اشاعت کے باوقار 30 سال

قرضوں میں جکڑی معشیت اور قصہ ایک باتھ روم کا

پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے ہمیشہ ہی سے اپنے ذاتی مفادات اور آسائش کو مقدم جانتے ہوئے مہنگے غیر ملکی قرضے حاصل کئے ۔یہی وجہ ہے کہ آج ہر پاکستانی اربوں ،کھربوں روپے کا مقروض ہے اور ہم سب اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس دے کر یہ قرضہ اتارنے میں جتے ہوئے ہیں۔ ایک طرف تو عام آدمی ہے جو پانی کی ایک بوتل،ماچس کی ایک ڈبیہ سے لیکر گاڑی جیسی ضروریات کے خریدنے پر بھی ہزاروں کا ٹیکس دیتا ہے تو دوسری طرف ہماری سیاسی و انتظامی اشرافیہ ہے جوعوامی قربانی اور مشکلات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے بے جا اخراجات کی بھٹی میں کروڑوں جھونک دیتے ہیں۔ایسی ہی تازہ مثال اب سامنے آئی ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ غریب اور مقروض قوم پر ٹیکسوں کے بوجھ لادنے والی حکومت نے وزیرِ اعظم ہاؤس کی تزئین و آرائش کیلئے مبینہ طور پر 20کروڑ 22لاکھ روپے مختص کر رکھے ہیں۔ان بھاری فنڈز میں سے 2کرور 18لاکھ روپے کی خطیر رقم وزیرِا عظم ہاؤس کے باتھ روم کی نذر کی جائے گی۔اسی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ان کے ممکنہ تباہ کن اثرات سے نمٹنے کیلئے محض 54 کروڑ رکھنے والی حکومت نے سرکاری پریپوگنڈے اور سرکار کی مشہوری کیلئے 59کروڑ مخصوص کر رکھے ہیں۔ اسے ترجیحات کی کمزوری سمجھئے یا عوامی محبت کہ ہر سال موسمی تبدیلیوں کے بطن سے جنم لینے والے سیلاب تباہی مچاتے ہیں،لاکھوں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑتا ہے اس کے باوجود اس مسئلے کو وہ توجہ اور مالی مدد نہیں مل پاتی جو سرکار آئے روز اشتہارات کی مد اخبارات کو فراہم کرتی ہے۔اہم مسائل کو نظر انداز کرنے کی روش صرف موسمیاتی تبدیلی تک ہی محدود نہیں ہے۔گلگت بلتستان کیلئے صرف بائیس کروڑ اور وزیراعظم ہاؤس کیلئے 20کروڑ کس بات کی عکاسی کرتے ہیں؟ترجیحات ہیں کیا؟سب واضح ہو جاتا ہے جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ oTher expenses کی مد میں 174ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ شاید خفیہ اجنسیوں کے ملنے والے فنڈز سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔دوسری طرف خادمِ اعلیٰ بھی اسراف کی دوڑ میں کچھ پیچھے نہیں کیوں کہ مبینہ طور پر ان کا روزانہ کا خرچہ 18لاکھ روپے ہے۔عوامی احساسات کو کچلنے اور ذاتی مفادات کی آبیاری صرف ایک صوبہ اور فیڈریشن تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ وطنِ پاکستان کے ہر ضلع،شہر اور صوبہ کی یہی حالت ہے۔احساسِ زیاں نایاب ہے اور خودغرضی،جھوٹ اور دکھاوے کا جادو سرچڑھ کر بولتا ہوا ہماری قومی و ملی روایات کا منہ چڑا رہا ہے اور سب دیکھنے،سمجھنے اور جاننے کے باوجود ہمارا پیمانہ صبر ہے کہ لبریز تک نہیں ہورہا۔

Author: