اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر لیا گیا

صبحِ نو ر کی آمد

بارہ ربیع الاول صبح دوپہر شام رات سیکنڈوں، منٹوں، گھنٹوں پر مشتمل دن لیکن یہ دن روز اول سے روزِ محشر کے تمام دنوں کا سردار دن، ایسا دن جس میں صرف ظہورِ قدسی نہیں ہوا بلکہ صبح نور کی ایسی آمد ہو ئی ایسا عالم نو طلوع ہو اکہ کتنے ہی زمانے اِس دن کے دامن میں سمٹے ہو ئے ہیں، چاند ستارے اور سورج اِس آفتاب جہاں تاب سے روشنی کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، کتنے ہی چمنستان اِس صبح نور سے رنگ و بو کی خوشبویں سمیٹ رہے ہیں، کتنے ہی شبستان اپنی تیرگی مٹانے کے لیے صدیوں سے اِس دن کے انتظار میں اپنے دامن مراد پھیلائے کھڑے ہیں 'آج کے دن نور مجسم ۖ نے صرف اِس جہاں خاکی میں قدم ہی نہیں رکھا بلکہ تاریخ عالم نے نئے سفر کا آغاز کیا۔ اِس روز اماں آمنہ نے ایک سعادت مند بیٹے کو ہی جنم نہیں دیا بلکہ مادر گینی نے ایک انقلاب عظیم کو جنم دیا اِس دن آمنہ کے چاند سے صرف اماں آمنہ کا آنگن ہی منور نہیں ہوا بلکہ تیرہ و تار خاکدان ہستی روشن ہوا جہاں بہا راں کے قدم رنجہ فرمانے سے مرض الموت میں مبتلا زندگی میں حیات نور کی لہریں دوڑنے لگیں اور زندگی پر حقیقی شباب آگیا اِس صبح نور کی آمد سے ہزاروں سالوں سے راہ تکتی سسکتی تڑپتی انسانیت کے خواب کو تعبیر مل گئی آمنہ کے چاند نے صرف اپنی غمزدہ اماں کو ہی حقیقی سچی خوشیوں سے ہمکنار نہیں کیا بلکہ ہر درد کے مارے کے لبوں پر تبسم کے شگوفے پھوٹنے لگے 'اِس نور مجسم ۖ کے جلوہ فرمانے سے صرف اماں آمنہ کے آنگن میں ہی خوشبوئوں خوشیوں کے لا تعداد قافلے نہیں اُترے بلکہ کائنات کے چپے چپے میں جہاں کہیں بھی مایوسیوں نے اپنے پنجے گاڑ رکھے تھے وہاں امید کی کرنیں پھوٹنے لگیں اور حسرت و یاس میںڈوبے ٹو ٹے دلوں کو بہلا نے لگیں اِس صبح نو ر کی روشنی سے جزیرہ عرب کا بخت ہی روشن نہیں ہوا بلکہ انسانیت جو ہزاروں سالوں سے ظلم و جبر بے کلی پریشانی میں غرق تھی نا امیدی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی اس گو ہر قسم کی ذہنی جسمانی اور سیاسی غلامی سے رہائی کی نوید مسرت ملی 'نور مجسم ۖ کی نسبت سے زمین ارجمند اور اس کے پائیگاہ کے بوسے سے آسمان بلند ہو گیا آقا کریم ۖ کی تشریف آوری سے دنیا کو شرف انسانی کا حقیقی اندازہ ہوا، ورنہ اِس سے پہلے حضرت انسان کو دوسری چیزوں کی عظمت و شان کا احساس تھا لیکن وہ اپنی حرمت اور مقام سے نا واقف تھا اِس بے خبری کے نتیجے میں حضرت انسان صدیوں سے ظلم و جہالت کے سمندر میں گم تھا وہ چمکتی اور طا قت ور چیز کو خدا کا روپ دیئے بیٹھا تھا۔ چاند ستاروں اور سورج کی روشنی سے متاثر ہو کر انہیں خدا کا روپ دئیے بیٹھا تھا، راجوں، مہا راجوں، طاقتوروں، نوابوں، سرداروں کی جھوٹی شان و شوکت سے مسحور ہو کر انہیں خدا کا اوتار مانے ہو ئے تھا، انسان روحانی جسمانی طو ر پر مختلف خوفوں کا شکار تھا۔ ہر ابھرتی چیز کے سامنے جھک جاتا، خو ف انسان کی ہڈیوں تک سرایت کر چکا تھا وہ ہر ذووانی شے کے سامنے ماتھا ٹیک دیتا 'اتنا سہما ہوا تھا اتنا سمٹا ہوا تھا کہ اُسے اپنی شان مقام اور وسعت کا بلکل بھی ادراک نہ تھا خوفزدہ اتنا کہ جن بھو توں کو سجدے کرتا، کڑا ہوا اتنا کہ ہر نئی زنجیر کو اپنے لیے تقدیر سمجھتا تھا۔ آمنہ کے لال ۖ نے آکر اُسے بتا یا کہ تیری حرمت کعبے سے بھی افضل ہے 'تیری ذات راز الٰہی ہے 'تیری تخلیق حرف کن سے نہیں خاص دستِ قدرت سے ہوئی ہے تو تو امارت الٰہی کا حامل ہے اِس صبح نور سے پہلے انسان جانوروں سے بھی بد تر زندگی گزار رہا تھا وہ اپنی شاہکار صلاحیتوں سے بلکل بھی واقف نہ تھا اُسے پتہ ہی نہ تھا کہ اُسے اراد ہ و اختیار دیا گیا ہے اُسے پتہ ہی نہ تھا کہ وہ خو د کو ذرہ سمجھ کر بیٹھا کہ وہ تو اپنے اندر صحرا کی وسعتیں رکھتا ہے وہ تو قطرہ وجود میں قلذم ہے، غار حراسے نکلنے والی آفتاب نبوت کی شعاعوں سے ہی انسان اپنی آگہی سے متعارف ہوا جو انسان پہلے اپنے ہی ہا تھوں تراشیدہ مٹی کے مادر کے سامنے سمٹا ہوا تھا آج اُس کی ہیبت سے پہا ڑ سمٹ کر رائی بن چکے ہیں' جو خو فزد ہ انسان بتوں 'مو رتیوں 'بھوت پریتوں اور واہموں سے ہلکان تھا اب صحرا و دریا اس کی ٹھو کر سے دو نیم ہوئے جارہے ہیں جو انسان شب و روز دیوی دیوتا ئوں کے سامنے سرجھکا ئے کھڑا ہوتا تھا آج نعرہ توحید کے آسمان پر نظر آتا ہے سچ تو یہ ہے کہ کائنات کا اعتبار ہو کہ انسانیت کا وقار یہ سب کچھ اِس صبح نو ر کے دم سے ہے یہی صبح نور ہے جو وجہ تخلیق کا ئنا ت ہے اور روح تخلیق بھی یہ صبح نور ازل و ابد کی وسعتوں پر مشتمل ایک ایسی ساعت جمیل کی امین ہے جو سارے زمانوں اور جہانوں کا مقدر سنوار گئی 'یہ صبح نور ہزاروں سال سے دیکھے جا نے والے خوابو ں کی تعبیر کی صبح ہے جو ویرانوں کو رعنائی و زیبائی کی رونقیں دے گئی یہی وہ صبح نو ر ہے انسانیت کا وہ جو ہر حیات ہے جو کائنات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بکھر ے ہوئے جہالت میں ڈوبے ہو ئے انسانوں کو شرفِ آدمیت سے ہمکنار کر گئی۔ نو ر مجسم نبی رحمت ۖ کا پیغام خالق کائنات کا پیغام ہے یہ پیغام قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے ہے یہ پیغام عرب و عجم اور شرق و غرب کی حدوں سے ما وراء اور وقت کی ہر قید سے آزاد ہے قیامت تک سارے زمانوں اورتمام عالمین پر محیط اِس پیغام میں ایسی سحر انگیز کشش اور جامعیت ہے کہ یہ سنگلاخ چٹانوں کو ذرات میں تبدیل کر کے پتھر کے دلوں میں گھر کر جا تا ہے اور آفاق کی ساری وسعتوں کو اپنے دامن کرم میں چھپا لیتا ہے اِس صبح نو ر میں ہی آمنہ کے آنگن میں تو حید معرفت کا وہ میخا نہ کھلا کہ اُس کے دروازے صبح مکہ و حجا ز کے منکرین خد اکے لیے ہی نہیں کھو لے گئے بلکہ سارے نو ع انسانی کو دعوت عام دی گئی کہ آخر جس کا دل چاہے اِس مئے طہور سے جتنے چاہے جام نو ش کر ے اور اپنے دل و دماغ اور زنگ آلو د روحوں کے زنگ کو معرفت ِ الٰہی کے نور میںرنگ لے آج وہ سورج طلوع ہوا جس کی روشنی سے خزاں کی چیرہ دستوں سے تبا ہ حال گلشن انسانیت کو سرمدی بہاروں سے آشنا ئی نصیب ہو ئی 'افسردہ کلیاں مسکرانے لگیں کہ اُن کو رنگ ونور اور خوشبوئوں سے معطر کر نے والی صبح نو ر طلوع ہو چکی ہے اِس صبح نور میں ہی سرور کا ئنات ۖ اِس دنیا رنگ و بو میں تشریف لا ئے آقا کریم ۖ کی تشریف کی خو شی میںمسلمانانِ عالم اپنی بساطِ رواں اور روایات کے مطا بق اظہارِ مسرت و شادمانی کر تے ہیں درود و سلام کی محافل سجا ئی جا تی ہیں میلاد کی بزمِ آرائیاں اور نور ِ مجسم ۖ کی آمد کے دن بازارگلی کو چے اور گھر روشن کئے جا تے ہیں 'راتو ں کو چراغاں اور نعت کی روح پرور صدائیں بلند ہوتی ہیں 'خو شبو ئیں رچے بسے یہ قافلے عاشقانِ رسول ۖ کہلا تے ہیں 12ربیع الاول ایک عہد نو انقلاب عظیم کی سالگرہ کا دن ہے اپنے آپ کو شاہِ عربی ۖ کے پیغام سے جو ڑنے کا دن ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ گزرے والے بے شمار دنوں کی طرح آج بھی ہم جلسوں 'جلو سوں 'جھنڈوں 'کا نفرسوں 'سیمیناروں 'تقاریب 'سبیلوں میں گزار دیں گے یہاں تاریخ انسانی کے سب سے بڑے مسیحا کے پیغام کو ہم ان بے جان غیر حقیقی محفلوں میںدفن کر دیں گے 'کیا زمانوں اور جہانوں کی تقدیر بدل ڈالنے والے دن کی حقیقی خوشبو حقیقی نور ہمارے با طن کی نہاں خانوں میں ہلکا سا ارتعاش 'ہلکی سے انگڑائی دئیے بغیر ہی چپ چاپ افق مغرب میں غروب ہو جا ئے گا ہم عشقِ رسول ۖ کے حقیقی وارث ہیں کیا آج کا دن ہما رے اندر حقیقی تبدیلی کا موجب بنا' افسوس نہیں افسوس نہیں ۔

Author: