اشاعت کے باوقار 30 سال

کراچی کچھ بدلا بدلا سا تھا

جمعہ 6جنوری کو ہماری لاہور سے روانگی تھی۔ یہاں ہم سے مراد راقم اور اس کے کولیگ ہیں۔ پرواز پی آئی اے کی تھی اور منزل کراچی کی تھی ۔لاہور میں رہنے والوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ انسان کراچی جاتا تو جہاز پر ہے اور آتا اخبار میں ہے۔ پھر پی آئی اے کبھی حویلیاں کے نزدیک تباہ ہو کر جنت کے ٹکٹ تقسیم کر رہی ہے اور کبھی کھڑے طیارے میں ایسے ’وج ‘ رہی ہے جیسے کوئی بھینسا کسی معصوم بچے میں ’وج ‘ جاتا ہے اور کبھی وہ کسی پرواز کو کسی اور ہی منزل پر پہنچا رہی اور کبھی کراچی کی پرواز کو دیار غیر میں لینڈ کروا کر جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہے ، تو ہمارے ذہنوں میں خدشات اس رفتار سے آ رہے تھے جیسے آندھی میں شاپر اڑتے ہوئے آتے ہیں۔ علاوہ ازیں ذرائع ابلاغ میں جیسے کراچی کے بارے میں رپورٹنگ جاری تھی‘اُس سے بظاہر کراچی کا مجموعی تاثر ایسا تھا کہ یہ ساحلی شہر کوئی جنگی شہر ہے جہاں پر زندہ بچ جانا بھی ایک غنیمت ہے۔ خیر، 6جنوری کو صبح دس بج کر اٹھارہ منٹ اوراکتیس سیکنڈ پر میں ائیر پورٹ پہنچ چکا تھا۔ ائیر پورٹ پہنچانے کا ذمہ میرے بھائی نے لیا۔ وہ میری چھوٹی سی بھانجی کو سکول چھوڑ کر گھر آیا تھا اور اب مجھے ایئر پورٹ اتار رہا تھا۔ لاہور رنگ روڈ سے ائیر پورٹ میں داخل ہوئے تو وقت صرف اتنا ہی تھا کہ تمباکو کی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ اس کے بعد اپنا ٹکٹ دکھایا اور اندر چلے گئے۔
پہلے کاونٹر پر تلاشی دی، میں نے ائیر پورٹ کے عملے کو کہا کہ سامان نہیں چیک کریں گے ؟ کہتے آپ کا سامان چیک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور بورڈنگ کے کاونٹر پر کھڑا ہو گیا۔ پی آئی اے کی ایک خاتون نے دل آویز مسکراہٹ سے پوچھا ، ’’آپ کہا جا رہے ہیں؟‘‘ میں نے کہا کہ ارادہ تو کراچی کا ہے‘ آگے جہاز کے کپتان کی مرضی، وہ کراچی پہنچائے، دیار غیر پہنچائے اور یا براستہ حادثہ جنت میں پہنچا دے۔ یہ سننا تھا کہ محترمہ کی مسکراہٹ غائب ہوگئی‘ ٹکٹ دیکھا ‘ شناختی کارڈ دیکھا اور لگج کے سامان پر اسٹیکر لگا کر بورڈنگ مکمل کر دی۔
میں سوچ رہا تھا کہ ناجانے جہا ز کیسا ہوگا؟ ناجانے فلائٹ کیسی ہوگی۔ خیر اسی اثنا میں جہاز میں جانے کا اعلان ہوا اور ہم جہاز کی جانب چل پڑے۔ ایک اور چیکنگ پوائنٹ سے گزرنے کے بعد پی آئی اے کے بوئنگ 777میں بیٹھنے کے بعد میں نے موازنہ شروع کیا۔ اب آپ مانیں یا ناں مانیں، میں نے پی آئی اے کے اس طیارے کو دیگر کمپنیوں کے طیاروں سے بہتر پایا تھا۔ سیٹیں آرام دہ تھیں‘ عملہ خوش اخلا ق بھی تھا اور معاون بھی تھا اور میں نے پی آئی اے کے بارے میں جو بھی سن رکھا تھا ‘ وہ سب کا سب میں تبدیل کرنے پر مجبور ہو رہا تھا۔ اپنی نشست سنبھال لینے کے بعد میں نے ائیر ہوسٹس سے فوری ہی اخبار طلب کر لیا۔ ابھی ’سواریاں‘ بیٹھ رہی تھی اور وہ اللہ کی بندی ناجانے کہاں سے اخبار لے آئی۔ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ سر کچھ اور تو نہیں چاہئے تومیں نے مسکراتے ہوئے انکار کر دیا۔
جیسے ہی سب سے اپنی نشستیں سنبھالی، پائلٹ نے اڑان کا اعلان کر دیا۔ سچ پوچھئے تو پی آئی اے کے اس طیارے کا ٹیک آف دیگر کی نسبت بہت ہی اچھا اور قدرے ہموار تھا۔لکھے ہوئے وقت پر ٹیک آف نے مجھے حیران کیا۔ میں نے خود کو یقین دلانے کیلئے کہ ہمیں واقعی اسی ائیر لائن کا مسافر ہوں جس کے بارے میں بہت کچھ پڑھا اور سنا ہے ‘ میں نے خود کو ایک چکی کاٹی اور پھر سیٹ کا کور دیکھا۔ ایک طرف میں نیند سے نہیں جاگا تھا اور دوسری جانب وہاں پی آئی اے کاکورہی تھا۔ دوران پرواز بھی عملہ انتہائی خندہ پیشانی سے پیش آتا رہا اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ نجکاری کی دھمکی ہے‘ صبح کی تازگی ہے یاں بروقت تنخواہیں ہیں جو وہ ایسے پیش آ رہے ہیں۔22ہزار سے 25ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کے بعد ہم نے جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ کراچی پر لینڈ کیا۔ سامان لے کر ہم باہر آئے اور اب ہمیں انتظار تھا کہ کب ہوٹل کا عملہ ہمیں ائیر پورٹ سے ہوٹل پہنچائے گا۔
خد ا خدا کر کے ہم ائیر پورٹ سے ہوٹل پہنچے ۔ وہاں جا کر قضا نمازیں ادا کیں اور اب پیٹ پوجا کی باری تھی ۔میرے دوستوں نے فیصلہ کیا کہ کسی مقامی سے پوچھتے ہیں۔ ایپ کا استعمال کرتے ہوئے ہم نے ٹیکسی بلائی اور ڈرائیور سے کہا کہ بھائی لاہوریے ہیں‘ بھوک لگ رہی ہے ‘ کہیں بھی لے جاؤ۔ اُس نے پہلے ہمیں صدر پہنچایا اور اس کے بعد راستے میں کہا کہ صدر میں تو شاید آپ کو زیادہ کچھ نہ ملے‘ اگر آپ کہیں تو میں آپ کو برنس روڈ لے جاتا ہوں۔ وہاں آپ کو بہت کچھ کھانے کا مل جائے گا۔ ہم نے حامی بھر لی۔ راستے میں پوچھا کہ کراچی کے حالات کیسے ہیں تو اُس نے کہاکہ اب تو اللہ کا شکر ہے کہ بہت زیادہ بہترہیں ‘ ورنہ دن میں بھی لوگ موبائل کے کر باہر آنے کی غلطی نہیں کرتے تھے ۔ رینجرز نے خاصی محنت کر کے جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کی ہے۔ باقی اپنے بلوں میں دبک گئے ہیں۔
اسی اثنا میں ہماری منزل آ گئی اور ہم پیسے دے کر اتر گئے ۔ کراچی میں ایک عزیز کو فون کر کے معلوم کیا کہ اس مقام پر کہاں پر اچھی بریانی ملتی ہے؟ اُس نے پہلے تو گلہ کیا کہ اطلاع کر کے کیوں نہیں آئے اور پھر جس جگہ کا بتایاگیا ‘وہیں پر ہم موجود تھے۔ کھانا منگوایا تو پہلے نوالے نے ہی دل خوش کر دیا۔ کراچی والوں کو اللہ نے ویسے ہی ذائقے سے کھیلنے ہنر عطا کیا ہے۔ لذیذ بریانی نوش کر کے ہم باہر آ گئے ۔ سامنے ہی پان کی دکان تھی۔ کراچی آئیں اور پان نہ چبائیں‘ یہ کہاں لکھا ہے۔ میٹھا پان لیا تو اُس کا بھی ایک عجب ہی لطف تھا۔ اب ہم نے پیدل چلنے کی ٹھانی کہ آس پاس کے علاقے دیکھتے جائیں گے۔ آج کا ہی دن تھا کیوں کہ کل سے زمین ڈاٹ کام کی پراپرٹی ایکسپو شروع ہو رہی تھی اور ہم نے وہاں مصروف ہو جاناتھا۔ مختلف بازاروں سے ہوتے ہوئے ہم نمکو والی مارکیٹ میں چلے گئے۔ کراچی کی مخصوص نمکو کاکوئی جوڑ نہیں ہے ۔اس کے علاوہ سندھی مسلم ‘ طارق روڈ وغیرہ گھومے، آخری دن کولاچی ‘ دو دریا گئے۔ دو دریا تو ایک شاندار جگہ ہے ، جس میں آپ عین سمندر پر کھانے سے لطف لیتے ہیں اور آپ کے آس پاس سفید بگلے منڈلاتے ہیں‘اوپر آسمان اور نیچے پانی ہوتا ہے۔ انشااللہ کسی دن اس جگہ آ کر ڈوبتے ہوئے سورج کا نظارہ بھی کرنا ہے ۔ کراچی کے کھانے واقعی میں ذائقے دار اور شاندار ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی میں ایک اور مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملی ۔کہتے ہیں کہ پہلے اس شہر میں خوف کا راج تھا اور کراچی رات کو 11بجے تک بند ہو جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں تھا اور ہم رات کو دو بجے بھی سندھی مسلم میں آئس کریم سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔کراچی میں میرے پہلے دن کا اختتام ایسی مثبت سوچ کے ساتھ ہی ہوا۔
دوسرے اور تیسرے دن ہم ایکسپو میں ہی مصروف رہے۔ایکسپو میں یہ خوش آئند بات دیکھنے میں آئی کہ لوگوں کی دلچسپی رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں ابھی بھی برقرار ہے جوکہ اس خیال کی تردید تھی کہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں مندی آ چکی ہے۔جب ہم ایکسپو میں پہنچے تو وہاں کی گہما گہمی نے مجھے گھڑی دیکھنے پر مجبور کیا کہ کہیں میں دیر سے تو نہیں آیا لیکن میں نے ڈسپلن کو شکست دیتے ہوئے اپنے آپ کو بروقت پایا ۔منتظمین کے مطابق دو دنوں میں 85ہزار لوگوں نے ایکسپو میں شرکت کی تھی جو کہ اس بات کی عکاسی ہے کہ پاکستان کے معاشی حب میں حالات کی بہتری نے کاروباری فضا پر مثبت اثرات مرتب کئے ہیں۔ اب لوگ اعتماد کے ساتھ شہر میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور مخدوش حالات کی وجہ سے جو سرمایہ کراچی سے کو چ کر چکا تھا اب وہ بھی شہر میں واپس آ رہا ہے۔ یہ ایک خوش آئند اور حوصلہ افزاء بات تھی جس نے ہمیں بھی خوشی مہیا کی۔
آفس کے کاموں کی شدید مصروفیت نے کراچی کو مزید گھومنے تو نہ دیا۔ایک آدھ رشتہ دار کے علاوہ کسی دوست اور رشتہ دار سے ملاقات بھی نہ ہوسکی۔ احباب کی دعوتیں اور دیگر پلاننگ بھی دھری رہ گئی کہ خیرسے تفصیلی طور پرتو میں کسی سے بھی نہ مل سکا لیکن انشااللہ اگلے دورے میں سب سے ملاقات ہو گی۔ ایک بات جو اہم ہے وہ یہ کہ میں نے اس سارے سفر میں موبائل کا آزادی سے استعمال کیا‘ اللہ کے فضل سے کہیں بھی شائبہ بھی نہیں ہو اکہ کچھ ہونے والا ہے۔ میں نے کراچی کے سفر میں شہر کو سمجھنے کیلئے موٹر سائیکل پر بھی سفر کیا ، گو کہ یہ آدھے گھنٹے سے بھی کم کا تھا تاہم الحمدللہ کچھ نہیں ہوا۔اگر تو ذرائع ابلاغ کی خبریں درست تھیں تو یہ مان لینے میں کوئی آڑ نہیں ہے کہ اس شہر کے حالات میں 180کے زاویے سے بہتری آ چکی ہے ۔لوگ انتہائی ملنسار اور خوش اخلاق پائے‘ مذاق سہنے والے اور ہنسنے والے لوگوں کے ساتھ وقت اچھا گزرا۔ 9جنوری کو پی آئی اے سے ہی واپسی تھی ، یہ پرواز 15منٹ لیٹ اڑی تھی تاہم وقت پر لاہور لینڈ کر گئی تھی ۔
کراچی میں اگر سسٹم کو اپ گریڈ کر دیا جائے اور صفائی کا مربوط نظام‘ سڑکوں کی مرمت جیسے اہم کام کر لیں تو یقین کیجئے کہ کراچی واقعی میں دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ آپ ڈیفنس اور کلفٹن چلے جائیں ‘ آپ کو عرب ممالک جیسی فیلنگ آ تی ہیں، میں یہ بات اس لئے کر رہا ہوں کہ میں اُن ممالک کا سفر کر چکا ہوں۔ اللہ نے پاکستان اور کراچی کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور دعا ہے کہ اللہ ہمیں زوال نعمت سے بچا کر رکھیں۔ مجھے یقین ہے کہ انشااللہ بہتری کا یہ سفر یہاں پر رُکے گا نہیں بلکہ آگے بڑھے گا۔