اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

یہ ہیں حب الوطنی کے نئے ٹھیکیدار

ہم بحیثیت ملک اور قوم آگے کیسے بڑھیں ،،، اس پہ سرکھپانے کی مشق بعد میں مناسب رہے گی پہلے تو یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم کھڑے کہاں ہیں اور اقوام عالم کی برادری میں ہمارا مقام کیا ہے لیکن اس جانب سوچنا شروع کرنے کے لیئے ضروری ہے کہ اس بات سے جڑا ایک اہم سوال اٹھا لیا جائے ۔۔۔۔ لیکن ایک روایتی سا سوال سن کے شاید آپ پریشان ہوجائیں یا آپکا موڈ آف ہو جائے اور ایسا ہو تو حیرت کی کوئی بات نہیں کیونکہ ایسا سوال جس میں پاکستان کے اہم ترین مسئلے کی بابت پوچھا جائے تو اس میں لوگ بالعموم دلچسپی لیتے کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اور جو جواب دیئے بھی جاتے ہیں تو عموما ایک ہی جیسے ہوتے ہیں کہ جن سے میچ فکسنگ جیسی صورتحال سامنے آجاتی ہے ۔۔ لوگوں کو، بلکہ اہل علم اور صاحبان فکر و نظر میں سے زیادہ تر کو بھی عموما دو ہی مسائل اہم تر نظر آتے ہیں جن میں پہلا مسئلہ تو غربت ہے اور دوسرا ناخواندگی اسکے بعد کوئی کوئی فرد اور چند مسائل بھی گنوا دیتا ہے ۔۔۔ ان دونوں مسائل کی اہمیت تسلیم لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ ہی اہم ترین مسئلے کی نشاندہی ہے کہ جس پہ قومی اتفاق رائے ممکن ہوسکے۔

اس حوالے سے میری رائے ذرا وکھری سی ہے ۔۔۔ کیونکہ میں اس ملک کا سب سے اہم مسئلہ''دو نمبری'' کو سمجھتا ہوں ۔۔۔ کسی خاص طرح کی دو نمبری نہیں بلکہ ہر سطح پہ ہر اور ہر طرح کی دو نمبری ۔۔۔ یہ دو نمبری ملک کے ہر اہم شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے خواہ معیشت ہو کہ تجارت، صنعت ہو کہ زراعت ادب و صحافت اور میڈیا کے ایوانوں کو بھی یہ دیمک لگی ہوئی ہے حتیٰ کے دین کے میدان میں داخل ہوچکی ہے اور بہتیرے ہیں کہ علما کہلاتے ہیں لیکن ان میں بیشتر دین کے بنیادی تقاضوں کی ادائیگی کے بھی روادار نہیں اور اہل سیاست کا تو کہنا ہی کیا، یہاں تو دو نمبری کا خوب پوبارہ ہے ۔۔۔ یہ دو نمبر لوگ اپنے اپنے شعبوں میں جب تک موجود رہیں گے وہاں پہ کسی حقیقی بہتری کے لیئے امید رکھنا عبث ہے کہ یہ دو نمبریئے نمبر ایک ایک کے لیئے یوں آسانی سے جگہ نہیں چھوڑنے والے،،، انہیں معلوم ہے کہ خواہ فرد ہو یا نظریہ یا کوئی خیال اور منصوبہ اگر ایک نمبر ہوا تو اسکے مقابل انکی قامت کا بھرم کھلتا ہے اور خود انیں اپنی اوقات کا پتا چلتا ہے ۔۔۔ وہ دو نمبریئے جہاں پہ بھی ہیں اس تصور سے بھی خائف ہیں کہ مکر سے ہنر بدل جائے اور انکے چہرے سے نقاب اتر جائے ،،، سو کبھی خوشامد کی لفاظی تو کبھی دھونس و دھمکی کی طراری ہی سے کام لیئے جاتے ہیں اور اپنا الو سیدھا کیئے جاتے ہیں - ایک نمبر سے بڑھ کے ایک ہے کہ اس میدان کا مرد معلوم ہوتا ہے لیکن یہ سب دو نمبر لوگ مل کر بھی ایک عامر لیاقت کے جوڑ کے نہیں ،،، کہ موصوف مخصوص دلکی چال چلتے ہیں اور انکی حالت جوش میں بھی بہترین منفعت کا ہوش نہ صرف باقی رہتا ہے بلکہ انکی اس کیفیت کا محرک ہوتا ہے ۔۔۔۔ وہ اپنی ذات میں ہمہ صفت بنے نظر آتے ہیں ، کبھی عالم دین بن کے شبینوں میں گڑ گڑاتے دیکھے جاتے ہیں تو کبھی گلوکار بن کے بھارتی نغمات الاپتے سنے جاتے ہیں وہ کبھی وزارت کی مسند پہ براجمان پائے جاتے ہیں تو کبھی میڈیائی میزبانی کا مائیک سنبھالے زمیں پہ گر کے لوٹیں لگاتے دیکھے جاتے ہیں ،،، اس سے فرصت مل پاتی ہے تو تجزیہ نگار کی مسند پہ چڑھ بیٹھتے ہیں ۔۔۔ لیکن ان سارے رنگوں میں ایک رنگ جو غالب رہتا ہے وہ بناوٹ خود نمائی اور خود آرائی کا ہے اور اسکے سامنے سارے رنگ مکمل پھیکے پڑجاتے ہیں اور یوں انکی ذات ایک ادھورے پن کا شکار ہوجاتی ہے اور آخری نتیجے میں وہ سب کچھ ہو کے بھی کچھ نہیں رہ پاتے ، کسی شعبے کے 'خاص' فرد یا مرد نہیں سمجھے جاتے۔

انکی خود نمائی کی کیفیت بھی خاصے کی شے ہے اپنی اس کیفیت میں وہ عجب عجب رنگ دکھاتے ہیں اور بلند و بانگ دعووں پہ اتر آتے ہیں ۔۔۔ آج کل انکے دو نمایاں دعوے عشق رسالت کے اور حب الوطنی کہیں ۔۔۔ عشق رسالت کے حوالے سے تو میں اپنے ایک کالم میں بات کر ہی چکا ہوں کہ نبی کا سچا نام لیوا کبھی نبی کے امتیوں کے قاتلوں کا حصہ نہیں بن سکتا تھا جبکہ وہ تو برسہا برس انکے گروہ کے سرکردہ لوگوں میں شامل رہے ہیں لیکن جہاں تک انکی حب الوطنی کا تعلق ہے تو اس حوالے سے بھی انکی فرد عمل سوالیہ نشانات سے بھری ہوئی ہے ۔۔۔۔ وہ ایم کیوایم سے قریبا ً3 دہاء منسلک رہے ہیں اور یہی وہ دور ہے کہ اس باشعور شہر کے باسیوں کو انکی تنظیم نے قتل اور دہشتگردی کے بل پہ اپنا یرغمال بنائے رکھا اور گلی گلی کوچے کوچے کی ہر دیوار پہ یہ خون آشام نعرہ لکھ دیا گیا کہ" جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے" اور یہ صرف لکھا ہی نہیں گیا ، شہر کے ہر رستے میں موت بچھادی گئی ، ٹارگٹ کلنگ نے قانون کا درجہ پایا اوربھتہ خوری و چائنا کٹنگ نے نئے معاشی قوانین کا مقام حاصل کرلیا ۔۔۔ تہذیب و تمدن کو فنا کے گھاٹ اتارا گیا اور تعلیم کو نقل کی کند چھری سے تڑپا تڑپا کے ذبح کر ڈالا گیا...

تہذیب کے فنا ہونے اور شعور کی موت کے یہ سب مناظر اس شہر کے لوگوں کے لیئے روزمرہ کی حیثیت اختیار کر گئے تھے ،،، لیکن سوال یہ ہے کہ اس سب خرابے پہ عامر لیاقت کا ضمیر کبھی کیوں نہ جاگا ،،، حتی کہ اس وقت بھی کہ جب 22 اگست 2016 کو الطاف حسین نے اس مملکت خداداد کو منہ بھر بھر کے گالیاں دیں رینجرز ، آئی ایس آئی اور فوج کو جی بھر کے کوسا ،،، ملکی سلامتی و استحکام کو پارہ پارہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور اسکے لیئے امریکا، اسرائیل اور بھارت سے مدد لینے کی دھمکیاں دیں اور پھر ایک نجی چینل پہ حملے کا حکم دیا ،،،، لیکن ایک غدار کی ملک اور فوج کے خلاف اس قدر زہر اگلنے کے باوجود بھی عامر لیاقت کی نام نہاد حب الوطنی نہ جاگ سکی اور فوج سے انکی پرستش کے جذبے کو ٹھیس نہ پہنچی اور وہ اس تقریر کے بعد تقریبا 2 روز تک اکثر ٹی وی چینلوں پہ اس ننگ وطن الطاف حسین کے پرجوش وکیل بن کے لال پیلا سا منہ بنائے دھاڑتے چنگھاڑتے دکھائی اور سنائی دیئے کیونکہ فاروق ستار اور اظہارالحسن کی گرفتاری کے بعد انکے لیئے بظاہر رستہ صاف تھا لیکن چونکہ متحدہ کی قیادت یہ بھانپ چکی تھی کہ انکا اصل مقصد اس بحرانی صورتحال سے فائدہ اٹھا کے ایم کیو ایم پہ قبضہ کرنا ہے تو اسکی جانب سے خاطر خواہ پزیرائی نہ مل سکی۔

اس نامرادی کے عالم میں پھر جب انہیں رینجرزنے گرفتار کر لیا تو ایک ہی شب میں وہ الطافی عشق کے بندھنوں سے آزاد ہوگئے اور ان پہ یکایک الطاف حسین کی ملک دشمنی پوری طرح آشکار ہوگئی اور وہاں سے واپسی کے بعد جتھوں دی کھوتی اتھوں آن کھلوتی کے مصداق ہونے کی نوبت آن پہنچی کیونکہ انہیں پھر سے میڈیاکی رنگینیوں کی یاد ستانے لگی لیکن اب انکی اصلیت اور حقیقت سے سبھی چینل واقف ہوچلے تھے ۔۔۔ اور کوئی انکا سودا خریدنے و تیار نہ تھا ،،، ایسے میں وہی انکے کام اآسکتے تھے کہ جو ان ہی کی طرح چولا بدلنے اور علم فروشی کے کامن میں دلچسپی رکھ سکتے ہوں ۔۔۔ سو پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا ،،، اب گو مسٹر لال پیلا اپنے استھان پہ پہنچ چکے ہیں لیکن وہ یہ قطعی بھول رہے ہیں کہ ہر سچے عاشق رسول کو اور ہر مخلص و دردمند پاکستانی کو انکا کردار اور انکے ماضی بعید و قریب کی خرافات اور ہفوات اچھی طرح یاد ہیں اور اب اسے ان نئے ڈراموں سے مزید بیوقوف نہیں بنیا جاسکتا۔