اشاعت کے باوقار 30 سال

حقیقی پاکستان مختلف ہے۔

مجھے ذاتی طور پر سیاحت کا بہت شوق ہے۔ بہت مرتبہ اپنے ملک کو گھومنے کا اتفاق بھی ہوا ہے۔ دبئی کے صحرا بھی دیکھے ہیں اور بھی کئی مقامات کو اپنی نظر سے دیکھا ہے۔ میں اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ کہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں سیاحت کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ پاکستان کو اللہ نے نوازا ہے اور خوب نوازا ہے۔ یہاں پر سمندراور ساحل ہیں‘ پہاڑوں کے خوبصورت مناظر‘ قدیم اور جدید شہر‘ قدیم تہذیبوں کے آثار‘ صحرا اور ریگستان‘مغلیہ دور کی نشانیوں‘ سکھ مت اور بدھ مت کے مذہبی مقامات سمیت بہت کچھ موجود ہے۔ ماضی میں لاہور مال روڈ پر ہمیں جگہ جگہ غیر ملکی سیاح کمر میں بستہ اور ہاتھ میں کیمرہ اٹھائے دکھائی دیتے تھے۔ پھر نائن الیون ہوا اور اس خطے کی صورتحال تبدیل ہو گئی۔ انٹرنیشنل ٹورازم تقریباً دم توڑ گئی۔ ہم بھی اخبارات میں پاکستان کے طول و عرض میں دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں پڑھتے تھے‘ ٹی وی کی خبریں روز ہی کہیں نہ کہیں بے گناہوں کے جنازوں کی خبروں سے بھری ہوتی تھی ۔ غرض کہ سارا ہی ملک اس ناسور سے متاثر تھا۔ دہشت گردی کے ان واقعات نے جہاں ملک کے دیگر شعبوں کو متاثر کیا تھا ‘ وہی ایک شعبہ سیاحت بھی تھا۔ پاکستان کے نامور اور مقبول سیاحتی مقامات پر ویرانی چھا گئی تھی ۔اللہ کے فضل سے اب پاکستان کے حالات بہت بہتر ہو چکے ہیں۔ عالمی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں جاری حالیہ آپریشنز کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں 68فیصد کی کمی آئی ہے جو کہ خوش آئندہ ہے۔ ملک کے حالات کی بہتری سے جہاں اور بہت سے شعبے مستفید ہوئے ہیں وہی پر سیاحت کے شعبے کو بھی دوبارہ سے فروغ حاصل ہو رہا ہے ۔
پاکستان میں اس وقت مقامی سیاحت دوبارہ سے اپنے راستے پر آ گئی ہے ۔ ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ ملک میں مقامی سیاحت کو فروغ حاصل ہو اہے اور یہ ترقی کی جانب گامز ن ہے ۔ وادی نلتر‘ وادی نیلم‘ گلیات‘ مری‘ سکردو‘ گلگت‘ ہنزہ‘ دیوسائی ‘ ناران‘ کاغان‘ پائے‘سوات‘ کالام‘ مالم جبہ تو زبان زد عام سیاحتی علاقے ہیں۔ لاہور میں اتنی تاریخی عمارتیں ہیں کہ اگر روزانہ ایک عمارت کو دیکھا جائے تو تقریباً دو ماہ میں لاہور کی تاریخی عمارتوں کا دورہ مکمل ہوگا۔ کراچی میں اندرون کراچی بھی ایک تاریخ اور تہذیب موجود ہے۔ ملتان‘ فیصل آباد‘ بہاولپور‘ گوجرانوالہ‘ سیالکوٹ ‘ کوئٹہ الغرض پاکستان کا ہر گوشہ ہی اپنے آپ میں منفرد ہے۔ مقامی سیاحت میں ترقی کی وجہ سے اس سے منسلک دیگر شعبوں کو بھی فائد ہ ہوا ہے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ہی دیکھیں تو ملک کے معتبر پراپرٹی پورٹل Zameen.com کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ پانچ سالوں میں پراپرٹی کی قدر میں 118فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کو اس طرح سے دیکھئے کہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال میں بہتری کی وجہ سے لوگوں میں یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنی املاک کو کرائے پر دے دیتے ہیں اور جب سیزن عروج پر ہوتا ہے تو وہاں پر ایک کمرہ تک ملنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ اس سے مقامی لوگوں کی معاشی حالت میں بہتری پید ا ہوتی ہے اور دوسری جانب اُن کی پراپرٹی کی قدر میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ رئیل اسٹیٹ کے ساتھ ساتھ ہوٹل انڈسٹری‘ برتن‘ چادریں‘ کمبل ‘ رضائیاں‘ ریسٹورانٹس اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر کئی شعبوں کو بالواسطہ اور بلا واسطہ فائدہ پہنچتا ہے ۔ یعنی ایک سیاحت کی بہتری سے ملک کی مجموعی معیشت کو خاطر خواہ فائدہ پہنچ جاتا ہے ۔پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں آنیوالے دنوں میں مقامی سیاحت میں اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اِن مقامات سے متشدد امن دشمن عناصر کا خاتمہ ہوچکا ہے ۔امن کی فضاء ہی سیاحت کیلئے سازگار ہوتی ہے ۔ایسی فضاء میں کوئی بھی سیاح اپنے خول میں نہیں بیٹھتا ہے بلکہ اُس کو توڑ کر مختلف علاقوں کی جانب چل پڑتا ہے ۔
غیر ملکی سیاح پاکستان آ تو رہے ہیں تاہم ابھی بھی غیر ملکی سیاح پاکستان میں اُس شرح سے نہیں آ رہے ہیں جیسے کہ پہلے آتے تھے۔اب غیر ملکی سیاحوں کو یہاں لانے کیلئے ضروری ہے کہ ہم پاکستان کا دنیا بھر میں محفوظ تصور اجا گر کریں۔ ایک غیر ملکی چینل کے نمائندے کی حیثیت سے جب میں وفاقی دار الحکومت میں جب اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا تھا تو وہاں پر مقیم غیر ملکی افراداور سفراء سے ملاقات کا موقع مل جاتا تھا۔ میں نے اُن سے بھی اس موضوع پر بات کی تھی۔ہرن مینار ایک ڈاکومینٹری کی شوٹنگ میں ایک غیر ملکی سیاح سے گفت و شنید کا موقع ملا تو اُس نے پاکستان کے بارے میں اپنے مثبت خیالات ہی بتائے ۔ اُن کے ساتھ سادہ کپڑوں میں اہلکار موجود تھے۔ اُس نے مجھے بتایا کہ جوپاکستان ہمیں ذرائع ابلاغ میں دکھایا جاتا ہے‘ حقیقی پاکستان اُس سے مختلف ہے ، یہاں کے لوگ امن کو پسند کرتے ہیں لیکن دلیر ہونے کیو جہ سے غلط برداشت نہیں کرتے ہیں ،ان کو رہنمائی درکار ہے باقی آپ ان سے کوئی بھی کام کہیں تو یہ آپ کی توقع سے بڑھ کرکرتے ہیں ۔ اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر اُس سیاح کا کہنا تھا کہ مجھے یہاں پر پاکستانی اس لئے اچھے لگے کہ وہ کسی کی بھی مدد کیلئے ہر وقت تیار ہوتے ہیں۔ آپ کا کام کرتے ہیں ااور اُن کو زبردستی معاوضہ دینا پڑتا ہے کیونکہ وہ ابتداء میں لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ میرے ایک سوال کے جواب میں اُس نے کہا کہ پاکستان ٹورازم کی مارکیٹنگ کے ذریعے سے آپ عالمی سطح پر نیک نامی کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی تعداد میں سیاحوں کو بھی اپنی جانب راغب کر سکتے ہیں۔ تاہم ان تمام سیاحتی مقامات کو نہ صرف اپ گریڈ کرنا چاہئے بلکہ ڈویلپمنٹ بھی ضروری ہے ۔
پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق اس سال 5کروڑ لوگ سیاحتی مقاصد کیلئے ملک بھر میں سفر کریں گے۔امید ہے کہ سیاحت کا یہ سفر نہ صرف اسی طرح جاری رہے گا بلکہ اس میں ترقی بھی ہوگی اور انشااللہ ملکی سیاحت میں بہتری کی وجہ سے غیر ملکی بھی پاکستان کی جانب کھنچے چلے آئیں گے۔