اشاعت کے باوقار 30 سال

شکریہ مسٹر مودی

میں بقائمی ہوش و حواس خمسہ یہ بات کہ رہا ہوں کہ مسٹر مودی پاکستان کے محسن ہیں۔ اُنہوں نے نئی نسل پر ایک ایسا احسان کیا ہے کہ جس کا مداوا ممکن نہیں ہے۔ میں یہ کیوں کہ رہا ہوں؟ اُس کی ایک وجہ ہے۔ اُن کی مسلم دشمنی نے پاکستانی نوجوانوں کویہ باور کروا دیا ہے کہ دو قومی نظریہ حقیقت میں کیا تھااور آج اُس کی کیا اہمیت ہے۔ بھارتی مسلمانوں کی حالت زار تو پہلے بھی ایسی ہی تھی تاہم سوشل میڈیا کے آ جانے کے بعد یہ ممکن ہو اہے کہ کسی کونے کی ایک چیخ کو منجمند پہاڑوں کے بھی اُس پار پہنچایا جا سکے اور بھارت تو یہ ساتھ ہی ہے۔ لبرل اور سیکولر خیال کئے جانے والے دانشور بھی اپنی شلوار کو تھامے آج موخر انگریزی جرائد میں یہ لکھنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ بھارت کا سیکولر تشخص مودی کے آنے کے بعد شدید خطرے میں تھا اور ابھی حالیہ اقدامات اور یوپی میں بی جے پی کی اکثریت کے ساتھ فتح نے بھارتی سیکولر ازم کو تقریباً مسخ کر دیا ہے۔ یہ دانشور اصل میں یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ بھارت میں مسٹر مودی کے اقدامات کی وجہ سے ہماری پاکستان میں دکانداری کو شدید خطرہ ہے اور مغربی ارباب اختیار ہماری رکھوالی کریں یا ں کم از کم ہمیں چورن بیچنے کیلئے کوئی اور مارکیٹنگ لائن ہی دیں کیونکہ جس مارکیٹنگ لائن کے ساتھ ہم اپنا چورن بیچتے تھے، وہ تو مسٹر مودی نے شدید متاثر کر دی ہے ۔
بھارت مسٹر مودی کے آنے سے پہلے ڈھکا چھپا تھا تاہم انہوں نے آکر تمام تر خوش فہمیاں ختم کر دی ہیں۔یہاں کی سیکولر لابی بھاگ بھاگ کر ہمیں بھارت کی مثالیں دیتی تھی تاہم مسٹر مودی نے اقتدار میں آ کر نہ صرف اُن کی خوش فہمیوں کو ختم کیا ہے بلکہ اُن کو لاجواب کر کے اُن کا بیانیہ بھی تبدیل کر دیا ہے ۔ پہلے اِس لابی کا ایک بیانیہ تھا کہ اسلامی انتہا پسندی ملک کے کیلئے خطرہ اور زہر قاتل ہے اور ہمیں بھارت سے سبق لینا چاہئے کہ وہ اور ہم ایک ہی دن آزاد ہوئے اور وہ کہاں اور ہم کہاں؟ اب مسٹر مودی نے اس بیانئے کو یکسر تبدیل کر وا دیا ہے ۔ اب وہ کہتے ہیں کہ مذہبی انتہا پسندی ایک خطر ہ ہے ، کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں مذہبی انتہا پسند نے بھارت کو کیسے غیر محفوظ کر دیا ہے؟ صدقے جاؤں۔۔۔ اچھا اب یہ لابی کس ملک کی مثال دے گی؟ امریکہ کی جہاں ٹرمپ ہے؟ ترکی کی جہاںطیب اردگان کے اسلام پسند اقداما ت سے مغرب کی نیندیں اُڑی ہوئی ہیں؟ بھارت کی مثال تو وہ ویسے ہی نہیں دیں گے کیونکہ پاکستان میں اُن کا یہ چورن اب بکنا نہیں۔ چلیں،وقت پر چھوڑتے ہیں کہ وہ کیا مثال دیں گے اور ہم کیا جواب دیں گے۔
مسٹر مودی کے آ جانے کے بعد بھارت میں انتہا پسند ہندوں نے عملی طور پر قبضہ جما لیا ہے اور فسطائیت اپنی پوری قوت سے وہاں پر موجود اقلیتوں کیلئے مسئلہ بن ر ہی ہے۔ پاکستان کے ساتھ دشمنی تو شاید تاریخی عروج پر ہے۔ کشمیر میں پیلٹ گن کے استعمال سے ہزاروں نابینا ہو جانے والے اور حق خود ارادیت کے مطالبے کی پاداش میں شہید کر دیے جانے والوں کی داستان تو ایک عالم نے سنی اور آج بھی سن رہا ہے ۔ پھر وہاں پر گائے کا گوشت کھانے والوں کو جیسے درندگی سے شہید کیا گیا، کرکٹ میچ میں پاکستان کے حق میں نعرے لگانے والوں کو جیسے مارا گیا، مسلمانوں کے بیچ چوڑاہے میں سر مونڈتے ہوئے ’ہندوستان میں رہنا ہوا ، بندے ماترم کہنا ہوگا‘ گایا گیا، بھینس کا گوشت کھانے والوں کو بھی قتل کیا گیا۔ ان واقعات نے جہاں پوری دنیا میں سوالات کو جنم دیا ہے وہیں پاکستان میں بھی سوالات جنم ہو ئے ہیں اور اِن میں سے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ’’دو قومی نظریہ ‘‘ بالکل ٹھیک تھا۔ یہی مسٹر مودی کا سب سے بڑا احسان ہے کہ اُنہوں نے پاکستان کے کنفیوژ نوجوان کی کنفیوژن کو ختم کر دیا اور اُن کو یہ باور کروایا کہ برصغیر کی تقسیم ایک زمین کے ٹکڑے کیلئے نہیں تھی ، یہ دوقومی نظریے کی بنیاد پر ہوئی تھی ۔ جو کہتے تھے کہ اس اکیسوی صدی میں دو قومی نظریہ ختم ہوچکا ہے ‘ وہ اب کیا کہیں گے؟
حال ہی میں بھارت میں یوپی میں انتخابات ہوئے اور وہاں جس درندے کو بطور وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا ہے وہ انسان کے رو پ میں ایک مکمل حیوان ہے۔ یہ وہی ہے جس نے 2007ء میں مسٹر مودی کا گجرات میں مسلم کش فسادات میں مکمل ساتھ دیا تھا۔ بابری مسجد کی شہادت سے لیکر گجرات میں مسلم کُش فسادات تک کی ساری کہانیوں میں اس نومنتخب وزیر اعلیٰ کا نام آتاہے جس کا نام یوگی ادیتیا ناتھ ہے۔ یوگی نے 2007ء میں یہ بھی کہا تھا کہ ایک ہندو کے قتل کا بدلہ سو مسلمانوں کو قتل کر کے لو، ایک ہندو کے اسلام قبول کرنے پر سو مسلمان لڑکیوں سے زبردستی شادیاں کرو۔ یہ کیا ہے؟ یہ اکیسوی صدی کی غلامی ہے۔ یہ وہ باتیں اور حرکتیں ہیں جن کی وجہ سے بیسوی صدی میں دو قومی نظریہ وجود میں آیا، لاکھوں شہادتیں ہوئی اور پاکستان وجود میں آیا۔
شاید دوقومی نظریہ اِس نئی پود کے ذہن کے بالکل ہی محو ہو جاتا لیکن اللہ نے مسٹر مودی کی شکل میں پاکستان پر احسان کیا ہے۔مسٹر مودی‘ آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اس نئی نسل کے ذہن سے گرد صاف کی ہے۔ مسٹر مودی اگر آپ اپنی کمینگی اور اوقات نہ دکھاتے تو یہ نسل میں گو مگو کا شکا ر رہتی اور دو قومی نظریہ پر ابہام اور کنفیوژ ہوتی اور فلموں میں دکھائے جانے بھارت کو ہی اصل سمجھتی رہتی، لیکن آپ کا احسان ہے کہ آپ نے نوجوان نسل کو بھارت کا اصل چہرہ دکھا کر پاکستان کی قدر سکھا دی ہے ۔ شکریہ مسٹر مودی۔۔۔!