اشاعت کے باوقار 30 سال

حضرت شاہ حسین لاہوری

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

برصغیر پاک و ہند کے کامیاب ترین مغلیہ حکمران اکبر اعظم کا دور حکومت اپنے عروج پر تھا اکبر اعظم کے دادا بابر نے ابراہیم لو دھی اور راجپوتوں کو شکست فاش دے کر جس مغلیہ سلطنت کی بنیا د رکھی تھی۔ وہ بابر اور ہمایوں کی شب و روز کو ششوں سے اب مضبوط تن اور درخت کا روپ دھار چکی تھی۔ ہمایوں کی جلدی موت پر اکبر انتہائی نو عمری میں ہندوستان کے تخت پر جلو ہ افروز ہوا اور پھر بہرام خان کی وفا دارانہ کو ششوں اور اپنے مقدر کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ مغلیہ سلطنت مضبوط سے مضبوط ہوتی چلی گئی۔

ملک کے دور دراز علاقوں میں ہونے والی سازشوں کا قلع قمع کامیابی سے کیا جا چکا تھا۔ اب اکبر اپنی حکمرانی کو خوب انجوائے کر رہا تھا اس کے ساتھ ساتھ اکبر نے ملک کے طول و عرض میں جاسوسوں کا جال بچھا رکھا تھا جو دن رات عام لوگوں پر نظر رکھتے اِن جاسوسوں کو جہاں کہیں بھی بغاوت کی بو نظر آتی یہ فوری طو رپر اِیسی خبر اکبر بادشاہ تک پہنچاتے۔ ایک دن جلال الدین اکبر تخت شاہی پر بیٹھا تھا کہ شاہی جاسوسوں نے آکر یہ خبر دی کہ لاہور میں ایک شخص تیزی سے عوام و خواص میں مضبوط ہو رہا ہے یہ خود کو درویش کہتا ہے لیکن یہ عام درویشوں کی بجائے اور ہی قسم کی سر گرمیوں میں ملوث ہے۔ اُس کی حرکتیں عوام میں گمراہی پھیلا رہی ہیں اکبر نے فوری طور پر اِس کی خبر گیری اور پکڑنے کا حکم جاری کیا اِسی دوران جاسوسوں نے یہ خبر دی کہ اِس درویش نے داڑھی منڈھوا دی ہے لال لباس پہنتا ہے دن رات شراب کے نشے میں دھت نوجوان لڑکوں کے ساتھ سر عام رقص کرتا ہے بادشاہ کا تجسس اور بھی تیز ہو گیا۔

لاہور کے کوتوال ملک علی کے نام فرمان جاری کر دیا کہ فوری طور پر اِس نام نہاد درویش کو پایہ زنجیر کر کے آگرہ بھیجا جائے جو اُن دِنوں میں ہندوستان کا دارالخلافہ تھا شاہی حکم کے جا ری ہو تے ہیں کو توال شہر درویش کی تلاش میں اپنے ہر کا روں کے ساتھ نکل پڑا کوتوال نے شہر کے کونے کونے میں اپنے جاسوس پھیلا دیتے لیکن دن رات کوششوں کے باوجود درویش کوتوال کے ہتھے نہ چڑھ سکا۔ کوتوال کو جیسے ہی اُس کا کوئی جاسوس خبر دیتا کہ مذکورہ درویش اپنے ہمراہیوں کے ساتھ دیوانہ وار مست رقص میں مبتلا ہے تو برق رفتاری سے اُس جگہ پہنچتا لیکن اُس کے جاتے ہی درویش پراسرار طو ر پر اُس جگہ سے غائب ہو جاتا۔ اب اُس جگہ شاہی جاسوس اور عام راہگیر تو ہوتے جو بار بار کہتے کہ وہ درویش اپنے دوستوں کے ساتھ ابھی یہاں تھا لیکن پتہ نہیں اب کدھر غائب ہو گیا ہے۔

کوتوال بہت غضب ناک ہوتا جاسوس قسمیں کھاتے کہ تھو ڑی دیر پہلے وہ درویش یہیں تھا ایسا کئی بار ہو چکا تھا جب جاسوسوں نے درویش کی کسی علاقے میں موجودگی کی اطلاع دی لیکن جیسے ہی کوتوال اُس علاقے میں پہنچتا تو درویش اس طرح غائب ہو جاتا جیسے کبھی وہاں تھا ہی نہیں۔ بارہا کوششوں کی ناکامی سے وہ جھنجلاہٹ اور مایوسی کا شکار ہو گیا اور آخر کار تنگ آکر شہنشاہ اکبر کو خط لکھا کہ شہنشاہ ِ معظم یہ خادم اُس درویش کو تلاش کر کر کے تھک چکا ہے اور میری رائے میں وہ درویش نہیں بلکہ کوئی شعبدہ باز یا جا دوگر ہے جو کسی جگہ نظر آتا ہے اور پھر غائب ہو جاتا ہے۔ اکبر نے خط پڑھا تو اور بھی حیرت میں ڈوب گیا۔ فوری فرمان جاری کیا کہ اگر وہ شخص جادوگر ہے تو اِس کی گرفتاری پہلے سے بھی ضروری ہو گئی ہے۔

کوتوال شہر نے اپنی کوششوں اور جاسوسوں کی تعداد میں اور بھی اضافہ کر دیا لیکن ناکامی پر ناکامی اُس کا مقدر ہی جا رہی تھی اور پھر اُس درویش نے خو د ہی کوتوال کا کام آسان کر دیا ایک دن کو توال اپنے کارندوں کے ساتھ برق رفتاری اُس جگہ کی طرف روانہ ہوا جہاں پر کسی باغی کو پھانسی کی سزا دی جانے والی تھی بادشاہ کی طرف یہ حکم بھی جاری تھا کہ پھانسی پانے سے پہلے مجرم کے منہ سے جو بھی الفاظ نکلیں اُن کو ضبط تحریر لایا جائے۔ کوتوال اُس علاقے میں پہنچا تو جاسوس نے بتایا کہ فلاں لمبے بالوں والا نوجوان دراز قد خوبرو شخص درویش ہے جس کی آپ کو تلاش ہے سپاہیوں نے جا کر درویش کو جکڑ لیا تو کوتوال نے حقارت سے کہا اب اپنی جادوگری دکھائو۔

درویش دلنواز تبسم سے مسکرایا اور بولا میں نے اپنے آپ کو خود گرفتار کرایا ہے اور یہ قدرت کا ایک راز ہے پھر درویش کو زنجیریں پہنا دی گئیں۔ اور پھر اہل لاہور نے عجیب منظر دیکھا کہ زنجیریں خود بخود ٹوٹ کر زمین پر گری پڑی تھیں۔ درویش مسکراتی نظروں سے کوتوال کی طرف دیکھا جس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی پڑی تھیں۔ کوتوال کے حکم پر درویش کو دوبارہ زنجیریں پہنائی گئیں لیکن ان کا بھی پہلے جیسا ہی حشر ہوا جیسے کسی غیر مرئی قوت نے زنجیر کو درویش کے جسم الگ کر دیا ہو۔ لوگ حیرت کے مجسمے بنے اس عجیب و غریب کھیل کو دیکھ رہے تھے جیسے اُن کے سامنے کوئی بہت بڑا جادوگر اپنے کمال فن کا مظاہرہ کر رہا ہو۔ جب کوتوال کے سپاہی بار بار ناکام ہو رہے تھے تو اُن کے چہروں پر خوف کے واضح اثرات نظر آنے شرو ع ہو گئے تو درویش نے نعرہ مستانہ با آواز بلند کیا اور کہا جب تک میں خود زنجیریں نہیں پہنوں گا اُس وقت تک مجھے کوئی زنجیریں نہیں پہنا سکتا۔

کوتوال خود کو عرق ندامت اور ذلت میں ڈوبا محسوس کر رہا تھا اُس سے اپنی ذلت برداشت نہیں ہو رہی تھی وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ میں تمہاری یہ جادوگری ختم کر کے دم لوں گا۔ اُس کی یہ حالت دیکھ کر درویش بولا آخر تم مجھے کس جرم میں گرفتار کرنا چاہتے ہو میں نے کسی شہری کو تنگ نہیں کیا حکومت کے خلاف بغاوت نہیں کی میرا قصور کیا ہے۔ 'تو غیر شرعی حرکات کرتا ہے کوتوال بولا تو درویش نے تبسم آمیز لہجے میں جوا ب دیا ہندوستان میں غیر شرعی حرکا ت تو ہزاروں لوگ کرتے ہیں تم اُن کو گرفتار کیوں نہیں کرتے 'کو توال غصے سے بولا تم سر عام شراب پیتے ہو اور رقص ناچ گانا کرتے ہو۔ درویش پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا کیا تم اور دوسرے امرائے سلطنت چھپ کر شراب نہیں پیتے۔ میں تو شراب خود پیتا ہوں خود ناچتا ہوں تم شریف عورتوں کو نچاتے ہو 'بند کمروں میں شراب ناچ گانا کرتے ہو تمہارا بادشاہ چھپ کر شراب اور ناچ گانا کرنے والوں کو گرفتار کیوں نہیں کرتا کو توال کو اور بہانہ مل گیا اچھا تم تو حکومت کے خلاف خیالات بھی رکھتے ہو۔ اب میں تمہیں اِس جرم میں گرفتار کروں گا۔ کوتوال کی بار بار کوششیں جب ناکام ہو گئیں تو درویش مسکرایا اور بولا چلو ایک نئے تماشے کے لیے ہم خود ہی زنجیریں پہن لیتے ہیں اب کو توال قہر آلودہ لہجے میں مخاطب ہو ا اگر اب کی بار تم نے زنجیریں توڑیں تو میں تیرے پائوں میں آہنی میخیں ٹھونک دوں گا۔

کوتوال کی بات سن کر درویش گہرے لہجے میں بولا ہماری آنکھیں تو کچھ اور ہی منظر دیکھ رہی ہیں کہ ہماری زنجیریں پھولوں کے ہار ہیں اور تمہارے چہرے پر ہمیں میخیں ٹھونکی ہوئی نظر آرہی ہیں کوتوال غصے سے پاگل ہو گیا۔ درویش کو قید خانے کی طرف روانہ کر دیا اور پھانسی پانے والے باغی کی طرف متوجہ ہوا باغی کے دل میں بادشاہ کے خلاف شدید نفرت تھی اُس نے پھانسی سے پہلے بادشاہ کو خوب گالیاں دیں اور پھر شاہی فرمان کے جواب میں کوتوال نے بادشاہ کی خط لکھا کہ باغی نے پھانسی سے پہلے ہزاروں انسانوں کے سامنے شہنشاہ کی شان میں گالیاں دی ہیں اور پھر جب یہ خط اکبر بادشاہ کے سامنے پڑھا گیا تو گالیاں سن کر شدت غصب سے بھڑکنے لگا اور کہا اِس مردود کو توال کو شرم نہیں آتی ایسے الفاظ لکھتے ہوئے فوری طور پر اپنے خاص بندے کو لاہور کا کوتوال مقرر کیا اور فرمان جاری کیا اِس بدتمیز کوتوال کو سر عام عوام کے سامنے سر میں اتنی زیادہ میخیں ٹھونکی جائیں کہ تڑپ تڑپ کر جان دے دے تاکہ آئندہ کوئی ایسی گستاخی کا سوچ بھی نہ سکے اور پھر جب کوتوال کے سر میں آہنی میخیں ٹھونکی جا رہی تھیں تو اہل لاہور کو وہ درویش بار بار یاد آرہا تھا جس نے قید خانے میں جانے سے پہلے کوتوال کو کہا تھا کہ مجھے تو ایک منظر اور بھی دکھائی دے رہا ہے کہ کچھ غیر مرئی ہاتھ تمہارے سر میں میخیں ٹھونک رہے ہیں۔

محترم قارئین اِس درویش کا نام حضرت شیخ حسین لاہوری تھا۔ جسے دنیا شاہ حسین لال حسین مادھو لال حسین کے نام سے جانتی ہے جو سلسلہ قادریہ کے آسمان تصوف کے مشہور و معروف ستارے ہیں۔ جن کی روشنی سے ہزاروں اندھی روحوں نے روشنی حاصل کی ۔

Author: