اشاعت کے باوقار 30 سال

ہمارے حکمران

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

وطن عزیز کے تمام حکمرانوں اور موجودہ لیڈروں کی تقریریں اور باتیں بلکہ اِن کے خو شامدیوں کی چمچہ گیری کو آپ بغور دیکھ لیں تو یہ سارے کے سارے عوام کی عقیدت کا استحصال کرنے کے لیے خود کو قائداعظم کا حقیقی جانشین ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں لیکن یہ بات ہمیشہ فہم سے بالا تر ہی ہے کہ یہ ایسے کردار اور طرز عمل سے قائداعظم کے تیرو نظر نہیں آتے۔ ہمارے آج کے لیڈروں کو ہیروئن کے نشے کی حد تک جس چیز کا لپکا ہے وہ خود پسندی اور اپنی ذات کو طاقت کا سر چشمہ بنانا اور خود کو حقیقی اور آخری نجات دہندہ ثابت کرنا یہ خود کو ہر قسم کے احتساب اور قانون سے ماوراء سمجھتے ہیں۔

نمود و نمائش اور پروٹو کول اِن کا نفسیاتی مسئلہ ہے ہر دور میں حکمران اِس حقیقت کو تسلیم کر نے سے گریز کرتے رہے کہ مالک کائنات نے اگر اُن کو اقتدار کی مسند پر بٹھایا ہے تو عوام کی خدمت کے لیے ہمارے حکمران اِس بات کو بھی ماننے سے انکاری ہیں کہ اصل بات خدمت سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے میں ہے لیکن یہ ہر دور میں یہی سمجھتے رہے ہیں کہ کروفر سے آدمی لوگوں میں معتبر لڑتا ہے بڑا بننے کے لیے جہازی گاڑیاں شاہی محلات جیسے بنگلے اور لشکری پروٹوکول یہ خود کو بڑا ثابت کرنے کے لیے قانون کو کمزور یا گھر کی باندی بنانے کے طریقے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

تاریخ کے اوراق میںشہرت اور نامور ہونے کے لئے صاحب زر ہونا ضروری سمجھتے ہیں لیکن اِن عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ شہرت اور عزت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شہرت تو ظالم کی بھی ہو سکتی ہے مگر تاریخ کے ماتھے پر عزت صرف عادل حکمرانوں کو ہی نصیب ہوتی ہے شہرت تو کسی دولت مند جاہل کی بھی ہو سکتی ہے مگر عزت صرف عالم فاضل کے مقدر میں ہی آتی ہے۔ شہرت تو کسی ڈکیت یا قاتل کی بھی ہو سکتی ہے مگر تاریخ کے آسمان پر چاند بن کر چمکنے والے رحم دل ہی ہو سکتے ہیں۔ شہرت تو ہر صاحب اقتدار کی ہوتی ہے مگر عزت صرف صاحب کردار کی ہی ہوتی ہے۔ تاریخ انسانی کے بہت بڑے حکمران چنگیز خان نے ایک بار اپنے ساتھیوں سے پوچھا تھا کہ میرا نام تاریخ میں زندہ رہے گا تو خو شامدی درباری تو خاموش رہے لیکن ایک صاحب عقل بول اٹھا کر جہاں پناہ اگر آپ کسی انسان کو زندہ چھوڑیں گے تو ہی کوئی یاد کرنے والا بھی ہو گا۔

یہی حال تماشی حکمرانوں کا ہوتا ہے کہ اگر یہ عوام کو انصاف اور سہولیات دیں گے تو ہی عزت پائیں گے رہ گئی شہرت تو وہ تو ہر دور کے فرعون تیمور ہلا کو کو بھی حاصل رہی ہے۔ شہرت اور خو د پسندی بڑے بڑوں کو نیست و نابود کر دیتی ہے لیکن تاریخ میں زندہ صرف نیک نام و عوام کے خدمت گزار ہی رہ جاتے ہیں آج کے لیڈر اور پچھلے حکمران جس کو بھی آپ دیکھ لیں وہ خو د کو خلفاء راشدین کا جانشین قرار دیتے ہیں اِن بصیرت کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ تاریخ انسانی کے عظیم اور عادل ترین خلفاء راشدین کی عزت پروٹوکول کے سائے میں یا محلات میں رہنے سے نہیں بلکہ رات کو پہرہ دینے سے بڑھی 'حضرت ابوبکر کو حکمرانی کے دور میں بھی کپڑے کے تھان کندھے پر رکھ کر بیچنے میں کوئی عار نہ تھی اور فاروق اعظم کو راتوں کو ضرورت مندوں کو تلاش کرنے اور بیت المال کے گم شدہ اونٹوں کو خود ڈھونڈنے میں کوئی تامل نہ تھا۔ 'حضرت عثمان غنی کو امارت سے غربت کے سفر میں کوئی تکلیف نہ تھی اور شیر ِخدا حضرت علی کو ایک یہودی کی شکایت پر عدالت میں پیش ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ تھی اور پھر اہل دنیا نے خوشگوار حیرت سے دیکھا حضرت عمر بن عبدالعزیز کو انکی پہلے سالانہ آمدنی پچاس ہزار اشرفیاں تھی امیر االمومنین بنے تو آمدن دو سو اشرفی رہ گئی جبکہ ہمارے حکمران کرا ئے کی گاڑیو ں میں آتے ہیں اور چند شب و روز اقتدار کے ایوانوں میں لوٹ مار کے بعد دولت کے انبار لے کر جاتے ہیں۔

یہاں تو کنگال آتے ہیں اور مال دار بن کے جاتے ہیں یہ مثالیں دیتے ہیں عوام کے خادم اِن کی خدمت میں عرض ہے عمر بن عبدالعزیز خلافت سے پہلے دو ہزا ر درہم کا ریشمی لباس زیب تن کرتے تھے خلیفہ بنے تو پانچ درہم کے لباس پر آگئے اور اِیسی فقیرانہ حکمرانی پر آپ کے انتقال پر قیصر روم نے اِس طرح خراج عقیدت کا اظہار کیا کہ کوئی راہب دنیا چھوڑ دے تو کوئی تعجب نہیں۔ حیرت تو اِس پر ہے کہ جس کے قدموں میں دنیا جہان کی دولت بچھی تھی مگر اُس نے فقیرانہ زندگی بسر کی ہمارے موجودہ لیڈروں کو اگر آپ دیکھیں تو غریب عوام پر ترس ہی آتا ہے اِن لیڈروں کی طرز زندگی ملاحظہ فرمائیں رائے ونڈ کے محلات' وسیع و عریض سینکڑوں ایکڑز پر محیط سلنطت 'بلاول ہائوس کی آرائش و تزئین اور بھٹو خاندان کی ہزاروں ایکڑ پر مشتمل سلطنت 'عمران خان صاحب کا طرز زندگی اور بنی گالا کی سلطنت 'چوہدریوں کا طرز زندگی اور گیلانی صاحب کی لوٹ مار کے قصے تو ابھی بھی پرانے نہیں ہوئے اِن کو شرم نہیں آتی جب یہ خود کو قائداعظم اور خلفاء راشدین کے حقیقی وارث قرار دیتے ہیں۔

جو لیڈر حکمران وطن عزیز کے کسی ہسپتال میں علاج کروانا پسند نہ کرتے ہوں جن کے بچے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل نہ کرنا چاہتے ہوں جن کی شادیوں پر شاپنگ دشمن ملک سے کی جاتی ہو جنہوں نے عوام کش سسٹم میں کبھی حقیقی تبدیلی لانے کی کوشش نہ کی ہو، ہمارے حکمران شہرت کے طالب ہیں اِن کو یہ کون سمجھائے کہ شہرت کے لیے عوامی خدمت کا ہونا بہت ضروری ہے حقیقی حکمران جہازی مہنگی گاڑیوں میں ہیلی کاپڑوں اور پروٹوکول کے لشکروں کے ساتھ حرکت کرنا زر نگار کر سیوں پر بیٹھنا دنیا کے مہنگے ترین لباس پہننا قصیدہ گوئوں کی محفلیں سجانا اپنے خو شامدیوں حواریوں کے ساتھ دنیا جہاں کی سیر کرنا اِن کے شوق اور مزاج شامل نہیں۔ ہمارے لیڈروں کی یادداشت کے لیے عرض ہے کہ قائداعظم جو پاکستان چاہتے تھے یہ کوئی مشکل فلسفیانہ بات نہیں ہے بلکہ وطن عزیز کا عام شہری بھی اِس حقیقت کو اچھی طرح با خبر ہے کہ قائداعظم کیا پاکستان چاہتے تھے شاعر مشرق نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور قائداعظم نے جس عظیم ملک کے لیے اپنا خون پسینہ بہایا اور لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر جس پاکستان کی جدوجہد کی اُس پاکستان میں بادشاہ 'چوہدری 'سردار 'میاں 'یاصاحب کا قانون نہیں بلکہ اللہ اور اُس کے رسول ۖ کا قانون نافذ ہوگا ایسا اسلامی حقیقی قانون جو ہر ایک چھوٹے بڑے امیر غریب کو عزت نفس مساوات اور انصاف کی ضمانت فراہم کر ے گا۔

ایسا پاکستان جس میں چند خاندانوں کی سیاسی معاشی اجارہ داری نہیں ہو گی یہ ملک کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہو گی نہ ہی نسل در نسل حکمرانوں کو کسی کو حق حاصل ہو گا ہر شخص کو اُس کی ذہنی و علمی جسمانی فکری و فنی صلاحیت کے مطابق ترقی کے یکساں مواقع میسر ہو نگے اور حکمرانی عوام کی ہوگی عوام کے حقیقی اصلی نمائندوں کی ہوگی اقتدار عوام کی خواہشوں اور امنگوں کے مطابق ہوگا غیر ملکی طا قتوں کی کٹھ پتلیاں حکمرانی نہیں کریں گی ایسا پاکستان جس میں ایسی تفریق اور امتیاز نہیں ہو گا کہ نسل در نسل حکمرانوں کی اولاد ہیں جونکیں بن کر عوام کا خون چوستی رہیں ایسا نظام نہیں جہاں حکمران کی اولاد حکمران اور ساری کا بیٹا ساری رہے ایسا پاکستان جسمیں افراد کی بجائے ادارے مضبوط ہوں۔ انصاف ایسا کہ حق دار کو آسانی سے اُس کا حق حاصل ہو جہاں زندگی گزارنے کے لیے کسی چوہدری یا با اثر کی خو شامد یا نوکری نہ کرنے پڑتی ہو یہ تھا وہ پاکستان جسے قائداعظم نے حاصل کرنا چاہا اور حاصل کیا لیکن اتنے سال گزرنے کے باوجود شاعر مشرق اور قائداعظم کا خواب ابھی تک ادھوارا ہے تشکیل پاکستان کے بعد تکمیل پاکستان کا حقیقی مرحلہ ابھی باقی ہے ایسا پاکستان جہاں پر ایک حقیقی آزادی ہو آگے بڑھنے کے مواقع یکساں ہو ں تو ہم کہہ سکتے ہیں یہ ہے قائداعظم کا پاکستان ۔

Author: