اشاعت کے باوقار 30 سال

اب میں بولوں کہ نہ بولوں

سید عارف مصطفی

پتا نہیں یہ اپنے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو بیٹھے بٹھائے کیا ہو جاتا ہے ۔۔۔ پہلے 3 برس قبل بدنام زمانہ کریمنل رؤف صدیقی کی حمایت میں بیان داغ دیا تھا اور انہیں وزیر داخلہ بنانے کا مطالبہ داغا تھا پھر گزشتہ دنوں اسکے لیئے اپنے کالم میں مزید ستائش فرمائی تھی اور آج جنگ میں اپنے کالم میں انہوں نے پی پی جی ( پراپرٹی اینڈ پاور گرو) ملک ریاض کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے ہیں کیونکہ انہوں نے انکی بیٹی کو دبئی میں فلیٹ خریدنے کے لیئے قرضہ دیا تھا جبکہ ملک ریاض ایک معمولی کلرک سے کھرب پتی کے مقام تک کیسے پہنچے وہ کسے معلوم نہیں اور وہ خود ایک ٹی وی پروگرام میں ان بیش قدر پہیوں کا ذکر کرچکے ہیں کہ جن پہ اپنی فائلوں کو سیر کراتے ہوئے وہ ہر ناجائز کام کو جائز کراتے ہوئے یہاں اس بلند مقام تک آن پہنچے ہیں۔وہ اپنی بلائی گئی پریس کانفرنس میں کیئے گئے اپنے اعتراف کے مطابق سابق چیف جسٹس کے بیٹے ارسلان افتخار کو 34 کروڑ روپے کی رشوت دینے کے بھی اقبالی مجرم ہیں اور جسکے دستاویزی ثبوت بھی انہوں نے اخبار نویسوں کو دکھائے تھے اسکے بعد ہی سابق چیف جسٹس کی عظمت کا وہ بت دھڑام سے منہ کے بل گر گیا تھا کہ جب انہوں نے اپنے بیٹے کو بچانے کے لیئے برادر ججوں کے ساتھ مل کر کمیشن کمیشن کا کھیل کھیلا تھا اور ملک ریاض نے اپنا مقدمہ واپس لے لیا تھا اور یوں معاملہ کھیل ختم پیسہ ہضم کے اصول پہ ختم ہوگیا تھا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر وہ کونسا معاملہ تھا کہ جسکے لیئے 34 کروڑ جیسی خطیر رقم بطور رشوت دی اور خرچ کی گئی تھی ۔۔۔ یقینا کسی جائز کام کے لیئے تو وہ یہ سب کرنے سے رہے تو پھر اسکی تحقیق کیوں نہیں کی گئی،،،، ؟؟ اس سوال پہ اہل صحافت بھی چپ ہیں اور اہل سیاست پہ بھی سکتہ طاری ہے ۔۔۔!! لیکن کیا واقعی اس مک مکا سے انکا جرم بھی فوت ہوگیا تھا ۔۔۔ یقینا نہیں کیونکہ انکا وہ رشوت دینے کا جرم تو اپنے طور پہ ثابت شدہ ہے کہ جسکا انہوں نے کسی کے کہے اور پوچھے بغیر خود ہی اعتراف کیا تھا اور اس پہ انکو سزا دینے سے محفوظ رکھنا ہماری عدلیہ کے منہ پہ لگا ایک ایسا سیاہ داغ ہے کہ جسکی تلافی عدلیہ کو خود کرنی چاہیئے اور ملک ریاض کو اس رشوت ستانی پہ کم از کم اب تاخیر سے ہی سہی لیکن قرار واقعی سزا دینی ہی چاہیئے یا پھر یہ ارباب عدل کے پیش نظر یہ خاص حکمت ہے کہ اس مقدمے کی میعاد سماعت ہی گزر جائے اور اس بکھیڑے میں پڑنے کی نوبت ہی نہ آئے ۔۔۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن اے خدایا یہ ہمارے ملک کے عظمت کے اس مینارے کو کیا ہوا ہے کہ بھوت کو ولی بنانے پہ تلا ہوا ہے ،،، کیا آئیڈیلزم کو پھانسی لگانے کا اس سے سفاک طریقہ اور کوئی ہوسکتا ہے۔۔۔ ؟؟

کاش انہیں پبلسٹی کے بھوکے اس گرو گھنٹال کو یہ سمجھانے کی توفیق بھی عطا ہو کہ بات بات پہ کرکٹ ٹیم کو بڑی رقومات کے انعامات دینے اورمیڈیا میں نام کمانے کی بھوک مٹانے سے کہیں زیادہ اچھی یہ بات ہے کہ وہ اپنے ملازموں کو بروقت تنخواہ ہی ادا کردیا کرے اور انکی دعائیں لے لے کیونکہ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے کہ انکے اخبار جناح کراچی کے ملازمین اپنی کئی ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیئے پریس کلب کے باہر مظاہرے کرتے پھر رہے تھے اور سوشل میڈیا پہ انکی فریادیں ہر درد مند کو غمگین کیئے دیتی تھیں اپنے طرزمہارت سے ہمارے سماج میں کسی بھی طرح دولت کماکر معزز بن جاننے کو آرٹ سے زیادہ سائنس کا درجہ دے دینے والے اس شخص کا یہی جرم کیا کم بڑا ہے کہ اپنے مخصوص پراپرٹی گیم کے ذریعے اسنے پراپرٹی کی قیمتوں کو آسمان پہ پہنچا کر کسی غریب کو اپنے مکان کا مالک بننے کے ہر امکان ہی سے محروم کردیا ہے۔لیکن ۔۔۔ لیکن ثابت یہ ہوا کہ اگر آپ اس ملک میں کسی بھی طرح ارب پتی بن سکتے ہیں تو پھر آپ جی بھر کے ہر طرح کے پاپ کرتے پھریں کیونکہ پھر آپکے پاپوں کو پن ثابت کرنے کا کام دوسرے خود ہی سنبھال لیں گے اور وکیل صفائی بھی ایسے تقدس مآب کہ استغاثہ و جج دونوں ہی تھرا اٹھیں ۔۔۔ اور جب ایسے اہل تقدیس معاشرے میں ویلن اور ہیرو کی پہچان میں کوئی فرق ہی نہ رہنے دیں تو سماجی انصاف کے سبھی تصورات کو منہ کے بل گرنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔یارو بڑا سچ یہی ہے کہ یہاں اصل مجرم تو وہی ہیں کہ جو مواقع ملنے کے باوجود اس طرح دولت حاصل کرنے پہ لعنت بھیجتے ہیں اور دنیاوی تام جھام اور جاہ و حشم پہ نہیں ،پل صراط کے سفر اور میدان آخرت کے کڑے حساب کو نگاہوں میں بسائے رکھتے ہیں اور اس سے بھی کہیں پہلے ، وہ قبر میں بند اپنے بے بس لاشے کو رغبت سے چٹ کرتے کیڑوں کو پیش نظر رکھتے ہیں ابھی اس مد میں میرے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن کیا کروں ہم بولے گا تو بولے گا کہ بولتا ہے ۔۔۔

Comments

aimal.nawaz@gmail.com's picture

doing good job

Submitted by [email protected] on Thu, 08/11/2016 - 22:30