اشاعت کے باوقار 30 سال

انٹرپرینیوئرشپ کیوں ضروری ہے؟

انٹر پرینیوئرشپ ایک اصطلاح کا نام ہے۔یہ کہنا کہ انٹرپرینیوئرشپ ایک اچھوتے خیال سے لیکر اس کی تکمیل تک کے سفر کا نام ہے تو یہ بھی غلط نہیں ہوگا۔ اس وقت دنیا میں کئی نامور انٹرپرینیوئرز ہیںاور بلا شبہ انہوں نے کاروبار کرنے کے پرانے طریقوں کو بالکل بدل دیا ہے ۔ انٹرپرینیوئرشپ اوراسٹارٹ اپ بزنس اس وقت عالمی سطح کی معیشت میںخاصی اہمیت اختیار کر چکے ہیں،حتیٰ کہ فیصلہ ساز اس ضمن میں نئی پالیسیاں اور منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں کیونکہ معیشت دانوں کی رائے میں معاشی مستقبل انٹرپرینیوئرشپ کا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں اس قسم کے کاروبار کو کافی پذیرائی بھی حاصل ہوتی ہے ۔ پاکستانی بھی انٹرپرینیوئرشپ میں کسی سے کم نہیں ہے۔نوجوانوں نے گزشتہ دہائی میں ملک میں نئے ادارے قائم کئے اور ان کو کامیابی سے آگے بھی بڑھایا ہے۔آج اس بات کی ضرورت ہے کہ انٹرپرینیوئرشپ کو نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ وہ بچے جن کے ذہن ابھی کچی سلیٹ ہیں‘ وہ بھیڑ چال کا شکار ہونے کی بجائے کوئی ایسا کام شروع کر سکیں جو کہ اُن کیلئے فائدہ مند ہو، ملکی معیشت کیلئے سود مند ہو اور بے روزگاری کے اس عالم میں نوکریاں پیدا کر سکے ۔ انٹرپرینیوئرشپ پاکستان میں بیروزگاری کے مسائل سے نبردآزما ہونے کیلئے بھی معاون ثابت ہو سکتاہے کیونکہ یہ شعبہ عالمی سطح پر اربوں ڈالر کی صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ابھی تک ہم نے اس کو ٹھیک پیرائے سے سمجھا ہی نہیں ہے ۔
حکومت پاکستان اس وقت انٹرپرینیوئرشپ میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے اس کی معاونت تو کر رہی ہے لیکن بہتری کی گنجائش بہرحال ابھی بھی موجود ہے۔2011ء میں ’گلو بل انٹرپرینیئورشپ مانیٹر ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عوام کی ایک بڑی تعداد انٹرپرینیوئرشپ کی طرف مائل نہیں ہے۔اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نئے ملکیتی کاروبار کی شرح 1.78%ہے۔ یہ شرح ترقی یافتہ ممالک کی نسبت بہت ہی کم ہے۔ آج کی تاریخ میں ضرورت اس امر کی ہے مختلف اقدامات کرتے ہوئے اس شرح کو بڑھایا جائے۔
انٹرپرینیوئرشپ کلچر کو پاکستان میں ماضی میں پذیرائی نہ ملنے کی بھی وجوہات ہو سکتی ہیں۔اس میں فنڈز کی کمی‘ لا علمی سمیت دیگر اہم عوامل بھی کار فرما ہو سکتے ہیں۔ انٹرپرینیوئرشپ کے حوالے سے سکولز‘کالجز اور یونیورسٹی میں ٹریننگ پروگرامات کی عدم دستیابی یا کمی اور آگاہی کے حوالے سے مربوط نظام کی عدم موجودگی بھی ماضی میں اس کلچر کے پروان نہ چڑھنے کی ایک بڑی وجہ تھی ۔ خوش قسمتی سے حالات اب ویسے نہیں ہیں اور عوامل مثبت طور پر تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔پاکستان میں اب بہت سے ’اسٹارٹ اپ‘ کا آغاز ہو رہا ہے جو کہ حوصلہ افزاء بات ہے ۔ نوجوانوں کیلئے بھی یہ موقع ہے کہ وہ ان کاروباری ماڈلز کا مشاہدہ کریں اور اس سفر میں شامل ہو سکیں۔ اس وقت سب سے اچھا تعاون اور کار آمد حوصلہ افزائی اُن تعلیمی اداروں کی جانب سے دیکھنے میں آئی ہے جو اپنے نصاب میں انٹرپرینیوئرشپ کو شامل کر رہے ہیں۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے جس سے نہ صرف ذہین بچوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے گی، اُن کے خیالات اور خواب پروان چڑھیں گے بلکہ دوسروں کو بھی کچھ کر گزرنے کی تحریک ملے گی۔
پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے 2014ء میں اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کیلئے Plan9 اور PlanXکے نام سے دو پلیٹ فارمز متعارف کروائے تھے۔ ان دو سے تین سالوں میں ان اداروں کی کارکردگی بھی نہایت ہی شاندار رہی ہے۔مقامی اسٹارٹ اپس کو حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ مختلف معاملات میں معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ادارے کی جانب سے انتہائی احتیاط اورباریکی سے چھان بین کے بعد سالانہ تقریبا چالیس درخواستیں قبول کی جاتی ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پی آئی ٹی بی کے اس زبردست ماڈل کو دیکھتے ہوئے نجی طور پر بھی کمپنیاںاب میدان میں آ چکی ہیں۔ مسابقت کی فضا میں معیاری کام ہی نہ صرف پروان چڑھتے ہیں بلکہ اپنی مضبوط بنیاد بھی بناتے ہیں۔ پاکستان میں اسٹارٹ اپس کے حوالے سے یہ انتہائی حوصلہ افزاء بات ہے۔
اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان میں بھی تعلیمی معیار کو نہ صرف اپ گریڈ کیا جائے بلکہ اس میں جدید تکنیک بھی متعارف کروائی جائے جو نہ صرف فی زمانہ بہترین ہو بلکہ عالمی معیار کے مطابق بھی ہو۔ پاکستان بھی کچھ تعلیمی ادارے ایسے ہیں جنہوں نے انٹرپرینیوئرشپ کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اس کی معاونت کا فیصلہ کیا ہے۔معروف نجی تعلیمی اداروں میں ایسی سوسائٹیز بن رہی ہیں جن کا نظم و نسق طلبہ ہی چلاتے ہیں اور ان کا مقصد ہی پاکستان میں انٹرپرینیوئرشپ کے کلچر کو فروغ دینا ہوتا ہے ۔پاکستان کے نامور ادارے لمز کے طلبہ کی جانب سے لمز انٹرپرینیئول سوسائٹی قائم کی گئی جو کہ ’ ینگ لیڈرز اینڈ آنٹرپرینیوئرشپ شپ سمٹ ‘ کے نام سے سالانہ اجلاس کرتی ہے جس میں پاکستان بھرسے شرکت کی جاتی ہے ۔ایک اور نجی ادارے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں بھی انٹرپرینیوئرشپ کے حوالے سے لیڈرز فورم قابل ذکر کام کر رہی ہے۔ آئیڈیالک یوتھ سوسائٹی بھی لاہور کے انڈر گریجویشن طلبہ کی جانب سے قائم کی جانے والی ایسی سوسائٹی ہے جو نوجوانوں میں انٹرپرینیوئرشپ کے حوالے سے قابل قدر کام کر رہی ہے۔ یہ سوسائٹی ’برین لیوریج‘ کے نام سے شاندار ورکشاپ کا اہتمام کرتی ہے جس میں ملکی اور بین الاقوامی نامو ر شخصیات انٹرپرینیوئرشپ پر لیکچرز دیتے ہیں۔
گزشتہ چند سالوں میں پاکستانی نوجوانوں نے ملک میں کچھ اسٹارٹ اپس کامیابی سے متعارف کروائے ہیں ۔ ان میں سر فہرست پاکستان کی پراپرٹی سے متعلق ویب سائٹ ’ زمین ڈاٹ کام‘ ہے جس نے پاکستان کی رئیل اسٹیٹ کی مارکیٹ میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ حال ہی میں اس کمپنی نے 29ملین ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری حاصل کی ہے ۔اس کو پاکستان کی رئیل اسٹیٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ ہونے کااعزاز بھی حاصل ہے جس کے پاس متعدد عالمی اعزازات بھی ہیں۔’پٹاری‘ میوزک اسٹریمنگ کی ویب سائٹ ہے ،جس کے پاس پاکستانی موسیقاروں کے گیت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔اس اسٹارٹ اپ نے گزشتہ دسمبر میں دو لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی تھی ۔ ایک اور اسٹارٹ اپ ’وائی فائیجن ‘ کے نام سے ہے ۔ اس کمپنی کی مالیت کا تخمینہ اس وقت ایک ملین ڈالر لگایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ بھی پاکستانی نوجوانوں کی جانب سے مختلف اسٹارٹ اپس متعارف کروائے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں کام کرنے والے تقریباً تمام ہی بڑے انٹرپرینیوز کا یہ ماننا ہے کہ اس حوالے سے بچوں کو آغاز سے ہی آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ سپرٹیکنالوجیز کے سی ای او اور نامور آنٹرپرینیور ریحان اللہ والا نے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اکثریت کو چونکہ ناکامی کا خوف ہوتا ہے ‘ اس لئے وہ انٹرپرینیوئرشپ سے گھبراتے ہیں۔ دنیا کے نوے فیصد کاروبار ناکام ہو جاتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کاروبار کو سرے سے کیا ہی نہ جائے ۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک کا سفر کرکے تجربہ حاصل کرنے کے بعد اب ریحان اللہ والا اسی ضمن میں ایک کتاب بھی لکھ چکے ہیں جو کہ جلد ہی مارکیٹ بھی آ جائے گی۔ اُن کے مطابق یہ کتاب انٹرپرینیوئرشپ کی تحریک پیدا کر ے گی۔انٹرپرینیوئرز اور تعلیمی اداروں کی کوششوں سے اب تعلیمی اداروں میں بھی اس ضمن میں کام جاری ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ مزید بہتری بھی آتی جائے گی۔یہ نا صرف پاکستانی نوجوانوں کیلئے انتہائی سودمند ہے بلکہ ملکی معیشت کیلئے بھی فائدہ مند ہے۔اگر انٹرپرینیوئرشپ کو مکمل طور پر نصاب میں شامل کیا جائے تو پاکستان میں نہ صرف بیروزگاری کا مسئلہ حل ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوگا۔ انٹرنیٹ تک رسائی ہر دوسرے شہری کی ہے اور ایک دنیا مانتی ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، صرف اُن کو رہنمائی درکا ر ہے۔ درست سمت میں رہنمائی سے ہم ملک میں بیشمار انٹرپرینیوئرز کو آگے لا سکتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں انٹرپرینیوئرشپ کا کلچر مزید پروان چڑھے گا۔