اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

جلاد ڈاکٹر

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
لاہور کا مشہور و معروف پرائیوٹ ہسپتال مریضوں لواحقین ڈاکٹروں نرسوں اور عملے سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا انسان سیلاب کی طرح یہاں اُمڈ آئے تھے یہاں پر انسانوں کا جیسے دریا بہہ رہا ہوں یوں لگ رہا تھا جیسے پورا لاہور یہاں ہی اکٹھا ہوگیا ہو، لوگوں کی وضع قطع سے لگ رہا تھا کہ اہل لا ہور کے علاوہ پنجاب کے دور دراز کے علاقوں سے بھی لوگ یہاں مسیحائی کی تلاش میں آئے تھے۔ ہسپتال کی انتظامیہ اور ڈاکٹر حضرات جلادوں کی طرح مریضوں کے جسموں کا قتل عام کر رہے تھے لواحقین بچارے ساری عمر کی پونجی اپنے پیاروں کی زندگی کے لئے لٹائے جا رہے تھے۔ پنجاب کے دور دراز علا قوں سے آئے ہوئے لوگ اپنی زمینیں مویشی اور زیوارت بیج کر بھیڑیا صفت ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھے ہوئے تھے۔ اہل لا ہور تو پر اعتماد طریقے سے آجا رہے تھے جبکہ دیہات سے آئے ہوئے لوگ اپنا آپ لُٹا کر بھی تحسین آمیز نظروں سے ڈاکٹروں کو دیکھ رہے تھے پیچارے اپنے لئے یہاں ایک اعزاز سمجھ رہے تھے ڈرے ڈرے سہمے سہمے لوگ قطار در قطار بیٹھے کھڑے نظر آرہے تھے۔ ڈاکٹر تو ڈاکٹر چھوٹا عملہ بھی اپنی لوٹ مار میں مصروف تھا سادہ لوح دیہاتی اِن خاکروبوں سیکورٹی گارڈوں اور گیٹ کیپروں کے ہاتھوں لٹ رہے تھے۔

ڈاکٹر اور دوسرا عملہ فاتحانہ شان سے لوٹ مار میں مصروف تھا انسان کے دو روپ یہاں نظر آرہے تھے۔ ایک تو انتظامیہ اور ڈاکٹر جو اپنی اپنی آخرت برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ دوسری طرف لوگ اپنے پیاروں کی سانسیں طویل کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے، اکا دکا کوئی مریض روتے دھاڑتے نظر آتے یہاں زندگی اور موت انسان کے دونوں روپ نظر آرہے تھے۔ میں کسی بیمار کی بیمار پر سی کے لیے یہاں آیا ہوا تھا مجھے ساتھ لانے والے اِس انتظار میں تھے کہ کب اندر سے اجا زت ملے اور وہ مجھے لے کر اپنے مریض تک جائیں میں انتظار میں کھڑا مریضوں اور اُن کے لوا حقین کو مشاہداتی نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ اچانک میرے جاننے والا ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا سر آپ یہاں کیسے آئے ہوئے ہیں میں نے بتایا کسی کو ملنے تو وہ بولا سر میں بھی اپنے بھائی کو یہاں لے کر آیا ہوں جس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔

پہلے تو وہ اِدھر اُدھر ڈاکٹروں پھر سرکا ری ہسپتالوں کے چکر لگاتا آیا پھر ہمیں سرکاری ہسپتال میں فرشتہ صفت ڈاکٹر مل گیا جو شام کو یہاں پریکٹس کرتا ہے۔ اُس کو ہماری حالت پر ترس آگیا لہذا وہ ہمیں یہاں لے کر آگیا ہے اب ہمارا مریض یہاں پر داخل ہے پیسے تو بہت لگ رہے ہیں لیکن پیسے بندہ کماتا کس لئے ہے جان ہے تو جہاں ہے ہم پیسے پانی کی طرح بہا رہے ہیں ہم نے ڈاکٹروں کو کہہ دیا ہے کہ پیسہ جتنا مرضی لگ جائے ہمارے مریض کو بچنا چاہیے اور سر آپ یہاں آئے ہیں تو پلیز ہمارے مریض کو بھی دیکھتے جائیں میں جس مریض سے ملنے آیا تھا۔ ادھر ابھی دیر تھی اِس لیے میں اِس بندے کے ساتھ چل پڑا اُس کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے راستے میں مجھے ایک جاننے والا ڈاکٹر مل گیا جو یہاں پر ہی کام کر تا تھا مجھے دیکھ کر بہت حیران اور خوش ہوا اور میرے ساتھ ہی چل پڑا ہم باتوں کے دوران ہی مریض کے پرائیوٹ کمرے میں پہنچ گیا۔

مریض کی ٹانگ ٹو ٹی ہو ئی تھی وہ مہنگے ترین کمرے میں آرام دہ بیڈ پر لیٹا ہوا تھا اُس کی ٹانگ پر پلستر چڑھا ہوا تھا ۔ میرے ساتھ آئے ڈاکٹر نے اُس کی رپو رٹس دیکھنی شروع کر دیں ساری رپورٹیں دیکھنے کے بعد مریض سے بات چیت اور ایکسرے دیکھنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے میری طرف دیکھا اور مجھے اشارہ کیا کہ علیحدہ ہو کر میری بات سنیں ہم کمرے سے نکل کر باہر راہداری میں آئے تو ڈاکٹر سر گوشی میں بولا مریض کی ہڈی جُڑ چکی ہے۔ اب چند دنوں کے اندر اندر خود ہی درد ختم ہو جائے گا یہاں پر ڈاکٹر صاحب نے اپنی لوٹ مار کے لیے مریض کو رکھا ہوا ہے اِس کو اب کسی بھی قسم کے علاج کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں یہاں پر جاب کرتا ہوں اِس لیے میں یہ بات کھل کر نہیں کر سکتا۔

بہتر یہی ہے کہ آپ مریض کو یہاں سے واپس لے جائیں اب یہاں اِس کا کسی قسم کا بھی علاج نہیں ہو رہا۔ اب صرف لو ٹ مار ہو رہی ہے ۔ میں نے آکر مریض اور اُس کے بھائی کو بتایا کہ اب آپ گھر چلے جائیں اب آپ کو علاج کی ضرورت نہیں اب جب انہوں نے انتظامیہ سے کہا کہ ہمیں ڈسچارج کر دیں تو انتظامیہ نے صاف انکار کر دیا کہ اِس بات کا فیصلہ ڈاکٹر صاحب کریں گے جب ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی انکار کر دیا کہ بلکل بھی نہیں۔ ابھی آپ چند دنوں اور یہاں ٹہریں اس لیے کہ میں آپ کا علاج کر سکوں۔ اب میں اپنے دوست ڈاکٹر صاحب کے ساتھ دوسرے مریض کو ملنے گیا جس کی وجہ سے میں یہاں آیا تھا۔ اب ہم اُس مریض کے پاس گئے جس کو آئی سی یو میں رکھا گیا تھا ڈاکٹر صاحب نے جاتے ہی مریض کو پہچان لیا وہ پہلے سے اِ س مریض کو جانتے تھے لیکن ہما ری تسلی کے لیے رپورٹس پڑھنی شروع کر دیں مریض کو دماغ کی چوٹ لگی جس کی وجہ سے یہ پچھلے 10 دن سے بیہو ش تھا ۔

جب لاہور کے تما م سرکا ری ہسپتالوں نے اِس کو تقریبا مردہ قرار دیا کہ اب یہ قابل علاج نہیں ہے تو لوٹ مار کے سپیشلسٹ اِس ہسپتال نے اِس مریض کو اپنے پاس داخل کر کے وینٹی لیٹر پر چڑھا دیا گائوں سے سادہ لوح لوگ اِ س بات پر ہی ڈاکٹروں اور ہسپتال انتظامیہ کو دعائیں دے رہے تھے کہ ہمیں تمام ڈاکٹروں اور ہسپتالوں نے جواب دے دیا تھا یہ ہسپتال والے کتنے اچھے ہیں ہمیں یہاں داخل کیا اور اب پچھلے کئی دن سے پوری جان توڑ کوشش کر رہے ہیں مریض پر یہاں لوٹ مار اپنے نقطہ عروج پر تھی لواحقین تقریبا پندرہ لا کھ اِس مریض پر لگا چکے تھے اور لوٹ مار کا یہ سلسلہ ابھی شرمندہ اور پریشان نظر آرہا تھا مجھے ایک طرف لے جا کر کہنے لگا سر میں اِس کیس کو پہلے سے جانتا ہوں یہ مریض ہمارے حسا ب سے مرچکا ہے دماغ اِس کا ڈیڈ ہو چکا ہے۔ اب وینٹی لیٹر پر مصنو عی سانسوں پر اِس کو لٹکا یا ہوا جس دن لوا حقین کے پاس پیسے ختم ہو جائیں گے یا تھک جائیں گے تو یہ وینٹی لیٹر اتار کر لاش ورثا کے حوالے کر دیں گے کہ ہم نے تو پوری کوشش کی ہے اب اللہ کو ہی منظور نہ تھا۔

یہ ہسپتال بدنام زمانہ جب لاہور کے تمام ڈاکٹر اور ہسپتال مریض کو لینے سے انکا ر کر دیتے ہیں تو یہ مریض کو ویلکم کہتے ہیں مریض کے پیارے اپنے آپ کو بیچ کر کہتے ہیں ہمارے مریض کو بچالیں جتنا پیسہ چاہیے ہم دیں گے پھر مریض کے گھر والے اپنی جائیدادیں زیوارت اور جمع پونجی یہاں لٹا کر ڈیڈ باڈی یہاں سے لے کر چلے جاتے ہیں یہاں پر کام کرنے والے ڈاکٹر مختلف سرکاری ہسپتالوں سے مریض مرغیاں بنا کر یہاں لاتے ہیں اور پھر انہیں یہاں ذبح کرتے ہیں مظلوم مریض بیچارے ڈاکٹروں کو مسیحا سمجھ کر اُن کی ہر بات مانتے ہیں کہ ڈاکٹر تو زندگی بچانے والے ہیں یہ ڈاکو تو ہو ہی نہیں سکتے اور یہ ڈاکٹر مسیحا کے روپ میں ڈکیتی کرتے ہیں اور پھر فخریہ انداز میں بیٹھ کر اپنی لوٹ مار کے قصے لہک لہک کر سناتے ہیں ڈاکٹروں کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ مریض اب مر چکا ہے لیکن یہ مردہ انسان کے ساتھ لوٹ مار کرتے ہیں مردہ انسان کے لواحقین کو جھوٹے خواب دکھا کر ان کے روپے پیسے کو ہڑپ کر جاتے ہیں میں حیرت سے ڈاکٹر صاحب کی باتوں کو سن رہا تھا اور آتے جا تے ڈاکٹروں کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ اِن کو بلکل بھی احساس نہیں کہ انہوں نے بھی مرنا ہے اِن کے گھر والوں کو مرنا ہے روز محشر بھی برپا ہونا ہے ہر عمل کا جواب دہ ہونا ہے اِن کو خدا رسول مذہب اخلاقیات کا بلکل بھی احساس نہیں فطرت کے اِس اصول کا احساس نہیں کہ جیسا کر گے ویسا بھرو گے مجھے اچانک لگا میں بہت بڑے ذبح خانے میں ہوں جلاد بے دردی سے زندہ انسانوں سے گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں ۔

Author: