اشاعت کے باوقار 30 سال

رد الفساد ہی کیوں ؟

نبی مہرباں ﷺ نے ہمارے اس دین کو اتنا آسان کر دیا ہے کہ اگر ہم فروعی مسائل کو سائڈ پر رکھ کر اس کو سادہ سا بھی پڑھیں تو ذہن کی تمام گرہیں خود بخود کھل جاتی ہیں۔ہماری امت اس وقت فتنہ خوارج میں مبتلا ہے اور اس حوالے سے ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ بنی ؐ نے فرمایا کہ میری امت میں مشرق کی جانب سے کچھ لوگ نکلیں گے،وہ قرآن کی تلاوت سے اپنے حلق تر رکھیں گے،ان کے چہرے انسانوں کے اور دل بھیڑیوں کی طرح کالے ہونگے، یہ کم عمر بچوں کو استعمال کریں گے، یہ کم ذہن لوگوں کو استعمال کریں گے، مشرکوں سے مدد لیں گے اور مسلمانوں کو قتل کریں گے، ان میں سے کچھ ایسے ہونگے جو خود تو مسلح بغاوت نہیں کریں گے لیکن خوارج کی پشت پناہی کرتے ہونگے اور اُن کے اقدامات کو سراہتے ہونگے۔ آگے پڑھیئے کہ اللہ کے نبی ؐ نے کیا فرمایا، آپؐ نے فرمایاکہ جب تم میدان جنگ میں ان سے ملو تو انہیں قتل کر دو کیونکہ یہ تمام مخلوق سے بدترین ہیں۔ آقا برحق ؐ جب کسی بھی لشکر کو تمام تر اہتمام حجت ہوجانے کے بعد کسی جنگ پر بھیجتے تو واضح احکامات جاری کرتے کہ کوئی عورت، کوئی بچہ اور کوئی بزرگ کسی بھی طور پر نشانہ نہ بنے۔
اب ہم موجود حالات کی طرف آنے سے پہلے 2014ء کے آخری مہینے دسمبر میں چلتے ہیں۔16دسمبر کو ہم یوم سقوط ڈھاکہ کے طور پر یاد رکھتے ہیں تاہم 2014ء میں ہمیں اسی دن ایک اور سانحہ دیکھنا پڑا جب دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول کو نشانہ بنایا اور معصوم بچوں پر درندگی کی انتہا کر دی۔ا س حملے میں 146بچے اور اساتذہ شہید ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے ۔ اس سے قبل سیاسی دباؤ کی وجہ سے ملک دشمن دہشت گردوں سے مذاکرات ہو رہے تھے تاہم اس حملے کے بعد اُن کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ۔ آپریشن ضرب عضب ابھی جاری ہے اور اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2017ء تک پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں 71فیصد کمی ہوئی تھی ، اس کے علاوہ کراچی میں 64فیصد حالات بہتر ہوئے، اغواء برائے تاوا ن اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں خاطر خواہ کمی ہوئی اور عالمی اداریے پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے اعشاریوں کی تعریف کر رہے تھے ۔
پھر فروری 2017ء آیا اور ملک پھر میں دھماکوں کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر سے شروع ہو گیا۔ لاہور مال روڈ دھماکے اور سندھ میں لعل شہباز قلندرؒ کے مزار پر دھماکے کے بعد عسکری قیادت نے آپریشن رد الفساد کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کیوں کیا گیا؟ اس کے کیا نتائج آئیں گے‘ وغیرہ جیسے سوالات تو بعد میں ہونگے ، تاہم یہ بات تو طے ہے کہ یہ آپریشن بھی ضروری تھا۔ اس سے قبل پنجاب میں پوری طرح سے آپریشن نہیں کیا گیاتھا تاہم اب کیا جا رہا ہے۔ پنجاب کی وہ طاقتور سیاسی شخصیات جو صوبے میںآپریشن نہیں کروانا چاہ رہی تھی ، اب خاموش ہیں کہ اُن کے پاس کچھ کہنے کو نہیں رہا ہے ۔ ایک بات تو راقم کی ناقص رائے میں شاید غلط بھی ہو سکتی ہے وہ یہ کہ بعض امن دشمن اس آپریشن کو لسانی آپریشن بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس آپریشن سے پٹھانوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ۔ یہ غلط ہے ، اس آپریشن سے صرف دہشت گردوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جوکہ پٹھان قوم کے حلیے میں گھس بیٹھیئے ہیں اور اُن کی شناخت استعمال کرکے پاکستان کے دشمنوں کا آلہ کار اور سہولت کار بنتے ہیں۔ اگر لاہور دھماکے کا سہولت کار انوار الحق پٹھان تھا تو اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سارے ہی پٹھان ایسے ہیں ۔ حکومت کو پٹھانوں میں شامل اُن گھس بیٹھیوں کو بہر صورت تلاش تو کرنا ہی ہوگا۔
اب دہشت گردوں کے طریقہ واردات کی جانب آتے ہیں۔ انوار الحق کے حوالے سے جاوید چوہدری صاحب اپنے کالم میں تفصیلی لکھ چکے ہیں ۔ ان دہشت گردوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہی سادہ لوح مسلمانوں کو جہاد کے نام پر استعمال کر نا ہے ۔ آپ آغاز میں بیان کی گئی حدیث کو پڑھیں اور ایمان داری سے فیصلہ کریں کہ یہ دہشت گرد کیا خوارج نہیں ہیں؟ کیا اُن کا مرکز مشرق نہیں ہے؟ (حجاز سے مشرق کی سمت دیکھئے) کیا وہ تلاوت قرآن سے اپنے حلق تر نہیں رکھتے ہیں؟(لیکن نا تو قرآن کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس پر عمل کرتے ہیں) کیا اُن کے دل سخت نہیں ہیں؟ کیا یہ دھماکوں میں کم عمر بچوں اور کم ذہن لوگوں کا استعمال نہیں کرتے ہیں؟ کیا یہ رپورٹس موجود نہیں ہیں کہ وہ مشرکین سے مدد لیتے ہیں؟ (متعدد مرتبہ یہ رپورٹ ہو چکا ہے کہ امریکہ ، اسرائیل اور بھارت اِن کو ڈالرز کی صورت میں بھر پور فنڈنگ کرتا ہے ) کیا یہ لوگ معصوم عورتوں اور بچوں کو قتل نہیں کرتے ہیں؟اگر ان سوالات کا جواب ہاں ہے تو پھر فوج کا یہ آپریشن بالکل درست ہے بلکہ اس کو پہلے ہونا چاہئے تھا تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر یہ پہلے نہیں ہو سکا تو اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے ۔ اس دفعہ یہ بھی حوصلہ افزاء بات ہے کہ ماضی میں فوجی آپریشن کے مخالفین کی بڑی تعداد اس مرتبہ حمایت کر رہی ہے ۔