اشاعت کے باوقار 30 سال

یقین

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
وہ پچھلے کئی گھنٹے سے میرے صبر اور خوش اخلاقی کا امتحان لے رہا تھا۔ میں پوری کوشش کر رہا تھا کہ میرے لہجے میں تلخی یا ناراضگی کا عنصر شامل نہ ہو لیکن وہ تو شاید اپنا سارا ڈپریشن میرے پر ہی نکالنے کا ارادہ کر کے آیا تھا میں دبے لفظوں میں اُسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اُسکی ناکا میوں میں مُجھ غریب کا کو ئی قصور نہیں ہے لیکن وہ مجھے قصوروار بنانے پر تُلا ہوا تھا۔ میں پوری کو شش کر رہا تھا کہ کسی طرح اُس کو مطمئن کر سکوں لیکن اُس کے لہجے کی تلخی اور زہر میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اب اُس کی گفتگو کا رخ میری طرف سے ہٹ کر خدا کی طرف ہو گیا تھا پہلے تو میں قصور وار تھا اب وہ خدا کے پیچھے پڑ گیا تھا کہ خدا ہے بھی یا نہیں میں تو خدا کو تب مانوں گا جب وہ میری دعائیں قبول کریگا۔

جب میرے پاس دنیا کی ہر نعمت موجود ہو گی کیونکہ جن لوگوں کے پاس روپے پیسے کی ریل پیل ہے میں اُن سے زیادہ عبادت گزار ہوں جب میں زیا دہ عبادت کرتا ہوں تو اللہ تعالی میری کیوں نہیں سنتا میرا حق زیادہ ہے جب تک وہ میری ذات پر تنقید کرتا رہا میں صبر اور خاموشی بلکہ خوش مزاجی سے سنتا رہا اب جب وہ رب کعبہ کی ذات پر تنقید کرنے لگا تو میرے صبر کا پیمانہ چھلکنے لگا وہ پچھلے گھنٹے سے مجھے بتا رہا تھا کہ میں نے بہت سارے ذکر اذکار کئے ہیں۔ نمازیں نوافل ادا کئے میرے اوپر وہ بار بار یہ تنقید کر رہا تھا کہ آپ لوگوں کو تسبیحات بتاتے ہیں اِن کا کوئی فائدہ نہیں میں نے بہت تسبیحات کیں ہیں۔ مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوا رب بھی امیروں کا ہے میں کتنے عرصے سے عبادات کر رہا ہوں میری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں جب وہ وہ بہت بول چکا تو میں نے اُس کی آنکھوں میں جھانکا اور شفیق لہجے میں کہا تمہاری دعائیں پتہ قبول کیوں نہیں ہوتیں تمہیں خدا پر یقین ہی نہیں ہے۔ اگر تمہیں خدا پر یقین ہوتا تو تم کبھی ایسی فضول باتیں نہ کرتے تم میں یقین کی کمی ہے تم نے خالق کائنات کو مانا ہی نہیں جس دن تم نے خدا پر یقین کرنا سیکھ لیا اُسی دن سے تمہاری دعائیں قبول ہونا شروع ہو جائیں گی وہ چپ چاپ میری باتیں سنتا رہا اور پھر اُٹھ کر چلا گیا۔

میرے پاس ایسے کئی مایوس افراد آچکے ہیں جو آتے ہی کہتے ہیں کہ ہم نے آج کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھنی کوئی تسبیح نہیں کرنی جب خدا نے ہماری کوئی دعا قبول ہیں نہیں کرنی تو ہم کیوں دعائیں کریں ایسے عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے دنیا کی ہر پیش رفت کے پیچھے جو قوت نظر آتی ہے وہ یقین ہی ہے بحر ظلمات میں کشتیاں جلانا اور گھوڑے دوڑانا یقین کا ہی کرشمہ تھا۔ اِس یقین کے بل بوتے پر نئی دنیائیں دریافت ہوئیں انکشافات کے نئے چاند روشن ہوئے اربوں کہکشائوں کا سراغ ملا۔ مریخ اورچاند پر انسان کا قدم پڑا ایجادات کا سیلاب اُمڈ آیا جنگل منگل کا سماں بنا انفرادی یا اجتماعی طور پر یقین ہی وہ جذبہ ہے جس نے خوابوں میں حقیقت کا رنگ بھرا۔ یہ یقین کی کمی تھی جو عرب سردار ابوالحکم تھا لیکن ابو جہل کہلا کر عبرت کا نشان بن گیا اور افریقہ کا حبشی غلام بلال شہرت کے آسمان پر اِس شان سے چمکا کہ فاروق اعظم ان کو ہمیشہ ہمارے سردار کہہ کر بلاتے تھے۔

ابو الفضل اور فیضی جیسے دانشور شاہی ایوانوں کی راہداریوں میں گم ہو گئے جب کہ شیخ سر ہندی کی لحد روشنی کا مینار بن کر محشر تک اندھی روحوں کو منور کرنے کا باعث بن گئی یقین و ایمان کا نور دیکھنا ہو تو حضرت سراقہ بن جعشم میں ملاحظہ ہو آخری وقت آن پہنچا مرض الموت کے آہنی پنجے نے گرفت میں لینا شروع کر دیا۔ اطباء لا علاج قرار دے چکے ورثاء تدفین کی تیاریوں میں مصروف ہیں یقین کے نور سے مالا مال سراقہ کہتے ہیں واللہ ابھی موت مجھے چھو بھی نہیں سکتی کیونکہ میں نے ابھی کسری ایران کے کنگن نہیں پہنے جس کی بشارت سرتاج الانبیاء محبوب خدا ۖ نے خو د مجھے دی تھی۔ چشم فلک اور بوڑھے آسمان نے یہ منظر خود دیکھا تھا ہجرت مدینہ کے وقت کفار نے سراقہ کو کنگن پہنا نے کا لالچ دے کر نبی کریم ۖ کے پیچھے بھیجا تھا۔ مگر شہنشاہ دو جہاں ۖ نے سراقہ کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ اگر تم اسلام قبول کر لو تو ایک وقت آئے گا جب ایران فتح ہو گا تو شاہ ِ فارس کے کنگن تمہیں پہنائے جائیں گے اور پھر سراقہ صحت یاب ہوئے اور پھر ایران فتح ہوا تو خلیفہ وقت جناب فاروق اعظم نے خو د اپنے ہاتھوں سے سراقہ کو کنگن پہنائے۔

سراقہ کے دل و دماغ میں بھی پیارے آقا ۖ کے لب مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کا مکمل یقین تھا یقین کا ایک اور نمونہ ملاحظہ فرمائیں جنگ میں ثابت بن اصیرم مسلمانوں سے بر سر پیکار ہے اچانک کسی خیال کے تحت سرور کونین ۖ کے حضور پیش ہوتا ہے اور عرض کرتا ہے اگر میں اسلام قبول کر لوں تو مجھے کیا ملے گا تو آقا کریم ۖ نے فرمایا جنت' یہ سن کر یقین کی چنگاری بھانبھڑ بن گئی کھجور کا دانہ جو اُس وقت ہاتھ میں تھا اُس کو زمین پر پھینک دیا اور سرور کائنات سے عرض کی یا رسول اللہ ۖ آخری سلام قبول ہو اب یہ کھجور جنت جا کر کھائوں گا۔ چیتے کی طرح پلٹا اور کفار پر حملہ کر دیا اور پھر جو انمردی سے لڑتا ہوا شہید ہو گیا جنگ کے بعد نبی کریم ۖ نے لاشوں کا معائنہ کرتے ہوئے فرمایا آئو دوستو میں تمہیں ایسا جنتی دکھائوں جس نے نہ نماز پڑھی نہ روزہ رکھا نہ حج کیا مگر سیدھا جنت گیا' بقول شاعر

پروانے کا حال اِس محفل میں ہے قابل رشک اے اہل نظر
شب بھر میں یہ پیدا بھی ہوا عاشق بھی ہوا اور مر بھی گیا

یہ ثابت بن اصیرم کا شاہ عربی ۖ پر یقین ہی تھا جو شہادت کے مرتبے پر فائز ہو کر جنت الفردوس کا مکین بنا اور پھر کون بھول سکتا ہے۔ تاریخ انسانی کے عظیم کردار دانش ور اہل علم سقراط کو دو ہزار سال قبل یونان کا شہر ایتھنز اِس شہر کے لوگ اپنا حاکم خود منتخب کرتے تھے۔ علم فلسفہ آرٹ ان کی رگوں میں دوڑتا تھا اِس شہر کی اسمبلی تھی جہاں لوگوں کے مسائل زیر بحث کرتے 404 قبل مسیح سپارٹا کے جرنیل لینڈر نے چند شر پسند عناصر کے ساتھ مل کر عوامی جمہوریت کی جگہ آمریت کی بادشاہت قائم کر دی۔ عدالت جرنیل کی زر خرید بن گئی امر کے اشارے پر فیصلے ہونے لگے مخالفوں کو پھانسی کی سزائیں دی جانے لگیں۔ اِسی عدالت میں تاریخ کا بہت بڑا کردار لایا گیا سقراط جس پر علم و آگہی اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا الزام تھا مقدمہ قائم ہوا اور سقراط کو بھی پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ سقراط نے اپنے سچ کے یقین پر زہر کے پیالے کو اپنے ہونٹوں سے لگا لیا اور کہا میں موت سے مغلوب ہو رہا ہوں اور تم بدی سے اور پھر اِسی یقین کی دولت کی وجہ سے سقراط قیامت تک کے لیے تاریخ کے اوراق میں امر ہو گیا۔

یقین کا ایک اور جلوہ آپ کی نذر یہ کہ حضرت فاروق اعظم کے دورمیں مصر فتح ہو چکا تھا۔ مصریوں کا یہ عقیدہ تھا کہ ہر سال جب دریائے نیل خشک ہو جاتا تو وہ نو جوان لڑکی کو دلہن بنا کر اُس کی گردن پر چھری پھیر کر خشک دریا کو انسانی خون کی بھینٹ دیتے جس سے دریائے نیل رواں ہو جاتا اور پھر تاریخ انسانی کے سب سے عظیم حکمران حضرت عمر فاروق کے دور میں بھی نیل خشک ہو گیا۔ اہل مصر نے انسانی خون کی بھینٹ چڑھانے کی درخواست دربار خلافت میں دی تو فاروق اعظم یقین سے بھر پور لہجے میں بولے یہ عقیدہ توحید اور ایمان کے منافی ہے انسانی جان نہیں دی جائے اور دریائے نیل کو میرا یہ پیغام دو دریائے نیل بہنا شروع ہو جائے گا۔ یقین کی عبارت ملاحظہ فرمائیں'' اے نیل اگر تو بھینٹ لے کر بہتا ہے تو قیامت تک خشک رہ اگر تو خدا کے حکم سے چلتا ہے تو خدا کا یہ بندہ عمر تجھے حکم دیتا ہے کہ تو بہنا شروع کر دے کیونکہ مخلوق خدا قحط میں مبتلا ہے'' اور پھر فاروق اعظم کا رقعہ نیل کی پاتال تک جیسے ہی پہنچا نیل کے کناروں سے پانی اچھلنے لگا۔

Author: