اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

فاٹا میں پولٹیکل ایجنٹ کا سکھا شاہی راج

خصوصی تحریر : مدوجان گوہر وزیر، سابق امیدوار این اے 24، ڈیرہ اسمعیل خان

فاٹا دنیا کا واحد علاقہ ہے جہاں کے قانون کی دنیا میں کوئی مثال نہیں۔ پاکستان کے آئین سے الگ فاٹا کے لئے الگ قانون ایف سی آر بنایا گیا ہے۔ فاٹا میں اگر کوئی کسی کو قتل کرے تو ایف سی آر میں اس کو جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن اگر کسی نے سرکار کے خالف آواز اٹھانے کی کوشش کی تو اسے جرم سمجھا جاتاہے۔ فاٹا میں عوام کے مجرم کو نہیں، سرکار کے مجرم کو سزا ملتی ہے سرکار کے مجرم کے پورے خاندان کو سزا ملتی ہے نہ صرف اس کے پورے خاندان کو بلکہ پورے قبیلے کو مجرم قرار دے کر سزا دی جاتی ہے۔ اگر کسی نے سرکار کے کسی اہل کار پر حملہ کیا تو حملہ آور کا خاندان حملہ آور کا پورا قبیلہ اسکا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے حملہ آور جہاں سے حملہ کرتا ہے جس گھر کے قریب سے حملہ کرتا ہے یا جس کمرشل مارکیٹ کے قریب سے حملہ کرتا ہے تو سرکار اس گھر کو اور اس کمرشل مارکیٹ کو مسمار کر دیتا ہے یعنی ایک بندے کے جرم کی سزا پوری سوسائٹی کو دیتے ہیں۔ دوسری طرف فاٹا میں کوئی عدالت نہیں ہے۔ فاٹا کے عوام کو وکیل دلیل اور اپیل کا کوئی حق حاصل نہیں ۔ سرکار کسی کا جرم بتائے بغیر گرفتار کر سکتی ہے کئی سالوں تک جیل میں ڈال سکتی ہے اور اس کو اپیل کا حق نہیں دیا جاتا۔ نہ صرف یہ کہ فاٹا میں کوئی عدالت نہیں بلکہ پاکستان کی کسی بھی عدالت تک فاٹا کے عوام کو رسائی حاصل نہیں۔ میں نے 19 جون 2013 کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خالف پٹیشن دائر کیا تھا سپریم کورٹ نے آرٹیکل 247 کے تحت میرا پٹیشن مسترد کیا۔ آرٹیکل 247 میں لکھا ہے کہ فاٹا پاکستان کے کسی بھی عدالت کے جورزڈکشن میں نہیں آتا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے فاٹا کے لئے الگ باقی پاکستان کے لئے الگ قانون کیوں ہیں۔ فاٹا کے عوام کو انصاف مانگنے سے کیوں روکا جاتا ہے ۔ کیا فاٹا پاکستان کا حصہ نہیں ہے ۔ ہم فاٹا کے عوام آئین پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ ہم فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں ۔ جب فاٹا کے پی کے میں شامل ہو گا تو فاٹا کے عوام کو عدالتوں تک رسائی حاصل ہو گی۔ لوگ انصاف مانگ سکیں گے جس کو انصاف مانگنے کا موقع مل جاتا ہے وہ کبھی ہتھیار نہیں اٹھاتا۔ فاٹا کے عوام کو جب انصاف مل جائے گا تو وہاں کے عوام کی مایوسی ختم ہو گی وہاں کے لوگ پرامن ہو جائیں گے فاٹا میں لوکل گورنمنٹ قائم کر کے وہاں عوامی نمائندے عوامی مسائل حل کریں گے۔ پولٹیکل ایجنٹ کے راج کا خاتمہ ہو گا ظلم وجبر کا سلسلہ ختم ہو گا موجودہ نظام میں تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ صحت کے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے۔ فاٹا میں یونیورسٹی نہیں ہے لڑکیوں کے لیے تعلیم کا کوئی خاص نظام نہیں ہے ۔ جب ایف سی آر ختم ہو گا فاٹا صوبے کا حصہ بن جائے گا لوکل حکومت بنے گی تو وہاں منتخب نمائندے عوام کے مسائل آزادانہ طریقے سے حل کریں گے جب تک انصاف
نہیں ملے گا امن کا قیام ممکن نہیں۔

Author: