھی کمزور ہو گی۔ اب سینئرز بھی آ رہے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے تجربے کی بدولت سے جدید خطوط پر فلمیں بنا کر اس شعبے کو اپنے پیروں پر جلد کھڑا کر دیں گے۔میری نظر میں تواس شعبے کا مستقبل روشن ہے۔

سوال: پاکستان اور بھارت کی مشترکہ فلم سازی کے حوالے سے آپ کیا کہتی ہیں؟
سعیدہ امتیاز: جی باکل، ہونی چاہئے۔ میں نے بھارت میں ایک شارٹ فلم کی تھی۔اُس دوران میں انڈیا بھی رہی ہوں ۔میرے کچھ رشتہ دار وہاں پر رہتے ہیں۔ مجھے وہاں پر بہت عزت اور پیار ملا ہے۔ سب پاکستانیوں کو وہاں اُن کے فن کی وجہ سے عزت ملتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ رول ثانوی دیا جائے لیکن اُس کے باوجود اُن کی عزت کی جاتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کو مشترکہ فلم سازی کر نی چاہئے۔ بلکہ پاکستان کو پوری دنیا کے ساتھ مشترکہ فلم سازی کرنی چاہئے، امریکہ ‘ برطانیہ وغیرہ سب کے ساتھ کام کریں۔ فن اور فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہے۔