اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

چین کے ساحل کے پاس فیری ڈوب گئی

ہوا کے غبارے

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

خالقِ کائنات نے اِس خوبصورت رنگوں اور روشنیوں سے بھر پور کائنات کو سجا کر آخر اپنی شاہکار تخلیق حضرت انسان کو اپنا نائب بنا کر اِس جہان رنگ وبو میں بھیجا۔ رب ذوالجلال نے انسان کو فہم و آگہی بصیرت سے روشناس کرایا اِس کے اندر نیکی و بدی، اچھائی برائی کا تصور قائم کیا، پتھر کے دور سے لے کر آج تک اولاد آدم امن اور سکون کی تلاش میں لگی رہی مختلف، خوفوں سے جان چھڑانے کی سعی کرتی رہی، انسان نیکی پر آئے تو دشمن کو دودھ کا پیالہ پیش کر کے، قاتل کو اپنے ہی گھر میں پناہ دے کر فرشتوں کو حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے لیکن جب شر پر آتا ہے تو اپنے ہی بھائی کی آنکھوں میں آگ برساتی سلائیاں پھیر کر اُس سے بینائی چھین لیتا ہے اپنے ہی خون سے زمین کو رنگین کر دیتا ہے۔

اگر ہم تاریخ انسانی کا بغور مشاہدہ کریں تو یہ اٹل حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان کا ویری اصل میں انسان ہی رہا ہے اِس میں کوئی شک نہیں کہ موسمی طوفان بستیاں اُجاڑ گئے سیلابی موجوں نے آبادیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا زلزلے شہروں کو کھنڈرات میں بدل گئے وبائیں زندگیاں چاٹ گئیں وحشی درندوں نے انسانوں کا قیمہ بنا دیا لیکن انسان نے اپنا تسلط دوسروں پرقائم کرنے کے لیے بے شمار جنگیں لڑیں ہیں سچ تو یہ ہے کہ صرف ایک عالمی جنگ میں اتنے انسان صفحہ ہستی سے مٹ گئے کہ شمار کرنا مشکل ہے۔ انسان کے اندر دوسروں پر غلبہ پانے کا مرض اتنا خوفناک ہے کہ دوسروں کو فنا کرنے میں ہی اپنی بقا سمجھتا ہے، انسان کسی کو محکوم بنانے میں ہی اپنی سربلندی کیوں سمجھتا ہے۔ وہ اپنے عیش کدے کو قائم رکھنے کے لیے دوسروں کے گھروں کو کیوں ماتم کدے بناتا ہے اپنی بلندی اور دوسروں کو نیچا دکھانا ایسا زہر ہے جس نے روز اول سے انسانوں کو انسانوں کا قاتل بنا رکھا ہے اگر ہم انسان کی اِس جبلت پر غور کریں تو ایک ہی بات نظر آتی ہے وہ یہ کہ ہر انسان خود کو ضروری اور اہم خیال کرتا ہے اب یہ حقیقت ہے جو شخص خو د کو ضروری سمجھے گا وہ دوسروں کو فالتو اور حقیر جانے گا۔

اپنی ذات کی نمو کے لیے پھر حضرت انسان دوسرے انسانوں سے متصادم ہو جاتا ہے اپنی ذات کی کشش خدائے بزرگ وبرتر نے اِس بزم جہاں کی رونقیں بڑھانے کے لیے رکھی ہے تاکہ انسان زندگی سے بور نہ ہو جائے خالقِ کائنات نے یہ جذبہ ہر ذی شعور میں و دیعت کر دیا ہے اِسی جذبے کی بدولت بزمِ جہاں کی رونقیں قائم و دائم ہیں مگر نظام ِ قدرت کی خوبصورتی کی داد دینی پڑتی ہے کہ قدرت نے زندگی کی چولی کے ساتھ موت کا دامن لگا کر خو د ہی ضروری اور اہم کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے خو د کو ضروری اور نا گزیر سمجھنے کے زہر نے کرہ ارض کو جہنم بنا رکھا ہے اگر یہاں پر آنے والا ہر انسان اِس حقیقت کو پا ئے کہ جو بھی یہاں آیا اُس نے اپنا وقت گزار کر آخر کار یہاں سے چلے جانا ہے یہاں پر ہر گزرتا لمحہ فنا کے سمندر میں اترتا جا رہا ہے ہر گزرنے والا سیکنڈ آپ کی زندگی کو کم کرتا جا رہا ہے ہر دن آپ کو موت کے قریب لے کر جا رہا ہے اگر ہر انسان اِس حقیقت کو سمجھ لے تو یہ بزم دنیا کبھی بھی ماتم کدہ نہ رہے اور نہ ہی انسان کے ذہن میں کوئی فتنہ جنم لے سکے جس نے پوری دنیا کو عذاب مسلسل میں جھونک رکھا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی روح قفس انسانی سے آزاد ہوتی ہے انسانی جسم مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتا ہے آپ اِس کو جلا دیں کاٹ دیں ہسپتالوں کے مرد ہ خانوں میں جا کر دیکھیں کس طرح انسانی لاشوں کو ٹھنڈے ڈبوں میں بند کر کے نمبر لگا کر رکھ دیا جاتا ہے۔

اب انسان برف کی مانند بے جان گو شت کا ٹکڑا ہے یا پوسٹ مارٹم کے دوران آپ دیکھ لیں کس کس طرح سرجن ڈاکٹر انسانی جسم کی چیڑ پھاڑ کرتے ہیں انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا ہے لیکن یہی انسان جب اِس کے پھیپھڑوں کے اندر ہوا کی چند سانسیں ہوتی ہیں تو یہ خود کو دھرتی کا واحد مالک سمجھتا ہے تاریخ انسانی میں ہر دور میں ایک سے بڑھ کر ایک ظالم جابر اور طاقت ور پیدا ہوتا رہا ہے لیکن جب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رگوں میں دوڑتا گرم خون ٹھنڈا ہوتا ہے تو انسان اپنے غرور بھرے جسم پر قابو بھی نہیں رکھ سکتا جوانی میں جو انسان دوسروں کو چیرنے پھاڑنے پر تیار رہتا ہے زمین پر اکڑ کر چلتا ہے بڑھاپے میں اپنے ہی جسم پر اختیار نہیں ایسا رعشہ لرزتا انسان اور بیماریوں کی قیام گاہ انسان کو اپنی اوقات یاد آجاتی ہے زندہ اور مردہ انسان میں فرق جان کر آپ بھی بہت حیران ہو نگے چند سال پہلے امریکہ کے ایک ڈاکٹر نے اِس پر تجربات کئے لاس اینجلس کے ڈاکٹر ابراہام نے ایک انتہائی حساس ترازو بنایا وہ مرض الموت میں مبتلا مریضوں کو اُس ترازو پر لٹاتا مریض کے پھیپھڑوں میں موجود اکسیجن کا وزن کرتا اور پھر مرنے والے کی موت کا انتظار کرتا ڈاکٹر اپنی اِس تحقیق میں لگا رہا اُس نے انسانوں پر سینکڑوں تجربات کئے اور پھر یہ اعلان کیا کہ زندہ اور مردہ انسان میں فرق صرف 21 گرام کا ہے یعنی انسا نی روح 21 گرام کی ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے بقول انسانی روح اُس آکسیجن کا نام ہے جو انسان کے پھیپھڑوں میں چھپی ہوتی ہے جب کسی انسان کا آخری وقت قریب آتا ہے تو موت اُس پروار کرتی ہے اب موت پھیپھڑوں کے کونوں کھدروں میں پھنسی ہوئی 21 گرام آکسیجن کو زبردستی باہر نکال دیتی ہے جیسے ہی یہ 21 گرام آکسیجن پھیپھڑوں سے با ہر دھکیل دی جاتی ہے تو انسان کی موت کا سفر جاری ہو جاتا ہے انسانی جسم کے اعضا ٹھنڈے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں رگوں میں دوڑتا خون جمنا شروع ہو جاتا ہے سارے سیل مر جاتے ہیں اور انسان موت کے اندھے غار میں اُتر جاتا ہے اب یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ حضرت انسان کو زندہ رکھنے والی زندگی یا آکسیجن کا وزن صرف 21 گرام ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زندہ اور مردہ میں فرق جو 21 گرام ہیں ۔اِس میں ہوا کے ساتھ ساتھ ہمارے ارادوں خواہشوں تکبر غرور انا خودی کا وزن کتنا شامل ہے ہمارے وجود میں شامل غصہ تکبر غرور شہوت لالچ ظلم دوسروں پر غلبہ پانے کا رجحان دوسروں کو نیست و نابود کرنے کا زہر ہمارے ڈرامے فراڈ جھوٹ چالاکیاں سازشیں اور قیامت تک زندہ رہنے کی خوا ہش، ہم سارا دن انسانوں سے فراڈ اور جھوٹ بولتے ہیں اپنے ضمیر کا سودا کرتے ہیں دنیاوی جھوٹے خدائوں کے تلوے چاٹتے ہیں۔

معاشرے کے با اثر افسروں سیاستدانوں دولت مندوں کے سامنے میراثی بن کر خوشامدوں کے ریکارڈ تو ڑتے ہیں کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اِن 21 گراموں میں ہماری اکٹر تکبر غرور اور خدا کی نا فرمانی کا بوجھ کتنا ہے ہم مالک کائنات کی نافرمانی 21 گراموں کے بل بوتے پر کتنی دیر کرسکتے ہیں جب ہماری اوقات ہی 21 گرام ہے تو ہم کتنی دیر تک وقت کے گزرتے لمحوں سے خود کو بچا سکتے ہیں گردش لیل و نہار کے غبار سے ہم 21 گرام کو کتنی دیر بچا سکتے ہیں ہم کتنی دیر تک خالق کائنات کی نا فرمانی کر سکتے ہیں حیرت ہوتی ہے جب 21 گرام کا انسان خدا بن کر بولتا ہے دوسروں پر ظلم کرتا ہے دوسروں کا خدا بن کر تقدیر کے فیصلے کرنے کی کوشش کرتا ہے انسان یہ بھول جاتا ہے کہ 21 گرام محض ایک سانس ہے ایک آخری ہچکی ایک جھٹکا یا چھینک سے ہمارے جسم میں ایک منٹ میں 87 کروڑ حرکتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں ہمارے دماغ میں اربوں خیالات آتے ہیں ایک لمحے میں ہم ہزاروں منصوبے خیالات بناتے ہیں 21 گرام کو اگلے لمحے کا پتہ نہیں ہوتا 21 گرام کی اوقات پانچ ٹشو پیپر ہے۔

ہماری اوقات 21 گرام کا انسان خود کو کھربوں ٹن وزنی کائنات کا مالک سمجھنا شروع ہو جاتا ہے وقت اور زمانے کو پائوں کی ٹھوکر سمجھنا شروع ہو جاتا ہے کروڑوں انسانوں کا مالک سمجھنا شروع کر دیتا ہے 21 گرام کا انسان یہ بھول جاتا ہے کہ فرعون جیسا ظالم نیل کے پانی میں بتاشے کی طرح گھل گیا تو تیری کیا اوقات ہے آج تو مرے گا تو کل 21 گرام کا ایک خدا تیری جگہ لے لے گا کسی قبرستان جا کر دیکھ جن کے غباروں سے 21 گرام آکسیجن نکلی تو انہیں منوں مٹی کے نیچے دبا کر واپس آگئے 21 گرام کے غبارے کس جھوٹی شان کے ساتھ کر ہ ارض پر پھیلے ہوئے ہیں جیسے ہی کسی غبارے کی ہوا نکلتی ہے تو اُس کو زمین میں دبا دیا جاتا ہے اُس غبارے کی جگہ نیا غبارہ لے لیتا ہے۔

Author: