اشاعت کے باوقار 30 سال

گستاخی معاف ۔۔۔ اسلامی نظریاتی کونسل

ْمیں اس ملک خداداد کی بے بس عوام ہوں جو بھارت میں اپنا سب کچھ لٹا کر اس ۔۔ مدینہ ثانی۔۔ کی محبت میں بھاگی دوڑی چلی آئی مگر اپنے نصیب کا کیا کرتی جو صدیوں پر محیط بت پرستی کی نحوست سے تا حال زیر بار ہے۔ مجھے لوٹنے کھسوٹنے کا سلسلہ روز اول سے جاری ہے۔ سب اپنا حصہ بقدر ظرف وصول کر رہے ہیں۔ ڈاکو اور چور مجھے لوٹیں، ماریں، میرے ملک کا بازو کاٹ کر بھارت کے حوالے کر دیں، آنسو تو بہیں گے مگر غلطی تو میری ہے ان کو میں نے ہی تو سر پر بٹھایا ہے، ان کو میں نے ہی تو اقتدار بخشا ہے، شاباش کے قابل ہیں کیونکہ وہ تو اپنا کام نہایت دیانت داری سے کر رہے ہیں افسوس تو تب ہوتا ہے جب اس ملک کی اسلامی نظریاتی کونسل بھی وہ ہی کرے جو باقی سب کر رہے ہیں ۔
رک جائیے ۔۔۔ !!! آپ یقینا میری گوشمالی کرنے کا سوچ رہے ہوں گے۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اس مملکت کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے والی اس کونسل کے کسی بھی فیصلے سے اختلاف کرنا ایک بہت بڑی گستاخی ہے۔ اسی لیے تو میں نے بات کرنے سے پہلے گستاخی کی معافی مانگی ہے مگر کیا کیا جائے کہ۔۔ جرات آموز میری تاب سخن ہے مجھ کو ۔۔۔ شکوہ علماء سے خاکم بدہن ہے مجھ کو
عرض یہ ہے کہ میں بے بس عوام ہوں میرا المیہ یہ ہے کہ میں جاہل بھی بہت ہوں۔ علمائے کرام یقینا دعوت و تبلیغ سے بھی کچھ نہ کچھ نسبت رکھتے ہوں گے۔ یہ حدیث علمائے کرام کے علم میں ہوگی '' ہم گروہ انبیا کو حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے ان کی عقل کے مطابق بات کریں۔ آپ اسلامی تبلیغ کے ان بنیادی دو اصولوں سے بھی واقفیت رکھتے ہوں گے جن کے نام '' سد ذرائع اور تدریج ''ہیں۔ یعنی سب سے پہلے ان کاموں کا راستہ روکنا، جو کسی گناہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ دوسرے درجہ بدرجہ عوام کو اللہ کی بات ماننے پر آمادہ کرنا۔ آپ یقینا اس اصول پر مدنی زندگی میں عمل کے بارے میں بھی جانتے ہوں گے۔ شراب مکے میں حرام قرار نہیں دی گئی بلکہ اس سے درجہ بدرجہ نفرت دلائی گئی اور جب طبیعتیں اللہ کا حکم ماننے کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہو گئیں تو شراب کی ممانعت کا حکم آیا اور مدینے کے باسیوں نے شراب کے سارے مٹکے توڑ ڈالے یہاں تک کہ مدینے کی گلیوں میں شراب کی ندیاں بہنے لگیں۔

میں آپ سے کیا کہوں ؟؟ کہ میں کیوں جاہل ہوں ؟ کیا میں آپ سے یہ کہوں کہ آپ نے میری تعلیم و تربیت پر توجہ نہیں دی ؟ کیا میں آپ سے یہ کہوں کہ اگر میں دین کا علم حاصل کرنا چاہوں تو علمائے کرام تک میری رسائی سے پہلے ہی تفرقہ ڈالنے والوں کا ایک گروہ مجھ پر ٹوٹ پڑتا ہے جو مجھے اپنے فرقے میں شامل کر کے دوسرے فرقے کے خلاف صف آرا کرنا چاہتا ہے۔ جو میری لاش پر کھڑا ہو کر سرخرو ہونا چاہتا ہے۔ جنگ میں قتل تو سپاہی ہوں گے ۔۔۔۔ اور سرخ رو ظل الہی ہوں گے ۔۔۔ میں وہ بے بس تخت ہوں جو اپنے اوپر بیٹھنے والوں سے کتنی ہی نفرت کیوں نہ کر لے ان کو اتارنے پر قادر نہیں۔ میرے علم حاصل کرنے کی راہ میں مشکلات کا ایک پہاڑ کھڑا ہے چاہے وہ علم دینی ہو یا دنیاوی ۔ ان راستوں پر بھی پہرے نہیں بٹھائے جاتے جہاں میں اپنی منزل جہنم بنا بیٹھوں۔ مگر ابھی مجھے اس موضوع پر کچھ کہنا ہے جو آج کل ہر کسی کی زبان پر ہے جس کے مطابق '' مرد اپنی بیوی کو مار سکتا ہے مگر ہڈی نہ ٹوٹے ''۔۔۔قرآن کی جس آیت کے مطابق زوجہ پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت آپ نے دی ہے وہ یہ ہے۔

سورہ نسا کی آیات کا ترجمہ یہ ہے ۔۔۔مرد عورتوں پر نگران ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔ پس نیک فرماںبردار عورتیں خاوند کی عدم موجودگی میں بحفاظت الہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اور جن عورتوں کی نا فرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وہ تابعداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو بے شک اللہ تعالی بڑی بلندی اور بڑائی والا ہے۔

جناب عالی۔۔!! مجھے شکوہ یہ ہے کہ آپ نے مجھے سورہ فاتحہ کے بارے میں نہیں بتایا کہ دعا مانگو '' دکھا ہمیں ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ انتہائی ادب کے ساتھ، میں جاہل عوام ہوں اگر، میاں کو صرف یہ معلوم ہو کہ بیوی کو مارنے کی اجازت ہے تو وہ ہاتھ اٹھاتا ہی رہے گا۔ انجام کیا ہو گا ؟؟ ایک چیونٹی کو مارا جائے تو وہ بھی کاٹتی ہے کیا کسی دن بیوی ہاتھ اٹھانے پر مجبور نہیں ہوگی ؟؟ کیا درد صرف ہڈی ٹوٹنے سے ہوتا ہے ؟ گوشت کو کاٹنے یا جلانے سے درد نہیں ہوتا ؟؟

جناب عالی آپ نے مارنے کی اجازت تو دے دی مگر یہ آیت آپ کے سامنے ہے۔ مرد کی فضیلت کا ذکر مال خرچ کرنے کی وجہ سے ہے، آپ نے یہ نہیں بتایا کہ اگر عورت کماتی ہو تو کیا اس کو بھی مارنے کا حق ہوگا یا وہ کما کر بھی کھلائے گی اور پٹے گی بھی ۔۔ ؟ جناب عالی آیت آپ کے سامنے ہے، کیا سب سے پہلے نصیحت کرنے کا حکم نہیں ؟ آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں ۔ جناب عالی آیت آپ کے سامنے ہے کیا پہلے ان کے بستر الگ کرنے کا حکم نہیں ۔۔؟ مگر جو ان سزائوں کے بعد بھی نہ مانے تو کیا '' طلاق '' کا راستہ کھلا ہوا نہیں ۔۔ اگر طلاق بھی نہ دے سکے تو پھر کیا جو آخری راستہ ہے وہ آپ نے سب سے پہلے نہیں بتا دیا؟؟؟

میں کم علم عوام،، مگر اسی آیت میں سامنے موجود ہے کہ پھر اگر وہ تابعداری کریں تو ان پر کوئی اور راستہ تلاش نہ کرو ۔ کیا اس جملے سے یہ مفہوم ادا نہیں ہو رہا کہ عورت کی تابعداری کے باوجود مرد زیادتی کرے تو مرد کی گوشمالی ہونی چاہیے؟؟؟ کیا پاکستان کے سارے صاحب اختیار مل کر کوئی اور راستہ تلاش کر رہے ہیں ۔۔؟؟؟ چند الفاظ کہنے کی اجازت اور دیجیے ہمیں سنت پر چلنے کا حکم ہے ۔ کیا آقا محمد مصطفیۖ نے تمام بیویوں سے ناراض ہو کر ایک مہینے کے لیے علیحدگی اختیار نہیں کر لی تھی جس کے بعد آیات تخیر نازل ہوئی تھیں جس میں ازواج مطہرات کو آقا ۖسے مکمل علیحدگی لینے کا اختیار دے دیا گیا تھا کیا اس ناراضگی کے باوجود آقا ۖنے کسی زوجہ پر ہاتھ اٹھایا تھا ؟؟؟
نہایت ادب کے ساتھ عرض ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا کام ایسے قوانین کی تیاری ہے جو اس مملکت خداداد کو ایک اسلامی مملکت بنا دے۔ عائلی قوانین بھی یقینا اسی میں آتے ہیں مگر یہ ایک نہایت بھاری ذمہ داری ہے ۔ انسان خطا کا پتلا ہے، کسی سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ اگر یہ سطور لکھ کر میں نے غلطی کی ہے تو دست بستہ معافی کی خواستگار ہوں ۔ میں نے آزاد ملک میں اپنے قلم کا آزادی سے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ پھر بھی اگر کوئی گستاخی ناگوار خاطر گزرے تو حضرت محمد ۖ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے عفو و در گزر کا معاملہ فرمائیے گا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
واللہ اعلم باالصواب