اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

پہلے ہوائی جہاز کی پرواز

شادی والدین کی مرضی سے ہونی چاہیئے یا لڑکی لڑکے کی مرضی سے؟

شادی ایک ایسا فیصلہ ہے جو زندگی کے دریا کا رخ کسی بھی طرف موڑ سکتا ہے۔ اگر شریک حیات آپ کا ہم مزاج ہو تو زندگی میں جذباتی تسکین کے ساتھ ساتھ روحانی اور مالی خوش حالی بھی یقینی ہو جاتی ہے
اللہ تعالی نے انسان کے جنس کے اعتبار سے تین رشتے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں۔ کوئی مرد پیدا ہونے کے بعد اپنی ماں نہیں بدل سکتا۔ اسی طرح کوئی لڑکی اپنے پیدا ہونے سے پہلے اپنے باپ کا انتخاب نہیں کر سکتی۔ یہ ہی معاملہ بہن، بھائی اور بیٹی، بیٹے کا ہے۔انسان کو ایک ہی رشتے کے انتخاب کا حق حاصل ہے اور وہ ہی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

جب بھی کوئی اولاد بلوغت کی عمر تک پہنچتی ہے اس کے ماں باپ کے ساتھ ساتھ پورے خاندان کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ عجیب و غریب تبصرے سننے کو ملتے ہیں۔جن میں اپنی بڑائی اور دوسرے کی تحقیر کا پہلو ہوتا ہے۔

ہر خاندان کا مزاج الگ ہوتا ہے۔میرے خیال میں شادی لڑکی لڑکے کی پسند کے ساتھ والدین کو راضی کر کے ہونی چاہیئے کیوں کہ اگر لڑکی کو اپنا شوہر پسند نہ ہو تو یہ بات معاشرتی اور ازدواجی کرپشن کی طرف جا سکتی ہے اور یہ کرپشن کسی بھی خاندان کی بنیادوں کو تنکوں کی طرح ہوا میں اڑا سکتی ہے۔ میرے مشاہدے میں ایک ایسا خاندان ہے جن کی دادی نے کرپشن کی ۔ دادا کا صدمے سے انتقال ہو گیا ۔ نقلی دادا ساری اراضی فروخت کروا کر پیسے لے اڑے اور اولاد کو سڑکوں پر دھکے کھانے پڑے۔

دوسری طرف لڑکے کی پسند بھی ضروری ہے ۔ایسا خاندان بھی میں نے دیکھا ہے کہ جب تک جوانی رہی لڑتے جھگڑتے اولاد بھی بڑی ہو ہی گئی مگر جب بڑہاپے میں بیماریوں نے گھیرا تو دلوں میں اتنی گنجائش نہیں تھی کہ ایک دوسرے کو برداشت کرتے۔ پینتیس سال کی شادی شدہ زندگی کے بعد طلاق ہو گئی۔ زندگی کے نو سال ماں نے بھٹکتے ہوئے کبھی ایک بیٹے کے ساتھ گزارے کبھی دوسرے بیٹے کے ساتھ ۔ بیوی کے انتقال کے ڈیڑھ دو سال بعد میاں جی بھی چل بسے اور دوسرے لوگوں کے لیے عبرت چھوڑ گئے ۔

اعتدال زندگی کے ہر حصے میں ضروری ہے۔ جوانی میں جذبات کا زور ہوتا ہے۔ اگر لڑکا لڑکی آپس میں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو والدین کو اعتماد میں لے کر ان کی مرضی شامل کر کے، ان کو راضی کر کے شادی کرنی چاہئے اس لئے کہ والدین نے زمانے کے نشیب و فراز دیکھے ہوتے ہیں۔ وہ خاندانی پس منظر، کردار، روزگار اور زمینی حقائق کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ والدین کی مرضی سے کی گئی شادی میں اللہ کی طرف سے برکت بھی شامل ہو جاتی ہے اور ایسی شادی سماجی طور پر بھی عزت و احترام میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم قرآن سے دور اور فلموں میں پیش کیے گئے تصورات و خیالات سے زیادہ قریب ہیں۔ صرف ایک محبوب یا محبوبہ کی خاطر ساری دنیا چھوڑ دینا نہایت بیوقوفی کی بات ہے۔ ایسا کرنے والے کو یہ یاد نہیں رہتا کہ وہ خود کسی کی پوری دنیا ہے جیسا کہ پچھلے دنوں ایک لڑکی لڑکے کی خودکشی کا واقعہ موضوع بحث رہا ہے۔

دوسری طرف والدین کی بھی ذمے داری ہے بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو ان کے ذہن والدین کے ہاتھ ہی میں ہوتے ہیں اگر وہ بچوں کو صرف اپنی مرضی کرنا سکھا ئیں گے تو بچے ہر معاملے میں اپنی مرضی ہی کریں گے۔ پھر چاہے والدین مرجانے کی دھمکی بھی دیں بچے اپنی تربیت کے مطابق اپنی مرضی ہی کریں گے۔ اس لئے بنیادی طور پر بچوں کی اچھی تربیت ضروری ہے۔ حضرت علی کا قول ہے، پیدائش سے لے کر سات سال کی عمر تک اپنے بچوں کے ساتھ کھیلو، سات سال کی عمر سے چودہ سال کی عمر تک اپنے بچوں کی تربیت کرو،چودہ سال کی عمر سے اکیس سال کی عمر تک اپنے بچوں سے دوستی کرو۔اس کے بعد اسے اس کے حال پر چھوڑ دو غور کریں ۔ تین جملوں میں بچوں کی نشوونما کا طریقہ کار بتا دیا ہے۔ اپنی یادیں کھنگالیں۔ عمر کے پہلے سات سال میں آپ کو ساتھ کھیلنے والے یاد آئیں گے۔ اس کے بعد اپنی مہارتیں، سائیکل چلانا، گیم کھیلنا آپ نے اسی عمر میں سیکھا ہو گا، اس کے بعد جوانی کی پریشانیاں، جس کی باتیں بچے صرف اپنے دوستوں سے کرتے ہیں۔ اگر ان کی یہ تمام مشکلات حل کرنے والے والدین ہی ہوں تو کسی بھی طرح کسی ٹکراو کی نوبت آنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔

اللہ ہم سب کو سمجھ اور عقل دے اور ہم اپنے والدین کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کے لئے بھی فخر کا باعث بن سکیں۔ واللہ اعلم باالصواب

Comments

aimal.nawaz@gmail.com's picture

no comment

Submitted by [email protected] on Wed, 08/17/2016 - 09:44