اشاعت کے باوقار 30 سال

زہر بھی چھوٹا لفظ ہے

میں نے اسی موضوع پر گزشتہ سال مئی میں لکھا تھا ۔ اُس وقت سپریم کورٹ میں کیس کی گونج میڈیا میں نہیں آئی تھی ،میرا وہ کالم نامور صحافی سید طلعت حسین کے پورٹل پر شائع ہو اتھا۔ اس کے بعد میں نے بھی اس موضوع پر توجہ نہیں دی اور ناں ہی مجھے کسی نے اس اسائنمنٹ پر کام کرنے کو کہا۔ ابھی جب سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت ہو رہی ہے اور میڈیا میں بھی اس کیس کا شور ہے تو اپنی ذاتی آرکائیو میں سے میں نے وہی کالم دوبارہ نکالا ہے۔ ذیل میں اس متن درج کیا جائے گا۔ میڈیا میں ملٹی نیشنل کمپنیاں جب دے مار ساڑھے چار اشتہارات دیں گی تو میڈیا میں اس پر کار آمد گفتگو تو ہونے سے رہی لیکن میں یہاں پر آپ سے کچھ سوالات کرنا چاہوں گا۔ تاہم اُن سوالات سے پہلے یہ بھی پڑھ لیں۔
ہم اکثر ٹی وی پر دودھ کے اشتہارات دیکھتے ہیں۔ کسی اشتہار میں کھیل کود کے حوالے سے دودھ کے استعمال کی تر غیب ہوتی ہے اور کسی اشتہار میں لحہ پر گاتے اور ناچتے ہوئے یہ یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ اُن کے برانڈ کا دودھ پینا کتنا ضروری ہے ۔ میں نے یہ تو پڑھ ہی رکھا تھا کہ ڈبے کا دودھ کس حد تک نقصان دہ ہے ‘ تاہم ایک نجی چینل کے مزاحیہ پروگرام میں سنجیدگی کا عنصر لئے ایک کلپ کو سننے کے بعد میں چونک بھی گیا اور کانپ بھی گیا اور یہ سوچنے پر مجبور بھی ہوا کہ میں خود کیا پیتا رہا ہوں اورہم اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے کیا پلاتے رہے ہیں ؟
سائن ٹیتھک دودھ صحت کیلئے بے حد نقصان دہ ہے۔ یہ کیسے تیار ہوتا ہے ‘اُس کیلئے اس تناسب کو سمجھیں۔اس کو بنانے کیلئے گھٹیا ترین کوالٹی کا دو کلو سوکھا دودھ، ایک لیٹر کوکنگ آئل اور 37لیٹر پانی ملایا جاتاہے۔ اس کے بعد اس کو واشنگ مشین کی طرز کی بڑی مشینوں میں ڈال کر اچھی طرح سے مکس کر لیا جاتا ہے اور آخر میں چینی کی مقدار کو شامل کر کے ’’خالص اور معیاری دودھ ‘‘ تیا ر کر لیا جاتا ہے ۔ پھر یہی دودھ پاکستان بھر میں دکانوں پر فروخت کیلئے آتا ہے اور ہم آنکھیں بند کرکے اس کو استعمال کرتے ہیں۔ابھی ایک رپورٹ کے مطابق جتنے بھی بڑے برانڈز ہیں‘ وہاں پر بھی دودھ کم و بیش ایسے ہی تیار ہوتا ہے اور تو اور اُن برانڈز کے نام پر جو جعلی دودھ مارکیٹ میں آتا ہے ‘ اُس کی حالت اس سے بھی خراب ہوتی ہے ۔
دوسری غلطی‘ یاں یوں کہ لیں کہ سنگین غلطی ہمارے گوالے بھی لاعلمی میں کرتے ہیں۔کہیں یہ لا علمی ہوتی ہے اور کہیں یہ لالچ کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ زیادہ کے لالچ میں گائے اور بھینسوں کو انجکشن لگایا جاتا ہے ، اس انجکشن کے بعد وہ پہلے کی نسبت زیادہ دودھ دیتی ہیں اورگوالے اس کو بیچ کر نفع کماتے ہیں ۔ بھینسوں کو دودھ کیلئے جو ٹیکا لگایا جاتا ہے وہ ’آکسیٹوسین‘ کا ٹیکا ہوتا ہے ۔ یہ ٹیکا جانوروں میں ہارمونز اور سٹیرائڈز کو تحریک دیتا ہے ۔ اس کی وجہ سے بھینس دودھ تو زیادہ دیتی ہے ‘لیکن دوسری طرف اس کی عمر میں کمی ہوجاتی ہے ۔ آکسیٹو سین کی وجہ سے انسانی جسم پر بھی خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے گردے ، آنکھیں ،یاداشت متاثر ہوتی ہے ۔اس کی وجہ سے ہی بچے اور بچیاں اپنی عمر سے پہلے ہی جوان ہونا بھی شروع ہوجاتی ہیں اور نتیجتاً نسلوں کی اوسط عمر میں کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔اسی طرح جب بھینس ان ٹیکوں کی وجہ سے کچھ سال کے بعد لاغر ہوجاتی ہے تو اس کو قصائی کے ہاتھ بیچ دیا جاتاہے ۔ وہ قصائی اس جانور کو ذبح کرکے دکانوں پر بیچتے ہیں اور ہم وہاں سے ’’حلال اور صحت مند گوشت‘‘ خرید کر لاتے ہیں۔
دودھ کی زندگی صرف ڈیڑھ سے دو گھنٹے ہوتی ہے ‘ورنہ اس میں موجود بیکٹریا متحرک ہو جاتا ہے اور اس کے بعد دودھ پھٹ جاتا ہے ۔اسی وجہ سے دودھ میں پانی ملانا ضروری ہوتاہے۔ ایک لیٹر دودھ میں پچاس ملی لیٹر تک ٹھنڈا پانی ملا کر دودھ کو مزید کچھ وقت کیلئے بچا یا جاتا ہے ‘تاکہ گھروں میں اس کو پہنچایا جا سکے۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ گھر میں دودھ لانے کے بعد اس کو فوری فریج میں رکھا جاتا ہے اور یا پھر اس کو ابال لیا جاتا ہے ۔ تاہم‘ آج کل دودھ کو زیادہ دیر تک بچانے کیلئے اس میں ’’فارمولین‘‘ کے ڈراپس ڈالے جاتے ہیں۔ فارمولین زہر ہے ۔ اس کو لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد ٹانکوں پر لگایا جاتا ہے تاکہ لاش کے گلنے سڑنے کے عمل کو روکا جا سکے۔ قدیم مصری تہذیب میں ممیاں بھی فارمولین کے ساتھ ہی حنوط کی جاتی تھیں۔
اس کے بعد دودھ ڈیری پر آ جاتا ہے ۔ یہاں پر اس میں سے کریم نکالنے کا عمل ہوتا ہے ۔ بھینس کے دودھ میں 5فیصد سے 6فیصد تک کریم ہوتی ہے ۔ کریم نکالنے کے عمل میں ساری کریم نکال لی جاتی ہے اور اسکے بعد اس دودھ میں کچی لسی بچ جاتی ہے ۔ اس لسی کو دوبارہ سے دودھ بنانے کیلئے اس میں انڈسٹریل فیٹس ملائی جاتی ہیں۔ یہ انڈسٹریل فیٹس بیرونی ممالک سے امپورٹ کی جاتی ہے جوکہ گھوڑے‘مگر مچھ‘ گدھے کے علاوہ سور کی بھی ہو سکتی ہے ۔ اس چکنائی کو ملانے کے بعد اس کو مکمل طور پر حل کرنے کیلئے اس میں مزید کیمیکل ملانے ہوتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے پوٹاشیم درکار ہو تی ہے ۔ پوٹاشیم کیلئے سب سے سستا ذریعہ یوریا ہوتا ہے ‘لہذا اس میں یوریاملائی جاتی ہے ۔ اس عمل کے بعد دودھ کا رنگ کافی میلا ہو چکا ہوتا ہے اور اس کو واپس اُس کے رنگ میں لانے کیلئے اور اس میں قدرتی جھاگ کی طرح سے جھاگ پیدا کرنے کیلئے اس میں کاسٹک سوڈا اور سرف ملایا جاتا ہے ۔ آخر میں چینی یا سکرین کی آمیزش سے اس میں میٹھاس پیدا کی جاتی ہے اور اس کے بعد اس ڈبوں میں پیک کر کے مارکیٹ میں فروخت کیلئے پیش کر دیا جاتا ہے ۔ میں پہلے یہ نہیں کہتا تھا کہ مشہور برانڈز ایسا نہیں کرتے ہونگے تاہم اب حال ہی میں سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت نے بہت سے سوالات جنم دیے ہیں۔ پاکستان میں یقیناًاس حوالے سے قانون سازی موجود ہے لیکن کیا سزائیں اتنی ہیں کہ جو بھی کوئی ملاوٹ جیسا سنگین جرم کرے اور جس سے انسانی جان کو خطرات لاحق ہوجائیں ‘ اُس کو نشان عبرت بنایا جائے؟کیا قانون محض کمزور کیلئے ہے یا طاقتور ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اس قانون کی زد میں آتی ہیں؟ سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے خود بیان دیا ہے کہ دودھ میں یوریا اور گنے کا رس ملا ہوتا ہے ۔ معروف کمپنی کے دودھ سے بھی فارمولین برآمد ہوا ہے ۔ جسٹس ثاقب نثار کا خود کہنا ہے کہ بچوں کو خالص دودھ بھی نہیں دے سکتے ہیں تو کام کرنے کا کوئی حق نہیں۔ لیکن سوال پھر وہی ہے کہ جناب والیٰ نشا ن عبرت بنائے بغیر آپ کیسے انصاف کر سکتے ہیں؟ کوئی ایک مثال تو معاشرے میں قائم کیجئے ۔ کیا یہ پاکستان کے مستقبل سے گھناونا مذاق نہیں ہے؟ عوام کو بھی چاہئے کہ وہ سہل پسندی کی عادت کو ترک کریں ۔ علی الصباح اُٹھ کر قریبی گوالے کی حویلی سے جا کر تازہ دودھ خریدیں ۔ وہ آپ کے سامنے دودھ دہوئے گا اور آپ کے سامنے ہی فروخت کرے گا۔ دوسرا حل یہی ہے کہ اپنے قابل اعتماد گوالے سے دودھ خریدیں۔ بازار میں دستیاب دودھ مہنگا بھی ہے اور دودھ کے نام پر زہر بھی ہے ، شاید زہر بھی چھوٹا لفظ ہے۔