اشاعت کے باوقار 30 سال

عورت

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میں خوشگوار حیرت سے اپنے سامنے بیٹھی نوجوان طالبہ کو دیکھ رہا تھا اُس کے چہرے پر شرم و حیا اور اعلیٰ کردار کے پھول کھلے ہوئے تھے لیکن اُس کے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی اُس کا آہنی عزم مجھے بہت متاثر کر گیا تھا وہ اپنی جوانی کے دور سے گزر رہی تھی جوانی منہ زور ہوتی ہے جوانی میں اپنے خوابوں کے علا وہ کچھ نظر نہیں آتا، جوانی کا منہ زور سیلاب جب چڑھتا ہے تو ماں باپ بہن بھائی بھول جاتے ہیں جوانی میں ہر نوجوان اپنی جوانی اور طوفانی جذبوں کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے لیکن اِس نوجوان لڑکی کے چہرے اور آنکھوں میں حضرت مریم، حضرت فاطمہ کا عکس نظر آرہا تھا میرے سامنے پنجاب یونیورسٹی کی ماسٹر ڈگری کی طالبہ بیٹھی تھی جو اپنی دوست کے ساتھ آئی تھی آنے کا مقصد خدا کا قرب اور اللہ کی رضا تھا باتوں باتوں میں جب میں نے پوچھا بیٹی تم شادی اپنی مرضی سے کرو گی یا ماں باپ کی مرضی سے تو وہ اعتماد سے بھر پور لہجے میں بولی جہاں میرے ماں باپ کریں گے میں وہیں کروں گی۔

میں نے اگلا سوال داغا کیا کوئی لڑکا تمہیں پسند کرتا ہے تو وہ بولی ہاں کرتا ہے لیکن میں شادی اُسی صورت میں کروں گی جب میرا باپ خوشی سے اجازت دے گا اور یہی بات میں نے اُس لڑکے سے کہہ رکھی ہے کہ اپنا کیرئیر بنائو پھر میرے والد سے میرا ہاتھ مانگو، اگر وہ مان گئے تو ٹھیک ورنہ تم اپنے گھر، میں اپنے گھر، میں نے پوچھا اگر تمہارے والد صاحب نے انکار کر دیا تو وہ پورے عزم سے بولی میرے لیے میرا باپ سب سے اہم اور قیمتی سرمایہ ہے وہ باپ جس نے میرے لیے اپنی جوانی خرچ کر دی دن رات میرے لیے کام کیا میری ننھی سے ننھی خوشی کے لیے اپنی جان لگا دی اُس باپ، بھائی اور ماں کے لیے میں ایسی حماقت سوچ بھی نہیں سکتی میرے لیے میرے باپ کی عزت غیرت سب سے اہم ہے۔

باپ کا ذکر کرتے ہو ئے اُس کی آنکھوں میں عقیدت و احترام کی قندیلیں روشن ہو گئی تھیں اور میں رشک کر رہا تھا اُس باپ ماں بھائی پر جس کو اللہ تعالی نے ایسی شرم و حیا والی کردار کا پیکر بیٹی عطا کی تھی۔ لڑکی کچھ دیر میرے پاس بیٹھ کر چلی گئی میں فخر محسوس کر رہا تھا کہ ایسے گوہر نایاب عظیم بیٹیاں صرف عالم اسلام اور پاکستان میں ہی ملتی ہیں میں جب بھی یورپ یو کے جاتا ہوں تو وہاں جب پاکستانی ماں باپ کی بچیوں کو مغربی رنگ میں رنگے دیکھتا ہوں تو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہم پاکستانی کتنے مقدر والے ہیں جہاں بیٹیاں بہنیں بھائیوں اور باپ کی غیرت کے لیے پتہ ہی نہیں چلتا کب جوانی سے بڑھا پے کی وادی میں اُتر جاتی ہیں پاکستانی ماں باپ شرم و حیا کے پیکر اِن بیٹیوں سے سرفراز ہیں۔

کچھ لوگ یہ نہیں جانتے کہ پاکستان کی ماڈرن عورت جو مغرب نوازی کی جگالی کرتی نظر آتی ہے وہ یہ بھول جاتی ہے کہ بلاشبہ مردوں کی برتری کے اِس معاشرے میں عورت اپنے اصل مقام اور حقوق سے پو ری طرح فیض یاب نہیں ہے لیکن اِس کے باوجود عورت کو جو مقام یہاں حاصل ہے یورپ یو کے اور امریکہ کی عورتیں اِس عزت اور مقام کی خوشبو سے بھی محروم ہیں پاکستان کی اکثریت آج بھی دیہات میں رہتی ہے آپ کسی بھی گائوں چلے جائیں عورت کو دیکھ کر لو گ راستہ بدل لیتے ہیں نظریں نیچی کر لیتے ہیں رکشوں بسوں ٹرینوں میں اُن کے لیے سیٹوں سے اُٹھ جاتے ہیں بہن بیٹی ماں جی کہہ کر مخاطب ہوتے ہیں سگریٹ نوشی نہیں کرتے' بلند آواز سے بات نہیں کرتے اگر مرد گپیں مار رہے ہوں تو کسی عورت کے آنے سے خاموش اور مہذب ہو جاتے ہیں، آپ نے اکژ مردوں کے منہ سے ایک فقرہ سنا ہو گا کہ میں بھی بہنوں کا بھائی ہوں میں بھی بیٹی کا باپ ہوں بہنوں بیٹیوں والا ہوں 'جس گھر میں بیٹی پیدا ہو گئی تو لوگوں نے شراب نو شی ترک کر دی برائی کے سارے کام چھوڑ دیے دوسروں کی بہنوں بیٹیوں کو اپنی بہن بیٹی سمجھنا شروع کر دیا۔ جس گھر میں بیٹی پیدا ہو جائے بھائی باپ مہذب ہو جاتے ہیں، ماں باپ کہتے ہیں آج سے فحش بات نہیں ہو گی اب ہمارے گھر میں بیٹی آگئی ہے آج بھی جب کوئی بیٹی کسی کو بھائی کہہ کر بلاتی ہے تو لوگ اپنی نظریں احترام میں جھکا لیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں آج بھی طلاق دینے والے مردوں کو اچھوت سمجھا جاتا ہے لوگ ایسے لوگوں سے رشتے ناطے تعلقات استوار نہیں کرتے، عورت کے ساتھ زیادتی پر پورا معاشرہ آتش فشاں بن کر پھٹ پڑتا ہے، ماں بہن بیٹی سے تلخ کلامی پر یا ایک آواز پر مرد اپنے ہی جیسے مردوں کو مار مار کر حالت خراب کر دیتے ہیں آج بھی ہمارے معاشرے میں دادی نانی ماں خالہ کو عقل شعور کی علامت سمجھا جاتا ہے اِن کے مشوروں کے سامنے مرد سرنگوں ہوتے نظر آتے ہیں بیٹی کے رشتے کے مشورے کے وقت برے سے برا آدمی بھی ٹھیک مشورہ دیتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشرے میں آج بھی عورت یورپ امریکہ سے زیادہ محفوظ ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے مطابق 8 ما رچ کو '' خوا تین کا عالمی دن '' کے طور پر پو ری دنیا میں منایا جاتا ہے یہ قرار دار 1956 کو منظور کی گئی خواتین نے اپنے حقوق کے لیے 1907 میں پہلی بار آواز بلند کی اُس دن مارچ کی 8 تاریخ تھی یہ کمزور آواز آگے جا کر توانا ہو گئی پھر اِس کی باز گشت اقوام متحدہ میں بھی گونجی اور یوں یہ دن خو اتین کا دن قرار پایا۔

یہ تو ہے خوا تین کے عالمی دن کا پس منظر لیکن پاکستان کے مغرب نواز دانشوروں اور اہل مغرب کی خدمت میں عرض ہے کہ اسلام اِس حوالے سے ثابت شدہ اولیت اور سبقت کا حامل ہے آقا کریم ۖ نے خطبہ حجتہ الوادع جسے منشور انسانیت کہنا چاہیے میں سرتاج الانبیاء ۖ نے عورت کی شان اور حقوق کے بارے میں واضح طو ر پر کہہ دیا تھا سچ تو یہ ہے کہ یورپ افریقہ اور امریکہ میں عورت کی شناخت اور حقوق کے حوالے سے اسلام سے کئی صدیوں بعد آواز اٹھی یورپ میں عورت کے حقوق کی بات کی تاریخ صرف ایک صدی پرانی ہے جبکہ اسلام چودہ صدیاں پہلے عورت کو شناخت احترام اور حقوق دے چکا ہے خطبہ الوداع میں سرور کو نین ۖ کا ارشاد ملاحظہ ہو'' اے لوگو سنو تمہا رے اوپر تمہاری عورتوں کے حقوق ہیں اِس طرح اِن پر بھی تمہارے حقوق' پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ اپنے پاس کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جو تمہیں پسند نہ ہو وہ کوئی خیانت نہ کریں اور کھلی بے حیائی کی مرتکب نہ ہوں اور تم انہیں اچھی طرح لباس اور خوراک مہیا کرو، ان کے بارے میں اللہ کا خوف رکھو لحاظ رکھو تم نے اُنہیں خدا کے نام پر حاصل کیا اور اسی کی اجازت سے وہ تم پر حلال ہیں'' ۔ اسطرح تاریخ انسانی میں اسلام نے پہلی بار عورت کو مرد کی طرح معاشرے کا کارآمد فرد مانا اس کے مالی مفادات اخلاقی قانونی حقوق کا تحفظ کیا آج ہماری ماڈرن عورتیں جو یورپ جیسی آزادی سڑکوں پر مانگتی ہیں تو اِن کی عقل پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے یورپ جہاں عورت جنسی مشین سے زیادہ کچھ بھی نہیں 'جہاں عورت کا ہر بچہ پہلے سے مختلف نقش و نگار کا ہوتا ہے 'جہاں عورتیں شادی سے پہلے ماں بن جاتی ہیں، جہاں عورت ماں بہن بیٹینہیں بلکہ جنسی پا رٹنر ہیں،

آج ہماری ماڈرن عورتیں یورپ کی سی آزادی چاہتی ہیں جہاں عورت گھر کی چار دیواری سے نکل کر ماڈلنگ اور اشتہار بازی میں استعمال ہوتی ہے، عورت گھر کی بجائے کلب تھیٹر ڈانس ہال اور بازار میں نظر آتی ہے یورپ میں طلاق کی شرح، بوائے فرینڈ بنانے کی وبا، کم عمر بچیوں پر جنسی تشدد، بن بیاہی مائیں، ماں باپ کی شناخت سے محروم بچے، بوڑھی بے بس عورتوں کی تنہائی کی ہولناک تصویریں ہیں۔ ہماری ماڈرن عورتوں سے سوال ہے کہ کیا امریکہ یورپ کی پوری انسانی تاریخ میں ایک بھی عورت فاطمہ بنت محمد ۖ کے قدموں سے اٹھنے والے غبار کو پہنچ سکتی ہے جو بچپن سے سردار الانبیاء ۖ کی دیکھ بھال کرتی تھیں تاریخ انسانی کے سب سے بڑے شجاع کو زرہ بکتر پہناتی تھیں تاریخ کے سب سے بڑے شہید کی ماں بنیں جس نے عورت کو اس کے اصل مقام اور شان سے روشناس کرایا۔

Author: