اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

امریکہ داخلہ پر پابندی کی تاریخ

یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں جب امریکہ نے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگائی ہو، 1882 میں صدر چیسٹر اے آرتھر نے چینیوں کے داخلے پر پابندی کا قانون پاس کیا ، جس کی بنیادی وجہ امریکہ میں حد درجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری تھی۔
دوسری پابندی سیاسی انتہا پسندوں اور شرپسندوں کے داخلے پر لگی ،اس پابندی کے تحت بھکاریوں اور طوائفوں و بھی امریکہ داخل ہونے کی اجزت نہیں تھی ۔یہ پابندی 1901 میں شر پسند کے ہاتھوں صدر ولیم میک کینلے کے قتل کے بعد لگائی گئی۔
تیسری پابندی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے یہودیوں کے داخلے پر لگائی، دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کو جب چن چن کر مارا جا رہا تھا تو یہودیوں نے اپنی جان بچانے کے لئیے امریکہ کا رخ کیا لیکن یہاں ان کے داخلے پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی گئی کہ ان کی آڑ میں نازی بھی چھپ کر امریکہ داخل ہو رہے ہیں جو کہ امریکہ کے لئیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
1950 میں کانگرس نے داخلی سلامتی ایکٹ پاس کیا جس میں کمیونسٹ مہاجروں کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس کی بعض سقیں 1993 میں ختم کر دیہ گئیں باقی تاحال برقرار ہیں۔
7 اپریل 1980 کو ایران پر پابندی لگائی گئی۔ یہ پابندی صدر جمی کارٹر نے لگائی اور اس کی وجہ بنی ایران میں یرغمال بنائے گئے 52 امریکی سفارتکار۔ ایرانی طلباء تنظیم نےتہران میں امریکی سفارتخانے پر حملہ کر کے 52 امریکیوں کو 444 دن تک یرغمال بنائے رکھا۔
امریکی محکمہ صحت برائے عوام نے 1987 میں ایڈز کے مریضوں کے داخلہ پر پابندی کا قانون پاس کیا۔یہ قانون ہم جنس پرستوں اور اجنبیوں سے نفرت کی بنا پر عمل میں لایا گیا۔ صدر اوبامہ نے 2009 میں یہ پابندی اٹھا لی تھی۔

Author: