اشاعت کے باوقار 30 سال

موت کا وار

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور جسم پتھر کے مجسمے میں تبدیل ہوگیا ایسے ہولناک خوفناک، دہشت ناک ناقابل یقین منظر کے لیے بلکل بھی تیار نہ تھا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں جب کمرے میں داخل ہونگا تو میرے سامنے دل و دماغ کو ہلا دینے والا منظر ہو گا کمرے میں موت کا سناٹا اور پرانے قبرستان کی ویرانی تھی درو دیوار سے وحشت ویرانی برس رہیں تھیں پو ری فضا نے ماتمی لباس پہنا ہوا تھا انسان ذلت اور پستی کی اتنی گہرایوں میں گر سکتا ہے کہ دوسروں کے لیے باعث عبرت بن جا ئے یہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔

کمرے کے چپے چپے پر موت نے اپنے پنجے گاڑ رکھے تھے 'انسان تماشہ بے بسی اور عبرت بنا ہوا تھا میں کسی ایسے منظر کے لیے بلکل بھی تیار نہ تھا مجھے جب کہا گیا کہ ایک مریض کو دیکھنا ہے تو میں معمول کا مریض سمجھ کر چلا آیا میں یہ سمجھ کر آیا تھا کہ مریض بیمار ہوگا بات چیت کرتا ہو گا 'درد کا اظہار یا اپنی بیماری کا بتاتا ہو گا لیکن یہاں جو کچھ میں نے دیکھا وہ بلکل الٹ تھا۔ پورے کمرے میں تعفن زدہ بدبو پھیلی ہوئی تیز بدبو سوگھنے کی حس کو چھلنی چھلنی کر رہی تھی میں جو ہمیشہ وضع داری اور آخری حدوں تک برداشت کرنے والا بندہ یہاں میری برداشت بھی جواب دے گئی حواس کو پاگل کرنے والی بدبو نے میرے حواس کو شل کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ میرا سانس گھٹنا شروع ہو گیا اوپر سے ہزاروں کی تعداد میں مکھیوں نے پورے کمرے کو اور بھی بد بو دار کر دیا تھا۔ میں صبر اور برداشت کی پوری کوشش کر رہا تھا لیکن بدبو اور خو فناک منظر کہ جان ہی نکل جائے گی۔

میرے سامنے کالا سیاہ لاش نما انسان جو ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا پڑا تھا ہڈیوں کے جال پر پتلی سیاہ کالی جلد میں لپٹی ہوئی تھی منہ کھلا ہوا تھا جس سے لاش سانس لے رہی تھی مکھیاں آزادی سے اس کے کھلے منہ کے اندر تیز رفتاری سے آجا رہی تھیں۔ کسی خو فناک پراسراری بیماری نے اُس کو گھن کی طرح چاٹ کھایا تھا بیماری اتنی ہولناک تھی کہ اِس کو زندہ لاش ممی بنا کر رکھ دیا تھا۔ لاش نما انسان بے حس و حر کت پڑا تھا موت اور اُس کے درمیان صرف سانس کا رشتہ تھا اگر سانس نہ چل رہی ہو تی تو گھر والے کب کے اِس بد بودار انسان کو منوں مٹی کے نیچے دبا کر آجاتے۔ مریض کی حالت بنا رہی تھی کہ اِس کوئی بہت بڑا گناہ کیا ہو گا۔

یا رب کریم کو بہت بڑی نا فرمانی سے ناراض کر دیا ہے جو خدا ئے بزرگ برتر اُس کو موت کو سوغات بھی دینے سے انکاری تھا۔ اِس شخص کو لوگوں کے لئے باعث عبرت بنا کر رکھ دیا تھا۔ اہل خاندان اور اور گھر کے مکینوں پر خوف و دہشت کے سائے لر زاں تھے وہ بھی چلتی پھرتی لاشیں ہی نظر آرہے تھے خوف نے اُن کے جسموں کا بھی خون نچوڑ لیا تھا وہ گھر والے بے بسی اور مایوسی کی تصویریں نظر آرہے تھے میں اپنی زندگی میں بے شمار مریض کو اور بے جان جسموں کو بھی بار ہار دیکھ چکا تھا لیکن کسی انسان کی ایسی عبرت ناک حالت میں نے بھی نہیں دیکھی تھی۔

مردہ نما انسان کئی دنوں سے اِسی طرح موت کی سولی پر لٹکا ہوا تھا مو ت قبول کرنے سے انکاری تھی اِس کی خو فناک شکل اور حالت موت سے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا ہر گھر میں اِس کی باتیں ہو رہی تھیں کہ خدا اِس سے کتنا زیادہ ناراض ہو گیا ہے اِس کو موت کی آغوش بھی دینے کو تیار نہیں مٹی نے بھی اِس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ آہستہ آہستہ جب میرے اعصاب نارمل ہوئے تو میں نے گھر والوں سے پوچھا یہ کون ہے اور اِس کو کیا بیماری ہے تو جب گھر والوں نے مریض کا نام بتایا تو مجھے بہت شدید جھٹکا لگا کیونکہ یہ اپنے علاقے کا نامور زمیندار اور چوہدری تھا اِس کو بو سکی کا سوٹ اور راڈو کی گھڑی اِس کی چال کپڑے بدمعاشی اور غرور سے سارا علاقہ واقف تھا جوانی میں یہ بہت ساری زمینوں کا مالک تھا خوبصورت طاقتور جسم کا مالک جس کو اپنے حسن جوانی اور دولت کا بہت زیاد ہ نشہ تھا۔

اپنی طاقت اور دولت کے نشے میں چُور یہ انسانوں کو جانور سمجھ کر ہانکتا تھا خود کو ہلاکو خان کی اولاد سمجھتا تھا 'وحشت درندگی اور عیاشی ہی اِس کی زندگی تھی مجھے آج بھی اپنی نوجوانی کا وقت اور واقعہ یاد ہے جب میں اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی زمینوں پر جا رہا تھا تو راستے میں اِس چوہدری کی زمینیں تھیں جب ہم اِس کے ڈیرے کے پاس سے گزرنے لگے تو پانی پینے کے بہانے تھوڑا آرام کرنے گئے تو ایک عجیب منظر دیکھا جو مجھے آج بھی یاد ہے یہی چوہدری صاحب جوانی کے نشے میں چُور بڑی پلنگ نما چارپائی پر بیٹھے تھے راڈو گھڑی ہاتھ میں سونے کی انگوٹھیاں اور بو سکی کا سوٹ فرعون بنا بیٹھا تھا۔ اِس کے سامنے ایک پچاس سالہ عورت اپنی چودہ پندرہ سالہ بیٹی کے ساتھ زمین پر مجرموں کی طرح سر جھکائے بیٹھی تھیں۔

پچاس سالہ عورت بار بار ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہی تھی اور بار بار اِس کے پائوں پر ہاتھ رکھتی کبھی دوپٹہ اِس فرعون کے پائوں پر رکھتی لیکن یہ معاف کرنے کی بجائے اور بھی غصے سے دھاڑنے لگتا کہ میں نے معاف نہیں کر نا میں اور میرے دوست کچھ دیر تو اِس پریشان کن منظر کو خاموشی سے دیکھتے رہے پھر میرے اندر فطری شرافت اور ظلم کے خلاف بغاوت بیدار ہونا شروع ہوئی اب ہم دوست اس زمیندار کی طرف بڑھے ہمیں قریب آتا دیکھ کر اُسے نے سوالیہ نظروں سے ہماری طرف دیکھا میرے دوست نے میرے بھائی اور والد صاحب کا ذکر کیا تو وہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا کیونکہ میرے والد صاحب اور بھائی صاحب کو یہ جانتا تھا ہمیں دیکھ کر عورت کو کچھ حوصلہ ہوا ب اُس نے ہماری منتیں شروع کر دیں چوہدری صاحب سے ہمیں معافی دلا دیں اُس بیچاری کا جرم یہ تھا کہ اُس نے اِس کا تربوز توڑ لیا تھا اُس کی سزا اِس حرام زادے نے یہ تجویز کی تھی کہ اب تمہاری بیٹی شام تک میری زمینوں میں کام کرے گی ماں بار بار کہہ رہی تھی کہ یہ معصوم ہے اِس نے غلطی کی ہے تو اس کی سزا میں بھگتنے کو تیار ہوں لیکن یہ حرامی ایک ہی ضد کہ تمہاری بیٹی نے چوری کی ہے تم اِس کو چھوڑ جائو اور چلی جائو یہ یہاں پر سارا دن کام کر ے گی معصوم بچی کا رنگ خوف سے پیلا ہو چکا تھا یہ کتا غلیظ ہوس بھری شیطانی نظروں سے اُس معصوم ننھی پری کو گھور رہا تھا وہ بچی بار بار ماں کے پیچھے چھپ رہی تھی یہ بار بار اُس کو پکڑنے کے لیے آگے بڑھتا کیونکہ اِس کمینے انسان کی فطرت سے پورا گائوں اور علاقہ واقف تھا۔

ماں جانتی تھی کہ اگر میں اپنی معصوم بیٹی کو یہاں اِس بھیڑیے کے حوالے کر گئی تو یہ اُس کی عزت تار تار کر کے چھو ڑے گا شرابی کبا بی زانی بد معاشی ہی اِس کی شہرت اور عادت تھی۔ معصوم بچی کی حالت ہمارے کلیجے پھاڑ دیئے ہم دوستوں نے کہا آپ ان کو چھوڑ دیں اِس کے حصے کا کام ہم کر دیتے ہیں یا آپ ہم سے پیسے لے لیں چوہدری نے انکار کر دیا اب ہم بھی اُس کی گندی نیت اور نظر کو دیکھ چکے تھے ہم نے اعلان کیا کہ ٹھیک ہے ہم رات تک اِسی جگہ ٹہرریں گے تاکہ تم اِس معصوم عورت اور اُس کی بیٹی پر ظلم نہ کر سکو پہلے تو اِس نے ہمیں بھی ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی لیکن جب اِس نے ہمارے آہنی رویئے کو دیکھا تو اِس نے مجبوری میں اُس عورت اور بچی کو جانے دیا جب وہ بیچاری جا رہی تھیں تو انتہائی تحقیر آمیز لہجے میں بولا ہمارے علاقے کی عورتیں ہمارے لیے بھیڑ بکریاں ہوتی ہیں ہم جس کو چاہیں پکڑ لیں یہ ہماری بھیڑ بکریاں ہیں۔ آج یہ بچ گئیں ہیں تو جلدی میں یہ پھر میرے قبضے میں ہو نگی تو کون اِن کو بچانے آئے گا۔

اُس کی آنکھوں میں ہوس اور شیطانی آگ رقص کر رہی تھی وہ بہت غصے میں تھا کہ ہاتھ آیا شکار اُس کے ہاتھ سے نکل کیوں گیا۔ اِس کے بعد بھی یہ ظالم طاقت اور دولت کے نشے سے انسانوں عورتوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہی ہانکتا رہا اور پھر جب رگوں میں دوڑتا خون سرد ہوا بیماریوں اور بڑھا پے نے جسم کو چاٹ لیا تو آج یہ مردہ لاش کی طرح پڑا تھا گھر والے اور اہل گائوں کئی دن سے اِس کی موت کی دعائیں کر رہے تھے موت کا عذاب اِس پر اِس برق رفتاری سے وارد ہو ا کہ اِس کو سنبھلنے کا مو قع ہی نہ ملا جو ساری زندگی لوگوں پر ظلم کرتا رہا آج غلیظ مکھیاں اُس پر گندگی بکھیر رہی تھیں اور یہ مکھی کو اڑانے پر بھی قادر نہ تھا۔ گھر والے اِس کی مو ت کا وظیفہ پو چھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ جوا نی اور اقتدار اور دولت کے نچے میں انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اُس سے پہلے بھی اِس دھرتی پر اُس سے زیادہ طاقت ور دولت مند اور حکمران گزرے ہیں اور آج اُن کے جسم مٹی کے ذرات میں تبدیل ہو چکے ہیں اور ہڈیاں لوگوں کے پائوں میں دھکے کھا تی پھرتی ہیں موت جب وار کرے تو بادشاہ کو تخت و تاج سمیٹنے کا بھی موقع بھی نہیں دیتی۔

Author: