اشاعت کے باوقار 30 سال

تھانہ کلچر

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
میرے سامنے اپنے وقت کا مشہور ظالم سفاک تھانیدار بے بسی کی تصویر بنا بیٹھا تھا جب اِس کی رگوں میں جوان خو ن دوڑتا تھا تو یہ کہتا تھا اِس شہر کا واحد حکمران میں ہی ہوں لوگوں کی عزت بے عزتی میرے دم سے ہے جسے چاہوں عزت دوں جس کو چاہوں اُس کی زندگی اجیرن کردوں میرے جیسا کو ئی نہیں یہ خود کو کنگ میکر اور طاقت کا پہاڑ سمجھتا تھا اور آج جب یہ کار سے نکل کر میری طرف آرہا تھا تو دو بندوں نے اِس کے فالج زدہ جسم جو سہا را دیا ہوا تھا۔

اِس کی ٹانگیں اِس کا وزن اٹھا نے کی بجا ئے زمین پر گھسٹتی ہو ئی آرہی تھیں طاقت کے پہاڑ کی آج یہ اوقات تھی کہ اپنا جسم ہی نہیں سنبھالا جا رہا تھا۔ دوسروں پر ظلم کرنے والا آج خود بے بسی کا مجسمہ بنا ہوا تھا اِس کے چہرے پر جہاں جوانی اور سرخی کے سورج روشن رہتے تھے۔ آج ویرانی اور سیاہ رات نے قبضہ جما رکھا تھا آنکھوں اور چہرے پر چھائی ویرانی اِس کے چہرے اور جسم کو کھنڈر بنا چکی تھی طاقت اور جوانی کب کی رخصت ہو چکی تھی اب تو کمزوری بیماری اور بڑھاپے کا قبضہ تھا۔

آج تو اِس کے چہرے پر نرمی کے تاثرات تھے جوانی میں ہر وقت اِس کے چہرے پر غرور اور ظلم کے شعلے رقص کرتے تھے اِس ظالم کے ساتھ آئے شخص نے جب بتایا کہ اپنے زمانے کا مشہور و معروف نامی گرامی تھانیدار ہے تو میرے دماغ میں کئی سال پہلے کا وہ تھانہ تھانیدار اور ظالمانہ تھانہ کلچر آگیا ۔ جب اِس تھانیدار کے اقتدار کا سورج سوا نیزے پر تھا اقتدار اور جوانی نے اِس کو پاگل وحشی بنا کر رکھ دیا تھا اپنی خوفناک شہرت کو قائم اور بڑھانے کے لیے یہ بڑے سے بڑا ظلم کرنے سے بھی نہیں گھبراتا تھا۔ مجھے آج بھی و ہ دن یاد تھا جب میں کسی دوست کی مدد کے لیے اِس کے تھانے میں ایف آئی آر کی نقل لینے گیا تھا میں اور میرا دوست کسی بڑے پولیس افسر کا فون کرا کر گئے تھے جب ہم تھانے پہنچے تو ایس ایچ او صاحب تھانے میں نہیں تھے ہمیں کہا گیا کہ تھانیدار صاحب گشت پر گئے ہیں تھانے میں موجود عملہ بھو کے خونخوار بھیڑیوں کی طرح منہ کھولے بیٹھا تھا کہ کونسی مرغی کس طرح ذبح کرنی ہے کسی مرغی سے پیسے کسی سے چائے مٹھائی کسی سے کولڈ ڈرنکس منگوائے جا رہے تھے۔

کسی سے موبائل فون میں بیلنس کی ڈیمانڈ جاری تھی ہر آنے والے سائل کو کس طرح لوٹنا ہے کتنا لوٹنا ہے یہ عمل انتہائی بے دردی سے جاری تھا۔ تھانے کا تمام عملہ بے دردی بے رحمی سے لوٹ مار کر رہا تھا۔ ہم مجبورا ً تھانیدار صاحب کا انتظار کر رہے تھے ہمیں انتظار کو تقریبا ً تین گھنٹے گزر گئے تو تھانے کے پچھلے حصے سے تھانیدار سر پر خضاب لگائے بڑی توند کے ساتھ نمودار ہوئے پیٹ اتنا پھولا ہوا تھا کہ جیسے ابھی پھٹ جائے گا۔ تھانیدار صاحب نے آتے ہی دو نوجوان لڑکوں کو بری طرح مارنا پیٹنا شروع کر دیا وہ وحشیانہ انداز سے لاتوں گھونسوں سے نوجوان نازک سے لڑکوں کو مار رہا تھا کہ تمہاری ایسی کی تیسی تم مجھے جانتے نہیں تم کو جرات کیسے ہوئی میں تم کو زندہ نہیں چھوڑوں گا میں ذبح کر کے رکھ دوں گا۔

وہ دونوں لڑکوں کو اس ظالمانہ طریقے سے مار رہا تھا جیسے اُن کی ہڈیاں توڑ کر رکھ دے گا اُن بیچاروں کو اتنا مارا کہ ان کے چہرے لہولہان ہو گئے بچوں کے چہروں پر خون دیکھ کر اُن کا بوڑھا باپ تیزی سے آگے بڑھا اور تھانیدار صاحب کے قدموں میں لیٹ گیا سرکار معاف کر دیں خدا کے لیے معاف کر دیں آئندہ یہ غلطی نہیں کریں گے بچوں کی غلطی صرف اتنی تھی کہ پولیس کے روکنے پر انہوں نے مو ٹر سائیکل نہیں روکی تھی بچے دہائی دے رہے تھے کہ ہم نے ٹائم پر اکیڈمی جانا تھا۔ تھانیدار صاحب اِس لیے مار رہے تھے کہ شہر میں اِن کی دہشت پھیل جائے اور دوبارہ کوئی اِن کے یا اِن کے عملے کی حکم عدولی نہ کر سکے بعد میں پتہ چلا کہ اِس طرح مارنے کا مقصد یہ بھی تھا کہ تھانے میں آئے ہوئے باقی لوگوں پر دہشت پڑ سکے تھانیدار صاحب کے قدموں سے لپٹا ہوا تھا بو ڑھے با پ نے اپنی گھڑی اور پیسے تھانیدار صاحب کو دئیے تو تھانیدار صاحب کا غصہ ٹھنڈا ہوا اب تھانیدار صاحب اپنی کرسی پر جلوہ گر ہوئے اب ایک اور بوڑھا باپ جو اپنے بیٹے کا کھانا لے کر آیا تھا۔ ڈرتے ڈرتے پیش ہوا کہ اُس کی ملاقات اُس کے بیٹے سے کرا دی جا ئے اور اُس کا کھانا بھی دیدیا جائے۔ 'ایس ایچ او صاحب نے دھا ڑتے ہوئے کہا ہمیں پیٹ نہیں لگے ہمیں کھانا کون کھلائے گا۔

بوڑھے باپ نے فریاد کی جناب آپ بھی کھالیں تو تھانے دار صاحب نے حکم جاری کیا جائو فلاں ہوٹل سے ہمارے لیے مٹن کڑاہی بنوا کر لائو بوڑھا باپ لرزتا کانپتا چلا گیا اِس دوران دوسری مرغی کو فروٹ لانے بھیج دیا کسی کو سٹیشنری کسی سے کیا کسی سے کیا کافی دیر بعد بوڑھا باپ مٹن کڑاھی کے ساتھ واپس آیا تو دوسرا حکم یہ جاری کیا۔ بابا جی کولڈ ڈرنکس اور روٹیوں کے بنا کیسے کھائیں گے اب بوڑھا باپ روٹیاں اور کولڈ ڈرنکس لینے چلا گیا جب بوڑھا باپ واپس آیا تو یہ مٹن کڑاہی پر ٹوٹ پڑا کھانے کھانے اگلا آرڈر یہ جاری کیا کہ فلاں مٹھائی کی شاپ سے یہ مٹھائی لے کر آئوں بوڑھے نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا جناب آپ تو اب کھا رہے ہیں اب مجھے میرے بیٹے سے ملنے دیا جائے تاکہ میں اُس کو کھانا دے سکوں لیکن اِس فرعون نے دھاڑتے ہوئے کہا اے بابے جا مٹھائی لے کر آ ورنہ تیری ملاقات نہیں ہوگی شدت کرب اور غم کی وجہ سے بوڑھے باپ کی آنکھوں سے آنسوئوں کی مو سلا دھار بارش جاری تھی۔ بیچارے باپ کا بس نہیں چل رہا تھا مجبور باپ بیٹے کی محبت میں اِس کی نوکروں کی طرح خدمت کر رہا تھا یہ فرعون بنا آرڈر پر آرڈر دے رہا تھا اور بے چارہ مظلوم باپ اِس کا ہر ظالمانہ حکم ماننے پر مجبور تھا اور یہ ظالم ہم سب کو اپنی رعایا اور کیڑے مکوڑے سمجھ کر مسندِ اقتدار پر فرعون بنا بیٹھا تھا یہ ہم سب کو مجرم سمجھا بیٹھا تھا مذہب اخلا قیات شرافت وضع داری ایمانداری محبت پیار خلوص خدمت خلق اللہ رسول کا خو ف اِس کے قریب سے نہ گزرے تھے۔

یہ اپنی طاقت اور وحشت پر ناچ رہا تھا اور مظلوموں کو نچا رہا تھا آخر بوڑھا باپ اِس ظالم کی من پسند مٹھائی لے کر آیا تو اِس نے اُس پر تمسخرانہ نظر ڈالی اور کہا جا اپنے حرامی بیٹے کو کھانا کھلا دے اس کے ساتھ اور بھی گالیاں دیں گالیاں سن کر باپ تڑپ رہا تھا لیکن خوف سے بول نہیں سکتا تھا بوڑھا باپ چلا گیا تو میں اور میرا دوست اس کے دربار میں پیش ہو گئے۔ اِس نے قہر آلودہ نظروں سے ہماری طرف دیکھا کہ ہم کو ن گستاخ ہیں جو اِس کی اجازت کے بغیر اِس کے سامنے آکر بیٹھ گئے یہ آرام سے مٹھائی اور کولڈ ڈرنکس سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ فارغ ہونے کے بعد اِس نے عجیب حرکت کی ہماری طرف متوجہ ہوئے بغیر سامنے پڑے ویزیٹنگ کارڈ پڑھنے شروع کر دئیے کارڈ دیکھنے کے ساتھ اپنے عملے سے باتیں اور احکامات بھی صادر کر رہا تھا ظالم جان بوجھ کر ہمیں نظر انداز کر رہا تھا کچھ دیر تک تو ہم اِس کی توہین آمیز حرکتیں برداشت کرتے رہے لیکن جب ہمارا پیما نہ صبر چھلک پڑا تو میں نے ہاتھ بڑھا کر اِس کے ہاتھ سے ویزیٹنگ کارڈ چھین لیے اور کہا جناب ہم یہاں تمہاری منحوس شکل دیکھنے نہیں آئے میری اِس حرکت سے غصے سے پاگل ہو گیا ساتھ ہی میں نے پولیس کے اعلی آفیسر کا نمبر ملا کر اِس کو کہا اپنے باپ سے بات کرو فون سنتے ہی چوہا بن گیا او جناب آپ نے بتایا کیوں نہیں جناب حکم اب اِس کے یقینی چہرے پر خو شامد آگئی تھی تھانیدار صاحب اِس ظلم سے باز آجائیں روز محشر بھی برپا ہونا ہے اب یہ جناب جناب تعمیل ہو گئی کر رہا تھا اور پھر ہم واپس آگئے اور آج کتنے سالوں بعد یہ بے بسی کی تصویر بنا میرے سامنے بیٹھا تھا خدا کی لاٹھی حرکت میں آچکی تھی ۔

Author: