اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

چین کے ساحل کے پاس فیری ڈوب گئی

نوٹ بندی، فیصلے کو دور تلک دیکھیں

ذاکر حسین
الفلاح فرنٹ، سیدھا سلطان پور، اعظم گڑھ

مکرمی! وزیر اعظم نریندر مودی کے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد سے موصوف کا قابلِ ذکر اور بڑا قدم بڑے نوٹوں کی منسوخی ہے۔ مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے نوٹ بندی کے فیصلے کا عوام پر کتنے مثبت اور کس حد تک منفی اثرات مرتب ہوئے، اس کیلئے بس انتا ہی جاننا کافی ہوگا کہ سرکاری اعداد شمار کے مطابق نوٹ بندی کے باعث اب تک ملک کے سیکڑوں افراد موت کی دہلیز عبور کر گئے اور کروڑوں افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

غور طلب یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ عوام کو پیغام دیا تھا کہ نوٹ بندی کے ذریعے وہ ملک کو دہشت گردی اور بد عنوانی جیسے سنجیدہ اور فکر انگیز مسائل پر کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کا ہمیں علم نہیں لیکن بد عنوانی (کرپشن) پر مرکزی حکومت نے کس حد تک کنٹرول کیا ہے ؟ اس کا اندازہ لگان ملک کے ایک عام شہری کیلئے بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اچھا بڑی مضحکہ خیز صورتحال یہ ہے کہ مودی سے والہانہ لگائو اور بے پناہ عقیدت رکھنے والے افراد نوٹ بندی کے فیصلے کو صحیح ٹھہرانے کیلئے بڑے دلائل پیش کر رہے تھے، لیکن بینک اور اے ٹی ایم کی لمبی میں لگنے کے بعد جب ایک دو بار ایک مخصوص بوکا جھونکا ان کے دماغ میں گھسا تو سارے ہوش ٹھکانے آگئے۔ نوٹ بندی کا فیصلہ کتنا صحیح ہے اور کتنا غلط ؟ اس کا اندازہ ملک کی موجودہ صورتحال سے ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ملک کے تمام سنجیدہ اور حساس مسائل کو پسِ پشت رکھتے ہوئے آخر نوٹ بندش کا فیصلہ ہی کیوں؟

اس موضوع کو سمجھنے کیلئے گزشتہ روز اردو سمیت دیگر زبانوں میں نکلنے والے ملک بھر کے اخبارات میں شائع اس رپورٹ کو پڑھ لیتے ہیں جو ہندوستان میں نوٹ بندی میں امریکہ کے کردار سے متعلق شائع ہوئی تھی۔ گلوبل ریسرچ نامی ایک ویب سائٹ کے مطابق ہندوستان میں نوٹ بندش امریکہ کی ترقیاتی ایجنسی 'یو ایس ایڈ' اور ہندوستانی وزارت خزانہ کے درمیان ایک معاہدے کا نتیجہ ہے۔ خیال رہے کی مذکورہ امریکی ایجنسی (یو ایس ایڈ) کا مقصد دنیا بھر میں نقد سے مبرا کیش لیس پالیسی کے نفاذ کیلئے مسلسل کوشاں ہے۔ گلوبل ریسرچ نے مزید انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی ایجنسی 'یو ایس ایڈ' انڈیا کے ساتھ نقد سے مُبرّا پالیسی کے نفاذ کیلئے 'کیٹیلسٹ 'نامی ادارے کا قیام کا اعلان کیا۔ 'یو ایس ایڈ' کی طرف سے جاری ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ 'کیٹلیسٹ 'کا قیام ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ساتھ اگلے مرحلے کی شراکت داری کی علامت ہے۔ ریسرچ گلوبل نے ہندوستان کے دو بڑے ناموں کا بھی خلاصہ کیا ہے ایک آلوک گپتا جن کے بارے میں مذکورہ ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ آلوک گپتاہی وہ شخص ہیں جنہوں نے وطن عزیز میں آدھارکے فروغ دینے والوں میں سرفہرست تھے۔ ایک اور بات جو آلوک گپتا کے بارے میں ہم سب کو جاننا ضروری ہے وہ یہ کہ موصوف کے خمیر میں ہندوستان سے وفاداری کا کیمیکل کم اور امریکہ سے وفاداری سے زیادہ کیمیکل پایا جاتا ہے۔

اور یہ بھی کہنے میں ہمیں کوئی عار نہیں کہ آلوک گپتا ملک کے افراد کے بارے میں امریکہ کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔ دوسرا نام آر بی آئی گورنر کے سابق گورنر رگھو رام راجن کا ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ موصوف امریکہ کی ایک مشکوک تنظیم 'گروپ تھرٹی 'کے باقاعدہ ممبر ہیں۔ اب تمام پہلو کو نظر میں رکھتے ہوئے ہمیں یہ کہتے ہوئے بڑ ا افسوس ہو رہا ہے کہ ملک کا ریموٹ کنٹرول ملک کے وزیر اعظم کے بجائے کسی اور ہاتھوں میں ہے۔ دوسری بات بھی قابلِ غور ہے کہ جس ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی کو دو وقت کی روٹی میسر نہ ہو وہاں کے لوگوں کو کیش لیس پالیسی سے کیونکر دلچسپی ہوگی ۔

Author: