اشاعت کے باوقار 30 سال

اردو ادب کا سورج غروب ہوا

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
روزِ اول سے اِس کرہ ارض پر ہر دور میں کروڑوں انسانوں میں چند افراد ایسے ہوتے ہیں جو سب سے نمایاں ہوتے ہیں کروڑوں کے اِس ہجوم میں زیادہ تر کھایا پیا افزائش نسل کا حصے بنے اور مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوتے چلے گئے، انسانوں کی اکثریت تاریخ کے کوڑے دان میں غائب ہو جاتی ہے لیکن بعض اوقات قدرت انسانوں اور دھرتی پر کرم خاص کرتے ہوئے بے پنا ہ قوتوں کے حامل انسانوں کو بھی پیدا کرتی ہے ایسے لوگ عطیہ خداوندی ہوتے ہیں اور پھر خدائے بزرگ برتر سزا کے طور پر اِن کو چھین لیتی ہے۔

کروڑوں کے اِس ہجوم میں حقیقی انسان کم ہی ہوتے ہیں اور زندگی کے تمام شعبوں میں رجال کار کم ہوتے ہیں جو دیر بعد گلشن ِ حیات میں اترتے ہیں اور پھر دیر تک جریدہ عالم پر ثبت رہتے ہیں۔ مذہب، سیاست، علم و فن اور شعر و ادب عرض جملہ گوشہ ہائے حیات اِنہی روشن لوگوں کے دم سے آباد ہوتے ہیں۔ ملٹی پل صفات سے مالامال یہ خاص لوگ، خاص زبانوں کے لیے خاص رشتوں کے لیے، سورج کی طرح کسی خطے میں طلوع ہوتے ہیں۔ یہ لوگ سستے اور عام نہیں ہوتے، ایسے لوگوں کو پانے کے لیے ملک کو برسوں گردش کرنی پڑتی ہے چشم فلک خاک چھان کر اُنہیں ڈھونڈتی ہے ایسے گوہر نایاب موتیوں کے لیے صلاف کو برسوں گہرے سمندروں میں مراقبہ کرنا پڑتا ہے انہی دیدہ وروں کے لیے نرگس کو بہت آنسو بہانے پڑتے ہیں یہ لوگ کروڑوں دعائوں کا ثمر ہوتے ہیں، یہی زمین کا نمک ہوتے ہیں، سینکڑوں ذہنوں کا عطر ہوتے ہیں، اِن کی سوچ سے دماغ جلا پاتے ہیں اِن کے کردار کی روشنی سے معاشرے حیات نو پاتے ہیں اِن کے وجود سے ملکوں کے نام زندہ ہو جاتے ہیں۔ اِن کے علم کی روشنی سے صدیوں سے بے نور اندھی روحوں کو بینائی عطا ہوتی ہے۔

انسانیت ایسے نادر اور نابگاہ روزگار انسانوں کی صدیوں راہ دیکھتی ہے اور پھر وہ گھڑی بھی آتی ہے جب ایسے روشنی کے مینار کوچہ فنا میں اُتر جاتے ہیں۔ موت برحق ہے اور بے وقت بھی نہیں آتی اور مسلمان کے طور پر ہمیں شکایت کرنے کا بھی حق نہیں ہے کیونکہ خالق ِ کائنات کی رضا میں ہی زندگی ہے مگر بعض اوقات موت ملکوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے بعض اوقات موت کے حسن انتخاب کی داد دینی پڑتی ہے وہ گلشنِ حیات سے چن کر وہ پھول توڑتی ہے جس کے دم سے بزم حیات مہکتی ہے یہ بزم دنیا کا ایسا چراغ بجھاتی ہے جن کی روشنی سے وہ قائم و دائم ہوتی ہے۔ اربوں انسانوں میں سے ایسے فرد کو اُچک لیتی ہے جس سے انسانیت کا بھرم قائم ہوتا ہے۔ یہ کہکشاں کے اُس روشن ستارے کو بجھاتی ہے جو سب سے روشن ہوتا ہے خاندان کے اُس فرد پر وارد ہوتی ہے جو پورے قبیلے کی آبرو ہوتا ہے اور دھرتی کو اُس سے محروم کرتی ہے جو زمین کا نمک ہوتا ہے۔

کرہ ارض پر موجود کروڑوں ایسے انسان ہیں جن کو زندگی کے حقیقی معنوں کا ہی نہیں پتہ 'جن کا وجود ایک چلتی پھرتی مشین یا لاشہ ہے جن کے پیکر چونا کی ہوئی قبر کے برابر ہیں جن کا ہونا نہ ہونے سے بڑا عیب ہے جن کو جن کے مائیں پچھتائیں 'ایسے لوگ تو رہ جائیں اور وہ چلے جائیں جن کی زندگی حاصل بندگی ہو، جن کے پیکر نازش بشر ہوں، جن کی سانس علم و فکر کی آس ہو، جن کا ہونا غنیمت اور چلے جانا قیامت ہو، جن کو پیدا کر کے مائیں تاریخ کے اوراق میں امر ہو جائیں 'جو زاد گان آفتاب ہوں اور منزل نور کے مسافر ہوں۔ برصغیر پاک و ہند کی ادبی تاریخ میں سب سے اوپر نمایاں نام ماں جی بانو قدسیہ کا ہے جو اردو ادب کے ساتھ ساتھ جہاد زندگی، خو داعتمادی، محنت شاقہ اور درویش منش کے حوالے سے سب سے منفرد اور نمایاں مقام رکھتی تھیں جنہیں آخر کار قدرت نے سزا کے طور پر ہم سے چھین لیا۔ برصغیر کا رہنے والا ہر وہ شخص جو اردو ادب سے واقفیت رکھتا ہے وہ یقینا ماں جی کے نام سے اچھی طرح واقف ہے میری ممدوح نے مردہ لفظوں کو مسیحا بنا دیا۔ میں خود کو ان لوگوں میں ہرگز نہیں شامل کرتا جو یہ دعویٰ کر سکتے ہوں کہ انہیں ماں جی کا قرب حاصل تھا تاہم اِس اعزاز کا حامل ضرور ہوں کہ ماں جی کی طرف سے حوصلہ افزائی اور شفقت میسر رہی اور میرے جیسے مشت غبار حقیر ناچیز کم سواد کے لیے اتنا بھی بہت کچھ ہے کیونکہ مجھے اپنی اوقات کا ہر لمحے اندازہ رہتا ہے۔

مجھے آج بھی وہ رات یاد ہے جب میں چند سال پہلے اپنی کتاب پر چند لفظوں کی بھیک مانگنے اُن کے در پر گیا برادرم اسیر خان نے پہلے سے انہیں میرے بارے میں بتا رکھا تھا کیونکہ روحانیت تصوف ماں جی کا بھی اوڑھنا بچھونا تھا میری کتاب روحانیت تصوف پر تھی اور پھر جب میں بے ترتیب سانسوں سے اُس کمرے میں داخل ہوا جہاں برصغیر کی سب سے بڑی لکھاری وہیل چیر پر موجود تھیں رنگ و نور میں لپٹی ماں جن کے چہرے پر سینکڑوں نوری چاند روشن تھے اور پھر میرے باطن سے عقیدت و احترام کا انہار ابل پڑا میں بڑھا اور جاں کر ماں جی کے قدموں میں بیٹھ گیا ماں جی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تو اُن کی روشن آنکھوں سے چھلکتا نور میرے باطن کے نہاں خانوں کو روشن کرتا چلا گیا پھر ماں جی بولتی رہیں میں بت بنا اپنی آنکھوں کو روشن کرتا رہا ماں جی کی شہد میں لپٹی آواز میرے کانوں میں رس گھولتی رہی اور پھر یہ اعزاز مجھے بعد میں بھی ملتا رہا۔ ''ایک دن ان کے کو چے سے گزرا تھا میں ' پھر یہی روز کا مشغلہ بن گیا '' والا معاملہ بن گیا۔ ماں جی بلا شبہ برصغیر میں ادب کا وہ سورج تھیں جن کی روشنی سے ہزاروں میرے جیسے اندھوں نے روشنی سمیٹی 'ماں جی 28 نو مبر 1928 کر مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں پاکستان بننے کے بعد لاہور کو رونق بخشی آپ بچپن میں ہی یتیم ہو گئیں تھیں آپ کو بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا پانچویں جماعت سے لکھنا شروع کیا جو 88 عمر تک جاری رہا 1949 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا یہاں پر اشفاق احمد سے ملاقات ہوئی جو اُن کے کلا س فیلو تھے 1956 میں آپ کی شادی اشفاق احمد سے ہو گئی اور پھر اِس جوڑے نے ریڈیو ٹی وی کے لیے لکھنا شروع کیا پاکستان ٹی وی کے شاہکار ڈرامے اِن دونوں کے حصے میں آئے لیکن 1981 میں شائع ہو نے والا ناول راجہ گدھ بانو قدسیہ کے شہرت کے آسمان پر ابد تک امر کر گیا جس طرح بانو قدسیہ جی نے اسلامی اخلاقیات سے عدم وابستگی کو انتشار کا سبب بتایا اِس نے قاری کو سحر زدہ کر دیا بانو جی نے 27 کے قریب ناول کہانیاں اور ڈرامے لکھے 'راجہ گدھ کے علاوہ امر بیل 'باز گشت 'دوسرا دروازہ 'تمثیل 'حاصل گھاٹ 'آدھی بات 'ایک قدم 'بابا صاحبا ' دست بستہ، دوسرا قدم، فٹ پاتھ کی گھاس، ہوا کے نام، موم کی گلیاں، پیا نام دیا 'شہربے مثام ، سورج مکھی ایسے بے مثال ادب کے شہ پارے ہیں کہ جب تک اردو ادب زندہ ہے با نو قدسیہ جی کا نام امر رہے گا ۔ موم کی گلیاںپر جو آپ لکھ گئیں ہیں اور اِس کے با رے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔ لکھنے والے تو ہزاروں ہیں لیکن جو انداز قدرت نے ماں جی کو بخشا تھا یہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا بعض لوگ علم کا سمندر ہوتے ہیں لیکن کسی پیا سے کو چلو بھر پانی نہیں دیتے جبکہ آپ کی کوئی کتاب آپ اٹھالیں آپ کی سوچ کے دریچے وا کرتی چلی جائے گی۔

آپ کی ہر تحریر دوسروں سے بہت منفرد اور چشم کشا ہے قاری اُس کے سحر میں اِسطرح ڈوبتا ہے کہ دنیا ما فیا سے بے خبر ہو جاتا ہے آپ کی تحریروں میں بے جان مردہ لفظ بولتے نظر آتے ہیں وطن عزیز میں آجکل دانشوروں کو لکھا ریوں کو مغرب نوازی کا دورہ پڑا ہوا ہے ہر دانشور مغرب نوازی کی جگالی کرتا نظر آتا ہے مغرب نوازی بڑے لکھاری ہو نے کی وجہ سمجھی جاتی ہے جبکہ ماں جی نے پورے فخر کے ساتھ مشرقی اسلامی روایات اخلا قیات قدروں کو زندہ جاوید کر دیا ہے آپ جیسے لوگ لیل و نہار کی ہزار گردشوں کے بعد نمو دار ہو تے ہیں۔
بھیڑ میں دنیا کی جانے وہ کہاں گم ہو گئے
کچھ فرشتے بھی رہا کر تے تھے انسانوں کیساتھ

Author: