اشاعت کے باوقار 30 سال

صارفین کا عالمی دن

صارفین کے حقوق کا عالمی دن
ہم میں سے ہر ایک صارف ہے ۔ صارف سے مراد خریدار ہے ۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا اقتصادی گروپ ہے ۔ لیکن ہر سطح پر اس کا استحصال کیا جا رہا ہے ۔ عموماً اس گروپ کی بات کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی ۔ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے دنیا بھر میں صارفین کے حقوق کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے ۔ اس دن کی ابتدا کنزیومرز انٹرنیشنلCI ) ( نامی تنظیم نے کی ۔ یہ غیر سرکاری تنظیم یکم اپریل 1960 کو وجود میں آئی ۔ اس کا صدر دفتر لندن میں ہے ۔ اب تک 115 ممالک سے 220 تنظیمیں اس کی ممبر بن چکی ہیں ، جن میں سے دو تہائی ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتی ہیں ۔ امریکہ کے 35 ویں صدر جان ایف کینیڈی نے 15 مارچ 1962 میں کانگریس سے اپنے خطاب کے دوران صارفین کے حقوق کے تحفظ کا معاملہ اٹھایا تھا ۔ یہ امریکہ کا پہلا لیڈر تھا جس نے اس مسئلے کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائی ۔ 15 مارچ 1983 سے دنیا بھر کی صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیئے کام کرنے والی تنظیموں نے اس دن کو ‘‘ عالمی دن ’’ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ۔ اب ہر سال 15 مارچ ‘‘صارفین کے حقوق کا عالمی دن ’’ کے طور پر اقوام متحدہ کے تحت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے ۔ اس دن ہر سطح پر صارفین کو ان کے حقوق سے آ گاہی دی جاتی ہے ۔ اقوام متحدہ نے صارفین کے لئے درج ذیل آٹھ حقوق متعین کیے ہیں ۔
1۔بنیادی ضروریات پر مطمئن ہونے کا حق
2۔ تحفظ کا حق
3۔ معلومات کا حق
4 ۔ انتخاب کا حق
5 ۔ سنے جانے کا حق
6 ۔واپسی کا حق
7 ۔صارف کی تعلیم کا حق
8 ۔ صحت مندانہ ماحول کا حق
پاکستان میں صارف ہی اپنے آپ کے بڑے دشمن ہیں ۔صارفین کا عالمی دن بھی پاکستان میں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا ۔ یہاں کا صارف عمومی طور پر اپنے حقوق حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھاتا ۔ حقوق حاصل کرنا تو دور کی بات ہے اسے اپنے حقوق سے آگاہی تک نہیں ہے ۔حالانکہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی صارفین کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں ۔ پاکستان کی قومی اسمبلی سے 1995ء میں اور پنجاب اسمبلی سے 2004 ءمیں قوانین منظور ہوئے جن میں صارفین کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے ۔ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت صوبہ پنجاب میں 11 اضلاع بہاولپور ، ڈیرہ غازی خان ، فیصل آباد ، گجرات ، گوجرانوالہ ، لاہور ، ملتان ، راولپنڈی ، ساہیوال ، سرگودھا اور سیالکوٹ میں صارف عدالتیں( consumer courts ) قائم ہیں جن میں کیس داخل کرنے کی کوئی فیس نہیں لی جاتی اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کسی وکیل کی خدمات حاصل کرنا ضروری ہیں ۔ اگر غیر معیاری ، زائد المیعاد اور جعلی مصنوعات فراہم کی جا رہی ہوں ، ریٹ لسٹ آویزاں نہ کی گئی ہو ،اشیا ء کی پیکنگ پر اجزائے ترکیبی ، میعاد اور تاریخ تیاری درج نہ ہو ، خریداری پر رسید فراہم نہ کی گئی ہو تو ڈسٹرکٹ کنزیومر کورٹ میں کوائف کے ہمراہ سادہ کاغذ پر درخواست جمع کرائی جا سکتی ہے ۔ جرم ثابت ہونے پر عدالت بھاری جرمانہ عائد کر سکتی ہے ۔ دیگر صوبوں میں بھی قوانین اور ادارے موجود ہیں ۔ غیر سرکاری تنظیموں میں ‘‘ (TCEP ) ’’ اور ‘‘) (CVP ’’ بھی فعال ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود بھی صارفین کو اپنے حقوق تک سے آ گاہی نہیں ہے۔ اسلام نے آج سے صدیوں پہلے قرآن مجید کی سینکڑوں آیات اور ہزاروں احادیث شریفہ کے ذریعےصارفین کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو صارفین کے حقوق سے مکمل آ گاہی دی جائے ۔ صارفین کے حقوق کو حقیقی طورپر تحفظ دیا جائے ۔ ملک کے تمام علاقوں میں صارف عدالتیں قائم کی جائیں ۔ ان عدالتوں کے بارے میں لوگوں کو آ گاہی بھی دی جائے ، تا کہ صارفین کو حقیقی سہولیات اور حقوق مہیا ہو سکیں ۔
ڈاکٹر منور حسین عاجز
ایم ۔ اے (سیاسیات ) ، ایم فل ( عربی )