اشاعت کے باوقار 30 سال

صرف ''میں''

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
آجکل آپ وطن عزیز کے کسی بھی نیوز چینل کو آن کریں تو پاکستان کے نام نہاد سیاسی لیڈر اور اُن کے چمچے خو شامدی ٹو لے چیخ چیخ کر بلکہ دھاڑیں مارتے ہوئے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوتے ہوئے تلخ جملوں کا تبادلہ تو آپ چھوڑیں گالی گلوچ کرتے ہوئے نظر آئیں گے اِن خوشامدیوں کی زبانوں سے ایسے فقرے آپ بار بار سنتے ہوں گے '' میںیہ کہتا ہوں '' آج میں سب پر واضح کر دوں گا۔ میں سچ کہہ رہا ہوں ۔ تم جھوٹ کہہ رہے ہو تم اور تمہاری پارٹی کے سارے لوگ جھوٹے ہیں میں اور میرا لیڈر خلیفہء راشدین کا حقیقی جانشین ہے میں سب کچھ جانتا ہوں مجھے سب خبر ہے ۔ میں یہ فتویٰ دیتا ہوں میں تم کو دیکھ لوںگا میں اُن کو دیکھ لوں گا تمہاری حیثیت ہی کیا ہے میں تم کو اور کسی کو کچھ نہیں سمجھتا میں تمہاری کوئی بات نہیں سنوں گا۔ میں یہ گوارا نہیں کروںگا ۔

میں میں ہوں تم کچھ نہیں ہو میری یہ خو بی تمہاری یہ خامی ہے اِس ''میں ''کے چکر میں یہ ساری اخلاقیات رواداری بھول چکے ہیں اپنی میں کی تسکین کے لیے یہ آخری حدوں سے بھی گزر جاتے ہیں اِسطرح کے تلخ اور نو کیلے جملے ہمارے اجتماعی مزاج کی نشاندہی کرتے ہیں ہمارا اصل مسئلہ مفاہمت اور دوسروں کو برداشت نہ کرنا ہے قربت نفرت میں بدل رہی ہے رشتوں کا تقدس ہم بھولتے جارہے ہیں ارباب منبر و محراب دوسروں پر کفر کا فتویٰ کیوں لگا رہے ہیں اور اہل سیاست ترش رو کیوں ہوتے جا رہے ہیں باہمی برداشت کا جذبہ کمزور کیوں ہوتا جا رہا ہے دوسرے کی بات سننے اور اختلاف سہنے کا حو صلہ کیوں دم توڑتا جا رہا ہے معاشرے میں جڑنے کی جگہ کٹنے کا رجحان کیوں بڑھتا جا رہا ہے اگر ہم معاشرے کے اِس بڑے بگاڑ کا حقیقی جائزہ لیں تو اِس کی جڑ میں لفظ '' میں '' ہی نظر آتا ہے لفظ ''میں '' واحد صیغہ ہے جو اکیلے فرد کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ معاشرہ ایک فرد نہیں افراد کے مجمو عے کا نام ہے تو حقیقی مسئلہ تو یہی ہے کہ ہم ابھی تک انفرادیت کے خول میں بند ہیں۔

اجتماعیت کا رنگ ابھی تک ہم پر چڑھا ہی نہیں 'انفرادیت کی یہی ''میں ''آگے چل کر علاقائی عصبیت نسلی تفاخر لسانی تعصب اور قومیتی تفریق کو جنم دیتی ہے اِسی زہر کی وجہ سے ایک ملت اور ایک امت کا تصور کمزور ہو جاتا ہے اگر ہم لفظ '' میں'' پر غور کریں تو یہ ایک لفظ نہیں یا تکیہ کلام نہیں بلکہ ایک پورا نفسیاتی نظام ہے اِسی ''میں '' کی نفسیات کے مناظر ہم آئے دن اپنی سو سائٹی میں دیکھتے ہیں مثلا گائوں کے چوہدری کی کمی کمین سے گستاخی یا بے ادبی ہو تو چوہدری صاحب اُس غریب کو گائوں چھوڑنے کا حکم صادر فرماتے ہیں کہ میں تم کو الٹی میٹم دیتا ہوں شام سے پہلے گائوں چھوڑ کر چلے جائو اِسی طرح ایک سیاستدان اپنے ابھرتے ہو ئے مخالف امیدوار کو الیکشن سے پہلے موت کے گھاٹ کیوں اتار دیتا ہے کہ وہ سیاستدان کے مقابلے پر اپنے کا غذات نامزدگی جمع کرانے کی گستاخی کا مرتکب ہونے جا رہا تھا ۔

ایک فرقے کے خطیب نے اپنے نمازیوں کے ساتھ دوسرے فرقے کی مسجد پر دھا وا بول دیا مخالفین نے کچھ کو زخمی کیا کچھ حوالات چلے گئے دوسری مسجد والوں کا قصور یہ تھا کہ وہ پہلی مسجد والوں کی فقہ کو نہیں مانتے تھے۔ چوہدری کی ضد قتل کا حکم اور دوسری مسجد پر حملہ اِس کا تعلق بھی '' میں '' سے ہے۔ اِسی ''میں ''نے کسی کو ظالم 'کسی کو قاتل اور کسی کو حملہ آور بنا دیا میں چوہدری ہوں کمی کمین انکار کیوں کر ے پارلیمنٹ جانے کا خواب میں دیکھوں دوسرا اِیسی سوچ کیوں رکھے جس فقہ کو میں مانتا ہوں دوسرے اِس فقہ سے انکاری کیوں ؟

محترم قارئین آپ ملا حظہ فرمائیں اصل نفسیا تی مسئلہ میں ہی ہے حکمران پارٹی اپنے مخالفین کے علاقوں میں ترقیاتی کام نہیں کرتی دودھ میں میں گنیاں ڈال کر رکاوٹ پیدا کی جاتی یہاں بھی اصل مسئلے کی جڑ '' میں '' ہی آجاتی ہے یہ میں کسی حکمران اپوزیشن یا بیوروکریٹ کے دماغ میں آکر زہر بن کر دوسروں کی زندگی اجیرن بنادیتی ہے اس ''میں '' نے سیا ست کے میدان کو تو گدلا کیا ہی ہے اب یہ میں ہماری معاشرتی زندگی میں بھی ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے آپ انسانوں کی نفسیات کا بغور مطالعہ کریں تو دن رات چوبیس گھنٹوں میں معاشرتی تقریبات نجی محفلوں جلسوں جلوسوں مختلف مزاکرات گھریلو بات چیت اور روزمر ہ کی گفتگو میں یہ لفظ تو اکثر زبانوں سے نکلتا ہے آپ کسی بھی قسم کی گفتگو اگر غور سے سنیں تو چند جملوں کے بعد آپ کو یہ سننے کو ملتا ہے میں یہ کہتا ہوں نہ تو متکلم اِس لفظ کو بولنے میں شرم محسوس کرتا ہے اور نہ ہی مخاطب کو کسی بھی قسم کی الجھن ہوتی ہے آپ حکمرانوں کی محفلوں کو دیکھیں نجی محفلوں کا روباری حلقوں میں پورے معاشرتی رکھ رکھائو میں چو پال ہو یا مذہبی حلقوں کی مجلس ہر جگہ '' میں '' کی تکرار بار بار نظر آتی ہے کبھی جان بو جھ کر کبھی غیر شعوری طور پر یعنی یہ لفظ شاہ و گدا کے ہر جملے میں کہیں نہ کہیں آپ کو نظر آئے گا شاہی فرمان میں کہا جاتا ہے میں حکم دیتا ہوں فلاں مجرم 24 گھنٹوں میں پیش کیا جائے

اندھا فقیر بھی کہتا ہے میں بینائی سے محروم ہوں مجھے روپیہ دو' دونوں لہجوں میں ''میں '' کا لفظ موجود ہے آپ دیکھیں تو '' میں '' میں آپ کو انا ''خو دی '' نظر آئے گی اور اگر یہی لفظ ''میں'' خو دی میں ڈھل جائے تو سبحان اللہ اور اگر اِس میں فرعونیت جھلکے تو نعوذ باللہ '' انا اول المسلمین '' ( میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ) یہ رسول ۖ کا لہجہ ہے اور '' انا خیر منہ '' (میں سب سے بہتر ہوں ) یہ جملہ ابلیس کا ہے جو اُس نے صدیوں کی عبادت کی بنا پر آدم پر اپنی بر تری کے لیے غرور سے کہا۔

اگر آپ معاشرتی بگا ڑ کا بغور مشاہدہ کریں تو آپ کو لہجوں کی تلخی اور دوسروں پر برتری چاہے علم کی ہو یا طاقت کی ہر جگہ پر ہی لفظ '' میں '' ہی نظر آتا ہے۔ حقیقت میں وطن عزیز کا مسئلہ نہ تو وسائل کی کمی ہے اور نہ ہی افرادی قوت کم ہے نہ ہی ہنر مندوں کی کمی ہے نہ ہی زرخیز زمینوں اور زرخیز دماغوں کی نہ ہی محنت کشوں کی کمی ہے لیکن تمام وسائل کے باوجود اگر ہم پسماندہ ہیں تو یہی '' میں '' کا زہر ہے جس نے ہر ایک کو زہر آلودہ بنا کر رکھ دیا ہے سوچ کی تقسیم آگے بڑھنے کی بجائے رکاوٹ کا کام کر رہی ہے اب اگر پہیہ آگے کی بجائے پیچھے یا رک جائے گا تو ترقی کا ہم صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں ملکی ترقی کے لیے ہمیں ''میں'' کو ختم کرنا ہو گا اگر آپ نے ''میں ''کو نہ دیکھنا ہو کسی درویش صوفی کے پاس جا ئیں جس نے تزکیہ نفس سے '' میں '' کے سانپ کو کچل دیا ہوتا ہے۔

کسی گائوں میں ایک صوفی بزرگ سیدھے سادے ہوا کرتے تھے تیری میری سے آزاد 'میں اور تو کے چکر سے بھی آزاد اُن کی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ پو ری زندگی '' میں '' کے چکر میں نہ پڑے کبھی نہ کہا میں نے کہا میں نے کیا میں بیٹھا بلکہ تم کہتے عاجز فقیر بندہ مشتِ غبار طالب علم وغیرہ ایک دفعہ کسی مُلا کو جوش آیا تو فخر سے کہا میں آج اِس درویش کے منہ سے میں کا لفظ نکلوا کر رہوں گا مولوی صاحب فرش نشیں درویش کے پاس آیا اور کہا جناب میرا ایک سادہ سا سوال ہے آپ نے اُس کا فلسفیانہ انداز میں نہیں آسان لفظوں میں جواب دینا ہے ایک لفظی سوال ہے ایک لفظی جواب ہونا چاہیے فقیر بولا فرمائیں تو مولوی صاحب بولے ابلیس کو کس چیز نے دربار حق سے نکالا کس نے بر باد کیا۔

مولوی صاحب بڑے جوش میں تھے کہ آج فقیر بابا قابو آگیا آج فقیر درویش کو کہنا پڑے گا کہ ابلیس کو اُس کی '' میں '' نے مارا یہی سیدھا سا جواب ہو گا خاک نشین درویش خاموش ہو گئے اِس دوران مئوذن نے تکبیر کہہ دی تو بزرگ نے فرمایا پہلے نماز پڑھ لیں بعد میں جواب دینے کی کوشش کروں گا اب بزرگ امامت کے لیے کھڑے ہو گئے نماز پڑھنے کے بعد آپ نے مقتدیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ ابلیس کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کون تھا تو صف میں موجود مولوی صاحب جھٹکے سے اُٹھے اور بولے جناب '' میں '' تو درویش نے شفیق تبسم سے فرمایا بس اِسی چیز نے ابلیس کو برباد کیا تھا یہ سن کر مولوی شرمندہ اور غرق ندامت ہوگیا۔

Author: