اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

میری بیٹی، مثالی بیٹی، میری بیٹی، سب کی بیٹی

تحریر: اقبال شاہد
پوری دنیا میں جگہ جگہ بین الاقوامی سطح پر خواتین سے منسوب کئی عالمی دن منائے جاتے ہیں، اور دائیں بائیں بازو کے متشددین اپنے اپنے موقف کے اثبات اور دوسروں کو زیر کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف یہ بحث زبان زد عام ہوتی ہے کہ یہ این جی اوزوالی خواتین ان ایام کی آڑ میں مادر پدر آزادی کی تمنائیں دل میں لے کر اور بڑ ے بڑ ے ہوٹلوں میں بیٹھ کر حقوق نسواں کی باتیں کرتی ہیں، انھیں کیا پتہ کہ پسماندہ خواتین کن مشکلات کا شکار ہیں، اور ہمارے لیے تو ہر دن خواتین کا دن ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اور دوسری طرف بڑ ے بڑ ے ہوٹلوں میں نیم عریاں، آستینیں چڑھائے محترمات مردوں کے مظالم، خواتین کی مشکلات اور دین اسلام کے مبینہ ٹھیکیداروں کے رویوں پہ سیخ پا ہو کر دین اسلام کو خواتین کی ترقی میں رکاوٹ ثابت کر رہی ہوتی ہیں۔ یہ سلسلہ اختلاف مختلف ایام اور تہواروں کی صورت میں چلتا رہتا ہے۔

دراصل یہ سمجھنے اور سمجھانے پر منحصر ہے کہ ان دنوں کو منانے کا مقصد کیا ہے؟ پس پردہ کیا ہے؟ کیا خواتین کے حقوق کی بات کرنا غیر شرعی ہے؟ یا پھر یہ اختلاف بڑے بڑے ہوٹلوں میں تقریر کرنے والی این جی اوز سے وابستہ خواتین سے ہے۔اختلاف معاشرے کا حسن ضرور ہے مگر اس کا قطعا یہ مقصد نہیں کہ ہم مسئلے کو چھوڑ کر جزئیات میں پڑ جائیں، اگر مسجد و منبر کا صحیح اور بروقت استعمال ہو تو شاید کسی کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کی ضرورت نہ پڑے بلکہ خواتین ہی اگر آگاہ ہوں تو وہ شاید ایسے کام ہی نہ کریں جس کو خاندان کے مرد ناپسند کرکے اتنا سخت اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قانون سازی میں رکاوٹ کون ہے؟ بقول ڈاکٹر فوزیہ سعید کے حقوق نسواں بل مملکت خداداد میں پاس کرنے میں صرف اور صرف 22 سال (2010-1988) لگے ہیں مگر خوش آئند اور انوکھی بات یہ ہے کہ بل پاس ہونے میں کوئی ملا، مولانا یا مولوی رکاوٹ نہیں تھے بلکہ اسٹیبلشمنٹ تھی۔

1908 میں نیویارک شہر میں واقع کپڑے کے کارخانے کے اندر پہلی دفعہ خواتین نے اپنی تنخواہ بڑھانے اور کام کا دورانیہ کم کرنے کے لیے احتجاج کیا اور ٹھیک اسی دن 1909 میں ان کی تعظیم و احترام میں پہلا خواتین کا دن منایا گیا، اسی طرح پہلی جنگ عظیم کے دوران روسی خواتین نے امن کے نام پر اور بعد ازاں 1975 میں اقوام متحدہ کی طرف سے 8 مارچ کا دن مخصوص کر کے خواتین کا دن منایا گیا، تاکہ ہر سال اس دن آگاہی و بیداری کے ذر یعے خواتین کے ساتھ روا رکھا جانے والا غیر منصفانہ رویہ، صنفی امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جا سکے، ان کو کمزور و کمتر اور پاؤں کی جوتی سمجھنے والوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت و احترام کا جذبہ بیدار کیا جا سکے، ان کو باعزت روزگار کے مواقع اور اختیار حاصل ہو اور وہ مردوں کے شانہ بشانہ کھڑ ے ہوکر معاشرے کی اصلاح اور ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں، مرد گھر سے نکلنے والی ہر خاتون کو اپنی ملکیت نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھائیں۔

ہمیں بعض لوگوں کے انداز زندگی اور منفی پیغام سے اختلاف ضرور ہوسکتا ہے مگر کچھ اچھے پہلو بھی ہیں۔بس فرق یہ ہے کہ ہم جیسے پیدائشی مسلمان وراثت میں ملنے والی پیغمبر کائنات کی تعلیمات کی روشنی میں ہر دن کو خواتین کے دن کے طور پر مناتے ہیں جبکہ یہ لوگ 1400 سال بعد جاگ اٹھے ہیں، سو آئیں ان کے ساتھ مل کر خواتین کے ساتھ کی جانے والی ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھائیں، یہ مسائل صرف امریکا اور روس میں نہیں ہمارے اپنے ملک کے اندر بھی ہیں،کوئی جاننا چاہتا ہے تو صرف اندرون سندھ میں خواتین اور مردوں کو دیے جانے والی معاوضے میں فرق کا موازنہ کر لے، خیبر پختونخوا میں گھروں میں ٹوپیاں بنانے والی خواتین کو دی جانے والی اجرت (اگر ملتی ہو تو) کا کے بارے میں معلوم کریں، باقی ملک چھوڑیں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گھر گھر ذلیل ہونے والی خواتین کو دیے جانے والے معاوضے کے بارے میں معلوم کریں، پورا مہینہ برتن دھونے کے ہزار روپے، کپڑے دھونے کے 1200 اور کام کا دورانیہ دیکھیں۔صرف یہی نہیں اس کے علاوہ گھر کے کام، بچوں کو سنبھالنا، رشتہ داریاں نبھانا اور روز روز کی بک بک، کیا کوئی اپنی بچیوں کے لیے یہ پسند کرے گا، کبھی نہیں، حتی کہ آج کل تو سسرال والوں سے بھی لوگ طے کر کے آتے ہیں کہ بہن جی! آپ کو پتہ تو ہے ہی، ہماری بچی بڑی لاڈلی ہے، امید ہیں باقی آپ سمجھ گئے ہوں گے۔

اختلافات کے بجائے مل کر مسائل کا حل نکالنا ہوگا، عورت کا حق تسلیم کرنا ہوگا، اس کو باعزت روزگار کا ماحول دینا ہوگا، اسے جینے کا اتنا حق ضرور دینا ہوگا جہاں وہ خودکشی پر مجبور نہ ہو، جہاں روزگار کے نام پر اپنی عزتوں کا سودا کرنے والی نہ ہو بلکہ مرد کی عدم موجودگی میں مرد بنے اور معاشرے کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ خواتین کے بارے میں رکھے جانے والے رویوں کو تبدیل کرنا ہوگا، اس کے حصہ داری و شراکت داری کو تسلیم کرنا ہوگا چاہے وہ نوکری کر کے کریں یا گھروں میں بیٹھ کر اپنے بچوں کی تربیت کریں، ہمیں انھیں پڑھانے کے ساتھ ساتھ تربیت دینی ہوگی، مستقبل ان کا ہے، وقت گزرتے دیر نہیں لگتی اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب اپنی گڑیا جوان ہوگئی۔

میری گڑیا چھوٹی سی گڑیا
بچپن بیتا ،اور
سب بدل گیا
اب تم
صرف بیٹی ہی نہیں
بیوی بھی ہو اور ماں بھی!
بچے تیار کرنے ہوں یا گھر سنبھالنا ہو
تم ہی تو کرتی ہو
اور تم
آفس بھی جاتی ہو
فلاحی کام کرتی ہو
سبھی کے کام آتی ہو
اور تم
سب کو بیدار کرتی ہو
شعور دیتی ہو، با اختیار کرتی ہو
سبھی کے ساتھ چلتی ہو
اور تم
گھر گھر جاتی ہو
اک ہی پیغام دیتی ہو
کرو سب حوصلہ پیدا
مقابلہ وقت سے کرنا ہے
ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے
اور تم
مواقع روزگار کے دیتی ہو
پانی دیتی ہو، گھر بار دیتی ہو
صحت و تعلیم پر آگاہی دیتی ہو
مہارتوں کی تم تعلیم دیتی ہو

عزت ہو، فخر ہو، اقبال ہو تم
جراتمندی کی اعلی مثال ہو تم

میری بیٹی، مثالی بیٹی، میری بیٹی،سب کی بیٹی

نوٹ : ادارہ کا کسی بھی لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Author: