اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

چین کے ساحل کے پاس فیری ڈوب گئی

یہ جنرل رانی کا نواسہ فخر عالم

شہلا رضا کو بھی کیا یاد آگیا،، لیکن کیا کیا بھول گیا

شہرت اور ناموری کا اپنا الگ ہی مزہ ہے لیکن اگر اسکی بنیاد کسی بدبو دار خاندانی پس منظر پہ رکھی ہوئی ہو اور کسی فاحشہ نے ماضی میں سب گنوا کر (جیسے آبرو وغیرہ) سب کچھ پانے جیسی کامیابی پائی ہو تو 'تعلقات' کا یہ فیضان کئی نسلوں تک کو ثمر بار کردیتا ہے ۔۔ لیکن پھر بھلا کون اس شرمناک تاریخ کا حساب رکھتا ہے کیونکہ ناکامی یتیم ہوتی ہے اور کامیابی کے سو باپ ہوتے ہیں۔ اداکار و گلوکار فخر عالم بھی ایسے ہی فیض یافتگان میں سے ہیں کہ جنکی 'عظیم نانی' اقلیم اختر نے اپنی عزت گنوا کے اپنی کئی نسلوں کو معزز بنا دیا۔

گجرات سے تعلق رکھنے والی یہ گول مٹول سی تھلتھلاتی فاحشہ جو دور سے دیکھنے پہ کہیں نہ کہیں سے دلکش بھی دکھائی دیتی تھی، جنرل یحییٰ کی دیرینہ داشتہ تھی کہ جنہیں اسی ضخامت اور جسامت کی سانڈنیوں سے خاص رغبت تھی اور جنہیں ایوان صدر کی چراگاہ کے چارے ہی سے خصوصی الفت تھی۔۔ وہ ترقی پا کے صدر بنے تو یہ اقلیم اختر بھی عملا ًرانی بن گئی اور اپنے فوجی محبوب اور ذاتی تحکمانہ مزاج کے باعث جنرل رانی پکاری جانے لگی، جسکے اشارہ ابرو پہ کسی کا نام بھی ترقی کی کہکشاں پہ جگمگا سکتا تھا اور جسکی خفگی کسی کو بھی ذلت و بربادی کی کھائیوں میں پھینک سکتی تھی۔ بعد میں یحییٰ خان کی صدارت لد گئی تو جنرل رانی نے بھی اور کئی سرسبز چراگاہوں کا رخ کرلیا حتی کے دبئی کے شیخوں کے سامان ضیافت کا حصہ بنی اور پھر وہیں ایک ہندو سابق فوجی کیپٹن مینندر سنگھ سے شادی رچا ڈالی ۔۔۔ اس قدر بین الاقوامی و بین المذہبی تجربات کے بعد پیدا ہونے والی نسل کو بھی رنگا رنگ صلاحیتوں اور متعدد سامان ہنر سے لیس تو ہونا ہی تھا سو فخر عالم میں یہ سب رنگ نمایاں ہیں تو حیرت کی کیا بات ہے ۔

لیکن یہی سب کچھ رنگ ڈھنگ اور چلتر تو ملکہ ترنم نور جہاں کے بھی تھے تو پھر آخر وہ اس قدر معزز کیسے ٹہریں کہ نہایت بیحیائی کے ساتھ 1971 کی جنگ کے بحرانی دنوں اور ڈوبتے و ٹوٹتے پاکستان کے آخری دنوں میں یحییٰ خان کے گھٹنے پہ بیٹھ کے اور جام و جم کھیلتی مست و عیاشانہ تصویر اتروانے کے باوجود انکی 'معزز' نسلوں کی جانب کوئی انگشت نمائی کیوں نہیں کرتا بلکہ قوم کو بیوقوف بنانے کے لیئے اور انکی تقدیس کا سکہ معتبر بنائے رکھنے کے لیئے وہی 1965 کی جنگ کے دوران انکا گایا ہوا جنگی نغمہ ' اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمہارے لیئے ہیں' یوں بار بار سنوایا جاتا ہے کہ جیسے اسی کے بل پہ جنگ ستمبر کی سب عسکری کامیابیاں حاصل کی گئی تھیں اور ہمارے بہادر جوانوں نے بہادری سے لڑنے کے لیے اس نغمے کو سننے کی ضد کی ہوئی تھی اور اس نغمے کے چھ برس بعد ہی جس نے قوم کی لٹیا ڈبونے کے لیئے حاکم وقت کو شراب و شباب کی کمزوری کے جال میں پھنسا لیا تھا اور ہر عاقلانہ اقدام سے بے نیاز و بے حس کردیا تھا،،، لیکن اسکی ان سیاہ کاریوں کے باوجود یوم دفاع کی تقریبات و دیگر پروگراموں میں انکی 'معزز' نسلوں کو کندھوں پہ اٹھا کے اسٹیج پہ بٹھایا جاتا ہے۔

لیکن بہرحال وہ جو کہتے ہیں کہ بدبودار ماضی پیچھا نہیں چھوڑتا اور کبھی نہ کبھی شرمندگی کا طوق گلے میں ڈال ہی دیتا ہے تو فخر عالم کو ڈھیروں کامیابیاں سمیٹنے اور سنسر بورڈ کا چیئرمین بن جانے کے باوجود انکی بدچلن نانی کے سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے شہلا رضا کے طنز و طعنے کا نشانہ بننا ہی پڑا ،،، لیکن وہ یہ بھول گئیں کہ کوئی پلٹ کے انکی پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے جسمانی ہی نہیں سیاسی کرتوتوں کے طعنے تو دے ہی سکتا ہے کہ جنہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز ہی اپنے اس تاریخی خط سے کیا تھا (جسکی نقل آج بھی سرکاری آرکائیوز میں موجود ہے) کہ جو انہوں نے پاکستان کا پہلا آئین توڑنے والے غدار صدر اسکندر مرزا کو لکھا تھا اور جس میں انہیں قائداعظم سے بھی بڑا لیڈر قرار دیا تھا (ویسے غداری تو اسکندر مرزا کے لہو میں رچی بسی ہوئی تھی کیونکہ وہ بنگال کے نواب سراج الدولہ سے غداری کرنے والے تاریخی بدبخت میرجعفر کے پڑپوتے بھی تھے۔) ۔۔ لیکن چند ہی ماہ بعد جب ایوب خان نے صدر کا تختہ پلٹ دیا اور خود صدر بن بیٹھے تو انہوں نے نئے صدر کی کابینہ کا حصہ بننے میں لمحہ بھر کی تاخیر اور اسکندر مرزا کی طرف سے آنکھیں پھیرنے میں ذرا سی شرم بھی روا نہ رکھی اور جلد ہی نئے آقا کی خوشامد کیلئے ساری حدیں پھلانگ کے انہیں ڈیڈی کہنے پہ اتر آئے، لیکن دس برس بعد جب انکے خلاف سیاسی تحریک چلائی تو انہی کو جلوسوں و جلسوں میں 'کتا کتا' بھی کہلوایا حتی کہ جب انکے دور اقتدار میں جب 1974 میں وہی، ڈیڈی' مرگئے تو انکی نمازجنازہ تک اسلام آباد میں نہ ہونے دی اور میت کو بڑی بے کسی و عجلت میں ایبٹ آباد لے جایا گیا ۔

یہاں آخر میں ایک اور معزز نسل کا تذکرہ بھی کرتا چلوں جو کہ جنرل محمد عمر کی نسبت سے ہے ۔ جنرل عمر ان تاریخی غداروں میں شامل ہیں کہ جنہیں حمود الرحمان کمیشن نے سقوط مشرقی پاکستان کی ضمن میں گھناؤنا و غدارانہ کردار ادا کرنے پہ سزا دینے کی سفارش کی تھی لیکن بعد میں ہوا کچھ بھی نہیں اور موصوف سارے سرکاری اعزازات و مراعات کے ساتھ رخصت ہوئے اور انہوں نے جرنیلی کی بہتی گنگا میں جو ہاتھ دھوئے تھے اسکے بل پہ اپنے دو بیٹوں یعنی اسد عمر اور زبیر عمر کو بیرون ملک تعلیم دلوائی اور آج ایک بیٹا زبیر عمر پاکستان مسلم لیگ نون کا نفس ناطقہ بنا ہوا ہے تو دوسرا اسد عمر پی ٹی آئی میں عمران خان کا دست و بازو کہلاتا ہے اور اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی بھی ہے یوں حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی کے مزے ایک ہی گھر میں لوٹے جارہے ہیں۔

میری دل سے یہ خواہش ہے کہ کاش کوئی زبردست انقلاب آئے اور ان جیسے نام نہاد معززین کی ساری 'تاریخی' عزت و شوکت بہالے جائے اور غداری و بدکرداری کے بل پہ بنائی گئی انکی جائیدادوں کو بحق سرکار ضبط کرکے ان کو فروخت کر کے ان سے بہتیرے ذہین مگر غریب طلبا کو ایچیسن اور آکسفورڈ میں پڑھائے اور بیورو کریسی میں لا کر ان معززین کے سروں پہ لا بٹھائے اور یہ معززین یہ منظر دیکھ کر دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھیں چھپالیں مگر عاجز ہورہیں کہ ایسا منظر تو آنکھوں میں اپنی جگہ بنا ہی لیتا ہے اور دیر تک وہیں موجود و سلامت رہتا ہے۔

نوٹ : ادارے کا کسی بھی کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

a