اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

غرور کا انجام

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
میرے سامنے بو ڑھا با پ زارو قطار رو رہا تھا اُس کی ویران بنجر آنکھوں سے آنسو مو سلادھار بارش کی طرح برس رہے تھے۔ شدت غم، درد اور بے بسی سے اُس کا بوڑھا جسم بید مجنوں کی طرح لرز رہا تھا اُس کی حالت اُس خزاں زدہ پتے جیسی ہو گئی تھی جو درخت سے ٹوٹ کر ہوائوں کے رحم و کرم پر ہو اُس کی معصوم ذہنی معذور بیٹی اپنے اوپر ہو نے والے ظلم سے بے خبر معصوم سپاٹ نظروں سے ہماری طرف دیکھ رہی تھی۔ معصوم بچی پر ہو نے والے ظلم کے بارے میں سوچ کر ہی میرا جسم پسینے سے شرا بور ہو رہا تھا میں بے بسی کا بت بنا کھڑا تھا۔

میرے اعصاب دماغ تقریباً شل ہو چکے تھے بلکہ میرا دماغ سپاٹ اور خالی ہو چکا تھا مجھے بلکل بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا بولوں کیا بات کروں میں جو ہر ملنے والے سے کہتا ہوں پریشان نہ ہوں اللہ ضرور کو ئی راستہ نکالے گا، پروردگار کوئی وسیلا بنا دے گا لیکن یہاں بوڑھے باپ اور بچی پر ہو نے والے ظلم کی شدت دیکھ کر میری زبان پتھر کی ہو گئی تھی الفاظ فقرے ہوا میں تحلیل ہو چکے تھے معصوم معذور بیٹی سے درندوں والا سلوک دیکھ کر میرے حواس معطل ہو چکے تھے غم اداسی دکھ پریشانی غصہ ڈپریشن میری ہڈیوں تک سرائیت کر گیا تھا کبھی میں بوڑھے بے بس باپ کو دیکھ رہا تھا کبھی نور میں لپٹی گلابوں جیسی معصوم بیٹی کو دیکھ رہا تھا معصومیت کے نور میں ڈوبی بیٹی میرے سامنے تھی بیٹی کا جسم 16 سے 18 سال کا لگ رہا تھا جبکہ ذہنی حالت چار پانچ سال کے بچے جیسی تھی کسی بیماری یا حادثے کی وجہ سے بیٹی کی دماغی گروتھ بچپن میں ہی رک گئی تھی بوڑھے غمزدہ باپ کی آہ وبکاہ سے میرا دل و دماغ چھلنی چھلنی ہو رہا تھا۔

اپ کے آنسو میرے جسم کو ریزہ ریزہ کر رہے تھے میرے جسم و جان شعور لاشعور پر بھی ماتمی سی کیفیت طاری ہونا شروع ہو گئی تھی بوڑھا باپ شدت کرب سے با واز دھاڑوں کی صورت میں رو رہا تھا گلی سے گزرنے والے لو گ بو ڑھے باپ کی طرف متوجہ ہونا شروع ہو گئے تھے اِس لیے بو ڑھے باپ اور اُسی کی نور میں لپٹی معصوم بے گناہ بیٹی کو گھر لے آیا دونوں کو بٹھایا جو س منگوایا محبت سے پیش کیا۔ اب میں آرام سے محبت بھری نظروں سے دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ بوڑھے باپ کے مکمل بکھرے اعصاب کچھ نارمل ہونا شروع ہوئے مجھے لگ رہا تھا کہ باپ کسی شدید خوف میں مبتلا ہے۔ وہ بار بار ادھر اُدھر دروازے کے باہر آوازوں کو سن رہا تھا وہ ڈرا ہوا تھا جیسے کوئی اُس کے تعاقب میں ہو جیسے اُس کو اور اُس کی معصوم بیٹی کو کوئی مارنا چاہتا ہو اب میں نے باپ کا خوف دور کرنے کے لیے حو صلہ افزا باتیں شروع کیں آپ بلکل پریشان نہ ہوں میں اور میرا اللہ آپ کا ساتھ دیںگے۔

میرے حو صلہ دینے پر بوڑھے باپ نے اپنے اور بیٹی پر ہو نے والے ظلم عظیم کی داستان سنائی۔ بوڑھا باپ بولا میں لاہور سے سو کلو میٹر دور ایک چھوٹے سے گائوں سے آیا ہوں میرا خاندان کئی نسلوں سے گائوں کے زمینداروں کی کمی گیری کرتا رہا ہے مجھے پتہ ہی نہیں چلا کب میں کمی گیری کرتا ہوا بچپن سے لڑکپن اور پھر بڑھا پے میں داخل ہو گیا میرا ایک بیٹا اور یہ بیٹی ہی اولاد تھی بیٹا میری طرح زمیندار کی نوکری کرتا بیٹی کو گھر میں میری بیوی سنبھالتی چند سال پہلے وہ بھی بھوک اور بیماری کے ہاتھوں منوں مٹی کے نیچے جا سوئی اب گھر میں کوئی بھی نہیں ہوتا تھا اِس لیے مجبوری کی بنا پر میں اپنی بیٹی کو بھی زمینوں پر لے جاتا شب و روز گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا کہ بیٹی نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ دیا ۔اللہ نے میری بیٹی کو بہت حسن سے نوازا تھا جو بھی دیکھتا بس دیکھتا ہی رہ جاتا لیکن جب دیکھنے والے کو پتہ چلتا کہ یہ تو معذور ہے تو بہت دکھی ہوتا۔ میں اور میرا بیٹا زمینوں پر کام میں مصروف ہوتے تھے ہمیں پتہ ہی نہ چلا کب زمیندار نے بیٹی کو گندی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا کیونکہ ہم تو نسل در نسل زمینداروں کی نوکری میں لگے ہوئے تھے زمینداروں کی وفاداری اور خدمت ہماری ہڈیوں تک گھس چکی تھی ۔

ہم تو زمیندار کو خدا کے بعد سب سے بڑا سہارا سمجھتے تھے زمیندار جب کبھی بیٹی کو مسکراتی نظروں سے دیکھتا تو ہم اِسے غریب پروری سمجھتے کہ وہ کتنا رحم دل اور فیاض ہے ہم غریبوں کا کتنا خیال رکھتا ہے پھر ایک دن زمیندار نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے تمہاری بیٹی کا شہر کے بڑے ہسپتال سے علاج کرائوں ہم نے اِسے خدا کی مدد سمجھا اور فوری طور پر تیار ہو گئے اور پھر ہم نے بیٹی کو نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہنا کر زمیندار کے ساتھ شہر بھیج دیا۔ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ بیٹی ہماری گھر سے دور رہی ہم جب بھی زمیندار سے پوچھتے وہ یہی کہتا کہ اُس کا علاج ہو رہا ہے ہم نے کئی بار ملنے کی درخواست کی لیکن وہ ہمیشہ ایک ہی جواب دیتا کہ وہ یہاں سے بہت دور ہے میں اور میرا بیٹا بہت خوش تھے کہ ہمارا مالک ہمارے ساتھ کتنا رحم دل ہے ہمارا کتنا خیال رکھتا ہے لیکن ایک دن ہمارے لیے غم کا ایٹم بم پھٹ پڑا ہمیں زمیندار کے ایک اور نوکر نے بتایا کہ میرا نام نہ لینا ورنہ زمیندار مجھے جان سے مار دے گا تمہاری بیٹی علاج کے لیے کسی ہسپتال نہیں گئی ہوئی بلکہ زمیندار کے ڈیرے کے خفیہ تہہ خانے میں مو جود ہے ہمیں اِس بات پر بلکل بھی یقین نہیں تھا لیکن جب ہم نے کھوج لگائی تو یہ بات سچ نکلی اب میرے بیٹے نے سختی سے جا کر کہا کہ میری بہن کو آپ نے قید کر رکھا ہے۔

اُس کو واپس کرو میرے بیٹے کی گستاخی زمیندار کو بلکل بھی اچھی نہ لگی اُس کو زمیندار نے بھینس چوری میں اندر کرا دیا جو آج تک بند ہے اب زمیندار نے بدنامی کے خوف سے بیٹی کو ہمارے حوالے کر دیا میری بیٹی کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی لیکن زمیندار کے خوف سے میں نے آواز بند رکھی کیونکہ زمیندار نے کہا تھا اگر میں نے زبان کھولی تو تمہارا بیٹا جیل میں ہی مار دیا جائے گا میں زہر کے گھونٹ پی کر چپ ہو گیا۔ لیکن اصل مسئلہ تو چند ما ہ بعد شروع ہوا جب بیٹی کے پیٹ کا سائز بڑھنا شروع ہوا تو میں نے دائی کو چیک کرایا تو اُس نے کہا یہ تو ماں بننے والی ہے جب اِس کی اطلاع زمیندار کو ہوئی تو رات کے اندھیرے میں گھر آکر دھمکیاں دے گیا کہ فوری طور پر اِس بچے کو ضائع کرو جب دائی نے نہ کہا کہ اسطرح ماں بچہ دونوں مر جائیں گے تو زمیندار بولا جو بھی کرو میری اِس بدنامی سے جان چھڑائو چند دن تو میں ٹال مٹول کرتا رہا لیکن پھر کسی نے مجھے بتایا کہ زمیندار تمہاری بیٹی کو اغوا کر کے قتل کرنا چاہتا ہے تو رات کے اندھیرے میں آخر میں نے گائوں کو خیر آباد کہہ دیا۔

اب میں ایک در سے دوسرے در اپنی اور اپنی بیٹی کی جان کی حفاظت کی بھیک مانگتا پھر رہا ہوں بوڑھے باپ کی داستان غم میں نے اپنے رحم دل پو لیس آفیسردوست کو سنا ئی تو وہ خدا کی مدد بن گیا اُس نے فوری طور پر باپ بیٹی کی سیکورٹی کا بندو بست کیا بچے کا ڈی این اے کرایا ملزم کو جب یہ پتہ چلا کہ پو لیس اُس کو پکڑنا چاہتی ہے اور ڈی این اے میں وہ مجرم ثابت ہو گا تو وہ گھر سے بھاگ کر اشتہاری ہو گیا اب اُس نے اشتہاریوں کے ساتھ رہنا شروع کر دیا میں پچھلے کئی دنوں سے اِس ڈپریشن میں تھا لیکن آخر رب رحیم کریم کی لاٹھی حرکت میں آئی واردات کے دوران پولیس مقابلے میں زمیندار مارا گیا اور میں خدا کے عدل کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا کہ خدا کی لاٹھی حرکت میں آتی ضرور ہے چاہے دیر سے ہی کیوں نا آئے۔ تاریخ انسانی کے اوراق ایسے ظالموں سے بھرے پڑے ہیں جن کا انجام عبرت ناک ہوا ۔

Author: