اشاعت کے باوقار 30 سال

کرپشن زدہ معاشرہ اور خود احتسابی

Location

Islamabad
Pakistan
PK

ماہِ صیام کی آمد کے ساتھ ہی شیطان تو قید ہوجاتا ہے مگر مہنگائی کا جن بے قابو ہوکر غریب روزہ داروں کے ارمان کچلنا شروع کردیتا ہے۔حکومتی اقدامات اپنی جگہ مگر بحیثئت مسلمان اور پاکستانی ہم سب بھی وقتی فائدے کیلئے اس بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔ہر سال ہمارے تاجر طبقے کی یہی روش ہے کہ ماہِ مبارک کے آغاز سے قبل ہی تاجر حضرات قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کرکے اس ماہِ مبارک کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے صارفین کی جیبوں پر ہاتھ صاف بھی صاف کرتے رہتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے اجتماعی افطاریوں کا اہتمام کرنے سے بھی نہیں چوکتے ہیں۔اسے دو عملی کہیے یا پھر اخلاقی کرپشن ،الغرض یہ جو بھی ہے ہمارے سماجی ڈھانچے میں استحصال کے بیج بوئے جارہا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ اوپر سے نیچے تک ہمارا معاشرہ کرپشن زدہ بن کر رہ گیا ہے۔
امسال بھی تاجروں نے اپنی اپنی چھریاں تیز کرتے ہوئے ضروری اشیاء کی فی کلو قیمت میں 30روپے تک کا اضافہ کرکے صارفین کی جیبوں پر نیا بوجھ لاد دیا ہے۔اخلاقی کرپشن کے شکاروں نے امسال رمضان کی آمد سے قبل ہی اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھا کر اپنے عزائم آشکارکر دیئے ہیں۔بیسن، چاول اور چینی جیسی بنادی ضروریات کی قیمتوں میں 300فی بوری اضافہ کرکے راتوں رات "ثوابِ دارین 'کمالیا گیا ہے تو دوسری جانب سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق سیب 130سے 260 روپے فی کلو۔ کیلا120سے 230روپے فی درجن،خوبانی 150 ،آلو بخارا150،آم 80 سے 150 اور چیری240روپے فی کلو تک فروخت کئے جانے کا بندوبست کرلیا گیا ہے۔دوسری جانب آلو40،لیموں 250،تھوم ،پیاز اور ٹماٹر جیسی عام سبزیوں کو بھی غریب روزہ دار کی پہنچ سے دور بنا دیا گیا ہے۔ پہلے روز سے قبل ہی مارکیٹ میں آلو25کی بجائے 60 روپے ،
قیمتوں میں اس بے جا اضافے پر صارفین نوحہ کناں ہوتے ہیں تو کوئی ان کی پکار پر کان نہیں دھرتا۔اگر ذمہ داری کی بات کی جائے تو حکومت تاجروں کو ذمہ دار ٹھہرا کر دامن چھڑا لیتی ہے اور تاجروں کو پوچھا جائے تو وہ حکومتی نااہلی کو اس کا سبب قرار دیتے ہیں کہ حکومت پیداواری اشیاء کی طلب اور قیمت میں توان کا نظام تشکیل دینے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کرتی۔ یہ صورتحال اس وقت اور بھی مضحکہ خیز لگتی ہے جب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی قوم دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرنے والی قوم ہے۔ایک طرف توماشاء اللہ رمضان میں جا بجا دستر خوان بچھے نظر آتے ہیں ،دیگیں چڑھائی جاتی ہیں اورزکوۃ و فطرانہ تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف قیمتیں بڑھا کر پیسے کی ہوس کو بڑھاوا دیا جاتا ہے۔پوری دنیا میں یہ رواج ہے کہ مذہبی تہواروں کے موقع پر قیمتوں میں خصوصی کمی کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کو سہولت دے کر انہیں مذہبی تہوار وں کو ان کی اصل روح کے مطابق منانے کی سہولت دی جاسکے۔ہمارے وطنِ عزیز میں یہ الٹ چلن کیوں ہے؟ہمارا معاشرہ ذمہ دار ہے؟تاجر؟یا حکومت؟فیصلہ ہمیں کرنا ہوگا۔

Author: