اشاعت کے باوقار 30 سال

ایمان کے سورج

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
تاریخ آدمیت کا جب ہم بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ورق ورق پر انسان ایک دوسرے سے الجھا نظر آتا ہے اپنے اقتدار شہرت اور بقا کے لیے دوسرے کو گاجر مولی کی طرح کاٹتا نظر آتا ہے۔ اپنی ذات کے تمام رشتوں کا تقدس پامال کرتا نظر آتا ہے۔ خو د کو برتر رکھنے کے لیے دوسروں کو اپنے پائوں تلے روندتا نظر آتا ہے خو د کو اشرف المخلو قات اور دوسرو ں کو کیڑے مکوڑے سمجھتا آیا ہے۔ خالقِ کائنات نے کرئہ ارض کو مثالی اور امن کا گہوارہ بنانے کے لیے ہر دور میں پیغمبروں نبیوں کو بھیجا اِن نفوس قدسیہ نے اپنے اپنے دور میں اپنے علم 'خدا کے پیغام ' ذات اورکردار نے گلشن حیات کی خوشبو اور مہک کو قائم دائم رکھا ہے۔ کیونکہ حضرت انسان فطری طو رپر بے چین بے صبرا اور جلد باز ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی انسان خدا اور اُس کے نبیوں کے مقام کو بھولتا چلا گیا۔

آخری نبی سرور کائنات ۖ کے بعد اب چونکہ خدا کا دین مکمل ہو چکا ہے اِس لیے اب رسولوں کی آمد بھی بند ہو چکی ہے۔ لیکن خالقِ کائنات نے کائنات کے حسن اور امن کو قائم رکھنے کے لیے ہر دور میںاپنے نیک بندوں کو کرہ ارض پر بھیجنے کا سلسلہ قائم رکھا مادیت پرستی میں غرق انسان مذہب اور اخلاقیات کو دفن کرتا چلا آرہا ہے لیکن اس متعفن معاشرے میں جہاں کہیں بھی ہمیں اہل حق، صوفیا ء کرام کا وجود نظر آتا ہے تو خدا کے وجود کا احساس شدت سے ہوتا ہے ہر دور کے مردہ بانجھ معاشرے میں یہی وہ طبقہ ہے جس نے کرہ ارض کے امن اور حسن کو قائم رکھا ہے۔

زمین کے مختلف خطوں کا عطر یہ لوگ خدا کا عطیہ خاص ہوتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو شہرت اقتدار اور خود پرستی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اِن اولیاء اللہ کو دیکھ کر عقل دانتوں میں انگلی لے لیتی ہے اور بوڑھا آسمان حیرت سے گنگ ہو جاتا ہے۔ رسالت کا سلسلہ ختم ہوا مگر کار رسالت جاری ہے اور روز قیامت تک جاری رہے گا۔ نیکی بدی کا ٹکرائو تو اُسی دن سے ہی شروع ہو گیا۔ جب ابلیس نے حضرت آدم کو خدا کے حکم کے باوجود سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور خالقِ کائنات کی یہ نا فرمانی اُس کی کروڑوں سال کی عبادت غرق کر گئی اور وہ راندہ درگاہ ٹھہرا پھر قافلہ شب و روز بڑھا حضرت آدم کی اولاد بڑھتی چلی گئی کیونکہ نیکی و شر انسان کے اندر رکھ دیا گیا ہے اِن سے کچھ تو صراطِ مستقیم پر چلے جبکہ کچھ ابلیس اور اُس کے چیلوں کے بچھائے ہوئے سنہرے جال میں الجھتے چلے گئے کیونکہ خالقِ کائنات رحیم کریم ہونے کے ساتھ ساتھ عادل بھی ہے اور ستر مائوں سے زیادہ شفیق بھی اور یہ بھی سچ ہے کہ خدا کی رحمت اُ س کے غضب پر حاوی رہتی ہے وہ رحیم کریم کس طرح یہ گوارہ کرتا کہ اُس کی مخلوق کو ملعون ابلیس اور اُس کے چیلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ اُس رحیم کریم رب کعبہ نے مادیت پرستی میں غرق بھٹکی انسانیت کے لیے ہر دور ہر خطے میں انبیاء بھیجے ۔

خدا کے پیغام کے علمبرداراِن نفوس قدسیہ نے بھٹکے ہوئوں کو خدا کی طرف بلا یا گمراہی کے تاریک غاروں سے ایمان کے نور کی طرف بلایا، وہ لوگ جنہوں نے اِن ایمانی چشموں سے اپنی روحوں اور باطن کے زنگوں کو دور کیا خود کو کثافت سے لطافت میں ڈھالا اِن انبیاء روحانی رہبروں کی آوازوں سے اپنی سماعتوں کو روشن کیا اِسطرح حضرت انسان کو اپنی بھولی ہوئی منزل یاد آجاتی پیغام حق کو اپنی ذات اور روحوں میں اتار کر بارگا ہ حق میں لوٹ آئے اور راہ نجات کی منزل کے مسافر بن گئے۔ خالق کائنات نے انسان اور کائنات کو تخلیق کرتے ہوئے اِس کو کھلا نہیں چھوڑ دیا بلکہ انسان کی تربیت اور تراش خراش کے لیے مردہ انسانیت کی بے جان رگوں میں جان ڈالنے کیلئے، جہالت گمراہی کے طوفانوں میں گرے انسانوں کو صراطِ مستقیم پر لانے کے لیے، انبیاء علیہم السلام خلفائے راشدین صحابہ کرا م کو بھیجا شمع رسالت کے یہ پروانے جو خاک نشین تھے جو دنیاوی عزت و دولت شہرت کو اپنی ٹھوکروں پر رکھتے تھے دلوں روحوں کو فتح کرنے والے یہ ایمان کے سورج جہاں بھی طلوع ہوئے وہاں پر اپنی ایمان افروز روشنی سے انسانوں کو اس کی اصل سے ہمکنار کر دیا تزکیہ نفس کے ذریعے انسان کے اندر تمام زہریلے مادے نکال کر انسان میں محبت کی خوشبو بھر دی پھر جو بھی تربیت یافتہ اِن لوگوں کے پاس بیٹھا وہ پھر انہی کا ہو کر رہ گیا ایمان کے سورج یہی وہ لوگ تھے جو حقیقی فاتحین زمانہ تھے جنہوں نے اپنے کردار کی روشنی اور محبت سے انسانوں کو اپنے گرد اکٹھا کیا انہوں نے لوگوں کو تلوار کے بل بوتے پر نہیں بلکہ حسن کردار سے جیتا ہے۔ ظلم و جبر کفر و جہالت کے تاریک اندھیروں میں بھٹکی ہوئی انسانیت کو ایمان کی روشنی سے منور کرنے والے بر بادی تباہی ذلت کے آہنی شکنجوں میں کسی ہوئی دست وپا انسانیت کو رہائی دینے والے آلودگی کے قفل کو اللہ ہو اور ضرب لا الہ سے توڑنے والے شمع ہدایت دکھانے والے غصہ تکبر غرور نفرت و تعصب کے زخموں سے نڈھال انسانیت کے مسیحاہی ایمان کے سورج ہیں یہی لوگ ایمان و کردار اور روشنی کے سفیر ہیں یہی لوگ سرور کو نین ۖ کے حقیقی جانشین اور اہل حق ہیں جن کے دم سے بزم حیات کا رنگ قائم و دائم ہے ۔

تعصب نفرت سے آزاد روشنی کے یہی سورج بلا امتیاز مذہب سب میں ایمان و کردار کا نور بانٹتے ہیں سب کو گلے سے لگاتے ہیں۔ یہ تیری میری کے چکر میں نہیں پڑتے کر ہ ارض پر موجود اربوں انسانوں میں سے یہی وہ مقدس لو گ ہیں جنہیں اولیا اللہ کہا جاتا ہے جو اِس کائنات میں صرف خالقِ کائنات کی ہی اطاعت کرتے ہیں یہ خو د کو اِس طرح الٰہی رنگ میں ڈھالتے ہیں اِس طرح اندر با ہر کا تضاد دور کر تے ہیں کہ پھر اِس سے صرف خدا کے نور کی ہی شعاعیں پھوٹتی ہیں اِن کو دیکھ کر خدا یاد آتا ہے اور پھر اللہ اِن سے محبت کرتا ہے خالق کائنات پھر منا دی کرا دیتا ہے اور کائنات کی مخفی قوتوں کو بتا دیتا ہے کہ یہ ہے میرا بند ہ اور میں اِس کا خدا یہ اپنے مالک کی ہر بات مانتے ہیں اور پھر کائنات کا پالنہار اِن کی کوئی درخواست رد نہیں کرتا یہی وہ ایمان کے سورج ہوتے ہیں جو خدا کے بر گزیدہ اشخاص اور مخلوق کے پسندیدہ افراد بن جاتے ہیں اہل حق یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی خواہش کو خالق کی مرضی سے ہم آہنگ کرچکے ہوتے ہیں جو بندگی کے مطلوب درجے پر براجمان ہوتے ہیں جن کا وجود لوگوں کے لیے باعث رحمت ہوتا ہے جنہیں دیکھ کر خدا یاد آجائے جن سے مل کر زندگی خو شگوار طور پر بدل جائے جن کے قرب میں چند لمحے گزارنے پر دنیا کی ہوس ختم اور دین کی طلب بڑھ جائے جن کی باتوں سے خوشبو اور نور کے جھر نے پھوٹتے ہوں جن کا کردار گردو پیش کے لیے خدا کی نعمت لگے جن سے مخلوق آرام پائے اور جو خوف خدا کا پیکر نظر آئیں یہی وہ لو گ ہیں جو خدا اور اُس کی مخلوق سے حقیقی پیار کر تے ہیں یہ دلوں کو جوڑنے والے ہوتے ہیں بادشاہ وقت اکثر اِن خاک نشینوں کے در پر دامن مراد پھیلا تے نظر آتے ہیں لیکن انہوں نے کبھی مڑ کر بھی قصر مرمر کی طرف نہیں دیکھا ولی وہ نہیں جسے لوگ ولی مانیں بلکہ ولی وہ ہوتا ہے جسے مالک کائنات اپنا دوست قرار دے بہت بڑے اہل حق با یزید بسطامی کہا کرتے تھے مرنے کے بعد جب قبر میں منکر نکیر پو چھیں گے کہ بتائو تمہارا خدا کون ہے تو میں صرف ایک بات کہوں گا کہ پہلے میرے خدا سے پو چھو کہ وہ مجھے اپنا بندہ قرار دیتا ہے کہ نہیں میرے ربی اللہ کہہ دینے سے تو کچھ نہیں ہوگا یہی ہیں وہ ایمان کے سورج جن کی روشنی سے قیامت تک لوگ ایمان کی روشنی پاتے رہیں گے ۔

Author: