اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

لڑے بغیر ہتھیار ڈال دئے

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ میں 2017ء کا آغاز

جنوری 2017ء میںپاکستان کے پراپرٹی سیکٹر کے حوالے سے منفرد رحجانات دیکھنے میں آئے ۔سال نو کا آغاز ملے جلے طریقے سے ہوا تھاجس میں پاکستان کے سب سے بڑے پراپرٹی پورٹل زمین ڈاٹ کام کے پرائس ڈیٹا نے یہ ظاہر کیا کہ کہیں قیمتوں میں کمی ہوئی ہے اور دوسری جانب کہیں اُن میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے ۔مارکیٹ کی صورتحال جہاں مستحکم تھی تو کہیں وہ جمود کا شکار بھی ہوئی اور کہیں اتار چڑھاؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔لاہور کی مارکیٹ مجموعی طور پر مستحکم تھی تاہم کچھ مقامات کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔ کراچی کی مارکیٹ میں اضافہ جبکہ اسلام آباد کی مارکیٹ بھی کمی ریکارڈ کی گئی تو وہیں گوجرانوالہ کی مارکیٹ کے اکثر حصوں میں استحکام دیکھنے میں بھی آیا۔
لاہور :
لاہور کی پراپرٹی مارکیٹ میں سالِ نو کے آغاز میں کہیں بھی بہت زیادہ اضافہ رپورٹ نہیں ہوا ۔ معروف مقامات جیسے کہ ڈی ایچ اے فیز ایک سے چھ اور واپڈا ٹاؤن میں پراپرٹی کی قیمتوں میں استحکام دیکھنے میں آیا۔ ڈی ایچ اے فیز سات تا نو میں قیمتوں میں کچھ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ بحریہ ٹاؤن لاہور میں بھی قیمتیں مستحکم تھیں۔ ایل ڈی اے ایونیو میں قانونی مسائل کے باوجود یہاں کی پراپرٹی کی قیمتوںمیں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بحریہ آرچرڈز میں سرمایہ کاروں کی خاصی دلچسپی دیکھنے میں آئی جہاں پر دس مرلہ کے پلاٹ کی قیمتوںمیں 1.38فیصد اور ایک کنال کے پلاٹ کی قیمتوں میں 1.82فیصد کا اضافہ ہوا ۔ماہرینکے مطابق لاہور میں ان مقامات پر آنے والے ایام میں قیمتوں میں اسی قسم کے رحجانات مشاہدہ کئے جائیں گے۔
اسلام آباد :
اسلام آباد کی پراپرٹی مارکیٹ میں متاثر کن کارکردگی دیکھنے میں نہیں آئی اور بہت سے مقامات ابھی بھی گزشتہ سال کے ٹیکس نفاذ کے زیر اثر ہیںتاہم بحریہ ٹاؤن اور گلبر گ ریذیڈنشیاء اس سے مبرا ہیں۔بحریہ ٹاؤن اسلام آباد میں ایک کنال کے پلاٹس کی قیمتوں میں 4.95فیصد جبکہ دس مرلہ کے پلاٹس کی قیمتوں میں 6.10فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔اسی طرح سے گلبرگ ریذیڈنشیا میں بھی ایک کنال کے پلاٹس کی قیمتیں 4.82فیصد بڑھی جبکہ یہاں پر دس مرلہ کے پلاٹس کی قیمتوں میں 6.08فیصد کا اضافہ ہوا ۔
سیکٹر ایف الیون، ڈی ایچ اے اسلام آباد، سیکٹر ای الیون اور سیکٹر بی سیون ٹین میں دس مرلہ کے پلاٹس کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ۔ ڈی ایچ اے اسلام آباد او ر سیکٹر ای الیون میں ایک کنال کے پلاٹس کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ سیکٹر بی سیون ٹین اور سیکٹر ایف الیون میں ایک کنال کے پلاٹس کی قیمتیں مستحکم تھیں۔
کراچی :
کراچی میں اس سال کا آغاز شاندار تھا۔ ڈیفنس سٹی کراچی اور بحریہ ٹاؤن میں پانچ سو مربع گز اور اڑھائی سو مربع گز کے پلاٹس کی قیمتوں میں شاندار اضافہ دیکھنے میں آیااور یہاں پر پلاٹس کی خرید و فروخت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گلشن اقبال میں بھی ایک کنال اور دس مرلہ کے پلاٹس کی مد میں اچھا کام ہوا جبکہ دوسری جانب ڈی ایچ اے میں قیمتوں میں استحکام دیکھنے میں آیا ۔
گوجرانوالہ:
گوجرانوالہ سرمایہ کاروں کی توجہ کھینچنے میں کامیاب ہو چکا ہے ۔ جنوری میں یہاں پر پراپرٹی کی قیمتوں میں استحکام دیکھنے میں آیا۔ ڈی ایچ اے گوجرانوالہ میں ایک کنال کے پلاٹس کی قیمتوں میں مناسب اضافہ جبکہ دس مرلہ کے پلاٹس کی فائلوں کی قیمتوں میں استحکام ریکارڈ کیا گیا ۔سٹی ہاوسنگ سکیم گوجرانوالہ میںکچھ مقامات پر پراپرٹی کی قیمتوں میں تھوڑی بہت کمی دیکھنے میں آئی تاہم باقی جگہوں پراستحکام کا مشاہدہ کیا گیاجبکہ ماسٹر سٹی گوجرانوالہ میں بھی استحکام دیکھنے میں آیا۔ ڈی سی کالونی کی پراپرٹی کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ۔ اس جگہ پر پراپرٹی کی قیمتیں دیگر جگہوں کی نسبت زیادہ بتائی جاتی تھیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں پر قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔
حتمی تجزیہ :
رئیل اسٹیٹ مارکیٹ گزشتہ سال نافذ کئے گئے ٹیکس کے اثرات سے ابھی بھی نکلنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اگرچہ اس ضمن میں تبدیلی آ رہی ہے تاہم اس کی رفتار سست ہے اور یہ وہ بنیادی وجہ ہے کہ لاہور اور گوجرانوالہ میں قیمتوں میں استحکام دیکھنے میںآیا ہے اور امکان ہے کہ یہ رحجان اس سال بھی برقرار رہے گا۔ اسلام آباد ایسا شہر ہے جس نے مثبت اشارے نہیں دیے ہیں تاہم یہ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ اس کی مارکیٹ بھی اب کچھ باقی نہیں ہے ۔ ڈیفنس سٹی کراچی اور بحریہ ٹاؤن کراچی کی پراپرٹی کی قیمتوں میں اچھا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ہمیں امید ہے کہ آنے والے ایام میں مارکیٹ میں تیزی دیکھنے میں آئے گی۔
زمین ڈاٹ کام کے سی ای او ذیشان علی خان نے کہا کہ اسلام آباد میں اہم ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے ۔ اُن کا کہنا تھا یہ مارکیٹ جمود کا شکار رہے گی تاہم جیسے ہی نیو اسلام آباد ائیر پورٹ اور اسلام آباد ایکسپریس وے تکمیل کے قریب پہنچے گے تو یہاں پر ایک مرتبہ پھر سے کام شروع ہو جائے گا۔ ہمیں امید ہے کہ مارکیٹ میں سرگرمیاں ایک مرتبہ پھر سے تیز ہو جائیںگی۔ ٹیکس کی وجہ سے مارکیٹ میں سست روی آئی تھی تاہم امید ہے کہ ایمنسٹی سکیم کی وجہ سے مارکیٹ اپنے اصل مقام کی جانب لوٹ جائے گی۔ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی۔