اشاعت کے باوقار 30 سال

پہلے یہ پڑھ لیں...!!!

پاکستان میں معاشی صورتحال کے پیش نظر بڑے شہروں پر دباؤ اس لئے بھی بڑ ھ چکا ہے کہ آس پاس کے علاقوں سے اُن شہروں میں کو چ کرنے والے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے ۔ شہر کے اطراف کے علاقوں میں نئی اور جدید ہاوسنگ سکیمیں بھی اب تقریباً بھر چکی ہیں اور لوگ مزید انتخاب کے خواہاں ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نوے لاکھ گھروں کی ضرورت ہے ۔جہاں ہر چیز کو مہنگائی نے متاثر کیا ہے وہی پراپرٹی کا شعبہ بھی متاثر ہوا ہے ۔ کل تک جو زمین کا قطعہ چند لاکھ کا تھا اب اس کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔ پاکستان کے سب سے بڑے پراپرٹی پورٹل زمین ڈاٹ کام کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں پراپرٹی کی قیمتوںمیں 118فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔اس اضافے کی بنیادی وجہ طلب و رسد کا نظام ہے ۔ ایک ہی چیز کے متعدد خواہش مند ہوںتو پھر اُس کی قیمت میں اضافہ ہونا معمولی بات ہے ۔ شہر کے بیچ میں گھر لینا تو عام آدمی کا خواب ہی ہو سکتا ہے ، اطراف میں بھی گھروں کی قیمتیں اتنی ہیں کہ اچھی تنخواہ پانے والا بھی یاس و حسرت کی تصویر بن جائے اور اگر یکمشت قیمت پر پلاٹ لینے کی بات تو وہ بھی آسان نہیں ہیں۔ اس مشکل کا حل یوں نکالاگیا ہے کہ اقساط پر پراپرٹی کو حاصل کیا جائے ۔ یہ ماڈل اس لئے بھی کامیاب رہا کہ بہت سے ایسے لوگ جو یکشمت قیمت ادا نہیں کر سکتے تھے‘ انہوں نے اس ماڈل کو قبول کیا ۔ اس ماڈل کے تحت آپ اپنا پلاٹ بک کرواتے ہیں اور پھر طے شدہ طریقہ کار سے قسطیں ادا کرتے ہیں ، اقساط کی ادائیگی کے ساتھ ہی آپ اُس جگہ کے مالک بن جاتے ہیں۔ پلاٹ کے علاوہ اقساط پر گھروں اور اپارٹمنٹ کا ماڈل بھی پاکستان میں موجود ہے ، تاہم سب سے زیادہ مقبولیت اور قبولیت اقساط پر پلاٹ یا اپارٹمنٹ لینے کو حاصل ہوئی ہے ۔
ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے نو سر بازوں نے لوگوں کی اس مجبوری کو سمجھا اور پھر پیسے سمیٹ کر رفو چکر ہو گئے ۔ چونکہ عوام الناس کو اس ضمن میں آگاہی نہیں تھی لہذا اُن کیلئے دھوکہ دہی کا عمل آسان ہوگیا۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے راقم کی جانب سے کچھ تجاویز زیل میں موجود ہیں،ان پر عمل کرتے ہوئے دھوکہ دہی سے بچا جا سکتا ہے ۔ آج کل یہ بہت عام ہے کہ بلڈرز اور ڈویلپرز پلاٹس کی فائلوں کا اعلان کرتے ہیں۔ان فائلوں کی فروخت کوئی غیر قانونی کام تو نہیں ہے تاہم اس ضمن میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔سب سے پہلے تو یہ یقین کر لیجئے کہ آپ جس فائل کو خرید رہے ہیں ‘ بلڈر یا ڈویلپر کے پاس وہ زمین بھی موجود ہونی چاہئے ۔ اگر اُس کے پاس زمین موجود نہیں ہے تو پھرمت لیجئے ، کیونکہ پراجیکٹ کی تاخیر کے علاوہ مستقبل میں دیگر مسائل کا بھی ممکنہ طور پر سامنا کر نا پڑ سکتا ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ اعلان شدہ پراجیکٹ مختلف حکام کی جانب سے منظور شدہ ہے ۔ ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ سبز باغ دکھانے پر سرمایہ کاری تو کر لی گئی تاہم بعد میں علم ہوا کہ چونکہ یہ منصوبہ حکام کی جانب سے منظورشدہ نہیں ہے لہذا سرمایہ کاری داؤ پر لگ گئی ۔لہذ ااس بات کی تسلی کیجئے کہ جو پلاٹ آپ نے خریدا ہے یا آپ اقساط پر بھی خریدنے لگے ہیں ‘وہ متعلقہ حکام کی جانب سے منظور شدہ ہے اور اُس کا این او سی موجود ہے ۔تیسری اہم چیز یہ بھی ہے کہ جس سوسائٹی میں آپ پلاٹ لے رہے ہیں ‘ اُس کے ڈویلپرز کے پاس اُس سوسائٹی کو بنانے کیلئے رقم بھی موجود ہونی چاہئے ۔ ایک کیس یہ بھی ہوتاہے کہ رقم کی کمی یا عدم موجودگی کی وجہ سے ڈویلپر اُس کو ڈویلپ کرنے میں قاصر ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے آپ کی سرمایہ کاری منجمند ہو جاتی ہے ۔ ایسی سوسائٹی جس میں آپ نے اقساط پر پلاٹ خریدا ہے اور اُس کے ڈویلپر کے پاس مطلوبہ رقم موجودہے تو وہ اُس کو جلدی ڈویلپ کر کے آپ کے حوالے کر دے گا۔
اقساط پر پلاٹ لینے کے حوالے سے سب سے اہم چیز اُس کے شرائط و ضوابط ہوتے ہیں۔ زبانی کلامی باتوں پر یقین مت کیجئے ، حتیٰ کہ دھوکے اس دور میں کسی کے وعدے اور قسم پر بھی اعتبار کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ صرف اُس پر یقین کیجئے جو کہ قانونی طور پر قابل قبول ہو۔ شرائط و ضوابط کو بغور پڑھیئے‘ اُن پر غور کیجئے ‘ جلد بازی میں کوئی بھی فیصلہ مت کیجئے بلکہ اس ضمن میں اپنے پڑھے لکھے احباب سے ضرور رابطہ کیجئے ۔ یاد رکھیں کہ قانونی دستاویز پر دستخط کر لینے کے بعد واپسی کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور پھر آپ اُس دستاویز پر عملدآمد کے پابند ہیں۔
اس بات کا بھی احتیاط رہے کہ بعض اوقات خفیہ ادائیگی کیلئے بھی پابند کر دیا جاتا ہے ۔ بغور پڑھئیے اور اس بات کا اطمینان کر لیجئے کہ پروسیسسنگ فیس‘ ٹرانسفر فیس‘ ڈویلپمنٹ فیس یا اس طرح کی دیگر اصلاحات کے نام پر آپ کو خفیہ ادائیگیوں کا پابند نہیں کیا جا رہا ہے ۔ آپ کی تمام تر شرائط بالکل شفاف ہونی چاہئے ۔ مزید براں اس با ت بھی اطمینان کر لیجئے کہ جو ڈویلپر آپ کو اقساط پر پلاٹ لینے کی ترغیب دے رہا ہے اس کا ماضی کیسا ہے اور اس کی مارکیٹ میں کاروباری ساکھ کیسی رہی ہے ۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے بلکہ کوئی بھی باخبر آپ کو اس ضمن میں بتا سکتا ہے ۔ اگر اُس ڈویلپر کی ساکھ مارکیٹ میں اچھی نہیں ہے تو اپنی سرمایہ کاری کو داؤ پر لگانے سے گریز کیجئے ۔
اقساط پر پلاٹ لینے کے بعد بھی اپنی پراپرٹی کا مستقل طور پر دورہ کرتے رہیں، ترقیاتی کاموں سے آگاہی لیتے رہیں ۔ اس سے نا صرف آپ حالات سے با خبر رہیں گے بلکہ آپ کی پراپرٹی بھی محفوظ رہے گی۔ مزید یہ کہ آپ کو علم رہے گا کہ آپ کی پراپرٹی کی قدر میں کس شرح سے اضافہ ہو رہا ہے اور مارکیٹ کے موجودہ حالات کس نوعیت کے ہیں۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ لوگوں کی سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے مارکیٹ کی ریسرچ کیجئے ۔ آپ کو کم از کم اتنا علم ہونا چاہئے کہ آپ جس جگہ پر اقساط پر پلاٹ خرید رہے ہیں ‘اُس کو مستقبل کیا ہے؟ کہیں ڈویلپر سبز باغ تو نہیں دکھا رہا ہے؟ کہیں فروخت کنندہ آپ کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھانے کے در پے تو نہیں ہے؟ کہیں آپ سے ناجائز منافع تو نہیں لیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی دھیان میں رکھیں کہ آپ کو جو دستاویزات دی جا رہی ہیں وہ متعلقہ بلڈر سمیت دیگر متعلقہ حکام سے منظورو تصدیق شدہ ہونی چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کو نقلی یا جعلی دستاویزات تھما دی جائیں اور جب آ پ اقساط کیلئے جائیں تو آپ پر یہ راز کھلے کہ آپ سے دھوکہ ہو چکا ہے۔ زمین خریدنا بے شک آسان کام نہیں ہے لیکن ذرا سی توجہ سے آپ نہ صرف اپنی جمع پونجی کی حفاظت کر سکتے ہیں بلکہ اپنے خاندان کو بہترمستقبل بھی دے سکتے ہیں۔ یاد رکھیئے کہ جلد بازی کے کاموں کا انجام عموماً اچھا نہیں ہوتا ہے اور جب تک لالچ زندہ ہے فراڈیا بھوکا نہیں مر سکتا ہے۔